سرمایہ داری و اشتراکیت کے معاشی تضادات اور اسلام کا عادلانہ نظام
اشاعت، اول: جمعرات، 29 اکتوبر، 2020ء بمطابق: 12 ربیع الاول، 1442 ھ، حصہ دوم
امراء اور غرباء دونوں طبقوں کی مساوی اخلاقی اصلاح اور تعلیم۔
صدقہ اور زکوٰۃ خالصتاً لوجہ اللہ دینا اور احسان جتا کر باطل نہ کرنا۔
گداگری اور بھیک مانگنے کی سخت ممانعت اور خوددار فقراء کی مدد۔
بیت المال کا مالی نظام اور سود کی لعنت کے بغیر بلا نفع قرض۔
قرض عیش کے بجائے ضرورت کے لیے لینا اور قرض ادا کرنا۔
بہترین وسائل کی موجودگی اور شرعی اصولوں سے اپنے مسائل خود حل کرنا
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
معزز خواتین و حضرات! آج جمعہ کی رات ہے اور جمعہ کی رات ہمارے ہاں جیسے کہ آپ سب جانتے ہوں گے۔ حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت النبی سے ہم تعلیم کرتے ہیں۔
پیغمبر اسلام کی بعثت کسی ایک طبقہ کی اصلاح کے لئے نہیں ہوئی وہ انسانوں کے ہر طبقہ کے مصلح اور معلم بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ غریب و امیر اور مسکین و دولت مند دونوں آپ کی نگاہ میں یکساں ہیں اس لئے آپ نے کسی ایک ہی طبقہ کی اصلاح کا فرض انجام نہیں دیا بلکہ دونوں طبقوں کو ترازو کے دونوں پلڑوں میں رکھ کر برابر باٹ سے ناپا ہے اور اپنی تعلیمات اور اصلاحات میں سے دونوں کو مساوی حصہ دیا ہے۔
یہ اخلاقی اصلاح کی وہ نازک پل صراط ہے جس پر نبیوں کے خاتم اور دینوں کے مکمل علیہ السلام کے سوا دنیا کے کسی اخلاقی معلم اور روحانی مصلح کے قدم نہ جم سکے اور نہ وہ اپنے ہاتھ میں ترازو کے دونوں پلوں کو برابر رکھ سکا۔ اگر غریبوں کی اصلاح کی خاطر صدقہ اور خیرات اور دوسروں کی اعانت و ہمدردی کے تمام دروازے بند کر دیئے جائیں تو انسانی جوہر شرافت کی بربادی کے ساتھ امراء کا طبقہ اپنے اخلاقی معایب کی فراوانی اور کثرت سے ہلاک اور اخلاقی محاسن سے تمام تر تہی مایہ ہو جائے گا اور اگر غرباء اور فقراء کو ہر قسم کی گداگری اور دریوزہ گری کی اجازت دے دی جائے تو انسانوں کی وسیع آبادی کی اخلاقی زندگی تباہ و برباد ہو جائے گی۔ اسی لئے داعی اسلام نے انسانوں کے دونوں طبقوں کے سامنے خدا کی بتائی ہوئی وہ تعلیم پیش کی جس سے دونوں طبقوں کو اپنی اپنی جگہ پر اپنے اپنے اخلاقی معیار کی ترقی کا موقع مل گیا اور دونوں کو اپنی اپنی شرافت کے جوہر کو پیش کرنے اور اپنے اپنے نقائص اور کمزوریوں کو دور کرنے کی صورت ہاتھ آئی۔ ایک طرف تو اسلام نے امراء اور دولت مندوں کے طبقہ کو خطاب کر کے کہا۔ ﴿وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ﴾ (ضحٰی - ۱) مانگنے والے کو جھڑک نہ دو۔
دوسری طرف خوددار و بے نیاز فقراء اور غریبوں کے طبقہ کی مدح فرمائی۔ ﴿يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُم بِسِيمَاهُمْ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا﴾ (بقرہ - ۳۷) ناواقف ان کی خودداری اور سوال کی ذلت سے بچنے کے سبب سے ان کو دولت مند سمجھتے ہیں۔ تو ان کو ان کی پیشانی سے پہچانتا ہے۔ وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے۔ اور بھیک مانگنے کو خلافِ تقویٰ قرار دیا، جو لوگ بھیک مانگ مانگ کر حج کرتے تھے ان کو خطاب کر کے کہا: ﴿وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ﴾ (بقرہ - ۲۵) اور زادِ راہ لے کر چلو کہ بہترین زادِ راہ تقویٰ (بھیک نہ مانگنا) ہے۔ ایک طرف دولت مندوں کو فرمایا:
سبحان اللہ! آج یہ آیت سمجھ میں آئی، کیسے حضرت نے۔۔۔﴿وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ﴾ عموما اس کا ترجمہ اس طرح کیا جاتا ہے نا اور زادِ راہ لے کر چلو کہ بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔ تو اس میں بہترین زاد راہ تقوی کو explain نہیں کیا جاتا یہاں پر explain کیا ہے، کیا ہے؟ یعنی بھیک نہ مانگنا۔ سبحان اللہ کیسی زبردست بات کی ہے کہ یہی زاد راہ آپ کو اصل زاد راہ تک پہنچا دے گی یعنی تقوی اور بھیک نہیں مانگیں گے آپ یہ کیسی زبردست۔۔۔
ایک طرف دولت مندوں کو فرمایا کہ تمہارا حسنِ اخلاق یہ ہے کہ جو تمہارے سامنے ہاتھ پھیلائے اس کو خالی مت لوٹاؤ ﴿وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ﴾ اگرچہ چھوہارے کی ایک پھانک ہی کیوں نہ ہو، دوسری طرف فقیروں کو فرمایا کہ تمہاری خودداری یہی ہونی چاہئے کہ کسی کے سامنے کبھی ہاتھ نہ پھیلاؤ کہ ﴿الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَىٰ﴾ اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے (یعنی لینے والے ہاتھ سے دینے والا ہاتھ بہتر ہے) یہ ہے وہ تعلیم جس نے انسانوں کے دونوں طبقوں کو اپنے فیض سے معمور کیا اور دونوں کے لئے اپنے اخلاق کی اصلاح کا موقع بہم پہنچایا۔
صدقہ و خیرات درحقیقت وہ پانی ہے جو دینے والوں کے قلوب و نفوس کے تمام میل اور گندہ پن کو چھانٹ کر ان کو پاک و صاف بنا دیتا ہے۔ لیکن وہ خود جب اس میل اور گندہ پن کو لے کر باہر نکلتا ہے تو حرص و طمع کے پیاسے اس کو چلو میں لے کر پینے لگتے ہیں اسی لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ ﴿إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَاتِ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ﴾ یہ صدقہ تو لوگوں کا میل ہے۔ اگر آج ان فقیروں اور گداگروں کی صورتوں اور سیرتوں پر نظر ڈالو جو استحقاق شرعی کے بغیر اس مال سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو نظر آجائے گا کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے اس کو لوگوں کے دلوں کا میل کہہ کر کتنی بڑی حقیقت کو آشکارا کیا ہے۔
سبحان اللہ۔ ہمارے محاوروں میں بڑی اچھی اچھی چیزیں ہیں لیکن لوگ اس کو سمجھ نہیں پاتے۔ وہ اصل میں وہ اپنے مطلب سے دور ہو جاتی ہیں۔ مثلاً دولت ہاتھوں کا میل ہے۔ ہمارے ہاں کہتے ہیں مطلب محاورہ ہے باقاعدہ۔ یہ دولت تو ہاتھوں کا میل ہے۔ دولت ہاتھوں کا نہیں دلوں کا میل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر آپ یہ دولت خرچ کرتے ہیں تو آپ کے دل سے دنیا کی محبت کی گندگی نکلتی ہے۔ اس لیے یہ دلوں کا میل ہے۔ یہ بڑی بات ہے۔
حرص، طمع، لالچ، فریب، بے حیائی، بے غیرتی اور وہ تمام باتیں جو ان کے لازمی اخلاقی نتائج ہیں ان میں سے کونسی چیز ہے جو غیر مستحق ابناء السبیل، فقراء اور مہذب گداگروں کا تمغائے امتیاز نہیں اور درحقیقت یہی وہ میل ہے جو زکوٰۃ دینے والوں کے دامن سے چھٹ کر فقراء اور گداگروں کے دامنِ دل کو نجس بنا دیتا ہے۔ تاہم اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ بعض دفعہ قدرتاً ایسی مجبوریاں پیش آ جاتی ہیں جب نفیس الطبع سے نفیس الطبع انسان کو اپنی جان بچانے کے لئے گندے سے گندہ اور میلے سے میلا پانی کے پی لینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے اور اس وقت اس اجازت کی ضرورت پیش آتی ہے کہ ایسے مجبور اشخاص کو شخصی طور سے صدقہ و خیرات کے قبول کرنے کی اجازت دی جائے۔ شریعتِ محمدیہ نے اسی اصول پر اسی حیثیت سے لوگوں کو اس کے قبول کرنے کی اجازت دی ہے اور اس مجبورانہ قبول سے اس گروہ کے اخلاق و عادات پر جو برے اثرات طاری ہو سکتے ہیں ان کے انسداد اور دفعیہ یا ان کو کم سے کم مضر بنانے کے لئے مفید تدابیر اختیار کی ہیں اور چند نہایت مناسب احکام جاری کئے ہیں، جن کی تفصیل حسبِ ذیل ہے۔
نمبر ایک۔ سبحان اللہ کیا analysis ہے جی۔
اسلام کی پہلی تعلیم یہ ہے کہ صدقہ اور زکوٰۃ کو خالصتاً لوجہ اللہ ادا کیا جائے یعنی لینے والے پر نہ کسی قسم کا احسان کا بار رکھا جائے نہ اس کو ممنون کرم بنایا جائے، نہ عام مجمع میں اس کو ذلیل و رسوا کرنے کے لئے دیا جائے، کیوں کہ اس سے ایک طرف اگر دینے والے کی اخلاقی پستی اور دنائت ظاہر ہوتی ہے تو دوسری طرف خود اس طرح کے لینے والے کی خودداری کی روح اور اخلاقی غیرت کی حس کو صدمہ پہنچتا ہے اور بجائے اس کے کہ لینے والا اس طرح دینے والے کا ممنون ہو اس کو اس کے اس فعل سے پہلے سے تو نفرت ہوگی پھر رفتہ رفتہ شائد اس کی یہ اخلاقی حس غیرت اور شرمندگی کا شریفانہ جوہر ہمیشہ کے لئے فنا ہو جائے یا ان میں بڑے ظرف کے شریف النفس لوگ ہوں وہ اپنی نظر میں اپنی ذلت آپ محسوس کر کے اپنی جان پر کھیل نہ جائیں۔ اسلام نے انہیں باتوں کو سامنے رکھ کر یہ تعلیم دی کہ دینے والوں کے سامنے یہ نظریہ ہو کہ ﴿إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا﴾ (دھر - 1) ہم تم کو خدا کے لئے کھلاتے ہیں ہم تم سے کوئی بدلہ اور شکریہ نہیں چاہتے۔
اس شریفانہ تعلیم کو دیکھو کہ بدلہ تو کجا ہم کو تمہاری احسان مندی اور شکر گزاری بھی نہیں چاہئے۔ پھر صدقہ دینے والوں کو بہ تصریح بتا دیا کہ تمہارے احسان دھرنے، طعنہ دینے یا لینے والے کو ذلیل و رسوا کرنے سے تمہارے اس عظیم الشان کارنامہ کی حقیقت باطل ہو جائے گی اور تمام ثواب حرفِ غلط کی طرح تمہارے نامہ اعمال سے مٹ جائے گا فرمایا: ﴿الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَا أَنفَقُوا مَنًّا وَلَا أَذًى لَّهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۞ قَوْلٌ مَّعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّن صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ﴾ (بقرہ - ۳۶) جو لوگ خدا کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں اور اس کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں نہ طعنہ دیتے ہیں ان کا اجر ان کے خدا کے پاس امانت ہے اور نہ ان کو قیامت میں کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے، کچھ نرمی کی بات کہہ کر اور چشم پوشی کر کے سائل کو ٹال دینا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد طعنہ دیا جائے یا احسان جتایا جائے، خدا تمہاری ایسی خیرات سے بے نیاز ہے اور تمہارے ایسے کاموں پر بردباری سے درگذر کرنے والا ہے۔
اس حقیقت کو قرآن پاک نے ایک دل نشین تشبیہ سے واضح کیا ہے۔ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ﴾ (بقرہ - ۳۶) مسلمانو! اپنے صدقوں کو احسان جتا کر اور طعنہ دے کر برباد نہ کرو جیسے کہ وہ اپنے صدقوں کو برباد کرتا ہے جو محض لوگوں کے دکھلانے کو دیتا ہے اور خدا پر اور قیامت پر ایمان نہیں لاتا اس قسم کی خیرات کی مثال اس چٹان کی ہے جس پر کچھ گرد پڑی ہوئی ہو اور اس پر ایک پانی پڑ گیا ہو جس نے اس کو صاف اور چٹیل کر دیا کہ اب اس پر کوئی چیز جم نہیں سکتی ہے ان لوگوں نے جو کام کیا اس سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتے خدا کافروں کو ہدایت یاب نہیں کرتا۔ منجملہ اور اسباب کے یہ بھی ایک سبب ہے کہ اسلام نے زکوٰۃ ادا کرنے کا صحیح طریقہ یہ مقرر کیا کہ دینے والے خود کسی کو نہ دیں بلکہ وہ اس کو امیر جماعت کے بیت المال میں جمع کریں اور وہ امیر حسبِ ضرورت مستحقین کو بانٹ دے تاکہ اس طرح غریب لینے والا مگر شریف مسلمان ذاتی طور سے کسی دوسرے شخص کا ممنون احسان بن کر اپنی ذلت نہ محسوس کرے اور دینے والے کو ذاتی طور سے کسی پر منت رکھنے کا موقع نہ ملے اور اس طرح پوری قوم کا اخلاقی معیار اپنی پوری بلندی پر قائم رہے ساتھ ہی یہ کہ فقراء اور معذوروں کو در بدر کی ٹھوکر کھانے کی رسوائی اور ہر ضرورت کے لئے ایک ایک پیسہ کی بھیک جمع کرنے کی ذلت سے بچایا جائے۔
۲۔ اسی لئے صدقہ دینے کا دوسرا اصول اسلام نے یہ بتایا کہ صدقہ چھپا کر دیا جائے کہ علانیہ دینے میں بھی سائل بے حیائی اور بے غیرتی کا عادی ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ جب کسی کی ذلت اور فقر و فاقہ کی داستان عام ہو جاتی ہے تو پھر اپنے فعل سے اس کو غیرت اور شرم نہیں آتی اور اس لئے اس کا ڈر تھا کہ اگر اس کا انسداد نہ کیا جائے تو اظہار و اعلان کا یہ طریقہ دنیا میں گداگری، دریوزہ گری اور بھیک مانگنے کے پیشہ کی اشاعت کا سبب بن جائے گا اور یہ اخفا اور چھپا کر دینے کی صورت اس لئے بھی اچھی ہے کہ دینے والا نمائش اور شہرت طلبی کی آلائشوں سے اپنے اخلاق کو محفوظ رکھ سکے گا۔ اسی لیے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بہتر صدقہ وہ ہے کہ داہنے ہاتھ سے دو تو بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو لیکن بعض موقعے ایسے بھی ہیں کہ جہاں صدقہ خیرات اور زکوٰۃ کے اعلان کی ضرورت پیش آتی ہے اور وہ یہ کہ دوسروں کو ترغیب اور تشویق دلانے کی خالص نیت ہو یا خود سائل پیش دستی کر کے مجمع میں سوال کر بیٹھے یا اور کوئی نیک غرض شامل ہو۔ چنانچہ قرآن پاک نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں ظاہر کیا۔ ﴿إِن تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ ۖ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ﴾ (بقرہ - ۳۷) اگر تم صدقہ کو کھلم کھلا دو تو یہ بھی اچھا ہے لیکن اگر تم اس کو چھپا کر فقراء کو دو تو یہ بہت ہی بہتر ہے۔
مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں صدقہ کے اخفاء کو عام خیرات کے ساتھ مخصوص کیا ہے۔ مگر فرض زکوٰۃ کے لئے اس بنا پر اظہار و اعلان کو مستحق قرار دیا ہے کہ اس سے اسلام کے ایک رُکن کی اشاعت اور تبلیغ اور دوسروں میں اس کی پیروی کی ترغیب و تشویق ہوتی ہے اور زکوٰۃ دینے والے عدم ادائے زکوٰۃ کی تہمت سے بری خیال کئے جاتے ہیں لیکن ہمارے نزدیک آیت کریمہ کا مفہوم صاف ہے۔ زکوٰۃ کے ادا کرنے کا اصلی طریقہ تو وہی ہے جو عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں تھا یعنی یہ کہ زکوٰۃ کی رقم بیت المال یا بیت المال کے عاملوں کے سپرد کی جائے، اس لئے اخفاء کا جو فائدہ فقراء کے حق میں ہے وہ اس طرح خود بخود حاصل ہو جاتا ہے۔ لیکن آیت کا اشارہ یہ ہے کہ اگر تم خود براہِ راست فقیروں کو دو تو چھپا کر دینا بہتر ہے کہ لینے والے کی عزت سلامت رہے اسی لئے جن آیت میں اعلان کی اجازت ہے اس میں فقراء کو براہِ راست دینے کا حکم نہیں اور جہاں اخفاء کے ساتھ دینے کا ذکر ہے وہاں فقراء کو دینے کی تصریح ہے۔ اس لئے اعلان اور اخفاء کا اصلی فرق زکوٰۃ اور عام خیرات کے درمیان نہیں ہے بلکہ ادا کرنے کے طریقہ میں ہے کہ اگر بیت المال اور نائبینِ بیت المال کے ذریعہ سے ادا کرو تو ظاہر کر کے دو کہ دینے والے اور وصول کرنے والے دونوں کا حساب پاک رہے اور تہمت اور بدگمانی کا موقع نہ ملے۔ لیکن اگر کسی سبب سے تم گو براہِ راست مستحقین کو دینا پڑے جس میں حساب کتاب کی ضرورت نہیں اور براہِ راست تم ہی کو ان کو دینا ہے، بیت المال کا پردہ بیچ میں نہیں ہے اس لئے تم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ چھپا کر دو تا کہ دینے والا نمائش سے اور لینے والا ذلت و خواری سے محفوظ رہے۔ پھر ترغیبِ اعلان اور اظہار کی ضرورت اس وقت ہے جب مسلمان کا مذہبی احساس اس قدر کمزور ہو جائے کہ حقوقِ اسلام ادا کرنے میں اس قسم کی فقیہانہ ٹھوکروں کی ضرورت ہو ورنہ صحابہ کرامؓ کی ترغیب کے لئے صرف اسلام کا خالص جوش کافی تھا۔ مگر آج تو یہ حالت ہے کہ معمولی سے معمولی رقم کے لئے جب تک اخباروں کے پورے کالم سیاہ نہ کر دیئے جائیں دینے والوں کے نزدیک خدا کو ان کے عطیہ کی خبر ہی نہیں ہوتی۔
3۔ تمام اخلاقی اور تمدنی ترقی کا دارومدار صرف بلند ہمتی اور عالی خیالی پر ہے۔ بلند ہمتی کا اقتضاء یہ ہے کہ مسلمان کی نگاہ بلند سے بلند نقطہ پر بھی پہنچ کر نہ ٹھہرے اور اس کو دنیا کی تمام چیزیں ہیچ نظر آئیں اس بنا پر اسلام نے یہ اصول قرار دیا کہ زکوٰۃ و صدقہ میں مال کا عمدہ اور بہتر حصہ دیا جائے تاکہ مبتذل اور ادنیٰ درجہ کی چیزوں کے دینے اور لینے سے دینے والے اور لینے والے کے اندر پستی اور دنائت نہ پیدا ہو۔ کیوں کہ اس سے لینے والے کے اندر حد درجہ کا لالچ اور چھچھورپن پیدا ہوگا کہ معمولی اور سڑی گلی چیز تک اس کے لالچ سے نہیں بچ سکتی اور دوسری طرف دینے والے کی روح میں بھی اس قسم کی خیرات سے بلندی اور علو کے بجائے بخالت، حرص اور کینہ پن اور تزکیہ کے بجائے اور زیادہ نجاست اور گندگی پیدا ہوگی کیوں کہ کوئی بری چیز کسی کو دے دینے کا منشا دوسرے کی مدد اور خدا کی خوشنودی کا خیال نہیں ہوتا بلکہ اس بیکار اور سڑی گلی چیز سے اپنے دامن اور صحن خانہ کو صاف کرنا ہوتا ہے اس لئے اس سے دینے والے کے دل میں صفائی کی بجائے اور گندگی پیدا ہوتی ہے۔ روایتوں میں ہے کہ اصحابِ صفہ کو جنہوں نے اپنی زندگی کا مقصد صرف اسلام کی خدمت اور خدا کی عبادت قرار دیا تھا کسبِ معاش کا موقع نہیں ملتا تھا اس لئے لوگ کھجوروں کے بدمزہ خوشے لا کر مسجدوں میں لٹکا دیتے تھے اور جب وہ گروہ بھوک کی شدت سے بے تاب ہو جاتا تھا تو مجبوراً ان میں سے دو چار کھجوریں توڑ کر کھا لیتا تھا چونکہ یہ نہایت ذلیل حرکت تھی اس بنا پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِآخِذِيهِ إِلَّا أَن تُغْمِضُوا فِيهِ ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ﴾ (بقرہ - ۳۷) مسلمانو! اپنی کمائی سے اور اس چیز سے جو تمہارے لئے ہم نے زمین سے نکالی ہے بہتر حصہ خیرات کرو اور ان میں سے ردی مال کی خیرات کا قصد نہ کرو۔ حالانکہ اگر وہی تم کو دیا جائے تو خود تم نہ لو گے لیکن یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ اور یقین کرو کہ خدا تمہاری اس قسم کی خیرات سے بے نیاز ہے اور وہ خوبیوں والا ہے (خوبیوں ہی والی چیز پسند کرتا ہے)
4 فقراء اور مساکین کی دنائت اور حرص و طمع کے زائل کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انہیں لوگوں کو زکوٰۃ اور صدقہ کا حقیقی مستحق قرار دیا جائے جو باوجود تنگ دستی اور بے بضاعتی کے خودداری اور قناعت کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے کیوں کہ جب قوم کی توجہ اس قسم کے اشخاص کی طرف مبذول ہوگی تو ہر شخص خود بخود ان اخلاق کی تقلید پر مجبور ہوگا۔ صحابہ کرامؓ میں سب سے زیادہ مفلس اور نادار اصحابِ صفہ تھے۔ لیکن ان کی خودداری اور قناعت کا یہ حال تھا کہ پریشانی صورت کے علاوہ کوئی چیز ان کے فقر و فاقہ کا راز فاش نہیں کر سکتی تھی۔ اس بناء پر اسلام نے ان کو زکوٰۃ کا بہترین مستحق قرار دیا۔ ﴿لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُم بِسِيمَاهُمْ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا﴾ (بقرہ - ۳۷) صدقہ ان فقراء کے لئے ہے جو خدا کی راہ میں گھرے ہوئے ہیں (بغرض معاش و تجارت) سفر کی قدرت نہیں رکھتے۔ جو لوگ ان سے ناواقف ہیں خودداری اور عدمِ سوال کی وجہ سے ان کو مالدار سمجھتے ہیں تم صرف ان کے بشرہ سے ان کو پہچانتے ہو وہ لوگوں سے گڑگڑا کر کچھ نہیں مانگتے۔ آج مسلمانوں نے اس اصول کو چھوڑ دیا ہے جس کا یہ نتیجہ ہے کہ سینکڑوں شریف آدمی در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں اور قوم اور خاندان کا نام بیچتے ہیں۔
۵۔ لیکن بایں ہمہ حزم و احتیاط گداگری در حقیقت ایک نہایت مبتذل شیوہ ہے اس بنا پر اسلام نے سخت مجبوری کی حالت میں اس کی اجازت دی اور جہاں تک ممکن ہوا لوگوں کو اس سے باز رکھنے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ نے بعضوں سے اس کی بیعت بھی لی کہ وہ کسی سے کچھ نہیں مانگیں گے انہوں نے اس بیعت کی اس شدت سے پابندی کی کہ راستہ میں اگر ان میں سے کسی کا کوڑا گر جاتا تھا تو بھی وہ کسی سے نہیں کہتے تھے کہ اٹھا دو۔لے ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھ سے یہ ضمانت کرے کہ وہ کسی سے مانگے گا نہیں تو میں اس کے لئے جنت کی ضمانت کرتا ہوں۔ آپ کے آزاد کردہ غلام ثوبانؓ بولے میں یہ ضمانت کرتا ہوں۔ چنانچہ اس کے بعد وہ کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگتے تھے۔ حکیم بن حزام ایک صحابی تھے۔ انہوں نے ایک دفعہ آنحضرت ﷺ سے سوال کیا، آپ نے عنایت کیا، پھر مانگا، پھر دیا، پھر تیسری دفعہ یہ صورت پیش آئی تو فرمایا ’’اے حکیم یہ مال بظاہر نہایت شیریں اور خوش رنگ چیز ہے، جو اس کو شرافت کے ساتھ لے گا اس میں برکت دی جائے گی اور جو لالچ کے ساتھ لے گا اس کو برکت نہ ملے گی اور اس کی حالت ایسی ہوگی جیسے کوئی کھاتا چلا جائے اور اس کا پیٹ نہ بھرے، اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے‘‘، حکیم نے کہا ’’یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم!) آج سے میں پھر کسی سے کچھ نہ مانگوں گا‘‘، اس کے بعد ان کا یہ حال ہوا کہ خلافتِ راشدہ کے زمانہ میں خلفاء ان کو اپنا وظیفہ لینے کے لئے بلاتے تھے اور وہ انکار کرتے رہے اور آخر تک اس انکار پر قائم رہے۔ اس کی اور متعدد مثالیں ہیں اس عمومی ممانعت کے ساتھ خصوصیت سے ان تمام لوگوں کے لئے جو صاحبِ دست و بازو ہوں یعنی جن کے ہاتھ پاؤں اور آنکھیں صحیح و سالم ہوں بھیک مانگنے سے سخت ممانعت کر دی گئی، فرمایا کہ: ﴿لا تحل المسألة لرجل قوی و لا لذی مرّة سویّ﴾ (ترمذی) طاقت اور سکت والے اور صحیح و سالم آدمی کے لئے بھیک مانگنا حلال نہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ﴿والذی نفسی بیدہ لان یاخذ احدکم حبلہ فیحتطب علی ظہرہ خیر لہ من ان یاتی رجلا فیسالہ اعطاہ او منعہ﴾ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں کسی کا رسی لے کر اپنی پیٹھ پر لکڑی کا بوجھ اٹھانا اس سے بہتر ہے کہ دوسرے سے بھیک مانگے، وہ اسے دے یا نہ دے۔ آنحضرت ﷺ نے اپنے زمانہ میں اس پر عمل بھی فرمایا۔ ایک دست نگر صحابی نے خیرات مانگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس کچھ ہے؟ عرض کی ایک ٹاٹ اور ایک پیالہ ہے۔ آپ نے ان کو منگوا کر نیلام کیا اور ان کی قیمت سے ایک کلہاڑی خرید دی اور فرمایا کہ جنگل سے لکڑی کاٹ لاؤ اور بیچو، انہوں نے اس پر عمل کیا تو خدا نے ان کو یہ برکت دی کہ وہ گداگری کی ذلت سے ہمیشہ کے لئے بچ گئے۔
6۔ لیکن جو لوگ بدقسمتی سے کسبِ معاش نہیں کر سکتے ان کو بھی الحاح، کثرتِ سوال، لجاجت اور گڑگڑا کر زبردستی مانگنے کی نہایت سختی کے ساتھ ممانعت کی، آپ ﷺ نے فرمایا۔ ﴿لیس المسکین الذی تردہ الاکلة والا کلْتان و لکن المسکین الذی لیس لہ غنی و یستحی و لا یسأل الناس الحافاً﴾ (بخاری کتاب الزکوٰۃ باب قول الله عزوجل لا یسألون الناس الحافا) مسکین وہ نہیں ہے جس کو لقمہ دو لقمے دروازوں سے واپس لوٹا دیتے ہیں، مسکین وہ ہے جو بے نیاز نہیں ہے لیکن حیا کرتا ہے اور لوگوں سے گڑگڑا کر نہیں مانگتا۔ پھر یہ بھی بتا دیا کہ گداگری اور بھیک کا طریقہ جو سخت مجبوری کی حالت کے علاوہ ہو وہ ہر حال میں انسان کی شرم و حیا اور غیرت و آبرو کو برباد کر دیتا ہے، فرمایا۔ ﴿ما زال الرجل یسئل الناس حتی یاتی یوم القيامة ليس فى وجهه مضغة لحم﴾ (بخاری کتاب الزکوٰۃ باب من سال الناس تکثرا) آدمی ہمیشہ مانگتا پھرتا ہے یہاں تک کہ وہ قیامت کے روز اس طرح آئے گا کہ اس کے چہرہ پر گوشت کا ایک ٹکڑا نہ ہوگا۔ یہ اس کی سزا ہوگی کہ اس نے دنیا میں مانگ مانگ کر اپنے چہرہ سے عزت و آبرو کی رونق خود دھو دی تھی۔ ان ضروری اصلاحات کے ساتھ اسلام نے زکوٰۃ کے نظام کو قائم کیا اور ان تمام برائیوں اور بداخلاقیوں کی جڑ کاٹ دی جو اس مفت خوری سے انسانوں میں پیدا ہو سکتی تھیں اور ساتھ ہی انسانی برادری کے دونوں طبقوں کو ترازو کے پلڑے میں برابر رکھ کر ان کو باہمی معاونت، باہمی مشارکت، باہمی ہمدردی اور امداد کا سبق سکھایا اور اس طرح پوری جماعتِ انسانی کو باہم جوڑ کر ایک کر دیا۔ پست و بلند کے تفرقے ممکن حد تک کم کر دیئے اور اس اقتصادی بربادی سے جماعت کو محفوظ رکھنے کا طریقہ بتا دیا جو اکثر اپنی بھیانک شکلوں سے اس کو ڈرایا کرتی ہے۔
آنحضرت ﷺ کی اس تعلیم کا نتیجہ یہ ہوا کہ دولت مند صحابہؓ میں یہ فیاضی آ گئی کہ وہ دین و ملت کی خدمت کے لئے اپنی ساری دولت لٹا کر بھی سیر نہ ہوتے تھے، اور غریب صحابیوں میں یہ قناعت اور خودداری پیدا ہو گئی کہ وہ کسی سے کسی کام کا سوال کرنا بھی عیب سمجھتے تھے۔ دولت مند اپنی زکوٰۃ آپ لے کر بیت المال کے دروازوں تک خود آتے تھے اور غریب اپنے افلاس و حاجت کو خدا کے سوا دوسروں کے سامنے پیش کرنا توکل کے منافی سمجھتے تھے اور تیسری طرف آنحضرت ﷺ کے بعد جب فراغت آئی تو جماعت کے بیت المال میں اتنا سرمایہ رہتا تھا کہ زکوٰۃ کے کسی مصرف کے لئے کمی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ ضرورت مندوں کو اسی رقم سے قرض بھی دیا جاتا تھا اس طرح یہ ایک ایسا مالی و باقتصادی نظام تھا کہ بلا نفع قرض دینے میں افراد کو جو تامل ہوتا ہے وہ اس جماعتی نظام کے ماتحت آسان تھا اور سود کی لعنت کے بغیر داد و ستد کا راستہ کھلا ہوا تھا۔
آخر میں حضرت نے بڑے عمدہ طریقے سے ایک بات فرما دی۔ روانی میں فرما دی ہے اگر کوئی اس پر غور نہ کرے تو شاید پتہ بھی نہ چلے۔ اللہ کا شکر ہے وہ چلتے چلتے سمجھ آ گئی۔ حضرت نے فرمایا کہ
جب فراغت آئی تو جماعت کے بیت المال میں اتنا سرمایہ رہتا تھا کہ زکوٰۃ کے کسی مصرف کے لئے کمی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ ضرورت مندوں کو اسی رقم سے قرض بھی دیا جاتا تھا یہاں پر بات اگر روک دیتے تو شاید بات سمجھ میں نہ آتی۔ حضرت نے فرمایا: اس طرح ایک ایسا مالی و اقتصادی نظام تھا کہ بلا نفع قرض دینے میں، یعنی جس کو قرض حسنہ کہتے ہیں۔ سودی قرضہ بھی ہوتا ہے اور قرض حسنہ بھی ہوتا ہے۔ بلا نفع قرض دینے میں افراد کو جو تامل ہوتا ہے کیونکہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا mode ہی ختم ہو جائے گا۔ یعنی مطلب جو بنیاد ہے کاروبار کی، سرمایہ جو ہے جس پر ہم اور کما سکتے ہیں وہ ختم ہو جائے گا۔ تو جو تامل ہوتا ہے وہ اس جماعتی نظام کے ماتحت آسان تھا۔ اور سود کی لعنت کے بغیر داد و ستد کا راستہ کھلا ہوتا تھا۔ یعنی چونکہ جماعت میں یہ نظام چل رہا تھا تو لوگوں کی زکوۃ کا مال چونکہ اس میں پڑا ہوتا تھا نتیجتاً جس کو قرض دینا ہوتا تھا اسے قرض دے دیتے تھے۔ اور ان کے جماعتی نظام کے لیے چونکہ وہ سود کی ضرورت نہیں تھی لہٰذا بغیر سود کے وہ نظام چل رہا تھا۔ اور ویسے عام حالات میں لوگوں کا دل کھوٹا ہوتا ہے۔ وہ جب کسی کو قرض حسنہ دیں۔
بالخصوص آج کل کے دور میں ایک اور مسئلہ بھی آ گیا ہے کہ کسی کو قرض حسنہ دینا اس وجہ سے بھی مشکل ہو گیا ہے کہ لوگ قرض ادا نہیں کرتے۔ یعنی کمال کی بات ہے کہ قرض لیتے وقت بھی قرض واپس کرنے کی نیت نہیں ہوتی۔ قرض لیتے وقت بھی قرض واپس کرنے کی نیت نہیں ہوتی۔ بس ایسا ہوتا ہے جیسے کہ مطلب اپنے آپ کو مجبور سمجھ کر دوسروں پہ حق سمجھتے ہیں کہ ہمیں دے اور جو انہوں نے دے دیا وہ ہمیں اپنا حق دے دیا۔ اب واپس کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ تقریباً تقریباً آج کل یہ صورتحال ہے۔b
اب میں آپ کو اس کی مثال دوں۔ قرض انسان کس وقت لیتا ہے یا کس وقت لینا چاہیے؟ اور قرض واپس کرنے میں رکاوٹ کیا ہے اور وہ رکاوٹ کیسے دور ہو سکتی ہے؟ یہ دو باتیں ہیں اس کو اچھی طرح جان لیں۔ قرض انسان اس وقت لے جب اس کا ایک ضروری امر جو اس کے لیے ضروری ہے وہ مشکل میں پڑ جائے۔ یہ نہیں کہ کوئی عیش کی بات ہو۔ مثلاً میں کار لینا چاہتا ہوں، تو کار تو عیش ہے۔ میں ریفریجریٹر لینا چاہتا ہوں، ریفریجریٹر بھی عیش ہے۔ میں پنکھا لینا چاہتا ہوں، وہ بھی عیش ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر لوگ گزارہ کرتے رہے ہیں۔ اب اس کے لیے میں قرض لوں تو یہ میں نے کیا لیا؟ عیش کے لیے لے لیا۔ اب عیش کے لیے جب لے لیا تو میں اپنے عیش کو کم کیسے کروں گا بعد میں دینے کے لیے؟ تو وہ تو میری ضرورت بن گئی۔ جب میری ضرورت بن گئی تو کبھی بھی مجھے واپسی کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ اگر میں نے ضرورت کے مطابق قرض لیا ہو تو ضرورت کے مطابق جب ضرورت پوری ہو جائے تو اس کو ادا کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہو گی۔ اگر میری requirement ضرورت کے مطابق ہو۔ کہ جو میرے لیے ضرورت ہے وہ صرف وہی ہے اصل میں۔
اب مثال کے طور پر ایک شخص ہے۔ وہ اچھا کھا رہا ہے اچھا پی رہا ہے عیش کے ساتھ رہ رہا ہے۔ وہ کہتا ہے جب ہو جائے گا تو پھر آپ کو دیں گے قرض واپس۔ بھئی کس وقت ہو گا؟ اگر آپ نے اپنا معیار کچن کا ایک لاکھ روپے خرچ رکھا ہوا ہے تو آپ سے بچت کب ہو گی؟ آپ یہ سمجھیں کہ اس معاشرے کے اندر minimum level جو کچن کا خرچ ہے اس پہ اپنے آپ کو لا کر اپنا قرض ادا کرنا ہو گا۔ پھر تو آپ قرض ادا کر سکیں گے۔ لیکن اگر آپ نے maximum level کا معیار رکھا ہوا ہے، تو پھر آپ قرض کیسے ادا کریں گے؟ ناممکن ہے۔ معاملہ اصل میں اکثر میں یہ عورتوں میں ہوتا ہے۔ اب مثال کے طور پر ایک شخص وہ اچھے عہدے پر ہے یا اچھا کاروباری ہے۔ اب وہ تو اپنی دولت جو کماتا ہے اس کے لحاظ سے وہ خرچ بھی کرتا ہے، تو اس کو آپ پابند بھی نہیں کر سکتے اس کے لحاظ سے وہ زندگی گزار رہا ہے۔ اب اس کا بھائی جو اتنا نہیں کما رہا۔ تو بے شک اس کو تو اس کا خیال ہو کہ میں اتنا نہیں کما رہا لہٰذا مجھے اتنا خرچ نہیں کرنا لیکن اس کی بیوی گزارہ نہیں کر سکتی۔ وہ کہتی ہے میری دیورانی جو ہے وہ جتنا خرچ کر رہی ہے اتنا تو مجھے بھی خرچ کرنا ہے۔ بے شک میرے میاں کی کم ہے آمدنی لیکن کیوں؟ ظاہر ہے میرا بھی اتنا حق بنتا ہے۔ نتیجتاً وہ اس صورت میں پھر وہ یہ مشکلات بن جاتی ہیں۔ یہی آج کل قرض دینے میں مشکل ہے۔ اور یہی قرض واپس کرنے میں مشکل ہے۔ جس کی وجہ سے قرض حسنہ کا رواج تقریباً تقریباً ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔
مثال کے طور پر جو قرض دیتا ہے اس کو سب سے پہلے یہ سوچنا ہوتا ہے کہ کیا یہ قرض واپس بھی کر سکے گا یا نہیں؟ جو عمومی حالت میں نہیں ہوتا واپسی کے ق ابل۔ ہمارے پشتو میں اس کے لیے کچھ ضرب الامثال بھی ہیں۔ کیونکہ ہر معاشرے کا یہ مسئلہ ہے۔ تو ہمارے پشتو میں کہتے ہیں وہی در بکو پسے جوڑے سپلئی زڑیگی نہ زڑیگی در بکو۔ یعنی جب آپ کسی مطلب قرض کسی نے آپ کو دے دیا۔ تو جب وہ آئے گا واپس تو آپ کہیں گے جی بس دے دیں گے۔ تو کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے کئی جوڑے جوتے کے پرانے ہو جائیں گے۔ آتے آتے۔ لیکن یہ پرانا نہیں ہو گا یہ دے دیں گے۔ کب دیں گے؟ کس وقت دیں گے؟ کیسے دیں گے؟ پھر وہ ظلم کے ساتھ لیتے ہیں۔ کبھی گریبان پکڑ لیا کبھی کیا کر لیا۔ ان کے لیے ظلم بھی نہیں ہوتا وہ۔ شریعت اجازت دیتی ہے نا پھر ایسے اگر وہ قرض واپس نہ کرے۔ تو شریعت اجازت تو دیتی ہے نا مطلب اس طرح زبردستی لینے کی۔ تو یہ مطلب گویا کہ اس قسم کی جو چیزیں ہیں یہ مسائل ہیں۔ شرعی مسائل ہیں معاشرتی مسائل ہیں۔ تو اللہ کرے کہ ہمیں یہ چیزیں سمجھ میں آ جائیں۔
مسلمانوں کا نظام بہت خوبصورت نظام ہے۔ ذرا اس نظام کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ دونوں طرف کی اس میں اصلاح کی وہ صورتیں رکھی گئی ہیں۔ لینے والے کی بھی دینے والے کی بھی۔ مالداروں کی بھی غریبوں کی بھی۔ state کی بھی۔ یعنی ہر چیز کی اس میں پورا نظام رکھا گیا ہے۔ نتیجتاً بہت آسانی کے ساتھ سب کچھ ہو جاتا ہے۔ بہت آسانی کے ساتھ سب کچھ ہو جاتا ہے۔ یعنی جو بڑے بڑے projects جو کافی رقم خرچ کرنے پہ پورے نہیں ہوتے وہ تھوڑی رقم سے بھی پورے ہو جاتے ہیں۔ اگر سب چیزیں اس کے مطابق ہو جائیں۔ افغانستان میں جب اسلامی حکومت آئی تھی تو یہ منظر لوگوں نے دیکھا تھا کہ بالکل یعنی مطلب جو project کروڑوں کا ہوتا تھا وہ لاکھوں میں ہوتا تھا۔ دیکھا تھا لوگوں نے۔ کوئی امن و امان کا مسئلہ کوئی نہیں تھا۔ بہت آسانی تھی، فراوانی تھی۔ حالانکہ غریب ملک تھا۔ کہیں ایک دم مالدار تو نہیں ہو گیا تھا۔ بس اصول صحیح ہو گئے تھے۔ اصول صحیح ہو گئے تھے۔
تو یہی اگر اصول صحیح ہو جائیں تو ہمارے لیے موجودہ حالت میں یعنی آپ یقین کیجیے کہ پاکستان جیسا ملک اس کو اللہ جل شانہ نے اتنے زیادہ وافر وہ چیزیں دی ہیں جو دوسرے لوگوں کے ساتھ اتنی نہیں ہیں۔ مثلاً اس میں ہر ایک موسم ہے۔ لہٰذا ہر موسم کا پھل اس میں ہے۔ ہر موسم کا اناج اس میں ہے۔ ہر موسم کا غلہ اس میں ہے۔ تھوڑی planning اور coordination کی ضرورت ہے۔ تو یہ ساری چیزیں بہت آسانی کے ساتھ ہو سکتی ہیں۔ ہم لوگ اگر اپنے مخلص ہو جائیں، اپنے یعنی اپنے آپ کے مخلص ہو جائیں تو اپنے مسائل خود حل کر سکتے ہیں۔ بہت آسانی کے ساتھ۔ لیکن ہم لوگوں کی یہ بات ہے کہ ہم لوگ خود کچھ کام نہیں کرنا، ہم کہتے ہیں کوئی اور ہمارے لیے کر لے۔ وہ پشتو میں کہتے ہیں: د اکبر باچا لاټان۔ یعنی اکبر بادشاہ کے دور کے جو کاہل لوگ ہیں باقاعدہ ان کو جو ملتا تھا۔ تو وہ اس قسم کا بس وہ سب کاہل بیٹھے ہوئے ہیں کہ ہمارے لیے کوئی اور کام کرے۔ یہ بہت عجیب بات ہے۔ بہت سارے projects ہو سکتے ہیں خود اپنی مدد آپ کے تحت۔ آپ کے بجلی کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ آپ کے دوسرے معاشی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ agriculture آپ کی بہتر ہو سکتی ہے۔ اگر آپ تھوڑا سا سوچیں۔ ان شرعی اصولوں کی بنیاد پر جو شریعت نے مقرر کی ہیں، تو بہت مسائل ہمارے حل ہو سکتے ہیں۔
ہمارے حضرت فرمایا کرتے تھے مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ افسوس ان کو تو دنیا بھی کمانا نہیں آتا، ہم تو ان کی دنیا کے لیے بھی روتے ہیں۔ ان کو تو دنیا بھی کمانا نہیں آتا۔ اور بات بالکل صحیح ہے۔ یہ نظام، پاکستان جس وقت بنا تھا یہ PECO industry بہت بڑی industry تھی۔ اور ہمارا جو نظام تھا وہ کافی اچھے نظاموں میں شمار ہوتا تھا اس وقت۔ لیکن اِس وقت ہم کہاں پر کھڑے ہیں؟ تو یہ ہم لوگوں کی کمزوریاں ہیں۔ صرف management کمزوریاں ہیں۔ طریقہ کار کی کمزوریاں ہیں۔ ورنہ چیزیں موجود ہیں۔ افراد موجود ہیں، labour، بہترین labour موجود ہے۔ بہترین labour پاکستان کے ساتھ موجود ہے۔ بہترین وسائل موجود ہیں۔ بہترین موسم موجود ہیں۔ تو اگر اس سے ہم لوگ فائدہ اٹھانا چاہیں تو ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔