خود ساختہ دین و جاہلی رسومات کا رد اور عقیدۂ آخرت کی اہمیت
درس نمبر 271، سورۃ الانعام، آیات: 133 تا 140، اشاعتِ اول: 2 اور 3 ستمبر، 2022، بمطابق 5 اور 6 مصفرالمظفر، 1444 ہجری
- آخرت پر سچے یقین کے بغیر انسان دنیاوی نفع و نقصان کے ڈر سے شرک اور بے بنیاد رسموں کا شکار ہو جاتا ہے۔
- عرب کے مشرکین نے جہالت کے سبب لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے اور بیٹوں کو ذبح کرنے جیسی قبیح رسمیں اپنا رکھی تھیں۔
- انہوں نے پیداوار میں اللہ اور بتوں کے حصے مقرر کر رکھے تھے اور اللہ کے مقابلے میں بتوں کے حصے کی زیادہ پرواہ کرتے تھے۔
- شرک کا یہ طرزِ عمل صرف ماضی کا حصہ نہیں بلکہ آج بھی لوگ دنیاوی فائدے کے لیے اللہ کی ذات میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔
- توحید کا حقیقی آغاز آخرت پر کامل یقین سے ہوتا ہے جو انسان کے تمام عقائد اور اعمال کو درست کر دیتا ہے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَ (133) اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ (134) قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ (135) وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآىٕنَا ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآىٕهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآىٕهِمْ ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ (136)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ
ترجمہ: اور تمہارا پروردگار ایسا بے نیاز ہے جو رحمت والا بھی ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو (دُنیا سے) اُٹھالے، اور تمہارے بعد جس کو چاہے تمہاری جگہ لے آئے، جیسے اُس نے تم کو کچھ اور لوگوں کی نسل سے پیدا کیا تھا ﴿133﴾ یقین رکھو کہ جس چیز کا تم سے وعدہ (۶۵) کیا جارہا ہے اُس کو آنا ہی آنا ہے، اور تم (اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتے ﴿134﴾ (اے پیغمبر! ان لوگوں سے) کہو کہ: ’’اے میری قوم! تم اپنی جگہ (اپنے طریقے کے مطابق) عمل کرو، میں (اپنے طریقے کے مطابق) عمل کر رہا ہوں۔پھر جلد ہی تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ اس دُنیا کا انجام کس کے حق میں نکلتا ہے۔ یہ حقیقت (اپنی جگہ) ہے کہ ظالم لوگ فلاح نہیں پاتے۔"﴿135 اور اللہ نے جو کھیتیاں اور چوپائے پیدا کئے ہیں، ان لوگوں نے اُن میں سے اللہ کا بس ایک حصہ مقرر کیا ہے۔ چنانچہ بزعم خود یوں کہتے ہیں کہ یہ حصہ تو اللہ کا ہے، اور یہ ہمارے اُن معبودوں کا ہے جن کو ہم خدائی میں اللہ کا شریک مانتے ہیں۔ پھر جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے، وہ تو (کبھی) اللہ کے پاس نہیں پہنچتا، اور جو حصہ اللہ کا ہوتا ہے، وہ ان کے گھڑے ہوئے معبودوں کو پہنچ جاتا ہے۔ ایسی بُری بُری باتیں ہیں جو انہوں نے طے کر رکھی ہیں! ﴿136﴾
حاشیہ: عرب کے مشرکین کی کچھ بے بنیاد رسموں کا بیان ہے۔ ان لوگوں نے کسی معقول اور علمی بنیاد کے بغیر مختلف کاموں کو من گھڑت اسباب کی بنیاد پر حلال یا حرام قرار دے رکھا تھا۔ مثلاً خود اپنی اولاد کو انتہائی سنگ دلی سے قتل کر دیتے تھے۔ اگر لڑکی پیدا ہوئی ہو تو اسے اپنے لئے بڑی شرم کی بات سمجھ کر اسے زندہ زمین میں دفن کر دیتے تھے، بعض لوگ اس وجہ سے بھی لڑکیوں کو دفن کر دیتے تھے کہ اُن کا عقیدہ یہ تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں، اس لئے انسانوں کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ لڑکیاں رکھیں۔ لڑکوں کو بعض اس وجہ سے قتل کر ڈالتے تھے کہ ان کو کہاں سے کھلائیں گے۔ اور کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو یہ نذر مان لیتے تھے کہ ہمارا جو دسواں لڑکا ہوگا، اسے اللہ یا بتوں کے نام پر ذبح کردیں گے۔ اس کے علاوہ اپنے مویشیوں اور کھیتوں کی پیداوار کے بارے میں بھی عجیب وغریب عقیدے گھڑ رکھے تھے۔ اُن میں سے ایک کا بیان اس آیت میں ہے، اور وہ یہ کہ اپنے کھیتوں کی پیداوار اور مویشیوں کے دودھ یا گوشت میں سے کچھ حصہ تو اللہ کے نام کا رکھتے تھے (جو مہمانوں اور غریبوں میں تقسیم کے لئے ہوتا تھا) اور ایک حصہ اپنے بتوں کے نام کا نکالتے تھے جو بت خانوں پر چڑھایا جاتا تھا، اور اُس سے بت خانوں کے نگراں فائدہ اُٹھاتے تھے۔ اوّل تو یہ بات ہی بے ہودہ تھی کہ اللہ کے ساتھ بتوں کو شریک کرکے اُن کے نام پر پیداوار کا کچھ حصہ رکھا جائے۔ اُوپر سے ستم ظریفی یہ تھی کہ جو حصہ اللہ کے نام کا رکھا تھا، اگر اُس میں سے کچھ بتوں والے حصے میں چلا جاتا تو کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، البتہ اگر بتوں کے حصے میں سے کوئی چیز اللہ کے نام کے حصے میں چلی جاتی تو اُسے فوراً واپس کرنے کا اہتمام کرتے تھے۔
یہ بس بڑی عجیب بات تھی، مطلب یہ ہے کہ یہاں پر بھی ایک بات ہوئی تھی، مولانا عزیز الرحمان صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرما رہے تھے۔ کہ ایک دفعہ مجھے کسی گھر میں ختم کے لیے بلایا۔ تو پھر وہ حلوہ دو قسم کا رکھا گیا، ایک چینی کا تھا، ایک گڑ کا تھا۔ تو جو گڑ کا حلوہ تھا، تو اس نے، انہوں نے کہا کہ یہ اللہ کے نام کا ہے۔ اور جو چینی کا حلوہ تھا نا، جو ذرا مزیدار تھا نا، تو اس کا، اس کو شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے نام کیا ہوا تھا۔ تو کہتے ہیں میں نے کہا کہ خدا کے بندو! ایسا شرک جو ہے، وہ تو مشرکینِ مکہ نے بھی نہیں کیا تھا جیسے تم نے کیا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ اس قسم کی باتیں لوگوں میں پھر چلی جاتی ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے ہاں۔۔۔ ایک بات یاد رکھنی چاہیے۔ جو مشرکین ہوتے ہیں نا، چاہے کفار کے مشرکین ہوں چاہے ہمارے ہاں کے مشرکین ہوں۔ ان میں ایک بات کامن ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ اصل مقصد اس دنیا کی چیز کو سمجھتے ہیں۔ مطلب اصل مقصد اس دنیا کی چیز کو سمجھتے ہیں۔ اور دنیا کی چیزوں کے بارے میں اگر ان کو کوئی ذرہ بھر بھی بات کہہ دے نا کہ اگر آپ نے یہ رسم نہیں کی تو فلاں نقصان ہو جائے گا۔ فلاں نقصان ہو جائے گا۔ اب یہی بات ہے کہ اس کو ڈرا کر اس رسم پہ مجبور کر لیتی ہے۔ ان کا آخرت کے ساتھ کوئی مطلب اس وقت تعلق نہیں ہوتا کہ آخرت کے بارے میں کچھ سوچیں۔ ان کی سوچ، جیسے ہندو لوگ ہیں، وہ تو آخرت کا یقین نہیں رکھتے تو وہ تو کہتے ہیں کہ ہم دنیا میں پھر آئیں گے۔ اگر اچھے اعمال ہم نے کیے تو دنیا میں اچھی پوزیشن میں آ جائیں گے، جس کو جنم کہتے ہیں۔ اور اگر برے اعمال کریں گے تو پھر ہم دوسری بری شکل میں آ جائیں گے، جیسے بچھو آ جائیں گے یا کوئی اور مطلب چیز بن جائے گی ہم سے۔ ان کا عقیدہ یہ ہے۔ اس کو اواگون کا عقیدہ کہتے ہیں۔ تو وہ بھی آخرت پہ چونکہ یقین نہیں رکھتے، لہٰذا وہ ابھی کرونا گزرا ہے۔ تو کرونا کا بت انہوں نے بنا لیا ہے۔ اور اس کو پوج رہے ہیں۔ تاکہ مطلب یہ ہے کہ کرونا ہم سے ٹل جائے۔ اسی طریقے سے مطلب یہ ہے کہ جو مطلب یہاں کے لوگ بھی ہیں، وہ بھی یہی مطلب ہے کہ ان کو ڈر ہو جاتا ہے، اوہو! اگر ہم نے یہ چڑھاوا نہیں چڑھایا تو ہمیں نقصان ہو جائے گا۔ اور اگر چڑھا دیا تو پھر ہمیں فائدہ ہو جائے گا۔ تو وہ، وہ اس قسم کی چیزیں ان لوگوں نے مانی ہوتی ہیں، تو یہ دنیا کے لیے کرتے ہیں، آخرت کے لیے نہیں کرتے۔ جہاں آخرت کی سوچ آ گئی وہاں سے توحید شروع ہو گئی۔ مطلب وہاں توحید پر شروع ہو جاتی ہے۔ آخرت کا عقیدہ جس وقت صحیح معنوں میں کسی میں آ گیا۔ اس وجہ سے قرآنِ پاک نے بنیادی تین عقیدوں پر بحث کی ہے۔ توحید، رسالت اور آخرت۔ آخرت بالکل سورہ بقرہ کی ابتدا میں وَبِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ۔ یعنی ایمان بالغیب کے فوراً بعد کیا آتا ہے، وَبِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ۔ یعنی وَبِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ اگر صحیح معنوں میں اگر کسی کا ہو۔ تو پھر اس کے بعد وہ کچھ چیزیں ساری خود ہی ٹھیک کرنا چاہیں گے۔ اگر غلط فہمی کی وجہ سے ٹھیک نہیں تھیں تو جیسے ان کو پتہ چل جائے گا وہ ٹھیک کر لیں گے۔ اور اگر مطلب دنیا ان کا مقصود ہو تو پھر جھوٹے پیروں کے پاس جائیں گے۔ کرپٹ عاملوں کے پاس جائیں گے۔ مطلب دھوکہ باز لوگوں کے پاس جائیں گے، خود بھی دھوکے کریں گے۔ کیوں؟ ظاہر ہے، مطلب یہ ہے کہ ان کو، ان کو دنیا چاہیے۔ تو دنیا کے لیے وہ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ اللہ جل شانہ اس دنیا کی محبت کو ہمارے دلوں سے نکال لے۔ اور آخرت کی طرز کا تصور لے آئے اور اللہ کی محبت، اللہ کے رسول کی محبت سے ہم سب کو سرشار کر دے۔ اور ہمارے عقائد کو بھی درست فرما دے، ہمارے اعمال کو بھی درست فرما دے، اسی پر استقامت نصیب فرمائے۔
وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ (137) وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ (138) وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ (139) قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُـوْۤااَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ (140)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ
ترجمہ: اور اسی طرح بہت سے مشرکین کو اُن کے شریکوں نے یہ سُجھا رکھا ہے کہ اپنی اولاد کو قتل کرنا بڑا اچھا کام ہے، تاکہ وہ ان (مشرکین) کو بالکل تباہ کرڈالیں، اور اُن کے لئے اُن کے دین کے معاملے میں مغالطے پیدا کردیں۔ اور اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کرسکتے۔ لہٰذا ان کو اپنی افترا پردازیوں میں پڑا رہنے دو ﴿137﴾ اور یوں کہتے ہیں کہ: ”ان چوپایوں اور کھیتیوں پر پابندی لگی ہوئی ہے“۔ ان کا زعم یہ ہے کہ: ”ان کو سوائے اُن لوگوں کے کوئی نہیں کھا سکتا جنہیں ہم کھلانا چاہیں“۔
حاشیہ: اس کی تشریح کے لئے دیکھئے اسی سورت میں پیچھے آیت نمبر 112 کا حاشیہ۔ یہاں پھر وہی بات فرمائی جارہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو شیاطین کو یہ قدرت نہ دیتا، اور لوگوں کو زبردستی ایمان پر مجبور کردیتا، لیکن چونکہ مقصد امتحان ہے، اس لئے زبردستی کا ایمان معتبر نہیں۔
اصل میں بات یہ ہے کہ بنیادی طور پر کہ برائی کی نسبت چونکہ اللہ تعالی کی طرف نہیں کی جا سکتی۔ تو اس وجہ سے یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کر سکتے۔ لیکن چونکہ انہوں نے خود اس چیز کو opt کر لیا ہے اور اس کا ارادہ کر لیا ہے تو اللہ تعالی نے اس کو کرنے دیا کیونکہ یہ جگہ امتحان کی ہے۔ یہ بات۔ تو فرمایا کہ
حاشیہ: یہ ایک اور رسم کا بیان ہے جس کی رُو سے وہ اپنے من گھڑت دیوتاؤں کو اپنے گمان کے مطابق خوش کرنے کے لئے کسی خاص کھیتی یا مویشی پر پابندی لگا دیتے تھے کہ ان کی پیداوار سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ البتہ جس شخص کو چاہتے، اس پابندی سے مستثنیٰ کر دیتے تھے۔
ایک ہوتا ہے اللہ کی طرف سے revealed religion۔ یعنی اللہ پاک نے جو وحی کے ذریعے سے اتاری ہے پیغمبر کے ذریعے سے جو بات پہنچائی ہے وہ revealed ہوتا ہے۔ وہ تبدیل کوئی نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اصل اس کا وہ اللہ کی طرف سے آ رہا ہے وہ تو کسی اور کی طرف سے تو نہیں ہے۔ ایک ہوتا ہے fabricated دین۔ یعنی انسان خود بنا لے دین۔ تو وہ پھر تبدیل کر سکتے ہیں اس میں جو بھی تبدیلی کر سکتے ہیں تو کر سکتے ہیں۔ اسی طریقے سے جیسے ہندوؤں کا fabricated دین ہے، پارسیوں کا fabricated دین ہے، یہودیوں کا، عیسائیوں کا۔ اس میں جس، جو مرضی بات داخل کر لیں، جو مرضی بات نکال لیں۔ اب انجیل کتنی قسمیں ہیں؟ مطلب ظاہر ہے وہ تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ آپ مختلف زمانوں کی انجیلوں کو پڑھیں تو آپس میں کوئی consistency نہیں۔ اس طرح تورات کا، اس طرح مطلب ہے جو، کیونکہ ان میں تحریف کر چکے ہیں، اور وہ اپنی طرف سے اس میں چیزیں داخل کر لیتے ہیں، اپنی طرف سے چیزیں نکال لیتے ہیں۔ اسلام ایسا دین ہے جس کے اندر یہ چیز ممکن نہیں ہے۔ اس میں یہ ہے کہ اگر کوئی بھی بات ہوگی تو ظاہر ہے وہ پن پوائنٹ ہو جائے گی۔ جیسے ایک دفعہ یہ احمد چھوٹا سا تھا، یہ اس وقت حفظ کر رہا تھا۔ میرے پاس آیا کہ ابو آج ہم نے ایک قرآن دیکھا ہے، اس میں ایک آیت میں ایک لفظ غلط لکھا ہوا تھا، دوسرا لکھا ہوا تھا۔ تو میں نے کہا ٹھیک ہے۔ تو کچھ دنوں کے بعد اس قرآن کا ذکر آ گیا کہ اس کو وزارتِ مذہبی امور نے ضبط کر لیا۔ کہ اس میں آیتیں ٹھیک نہیں لکھی ہوتیں۔ ایک باقاعدہ پورا سیکشن اس کے لیے مختص ہے وزارتِ مذہبی امور میں جو اس چیز کو find کرتے رہتے ہیں۔ کہ اگر قرآن کے اندر کسی نے اپنی طرف سے کوئی چیز لگائی ہو یا نکالی ہو تو اس کو ضبط کر لیں۔ اور اس کو پھر آئندہ مارکیٹ میں نہ آنے دیں۔ تو یہ مطلب ظاہر ہے اللہ پاک کا نظام ہے، اس میں کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ جبکہ باقی جگہوں پر اس قسم کے ہوتے ہیں۔ تو اب یہاں پر بھی ان لوگوں کا چونکہ مین میڈ تھا۔ لہذا اپنی طرف سے حکم لگایا کہ یہ کوئی نہیں کھا سکتا۔ پھر جن کو اجازت دیتے ہیں ان کو اجازت دیتے تھے۔ کیونکہ مین میڈ تھا۔
ترجمہ: اور کچھ چوپائے ایسے ہیں جن کی پشت حرام قرار دے دی گئی ہے،
حاشیہ: یہ ایک اور رسم تھی کہ کسی سواری کے جانور کو کسی بت کے نام وقف کر دیتے تھے، اور یہ کہتے تھے کہ اس پر سواری کرنا حرام ہے۔
وہی مین میڈ چیز۔
ترجمہ: اور کچھ چوپائے وہ ہیں جن کے بارے میں اللہ پر یہ بہتان باندھتے ہیں کہ اُن پر اللہ کا نام نہیں لیتے۔
حاشیہ: بعض جانوروں کے بارے میں انہوں نے یہ طے کر رکھا تھا کہ ان پر اللہ کا نام نہیں لیا جاسکتا، نہ ذبح کرتے وقت، نہ سواری کے وقت، اور نہ اُن کا گوشت کھاتے وقت۔ چنانچہ اُن پر سوار ہو کر حج کرنے کو بھی ناجائز سمجھتے تھے۔
تو بس اپنی طرف سے بات بنا لی ہے۔
ترجمہ: جو افترا پردازی یہ لوگ کر رہے ہیں، اللہ انہیں عنقریب اس کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ ﴿138﴾ نیز وہ کہتے ہیں کہ: ”ان خاص چوپایوں کے پیٹ میں جو بچے ہیں وہ صرف ہمارے مردوں کے لئے مخصوص ہیں، اور ہماری عورتوں کے لئے حرام ہیں“۔ اور اگر وہ بچہ مردہ پیدا ہو تو اُس سے فائدہ اُٹھانے میں سب (مرد و عورت) شریک ہوجاتے ہیں۔
حاشیہ: یعنی بچہ اگر زندہ پیدا ہو جائے تو صرف مردوں کے لئے حلال ہوگا، عورتوں کے لئے حرام، لیکن مردہ پیدا ہو تو مردوں عورتوں دونوں کے لئے حلال۔
تو اس طرح یہ بہت، یہ ہندوؤں میں ہم دیکھتے ہیں کہ اتنی ساری چیزیں مطلب ان لوگوں نے بنائی ہیں اور کہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے، symbolically یہ وجہ یہ ہے، فلاں جگہ تل لگانا ہے تو اس کا یہ ہوتا ہے، فلاں چیز کا یہ ہوتا ہے۔ تو انہوں نے اپنی طرف سے fabrication کی ہے۔ اور وہ change ہوتی رہتی ہے۔ تو یہ ظاہر ہے ان کی اس fabrication کی وجہ سے۔
ترجمہ: جو باتیں یہ لوگ بنا رہے ہیں، اللہ انہیں عنقریب اُن کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ یقیناً وہ حکمت کا بھی مالک ہے، علم کا بھی مالک ﴿139﴾ حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ بڑے خسارے میں ہیں جنہوں نے اپنی اولاد کو کسی علمی وجہ کے بغیر محض حماقت سے قتل کیا ہے، اور اللہ نے جو رزق ان کو دیا تھا اُسے اللہ پر بہتان باندھ کر حرام کر لیا ہے۔ وہ بری طرح گمراہ ہوگئے ہیں، اور کبھی ہدایت پر آئے ہی نہیں۔ ﴿140﴾
تو اصل میں واقعی اپنی جگہ سے کوئی کٹ جائے نا تو پھر وہ کٹی ہوئی پتنگ کی طرح ہوتا ہے، پتہ نہیں ہوتا کہ کہاں گرتا ہے۔ تو قرآن پاک میں بھی آتا ہے کہ جس نے شرک کر لیا۔ تو ایسا ہے جیسے آسمان سے گرا۔ یا پھر کسی پرندے نے اچک لیا۔ یا پھر کسی گہری کھائی میں گر کے پاش پاش ہو گیا۔ تو مطلب یہ ہے کہ یا بدعات وغیرہ میں مبتلا ہو جاتا ہے، یا پھر شرک اور پتہ نہیں کیا، اور گھاٹیوں میں گر جاتا ہے، عجیب و غریب۔ اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔