تزکیہ نفس، اصلاحِ احوال اور معمولاتِ ذکر
اشاعت اول: پیر، 9 جنوری، 2012، بمطابق: 15 صفر، 1433 ھ، حصہ اول
نماز اور ذکر میں شیطانی وساوس کی حقیقت اور ان کا علاج
صوفیاء کے طریقۂ ذکر (ضربیں اور مراقبات) کی شرعی اور تجرباتی حیثیت
تصورِ شیخ کا مفہوم، شرعی حکم اور اس کی شرائط و حدود
مراقبہ (روحانی ارتکاز) اور ہپناٹزم (Hypnotism) کے درمیان بنیادی فرق
ادب کی حقیقت اور شعائر اللہ کی تعظیم
روحانی ترقی میں ادب کی اہمیت اور 'باادب بانصیب' کا فلسفہ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
سوال: 1۔ ایک سوال آیا ہے کہ ذکر کے دوران وسوسے آتے ہیں اور نماز کے دوران بھی وسوسے آتے ہیں پہلے کم تھے اب زیادہ ہو گئے ہیں تو اس کا کیا علاج ہے؟
سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012
جواب: وساوس چاہے ذکر میں ہوں چاہے نماز میں ہوں، اس کا ایک ہی علاج ہے کہ اگر وہ غیر اختیاری ہیں، خود سے لائے نہیں گئے ہیں، تو اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ وسوسوں کی جتنی بھی پرواہ کی جائے گی، یہ زیادہ بڑھیں گے۔ اور یہ اصل میں اس بات کی علامت ہے کہ شیطان کو فکر ہو گئی کہ یہ تو راستے پر چل پڑا، تو اس وجہ سے وہ اس کو تنگ کرنا چاہتا ہے تاکہ یہ تنگ ہو کر چھوڑ دے۔ تو اس کا علاج یہی ہے کہ پرواہ نہ کرے اور ذکر کرتا رہے، جیسے بھی ہوتا رہے تو ذکر بھی کرتا رہے، پرواہ وسوسوں کی نہ کرے اور اس طرح نماز میں بھی وسوسوں کی پرواہ نہ کرے، اپنی نمازیں جاری رکھے۔ کیونکہ اس کی مثال بتاتے ہیں، ایسا ہے جیسے کہ بجلی کی تار کو اگر کوئی دور کرنے کے لیے بھی ہاتھ لگائے گا تو وہ اس کو پکڑے گا، اس وجہ سے اس کو پرواہ ہی نہیں کرنی چاہیے، اس کو مطلب چلتے رہنا چاہیے، جیسے بھی وہ آتے ہیں تو اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔
سوال: 2۔ سوال ایک آیا ہے کہ یہ جو صوفیاء کرام ذکر کراتے ہیں، ضربیں لگواتے ہیں اور مراقبات کراتے ہیں، تو کیا یہ سنت سے ثابت ہیں یا نہیں؟ یا پھر یہ صوفیاء کرام نے اپنی طرف سے بنائے ہیں؟
سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012
جواب: اس کا اصولی جواب یہ ہے، اور یہ میرے خیال میں میری کتاب 'تصوف کا خلاصہ' میں بھی اس کا جواب لکھا ہوا ہے، کہ جتنے بھی ذکر اذکار کے طریقے ہیں تو اس کا جو مقصد ہے وہ تو ثابت ہے۔ مقصد سے مراد یہ ہے کہ ہمیں دل کی اصلاح کرنی چاہیے اور اس کے اندر سے حسد اور کینہ اور بغض اور ان تمام چیزوں کو دور کرنا چاہیے، تکبر کو دور کرنا چاہیے، اخلاص پیدا کرنا چاہیے۔ اس طرح اور جتنے بھی فضائل ہیں وہ پیدا کرنے چاہئیں اور جو رذائل ہیں ان کو دور کرنا چاہیے۔ تو مقصد متعین ہے اور وہ قرآن و سنت سے ثابت ہے۔
لیکن اب ان کو دور کیسے کیا جائے؟ تو اب ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ یہ بالکل قرآن سے ثابت ہے کہ سوال کرنا حرام ہے۔ قرآن و حدیث سے سوال کرنا حرام ہے، اشرافِ نفس بھی حرام ہے۔ اب اس سے بچنے کے جو ذرائع ہوں گے وہ تو بہت سارے ہیں اور کوئی بھی ثابت نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب دیکھ لیں جو بھی آپ صحیح کاروبار کرتے ہیں، کیا اس کا سارا طریقہ قرآن سے ثابت ہوتا ہے یا حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے؟ آپ جتنے بھی پیسے کماتے ہیں تو اس کے کمانے کے تو بہت سارے طریقے ہیں، وہ سارے کے سارے تو ثابت نہیں ہوتے۔ لیکن کوئی بھی اس کو چھوڑتا نہیں ہے کہ قرآن و حدیث سے ثابت نہیں ہے وہ خواہ مخواہ اس کو ضروری سمجھتے ہیں کہ چلو ٹھیک ہے جی، ہم لوگ سوال سے بچ جائیں گے، حرام کام سے بچ جائیں گے۔ تو اسی طریقے سے یہ چیز تو ثابت ہے قرآن و حدیث سے کہ ہم لوگوں کو اپنے دل کی اصلاح کرنی چاہیے، اپنے نفس کی اصلاح کرنی چاہیے۔ لیکن اب یہ اصلاح ہو کیسے؟ یہ اس کے لیے ذریعے ہوتے ہیں۔ تو اب وہ جو ذرائع ہوتے ہیں وہ تجرباتی ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے کہ جتنے لوگ ہیں اتنی بیماریاں ہیں مختلف۔ اور ہر ایک کا علاج بھی مختلف ہو گا۔ تو کیا اتنے سارے لوگوں کی بیماریاں کتابوں میں آ سکتی ہیں؟ یا قرآن میں آ سکتی تھیں یا حدیث شریف میں آ سکتی تھیں؟ اور اس کا علاج آ سکتا تھا؟ یہ تو ممکن ہی نہیں ہے۔ تو اصول سمجھا دیے گئے اور فروع کو اس کے اوپر مستنبط کر لیتے ہیں۔
تو یہ ساری کی ساری چیزیں تجرباتی ہیں، اور جو تجرباتی چیزیں ہوتی ہیں وہ اگر قرآن و سنت سے ٹکراتی نہیں ہیں، یعنی اس کی ممانعت نہ ہو، تو وہ جائز ہوتی ہیں۔ اس میں نتیجے کو دیکھنا ہوتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا برآمد ہوتا ہے۔ کیا وہ نتیجہ اس کا جائز صورت میں نظر آتا ہے یا ناجائز صورت میں نظر آتا ہے؟ تو اگر وہ نتیجہ اس کا جائز صورت میں نظر آتا ہے تو اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی، جیسے میں نے آپ کو بتایا کمانے کے طریقوں پہ۔ اس طرح علم فرضِ عین ہے ہر مسلم مرد و عورت پر۔ لیکن اب اس کے حاصل کرنے کے طریقوں پہ پابندی نہیں لگائی گئی۔ مثال کے طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں علم براہِ راست آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیا جاتا تھا۔ اب اگر اسی کو لازم سمجھا جائے تو اب کیسے ہو؟ اب تو ہو ہی نہیں سکتا۔ تو علم کا جو منصوص طریقہ ہے وہ تو موجود ہی نہیں ہو گا۔ تو اب جتنے بھی طریقے ہوں گے وہ تجرباتی ہوں گے، اب یہ جس وقت میں ابھی یہ بات کر رہا ہوں تو ابھی انٹرنیٹ کے ذریعے سے جا رہا ہے، کیا یہ جائز ہے ناجائز ہے؟ تو اب جو لوگ انٹرنیٹ سے استفادہ کر رہے ہیں تو یہ ناجائز ہو گا؟ تو اس کو دیکھا جائے کہ کون سی چیز کر رہے ہیں، آیا جائز چیز کو کر رہے ہیں یا ناجائز طریقے کو کر رہے ہیں، باقی انٹرنیٹ بذاتِ خود کچھ بھی نہیں ہے جیسے لاوڈ اسپیکر ہے۔ اس پہ قرآن پاک کی تلاوت بھی ہو سکتی ہے اور گانا بھی ہو سکتا ہے۔ اب گانا ناجائز ہو گا، قرآن پاک کی تلاوت جائز ہو گی۔
ہاں البتہ قرآن پاک کی تلاوت اس صورت میں جائز ہو گی جس سے کسی کو تکلیف نہ ہو۔ تو اس طرح اس ذکر پر بھی پابندی ہو گی جس سے کسی کو تکلیف ہو۔ مثال کے طور پر وہ ایسے وقت میں کر لے کہ لوگ سو رہے ہوں۔ یا لوگ پڑھ رہے ہوں یا لوگ بیمار ہوں، ایسی صورت میں اگر بلند آواز سے ذکر کوئی کرے گا تو اس کو روکا جائے کہ نہیں بھئی ایسا نہ کرو۔ ایسا نہ کرو۔ اب دیکھ لیں ہمارے جو طلبہ ہوتے ہیں قرآن پاک کے جو یاد کرنے والے بچے جو ہوتے ہیں۔ اب وہ بچے قرآن پاک کیسے یاد کرتے ہیں؟ اب اس میں یہ ہے کہ باقاعدہ ان کو کھڑا کر دیتے ہیں کہ کھڑے ہو کر پڑھو۔ اور باقاعدہ اس طرح جھومتے ہیں۔ وہ جھومتے اور جھوم جھوم کر وہ یاد کرتے ہیں۔ اب اگر ان کے استاد سے کہا جائے کہ یہ کہاں سے ثابت ہے، قرآن سے ثابت ہے یہ طریقہ؟ حدیث سے ثابت ہے؟ وہ کہیں گے یہ تو تجربے سے ثابت ہے کہ اس طرح قرآن جلدی یاد ہو جاتا ہے۔ تو کبھی ان پر اعتراض کیا ہے؟ اگر ان پر اعتراض نہیں کیا تو پھر اس پر اعتراض کیوں کرتے ہیں؟
ہاں تو یہ ساری چیزیں تجرباتی ہیں۔ اور تجرباتی چیزوں کو یہ ہے کہ صرف اس کا جو لِم (علت) ہے وہ ثابت کیا جاتا ہے، باقی اس کی تفصیل ثابت نہیں کی جاتی ہے۔ تو اب یہ مقصد اس کا وہ موجود ہے اور وہ مقصد ثابت ہے۔ لہٰذا یہ سارے کے سارے جتنے بھی طریقے ہیں۔ یا دوسری طرف سے میں کہتا ہوں، یہ تبلیغی جماعت کے جتنے بھی ہیں، طریقے ہیں۔ مثال کے طور پر سہ روزہ ہے، شبِ جمعہ ہے، ہاں یا چلہ ہے، یا اس، تین چلے ہیں۔ یا پورا سال ہے یا ڈھائی گھنٹے کی جو ترتیب ہے۔ کیا یہ ثابت ہے قرآن و حدیث سے؟ کیا ہم اس کو روکیں گے؟ جس طرح ان کو نہیں روکیں گے، اس طرح ان کو بھی نہیں روکیں گے۔ یہ ساری کی ساری تجرباتی چیزیں ہیں۔ لہٰذا انسان کو ذرا حوصلہ کرنا چاہیے، خوامخواہ ایک نیک کام کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے۔ اور یہ تو صرف اور صرف کچھ چیزوں کو پیدا کرنے کے لیے اور مقصود کے لیے ہوتی ہے، اگر وہ مقصود حاصل ہو جائے پھر یہ نہیں کرتے۔ اور پھر کرنے بھی نہیں چاہئیں۔ تو اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔
سوال: 3۔ ایک سوال آیا ہے، بڑا اچھا سوال ہے، ایک تصورِ شیخ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں کہ یہ شرعاً کیسا ہے؟
سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012
جواب: اس میں بذاتِ خود تو شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ اپنے استاد کا تصور کر لیں کہ میں اپنے استاد کے سامنے بیٹھا ہوں اور یہ ہے کہ میں اس سے پوچھ رہا ہوں۔ تو اس کو کوئی ناجائز کہے گا؟ ظاہر ہے ایک چیز ہے بس ٹھیک ہے، ایک تصور ہی ہے نا۔ آپ مطلب اپنے شیخ کو خدا تو نہیں سمجھتے۔ اور جو سمجھے گا تو غلط کرے گا۔ اپنا عقیدہ خراب کرے گا۔ تو اب تصورِ شیخ سے مراد صرف اتنی ساری چیز تھی کہ جیسے انسان کو شیخ کی مجلس میں فائدہ ہوتا ہے۔ جو کام وہ شیخ کی مجلس میں کر سکتا ہے، وہ عام طور پہ وہ نہیں کر سکتا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور کا واقعہ ہے، حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، وہ آئے ایک دفعہ اور یہ کہا کہ حنظلہ تو منافق ہو گیا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا یہ کیا کہہ رہے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوتے ہیں تو بالکل الگ ہوتے ہیں، مختلف ہوتے ہیں۔ اور جب گھروں میں پہنچ جاتے ہیں بالکل مختلف ہو جاتے ہیں، پھر وہ چیز نہیں ہوتی۔ تو یہ تو نفاق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک طرح اور باقی وقت میں دوسری طرح ہوتے ہیں، یہ تو منافقت ہے۔ تو میں تو منافق ہو گیا۔ تو ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اگر یہ بات ہے پھر تو میں بھی منافق ہو گیا ہوں، کیونکہ میرے ساتھ بھی یہ بات ہوتی ہے۔ تو انہوں نے کہا چلو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ساری بات رکھ دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھئی وہ تو گاہے گاہے ہوتا ہے۔ اگر تمہاری ایسی حالت رہے جیسے میری موجودگی میں رہتی ہے، پھر تو تمہارے ساتھ فرشتے اپنے بستروں پہ مصافحے کریں گے۔ لیکن یہ تو ہر وقت نہیں ہوتا۔ اب یہ حالت تبدیل۔
پھر دوسری بات کہ حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ماموں ہند ابن ابی ہالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ حضرت مجھے ذرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بتا دیجیے۔ دیکھیں یہ تو زندہ شیخ کا آپ وہ کر رہے ہیں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہہ رہے ہیں۔ اے ماموں مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک بتا دیجیے تاکہ میں اس کو اچھی طرح دل پہ نقش کروں۔ تو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شمائل بہترین انداز میں مروی ہیں حدیث کی کتابوں میں، یہ اس کے جواب میں ہے کہ ہند ابن ابی ہالہ نے اس کو تفصیل کے ساتھ بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے تھے، تفصیلات جو وہ آئی ہیں۔ وہ بڑے عمدہ الفاظ ہیں۔ تو یہ کیا چیز ہے پھر؟ کہ اپنے دل پہ نقش کروں، اس کا مطلب ہے اس کا کوئی فائدہ ہو گا نا۔
تو اب جو مریدین ذرا تھوڑا سا وساوس کا شکار رہتے ہیں، تو ان کے لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ شیخ کی مجلس کا تصور کر لیں کہ میں شیخ کی مجلس میں بیٹھا ہوا ہوں، تو وہ وساوس بھاگنے لگیں گے۔ لیکن چونکہ آج کل لوگوں کے مزاج صحیح نہیں ہیں۔ تو اس میں بعض دفعہ ایسے کام بھی ہونے لگتے ہیں، مثال کے طور پر اس شیخ کے ساتھ اس کا جو قلبی تعلق ہے۔ اس کی بنیاد پر کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد ایسی آتی ہے جس کو شیطان دوسری صورت میں پیش کرتا ہے اور اس سے شرک کروانا چاہتا ہے۔ تو آج کل لوگوں میں چونکہ اس کا تحمل نہیں ہے، برداشت نہیں ہے، لہٰذا عام طور پر کروایا نہیں جاتا۔ ابھی بھی بعض ہمارے صحیح سلسلے والے کرواتے ہیں لیکن ہم نہیں کرواتے۔ ہمارے ہاں یہ مروجہ نہیں ہے۔ ہم لوگ کسی کو تصورِ شیخ نہیں کراتے۔ لیکن خود بخود ہو جائے تو اس کو روکتے بھی نہیں۔ اگر خود بخود کسی کو تصورِ شیخ ہو جائے تو اس کو روکتے بھی نہیں۔
ابھی دیکھیں مجھے email آیا تھا انڈیا سے۔ وہاں ایک خاتون بیعت ہوئی ہے۔ ان کی یہ بات ہے اور میرے پاس باکس پہ پڑا ہو گا۔ کہ ہر وقت آپ کی صورت میرے سامنے ہوتی ہے۔ حالانکہ اس نے مجھے دیکھا تو نہیں۔ کہتی ہے ہر حالت میں وہ سامنے ہوتی ہے۔ تو کیا یہ ٹھیک ہے؟ مطلب اس نے یہ سوال کیا ہے۔ تو میں نے اسے کہا کہ ہم خود تو لوگوں کو کرواتے نہیں ہیں۔ لیکن اگر خود سے ہو جائے تو اس کو روکتے بھی نہیں، شاید آپ کو اس کی ضرورت ہو۔ کیونکہ آپ ایسے ماحول میں ہیں کہ اس ماحول میں آپ کے اوپر ذہنی دباؤ بہت زیادہ آتا ہوگا۔ مختلف چیزیں آپ اپنے مخالف دیکھتی ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کو بسہولت گزروانے کے لیے آپ کو یہ چیز عطا فرمائی ہے۔ تو ہم، جو خود بخود ہوتا ہے، اس کو روکتے بھی نہیں۔ لیکن خود کرواتے بھی نہیں۔ یہی طریقہ ہمارے شیخ کا بھی تھا۔ ہمارے شیخ نے کبھی بھی ہم سے نہیں کہا کہ میرا تصور کرو۔ لیکن جب خود بخود ہونے لگتا، تو پھر جب پوچھتے، فرمایا اچھا ٹھیک ہے۔
تو مقصد یہ ہوا کہ ہم لوگ کرواتے بھی نہیں لیکن روکتے بھی نہیں ہیں۔ اور تصورِ شیخ میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے، الاّ کہ کوئی استغاثہ کرنا شروع کر لے اپنے شیخ سے۔ جیسے مطلب کوئی کہتا ہے نا اے میرے شیخ پہنچ جاؤ، اب اگر اس قسم کی باتیں کرے گا تو وہ تو ناجائز ہو گا نا، وہی اسی کا ڈر ہے۔ اسی وجہ سے کرواتے نہیں ہیں۔ تو اگر کوئی اس طرح نہیں کرتا، وہ صرف مجلس کا ایک effect محسوس کرتا ہے۔ اور جس کی وجہ سے اس کے حالات، ابھی بھی الحمدللہ ہمیں اپنے شیخ جب یاد آ جاتے ہیں، ہماری حالت بدل جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر ہم نماز پڑھتے ہیں وہ الگ ہوتی ہے، اس طرح جو ہم کوئی اور بات کرتے ہیں اس میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ تو اگر ابھی تک ہمیں اس سے فائدہ ہوتا ہے، تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ اس کو روکنا تو نہیں چاہیے۔ لیکن یہ ہے کہ اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے، اگر کسی کا رخ اس طرف چلا گیا، پھر اس کو روکا جائے گا، پھر اس کو غلط کہا جائے گا۔
سوال: 4۔ ایک سوال یہ آیا ہے کہ مراقبے میں اور hypnotism میں کیا فرق ہے؟
سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012
جواب: بہت زبردست سوال ہے۔ اصل میں hypnotism کیا ہے، وہ انسان کے اندر قوتِ مقناطیسیت جو ہے۔ اس کو حاصل کرنے کے process کو کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر آنکھوں کے اندر بھی باقاعدہ ایک مقناطیسی قوت ہے۔ اگر اس سے کسی چیز کو غور سے دیکھا جائے اور align ہو، وہ ساری چیز فوکس ہو جائے۔ تو اس کے اندر بڑی intensity آ جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے بعض محیر العقول کام بھی صادر ہونے لگتے ہیں۔ مثلاً بعض لوگ اس سے چمچوں کو موڑ دیتے ہیں، بعض لوگ لوگوں کو گرا دیتے ہیں۔ بڑے عجیب عجیب کام مطلب اس سے کروا دیتے ہیں۔ تو یہ ایک سائنس ہے۔ یہ ایک سائنس ہے، اس کا روحانیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایک سائنس ہے بس ٹھیک ہے، سائنس میں بہت ساری چیزیں ہوتی ہیں۔ تو یہ بھی ایک سائنس ہے۔
جبکہ مراقبہ جو ہے یہ روحانیت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ لیکن طریقے میں تھوڑی تھوڑی similarity ہے۔ مطلب طریقے میں تھوڑی تھوڑی similarity ہے، بالکل ہی ایک جیسا نہیں ہے۔ تھوڑی تھوڑی سی مطلب ارتکاز اس میں بھی ہے، ارتکاز اس میں بھی ہے۔ لیکن یہ ہے کہ مراقبہ آنکھیں بند کر کے کیا جاتا ہے، hypnotism تو آنکھیں کھول کے کیا جاتا ہے۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ اس میں تو اس چیز کو جیسے شمع کی روشنی کو دیکھیں گے۔ اور پوری مرکوز کریں گے ایک point کے اوپر اپنی نظر کو مرکوز کریں گے۔ اس کا procedure اس طرح ہے، لیکن مراقبہ تو اس کا تعلق تو بالکل الگ ہے۔ تو مراقبے میں یوں کیا جاتا ہے کہ اس میں اللہ پاک نے جو روحانی صلاحیتیں لوگوں کو دی ہیں۔ یہ ہے نفسانی قوتیں ہیں جو hypnotism والے ہیں۔ وہ نفسانی قوتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہ روحانی قوتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ تو ہر انسان کو اللہ پاک نے جو روحانی قوتیں دی ہیں۔ ان روحانی قوتوں کو اجاگر کرنے کے لیے مراقبہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک آدمی سوچ رہا ہے، میرا دل اللہ اللہ کر رہا ہے۔ ابتداء میں تو بالکل نہیں کرے گا۔ لیکن ایک وقت آئے گا کہ باقاعدہ دل اللہ اللہ کرے گا۔ پھر وہ کسی اور لطیفے پر منتقل کر لے گا تو وہاں پر بھی کرے گا، پھر کسی اور پر، پھر کسی اور پر۔ حتیٰ کہ ایک وقت آتا ہے کہ پورا جسم اللہ اللہ کرتا ہے، لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کرتا ہے، اللّٰهُ هُو کرتا ہے۔ جس کا جو بھی ہو اس کے مطابق وہ ہوتا ہے، اب ایسی صورت میں باقاعدہ اس کے جسم کے اوپر بھی اثرات ہوتے ہیں اور روح کے اوپر بھی اثرات ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ پھر اس کے بعد مزید مراقبات شروع ہوتے ہیں، مثلاً وہ مراقبات۔ مراقبہ مسجدِ نبوی کا، مراقبہ بیت اللہ شریف کا، خانہ کعبہ کا۔ مراقبہ عرش کا، تک چلا جاتا ہے۔ وہ ہمارے رحمان بابا کا جو شعر ہے پشتو میں۔
چې په يو قدم تر عرشه پورې رسي
ما ليدلى دی رفتار د دروېشانو
جو ایک قدم پر عرش تک پہنچتے ہیں، میں نے درویشوں کی رفتار کو دیکھا ہے۔ تو وہ کون سی رفتار ہے، وہ یہی مراقبے کی رفتار ہے نا۔ مراقبے کے ذریعے سے پہنچتے ہیں۔ تو یہ جو باتیں ہیں، مطلب یہ ہے کہ یہ روحانیت والی باتیں ہیں، اس کا نفسانیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ تو تھوڑا تھوڑا سا similarity تو ہے طریقہ کار میں کہ ارتکاز دونوں میں ہے۔ لیکن ایک میں روحانی قوتوں کے حصول کا مطلب ہوتا ہے مقصد، اور دوسرے میں نفسانی قوتوں کے حصول کا مقصد ہوتا ہے، اور دونوں الگ الگ ہیں۔
سوال: 5۔ سوال یہ آیا ہے کہ ایک بزرگ کا قول پیش کر رہے ہیں کہ کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ نے یہ مقام کیسے پایا ہے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہ مقام ادب سے پایا ہے۔ تو فرمایا یہ ادب کیا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ کیا چیزیں مطلب حاصل ہوتی ہیں، اس کے بارے میں سوال ہے۔
سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012
جواب: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا ہے: أَدَّبَنِي رَبِّي، اللہ پاک نے مجھے ادب سکھایا۔ فَأَحْسَنَ تَأْدِيبِي، اور بہت اچھا ادب سکھایا۔ بہت اچھا ادب سکھایا مطلب یہ ہے کہ یعنی گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ پاک نے ادب سکھایا، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ادب سکھایا۔ صحابہ نے پھر تابعین کو ادب سکھایا ہے۔ اور یہ سلسلہ ابھی تک مشائخ کے ذریعے سے چلا آ رہا ہوتا ہے کہ ہر شیخ اپنے مریدوں کو ادب سکھاتا ہے۔ تو ادب کیا ہوتا ہے؟ ادب اصل میں یوں ہوتا ہے کہ انسان جو چیز اللہ کے ساتھ وابستہ ہے، یا اللہ کے ساتھ کسی وابستہ چیز کے ساتھ وابستہ ہے، مثلاً شیخ کے ساتھ وابستہ ہے، خانہ کعبہ کے ساتھ وابستہ ہے، قرآن کے ساتھ وابستہ ہے، نماز کے ساتھ وابستہ ہے، اذان کے ساتھ وابستہ ہے، یہ ساری چیزیں اللہ کے ساتھ وابستہ ہیں، ان کو شعائر اللہ کہتے ہیں۔ اب یہ جو شعائر اللہ کے ساتھ وابستہ ہیں، تو اس کا اس لیے احترام کہ ان کا تعلق اللہ کے ساتھ ہے۔ اس احترام کو ادب کہتے ہیں۔ یعنی اس احترام کو ادب کہتے ہیں مطلب تعظیمِ شعائر جس کو۔ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللّٰهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ، کہ جو شعائر اللہ کی تعظیم کرتے ہیں وہ ان کے دلوں کے تقویٰ کی وجہ سے ہے۔ تو اگر دل میں تقویٰ ہو گا، تو یوں سمجھ لیجیے کہ ادب یقیناً نصیب ہو گا، کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، جب اللہ سے ڈرتا ہے تو اللہ کے ساتھ جو متعلق چیزیں ہوں گی اس سے بھی ڈرتا ہو گا۔
اب مثال کے طور پر دیکھ لیں ایک سید آتا ہے، اس کے لیے ایک شخص اٹھتا ہے۔ یہ ادب ہے، لیکن کیوں اٹھتا ہے؟ وجہ کیا ہے؟ اس نے صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب کی تعظیم کی کہ چونکہ ان کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے نسباً، لہٰذا میں ان کے لیے اٹھتا ہوں۔ حضرت شاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ، بہت بڑے عالم گزرے ہیں، بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے بیٹے تھے۔ تو ان کا طریقہ تھا کہ سید کے لیے اٹھتے تھے، چاہے وہ سنی ہو چاہے شیعہ ہو۔ باقیوں کے لیے نہیں اٹھتے تھے۔ تو ایک نواب صاحب جو شیعہ تھے، انہوں نے یہ بات بعض سنیوں سے سن لی۔ تو انہوں نے ان سے کہا اچھا ٹھیک ہے پھر میں چلتا ہوں، لیکن آپ لوگ مجھ سے پہلے نہ جائیں، آپ لوگ میرے پیچھے پیچھے آئیں۔ یعنی ان کو پہلے سے اطلاع نہ ہو۔ اور میں دیکھتا ہوں کہ میرے لیے اٹھتے ہیں یا نہیں اٹھتے۔ اگر میرے لیے اٹھے تو میری تائید ہو جائے گی کہ میں سید ہوں، مجھے پتا چل جائے گا کہ میں سید ہوں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ معلوم کرتے ہیں کہ وہ کیسے اس طرح کرتے ہیں، کیوں اس طرح کرتے ہیں۔ تو آگے آگے چلے اور پیچھے پیچھے ان کے جو سنی ساتھی تھے وہ پیچھے پیچھے آ رہے تھے۔ تو جیسے وہ پہنچے تو حضرت شاہ صاحب ان کے لیے کھڑے ہو گئے۔ تو اس نواب صاحب نے کہا آپ میرے لیے کیوں کھڑے ہوئے ہیں، انہوں نے کہا چونکہ آپ سید ہیں۔ تو انہوں نے کہا پھر آپ کو تو یہ بھی پتا ہو گا کہ میں شیعہ ہوں، انہوں نے کہا بالکل پتا ہے۔ تو انہوں نے کہا پھر آپ تو شیعوں کو تو صحیح نہیں سمجھتے تو پھر آپ میرے لیے کیوں کھڑے ہو گئے ہیں؟ انہوں نے کہا اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر قرآن پاک میں کچھ غلط آیتیں بھی لکھ دی جائیں، پھر بھی اس قرآن پاک کی بے ادبی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اس میں صحیح آیتیں تو ہیں۔ تو اس کی بے ادبی نہیں ہو سکتی، لیکن ان غلط آیتوں کو ہم مانیں گے نہیں۔ تو آپ کا جو غلط عقیدہ ہے وہ تو ہم نہیں مانتے، اس کے تو ہم سخت مخالف ہیں۔ لیکن چونکہ آپ کا نسب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے، یہ چیز ہم مانتے ہیں۔ لہٰذا اس کی تو ہم تعظیم کرتے ہیں۔
اب دیکھ لیں مطلب یہ کیسے ادب کیا؟ تو اب یہ جو چیز ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منسوب کوئی چیز یا اللہ تعالیٰ کے ساتھ منسوب کوئی چیز شعائر اللہ کی صورت میں، اس کا اگر ذہن میں ہو، تو یہ ادب ان کا ہوتا ہے، اصل میں اللہ کا ادب ہوتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب ہوتا ہے۔ اصل میں ان کا ہوتا ہے۔ لیکن ظاہراً وہ کسی اور چیز کے لیے نظر آتا ہے۔ تو اگر کوئی اس کو کرتا ہے تو جس وقت انسان جس کا خیال رکھتا ہے، اس وقت ان کے ہاں اچھے good books میں آتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ تو ہر وقت ہر ایک آدمی کو دیکھتا ہے کہ میری وجہ سے یہ کر رہا ہے۔ تو یہ کر رہا ہے تو ظاہر ہے مطلب قرآن کا اگر کوئی ادب کر رہا ہے، نماز کا ادب کر رہا ہے یا خانہ کعبہ کا ادب کر رہا ہے یا اچھے لوگوں کا ادب کر رہا ہے کہ یہ اولیاء اللہ ہیں، تو اس صورت میں اب ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کے ہاں مسلسل مرتبہ پا رہا ہے۔ اس عمل کی وجہ سے۔ تو اس کو مقام ملے گا یا نہیں ملے گا؟ اس لیے کہتے ہیں باادب بانصیب، بے ادب بے نصیب۔ جو باادب ہے وہ بانصیب ہے کہ ان کو ہر وقت کچھ نہ کچھ مل رہا ہوتا ہے۔ اور جو بے ادب ہوتا ہے ایسے ہی خراب ہو جاتے ہیں۔ جاری ہے ان شاء اللہ۔۔۔