حق کی پہچان: فرمائشی معجزات کی ضد یا عقل و فہم کا استعمال

درس نمبر 254، سورۃ الانعام، آیات: 35 تا 37، اشاعتِ اول: 9 اگست، 2022، بمطابق 10 محرم الحرام، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. انسان کو دنیا میں بھیجنے کا بنیادی مقصد امتحان ہے جس کا تقاضا فرمائشی معجزات کے بجائے دلائل پر غور کر کے اپنی سمجھ سے کام لینا ہے۔
  2. قرآنِ کریم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ ہے جو حق کے طلب گار کے لیے تنہا ہی کافی ہے۔
  3. کفار کی جانب سے نت نئے معجزات کے مطالبات کسی سچی طلب کے بجائے محض ان کی ہٹ دھرمی اور ضد پر مبنی تھے۔
  4. اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ منہ مانگا معجزہ دیکھنے کے بعد ایمان نہ لانے والی پچھلی قوموں کو دنیا ہی میں ہلاک کر دیا گیا۔
  5. اللہ تعالیٰ اپنی شفقت کے باعث کفار کے فرمائشی مطالبات پورے نہیں کرتا تاکہ انہیں عذابِ عام کی فوری ہلاکت سے بچایا جا سکے۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ۔ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔

وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ ؕ-وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَٜ (35) اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَ ؐ (36) وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ؕ-قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(37)

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اور اگر ان لوگوں کا منہ موڑے رہنا تمہیں بہت بھاری معلوم ہو رہا ہے تو اگر تم زمین کے اندر (جانے کے لئے) کوئی سرنگ یا آسمان میں (چڑھنے کے لئے) کوئی سیڑھی ڈھونڈ سکتے ہو، تو ان کے پاس (ان کا منہ مانگا یہ) معجزہ لے آؤ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کر دیتا۔ لہٰذا تم نادانوں میں ہرگز شامل نہ ہونا۔ ﴿35﴾

حاشیہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے بہت سے معجزات عطا فرمائے تھے، جن میں سب سے بڑا معجزہ خود قرآنِ کریم تھا، کیونکہ آپ کے اُمّی ہونے کے باوجود یہ فصیح و بلیغ کلام آپ پر نازل ہوا جس کے آگے بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں نے گھٹنے ٹیک دیئے، اور کسی نے وہ چیلنج قبول نہ کیا جو سورۂ بقرہ وغیرہ میں دیا گیا تھا۔ اسی کی طرف سورۂ عنکبوت میں اشارہ فرمایا گیا ہے کہ تنہا یہی معجزہ ایک حق کے طلب گار کے لئے کافی ہونا چاہئے تھا۔ لیکن کفار مکہ اپنی ضد اور عناد کی وجہ سے ہر روز نت نئے معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے۔ اس سلسلے میں جس قسم کے بیہودہ مطالبات وہ کرتے تھے، ان کی ایک فہرست قرآن کریم نے سورۂ بنی اسرائیل میں بھی بیان فرمائی ہے۔ اس پر کبھی کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ خیال ہوتا تھا کہ اگر ان کے فرمائشی معجزات میں سے کوئی معجزہ دکھا دیا جائے تو شاید یہ لوگ ایمان لا کر جہنم سے بچ جائیں۔ اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مشفقانہ خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ درحقیقت ان کے یہ مطالبات محض ہٹ دھرمی پر مبنی ہیں، اور جیسا کہ پیچھے آیت نمبر 25 میں کہا گیا ہے، یہ اگر ساری نشانیاں دیکھ لیں گے تب بھی ایمان نہیں لائیں گے، اس لئے ان کے مطالبات کو پورا کرنا نہ صرف بیکار ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی اس حکمت کے خلاف ہے جس کی طرف اشارہ آگے آیت نمبر 37 میں آرہا ہے۔ ہاں اگر آپ خود ان کے مطالبات پورے کرنے کے لئے ان کے کہنے کے مطابق زمین کے اندر جانے کے لئے کوئی سرنگ بناسکیں یا آسمان پر چڑھنے کے لئے کوئی سیڑھی ایجاد کر سکیں تو یہ بھی کر دیکھیں۔ اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر آپ ایسا نہیں کرسکتے۔ اس لئے یہ فکر چھوڑ دیجئے کہ ان کے منہ مانگے معجزات انہیں دکھائے جائیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر چاہتا تو سارے انسانوں کو زبردستی ایک ہی دین کا پابند بنا دیتا، لیکن درحقیقت انسان کو دُنیا میں بھیجنے کا بنیادی مقصد امتحان ہے، اور اس امتحان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان زور زبردستی سے نہیں، بلکہ خود اپنی سمجھ سے کام لے کر ان دلائل پر غور کرے جو پوری کائنات میں بکھرے پڑے ہیں، اور پھر اپنی مرضی سے توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان لائے۔ انبیائے کرام لوگوں کی فرمائش پر نت نئے کرشمے دکھانے کے لئے نہیں، ان دلائل کی طرف متوجہ کرنے کے لئے بھیجے جاتے ہیں، اور آسمانی کتابیں اس امتحان کو آسان کرنے کے لئے نازل کی جاتی ہیں، مگر ان سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جن کے دل میں حق کی طلب ہو۔ اور جو لوگ اپنی ضد پر اڑے رہنے کی قسم کھا چکے ہوں، ان کے لئے نہ کوئی بڑی سے بڑی دلیل کارآمد ہو سکتی ہے، نہ کوئی بڑے سے بڑا معجزہ۔

تو یہ اصل میں گویا کہ ہم لوگوں کو یہ بات سمجھائی جا رہی ہے کہ اصل میں انسان اپنی سمجھ سے کام لے۔ کیونکہ جانور میں اور انسان میں یہی فرق ہے کہ ان کو اللہ پاک نے سمجھ کی صلاحیت دی ہے۔ لہٰذا جو لوگ اپنی سمجھ سے کام لیتے ہیں، یعنی عقل سے کام لیتے ہیں، اور ان چیزوں میں غور کرتے ہیں خود۔ اور پھر اللہ پاک ان کی مدد فرماتے ہیں، یعنی قرآن کے ذریعے سے اور احادیث شریفہ کے ذریعے ان کی مدد ہوتی ہے، تو وہ اس سے فائدہ اٹھا کر حق بات تک پہنچ جاتے ہیں۔

لیکن جو لوگ اپنی سمجھ سے کام نہیں لیتے اور مطلب یہ ہے کہ اپنے ذہن میں مختلف قسم کے دلائل کا مطالبہ ذہن میں لاتے رہتے ہیں، کہ اگر یہ ہو جائے تو پھر مانوں گا، اگر یہ ہو جائے تو پھر مانوں گا۔ تو اللہ پاک مجبور نہیں ہے، اللہ جل شانہٗ کسی کا محتاج نہیں ہے، یہ تو لوگوں کا اپنا فائدہ ہے۔ تو اللہ پاک نے اس کے لیے جتنا یعنی بندوبست فرمایا ہے بس وہ کافی ہے۔ اگر کوئی اس کے ذریعے سے ایمان نہیں لاتا تو وہ لانا نہیں چاہتا۔ تو جو نہ ہی لانا چاہتا ہو اس کے لیے چاہے کتنی بڑی سے بڑی دلیل دی جائے تو اس کی کج فہمی پھر بھی وہی رہے گی اور ظاہر مطلب یہ ہے کہ وہ ایمان نہیں لائے گا جیسا کہ تجربے سے معلوم ہے۔ کہ جو لوگ ایمان نہیں لانا چاہتے تھے اگر ایک بات ان کی پوری کی جاتی تو دوسری وہ سامنے لاتے تھے کہ پھر یہ کر لو، پھر یہ کر لو۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایمان نہیں لانا چاہتے اور اپنے تکبر میں وہ اپنے آپ کو خراب کر رہے ہوتے ہیں۔ بات تو وہی لوگ مان سکتے ہیں جو حق کے طالب بن کر سنیں۔

ترجمہ: بات تو وہی لوگ مان سکتے ہیں جو (حق کے طالب بن کر) سنیں۔ جہاں تک ان مُردوں کا تعلق ہے، ان کو تو اللہ ہی قبروں سے اٹھائے گا، پھر یہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے ﴿36﴾ یہ لوگ کہتے ہیں کہ (اگر یہ نبی ہیں تو) ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی؟ تم (ان سے) کہو کہ اللہ بیشک اس بات پر قادر ہے کہ کوئی نشانی نازل کردے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ (اس کا انجام) نہیں جانتے. ﴿37﴾

اصل میں یہ جو انجام ہے فرمایا ہے کہ

حاشیہ: اس آیت میں فرمائشی معجزات نہ دکھانے کی ایک اور وجہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ رہی ہے کہ پچھلی قوموں کو جب کبھی ان کا مانگا ہوا معجزہ دکھایا گیا ہے تو ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی کر دی گئی ہے کہ اگر اس کے باوجود وہ ایمان نہ لائے تو انہیں اس دُنیا ہی میں ہلاک کر دیا جائے گا،

دیکھیں، اگر آپ اپنی سمجھ سے کام نہ لیں، تو اس کی سزا ادھر ہے۔ لیکن آپ اپنا منہ مانگا معجزہ مانگ لیں اور وہ پورا کیا جائے، تو ظاہر ہو گئی وہ چیز، تو پھر ظاہر والی چیز میں پھر عذاب آئے گا یعنی یہاں کی چیز پہ عذاب آ جائے گا۔ تو یہ بہت خطرناک بات ہوتی ہے۔ لہٰذا اس طرف انسان کو آنا ہی نہیں چاہیے۔

حاشیہ: چنانچہ کئی قومیں اسی طرح ہلاک ہوئیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ کفار مکہ میں سے اکثر لوگ ہٹ دھرم ہیں، اور وہ فرمائشی معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے، اس لئے اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق وہ ہلاک ہوں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کو ابھی یہ منظور نہیں ہے کہ انہیں عذاب عام کے ذریعے ہلاک کیا جائے۔ لہٰذا جو لوگ فرمائشی معجزات کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ اس کے انجام سے ناواقف ہیں۔ ہاں جن لوگوں کو ایمان لانا ہے، وہ مطلوبہ معجزات کے بغیر دوسرے دلائل اور معجزات دیکھ کر خود ایمان لے آئیں گے۔

تو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ پاک کا جو کرم ہے وہ لامتناہی ہے۔ اور ہم لوگوں کی جو ضد ہے، اللہ پاک ہمیں اپنی ضد سے بچائے، نفس کی جو ضد ہے، وہ ہم نقصان اپنا کرتے رہتے ہیں۔ تو اللہ پاک ہمیں معاف کرتے رہتے ہیں اور اللہ پاک ہمارے لیے آسانیاں پیدا فرماتے رہتے ہیں۔ تو اس پر اللہ پاک کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ جل شانہٗ ہم سے ہمارے نفس کی خواہشات کے مطابق وہ معاملہ نہیں فرماتے، بلکہ شفقت کا اور محبت کا معاملہ فرماتے ہیں۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کو شریعت پر استقامت کے ساتھ چلنے کی توفیق عطا فرما دے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔