کثرتِ درود شریف کی فضیلت، برکات اور آدابِ زیارت (حصہ دوم)
اشاعت اول: جمعہ 6 جولائی، 2018، بمطابق: 22 شوال، 1439 ھ
صبح و شام درود شریف پڑھنے پر شفاعتِ نبویؐ کی بشارت
درود شریف کا منفرد قرآنی اسلوب اور خصوصی مقام
درود شریف کی جامعیت (دعا، ذکر اور درود کا مجموعہ)
ذکر و استغفار میں احوال کی رعایت اور مشائخ کی رہنمائی
کمالِ ایمان، حبِ رسول ﷺ اور درود شریف کا باہمی تعلق
اکابر و مشائخ کا درود شریف سے شغف اور "زاد السعید" (مقبول وظیفہ)
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جو شخص صبح اور شام مجھ پر دس دس مرتبہ درود شریف پڑھے اس کو قیامت کے دن میری شفاعت پہنچ کر رہے گی۔ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِاسْنَادَيْنِ اَحَدُهُمَا جَيِّدٌ۔ لیکن فِيْهِ اِنْقِطَاعٌ كَذَا فِي الْقَوْلِ الْبَدِيْعِ۔ علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے متعدد احادیث سے درود شریف پڑھنے والے کو خصوصاً شفاعت حاصل ہونے کا مژدہ نقل کیا ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو درود شریف کی قدردانی کی توفیق عطا فرمائے۔
اصل میں یہ وہ عمل ہے جس کا اللہ پاک نے قرآنِ پاک میں انتہائی منفرد انداز میں حکم دیا ہے۔ انتہائی منفرد انداز میں، کوئی اور عمل اس کے ساتھ شریک نہیں ہے۔ اور وہ ہے: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔ بیشک اللہ اور اس کے فرشتے اس عظیم نبی پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے مومنو! تم بھی درود و سلام یعنی اہتمام کے ساتھ ان پر بھیجو۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ پاک کو یہ بات بہت محبوب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا جائے۔ درود میں دعا بھی ہے، درود میں ذکر بھی ہے اور درود میں درود بھی ہے۔ تینوں چیزیں اس میں آ گئی ہیں۔ اللَّهُمَّ سے جب شروع ہو گیا تو دعا ہو گیا نا۔ دعا ہو گیا۔ اور اِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ ذکر ہو گیا۔ اور درود تو ہے ہی۔ تو تینوں چیزیں اس کے اندر آجاتی ہیں۔
باقی یہ ہے کہ ذکر کی اپنی برکات ہیں، درود شریف کی اپنی ہیں، استغفار کی اپنی ہیں۔ حالات کے مطابق تبدیلیاں آتی رہتی ہیں، لوگوں کے حالات کے مطابق بھی اور اوقات کے مطابق بھی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ لہذا مشائخ کے ساتھ جن کا تعلق ہوتا ہے وہ ان کو اس حال کے مطابق بتا دیتے ہیں جس حال کے مطابق جو مناسب ہوتا ہے وہ بتا دیتے ہیں۔ لیکن یہ ہے کہ یہ عمل ہے بہت اونچا، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ بالخصوص جن لوگوں کے دلوں میں اس کام کی اہمیت کم ہو۔ ان کے لیے تو یہ چیزیں بہت ضروری ہو جاتی ہیں۔ ان کو یہ بات سمجھ آ جائے۔ کہ بہت اونچا کام ہے۔ اور اس کے ذریعے سے بہت سارے لوگوں کا کام بن گیا ہے۔ درود و سلام کے ذریعے سے۔
اور۔ ہم لوگ۔ کچھ باتوں کو بھول جاتے ہیں۔ دیکھیں۔ اللہ جل شانہ نے صاف ارشاد فرمایا ہے۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللَّهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی جو کرے گا وہ اللہ کا محبوب بن جائے گا اس آیت کے مطابق۔ بالکل واضح بات ہے اس میں کوئی درمیان والی بات نہیں ہے۔
دوسری بات۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود واضح طور پر ارشاد فرمایا کہ تم میں کسی کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا۔ جب تک کہ۔ مجھے۔ اپنے والدین سے زیادہ، اپنی اولاد سے زیادہ، بلکہ سارے لوگوں سے زیادہ محبوب نہ سمجھے۔ سارے لوگوں سے زیادہ محبوب نہ سمجھے۔ اور پھر۔ ایک روایت میں عمر رضی الله عنه سے ارشاد فرمایا، جب تک اپنے آپ سے بھی زیادہ مجھے محبوب نہ سمجھو۔ کیا خیال ہے؟ اگر یہ حالت ہو جائے کسی کی تو درود شریف کیسے پڑھے گا؟ کچھ پوچھنے کی ضرورت ہوگی؟ ارے اگر یہ حال کسی کا ہو جائے کہ ہر شخص سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے محبوب ہوں تو اس وقت درود شریف پڑھنے کی حالت اس کی کیسی ہوگی؟ خود بخود انسان کو سمجھ جانا چاہیے۔
اس وجہ سے جو اللہ والے اس مقام پہ پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ ان کا حال یہ ہوتا ہے۔ ان کا حال یہ ہوتا ہے۔ حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ۔ ان کا حال یہی تھا آج خود ان کا مظاہرہ جیسا فرمایا۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ۔ انہوں نے چالیس درود و سلام کا ایک سیٹ بنایا۔ چالیس درود و سلام کی احادیث شریفہ کا۔ ایک سیٹ بنایا۔ اس کا نام رکھا زاد السعید۔ کیا نام تھا؟ زاد السعید۔ زاد السعید کا مطلب کیا ہے؟ نیک بخت لوگوں کی زاد راہ۔ نیک بخت لوگوں کی زاد راہ۔ یہ زاد السعید بھی اصل میں چالیس درود و سلام ہیں۔ اور حضرت شیخ الحدیث رحمة الله علیه نے اس کو من و عن رکھا ہے۔ من و عن اس طرح ہی رکھا ہے جس طریقے سے ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ اسی میں پڑھتے ہیں، تو ان کو حضرت نے البتہ مقبول وظیفہ کا نام دے دیا۔ تو اس مقبول وظیفہ کو حضرت کے خلفاء نے پوری دنیا کے اندر عام کر دیا۔ تقریباً دنیا کی شاید ساری زبانوں میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے۔ تقریباً۔ دنیا کی ہر زبان میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے، تقریباً، اور پہلا ہے۔
تو اس طریقے سے ہمارے مشائخ جو ہیں وہ تو اس چیز کو بہت بڑی نعمت سمجھتے ہیں درودِ پاک کو۔ تو اگر ہم بھی پڑھیں، ان شاء اللہ ہمیں بھی اس کا فائدہ ملے گا۔