صراطِ مستقیم، شیاطین کے فریب اور روزِ جزا اتمامِ حجت
درس نمبر 270، سورۃ الانعام، آیات: 126 تا 133، اشاعتِ اول: 31 اگست اور 1 ستمبر، 2022، بمطابق 3 اور 4 مصفرالمظفر، 1444 ہجری
- آخرت میں شیطان اور اس کے بہکاوے میں نفسانی خواہشات پوری کرنے والے انسان اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے مگر جہنم کی سزا بھگتیں گے۔
- کافروں کے عذاب اور ثواب کا فیصلہ کسی سفارش کے بجائے محض اللہ تعالیٰ کی مشیت، علم اور حکمت پر مبنی ہوگا۔
- کافروں کو ہمیشہ جہنم میں رکھنا اللہ کی کوئی مجبوری نہیں بلکہ یہ فیصلہ اس کی مشیت اور حکمت کے عین مطابق ہے۔
- انسانوں کی ہٹ دھرمی اور بدعمالیوں کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ان پر شیاطین اور دوسرے ظالموں کو مسلط کر دیتا ہے۔
- دنیا میں ظلم کرنے والے انسان اور شیاطین اپنے اعمال کی وجہ سے آخرت میں بھی ایک دوسرے کے ساتھی بنا دیے جائیں گے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ (126) لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (127) وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ؕ ِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ (128) وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ (129)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: اور یہ (اسلام) تمہارے پروردگار کا (بتایا ہوا) سیدھا سیدھا راستہ ہے۔ جو لوگ نصیحت قبول کرتے ہیں، اُن کے لئے ہم نے (اس راستے کی) نشانیاں کھول کھول کر بیان کردی ہیں ﴿126﴾ اُن کے پروردگار کے پاس سکھ چین کا گھر ایسے ہی لوگوں کے لئے ہے، اور جو عمل وہ کرتے رہے ہیں، اُن کی وجہ سے وہ خود اُن کا رکھوالا ہے ﴿127﴾ اور (اُس دن کا دھیان رکھو) جس دن اللہ ان سب کو گھیر کر اکٹھا کرے گا، اور (شیاطینِ جنات سے کہے گا کہ:) ’’اے جنات کے گروہ! تم نے انسانوں کو بہت بڑھ چڑھ کر گمراہ کیا‘‘ اور انسانوں میں سے جو اُن کے دوست ہوں گے، وہ کہیں گے: ’’اے ہمارے پروردگار! ہم ایک دوسرے سے خوب مزے لیتے رہے ہیں،
حاشیہ: انسان تو شیطانوں سے یہ مزے لیتے رہے کہ ان کے بہکانے میں آکر اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کی، اور وہ گناہ کئے جن سے ظاہری طور پر لذت حاصل ہوتی تھی۔ اور شیطان انسانوں سے یہ مزے لیتے رہے کہ انہیں گمراہ کرکے خوش ہوئے کہ یہ لوگ خوب اچھی طرح ہمارے قابو میں آگئے ہیں۔ دراصل وہ یہ کہہ کر اپنی غلطی کا اعتراف کررہے ہوں گے، اور غالباً آگے معافی بھی مانگنا چاہتے ہوں گے، لیکن یا تو اس سے آگے کچھ کہنے کا حوصلہ نہیں ہوگا، یا چونکہ معافی کا وقت گزر چکا ہوگا، اِس لئے اللہ تعالیٰ اُن کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی یہ فرمائیں گے کہ اب معافی تلافی کا وقت گزر چکا، اب تو تمہیں جہنم کی سزا بھگتنی ہی ہوگی۔
ترجمہ: اور اب اپنی اُس میعاد کو پہنچ گئے ہیں جو آپ نے ہمارے لئے مقرر کی تھی۔‘‘ اللہ کہے گا: ’’(اب) آگ تم سب کا ٹھکانا ہے، جس میں تم ہمیشہ رہوگے، الا یہ کہ اللہ کچھ اور چاہے۔
حاشیہ: اس کا ٹھیک ٹھیک مطلب تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، لیکن بظاہر استثناء کے اس جملے سے دو حقیقتوں کی طرف اشارہ مقصود ہے۔ ایک یہ کہ کافروں کے عذاب و ثواب کا فیصلہ کسی سفارش یا اثر و رسوخ کی وجہ سے تبدیل نہیں ہوسکتا، بلکہ اس کا تمام تر فیصلہ خود اللہ تعالیٰ کی مشیت کی بنیاد پر ہوگا، اور یہ مشیت اس کی حکمت اور علم کے مطابق ہوگی جس کا ذکر اگلے جملے میں ہے۔ دوسری حقیقت جو اس استثناء سے ظاہر فرمائی گئی ہے یہ ہے کہ کافروں کو ہمیشہ جہنم میں رکھنا (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ کی کوئی مجبوری نہیں ہے، لہٰذا اگر بالفرض اُس کی مشیت یہ ہوجائے کہ کسی کو باہر نکال لیا جائے تو یہ عقلی اعتبار سے ناممکن نہیں ہے، کیونکہ اُس کی اس مشیت کے خلاف کوئی اُسے مجبور نہیں کرسکتا۔ یہ اور بات ہے کہ اُس کی مشیت اُس کے علم اور حکمت کے مطابق یہی ہو کہ کافر ہمیشہ جہنم میں رہیں۔
ترجمہ: اور اسی طرح ہم ظالموں کو اُن کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ایک دوسرے پر مسلط کردیتے ہیں۔ ﴿129﴾
تو یہی بات ابھی جو چل رہی تھی کہ یعنی ایک دوسرے کے اوپر وہ مسلط ہیں، یعنی ایک دوسرے کو خراب کر رہے ہیں، ایک دوسرے سے وہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تو یہ بات ہے
حاشیہ: یعنی جس طرح ان کافروں پر اُن کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے شیاطین کو مسلط کردیا گیا جو انہیں بہکاتے رہے، اسی طرح ہم ظالموں کی بداعمالیوں کی وجہ سے اُن پر دوسرے ظالموں کو مسلط کردیتے ہیں۔ چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ جب کسی ملک کے لوگ بداعمالیوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو اُن پر ظالم حکمران مسلط کردیئے جاتے ہیں۔ اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ جب کوئی شخص کسی ظالم کے ظلم میں اُس کی مدد کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ خود اُسی ظالم کو مدد کرنے والے پر مسلط کردیتا ہے۔ اس آیت کا ایک اور ترجمہ بھی ممکن ہے، اور وہ یہ کہ: ’’اسی طرح ہم ظالموں کو ایک دوسرے کا ساتھی بنادیں گے۔‘‘ اُس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ شیاطین بھی ظالم تھے، اور ان کے پیچھے چلنے والے بھی۔ چنانچہ آخرت میں بھی ہم ان کو ایک دوسرے کا ساتھی بنادیں گے۔ بہت سے مفسرین نے آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے کی طرح ہیں، مطلب یعنی ایک بھی ظلم کر رہا ہے، دوسرا بھی ظلم کر رہا ہے۔ تو اس وجہ سے وہ ایک دوسرے کے ساتھی بنا دیے جائیں گے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو صحیح سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ان آیات مبارکہ کا وہی مطلب لے جو اللہ جل شانہ کے ہاں ہے۔
یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ (130) ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ (131) وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ (132)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: اے جنات اور انسانوں کے گروہ! کیا تمہارے پاس خود تم میں سے وہ پیغمبر نہیں آئے تھے جو تمہیں میری آیتیں پڑھ کر سناتے تھے،
حاشیہ: انسانوں میں تو پیغمبروں کا تشریف لانا واضح ہے۔ اس آیت کی وجہ سے بعض علماء کا کہنا ہے کہ جنات میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے پیغمبر آتے رہے ہیں۔ اور دوسرے حضرات کا کہنا یہ ہے کہ باقاعدہ پیغمبر تو جنات میں نہیں آئے، لیکن انسانوں میں جو پیغمبر بھیجے گئے، وہی جنات کو بھی تبلیغ کرتے تھے، اور جو جنات مسلمان ہو جاتے وہ پھر انبیائے کرام کے نمائندے بن کر دوسرے جنات کو تبلیغ کرتے تھے، جیسا کہ سورۂ جن میں تفصیل سے مذکور ہے۔ آیت کی رُو سے دونوں احتمال ممکن ہیں، کیونکہ آیت کا مقصد یہ ہے کہ انسانوں اور جنات دونوں کو تبلیغ کا حق ادا کر دیا گیا تھا، اور وہ دونوں طرح ممکن ہے۔
یہ اصل میں واقعی ایک اختلافی مسئلہ ہے کہ جنات میں بھی پیغمبر آئے ہیں یا نہیں آئے۔ تو ظاہر ہے، تفصیلات پھر اپنے اپنے حضرات نے اپنی اپنی جگہ پر کی ہیں۔ لیکن یہاں پر اس آیت کا مطلب بالکل واضح ہے کہ تبلیغ دونوں کو ہو چکی ہے۔ آگے جا کے ان کو اختیار دیا گیا ہے، جن لوگوں نے مان لیا انہوں نے مان لیا اور جو نہیں مانے تو ان کو پھر اس کا سامنا کرنا پڑا۔
ترجمہ: اور تم کو اِسی دن کا سامنا کرنے سے خبردار کرتے تھے جو آج تمہارے سامنے ہے؟ وہ کہیں گے: ’’(آج) ہم نے خود اپنے خلاف گواہی دے دی ہے (کہ واقعی ہمارے پاس پیغمبر آئے تھے، اور ہم نے انہیں جھٹلایا تھا)
حاشیہ: پیچھے آیت نمبر 23 میں گزرا ہے کہ وہ شروع میں جھوٹ بولنے کی کوشش کریں گے، لیکن جب خود اُن کے ہاتھ پاؤں اُن کے خلاف گواہی دے دیں گے تو وہ بھی سچ کہنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ تفصیل کے لئے آیت 23 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔
آج کل بھی اس قسم کی صورتحال کچھ تھوڑی تھوڑی بن رہی ہے۔ Polygraphic analysis کچھ ہوتا ہے، تو وہ کچھ ایسے instruments ہیں جس کے ذریعے سے پھر انسان وہ جھوٹ نہیں بول سکتا، اس سے جو سوال کیے جاتے ہیں، تو اس کے جو جواب دیتے ہیں تو وہ سچ کے قریب ہوتا ہے۔ تو پھر وہ ریکارڈ کر لیتے ہیں۔ پھر ان سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو تم نے خود کہا ہے۔ تو پھر وہ مان لیتے ہیں بعض دفعہ۔ کہ ہاں بالکل ٹھیک ہے اس طرح۔ ہاں کوئی بہت شاطر ہو تو اس کی توجیہ کر لے گا، لیکن مطلب یہ ہے کہ اکثر لوگ جو سادہ لوگ ہوتے ہیں، جو عام لوگ ہوتے ہیں، وہ مان لیتے ہیں۔ تو یہ بھی آج کل مطلب یہ ہے کہ ہے۔ ہاں، البتہ یہ بات ہے کہ وہاں تو perfect نظام ہوگا۔ وہاں تو انسان کے اپنے ہاتھ، پاؤں، آنکھیں، کان سب گواہی دے دیں گے، منہ پر مہر لگ جائے گی۔ تو پھر وہ کیا انکار کر سکیں گے؟ تو صرف مطلب یہ ہے کہ جس کو کہتے ہیں، کہ ہو سکتا ہے کہ بس غصہ ہو جائیں ان پر اور کہہ دیں کہ تمہیں کیوں اس طرح، تمہیں کیوں، غصے کے علاوہ وہ کیا کر سکتے ہیں؟ تو مطلب یہ ہے کہ وہاں پر وہ سچ بولنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اور کہہ دیں گے کہ ہاں ٹھیک ہے، ہم نے اس طرح کیا، ہمارے پاس پیغمبر آئے تھے۔ تو یہ بات مطلب یہاں پر بتائی گئی ہے۔
ترجمہ: اور (درحقیقت) ان کو دُنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا تھا، اور (اب) انہوں نے خود اپنے خلاف گواہی دے دی کہ وہ کافر تھے ﴿130﴾ یہ (پیغمبر بھیجنے کا) سارا سلسلہ اس لئے تھا کہ تمہارے پروردگار کو یہ گوارا نہیں تھا کہ وہ بستیوں کو کسی زیادتی کی وجہ سے اِس حالت میں ہلاک کردے کہ اُس کے لوگ بے خبر ہوں ﴿131﴾
حاشیہ: اُن بستی والوں کی کسی زیادتی کی وجہ سے اُن کو ہلاک کرنا اللہ تعالیٰ کو اُس وقت تک گوارا نہیں تھا جب تک انہیں انبیائے کرام کے ذریعے متوجہ نہ کردیا جائے۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خود یہ زیادتی نہیں کرسکتا تھا کہ پہلے سے متوجہ کئے بغیر لوگوں کو ہلاک کردے۔
وہی والی بات ہے کہ اللہ تعالی کا انصاف، مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک موقع دیتے ہیں۔ خبرداری کرتے ہیں، ان کو بتا دیتے ہیں، ساری چیزیں ان پہ کھول دیتے ہیں۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی ضد اور عناد کی وجہ سے اور نفس کے دھوکے کی وجہ سے وہ اس میں مبتلا ہو تو پھر اس کو بھگتنا ہوگا۔ یہ بات ہے کہ ورنہ اللہ تعالی، وہ واقعتاً مطلب، ہمارے ہر ہر شخص کے پاس ضمیر بھی ہے۔ ضمیر وہ بھی انسان کو کچوکے لگاتا رہتا ہے۔ اگر کوئی غلط کام کرتا ہے تو ضمیر اس کو کچوکے لگاتا ہے۔ لیکن ضمیر کی آواز کو لوگ سنی ان سنی کر دیتے ہیں، مطلب اس کی پرواہ نہیں کرتے۔ تو یہ ضمیر چونکہ داخلی معاملہ ہے اور سب کے اوپر کھلا ہوا نہیں ہے۔ ہاں، انسان کے اپنے لیے تو وہ ہے، یعنی مطلب خبرداری ہے۔ لیکن یہ ہے کہ دوسرے لوگوں کو پتہ نہیں چلتا، تو اس پہ اللہ پاک نے ایک خارجی سلسلہ بھی رکھا ہوا ہے، اور وہ پیغمبروں کے ذریعے سے اور علماء کرام کے ذریعے سے اور مشائخ کے ذریعے سے ان تک یہ بات پہنچا دیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی آدمی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہمیں بات پہنچائی نہیں گئی۔ آج کل مطلب دیکھیں نا، ذرا غور سے دیکھیں کہ اردگرد جو حالات پیش آ رہے ہیں، اس میں کچھ لوگ واقعتاً دن رات لگے ہوئے ہیں اور بتا رہے ہیں، سمجھا رہے ہیں سارا کچھ، لیکن ان کا مذاق اڑا رہے ہیں لوگ۔ تو مطلب ظاہر ہے اب آگے جا کر وہ انکار تو نہیں کر سکیں گے کہ ہمیں بتایا نہیں گیا تھا۔ ان کو تو مطلب، وہ سارا کچھ ریکارڈ ہو رہا ہے۔ جو ان کو بتایا جا رہا ہے، وہ بھی مطلب ریکارڈ ہو رہا ہے۔ جو وہ کر رہے ہیں، وہ بھی ریکارڈ ہو رہے ہیں۔ مثلا جمعوں کے، بعض دفعہ خطبوں میں بتایا جاتا ہے۔ بعض دفعہ ویسے direct in contact بتایا جاتا ہے۔ بہت ساری باتیں سوشل میڈیا پر آتی ہیں اور بہت ساری چیزیں ہوتی ہیں۔ لیکن جن کو دنیا نے دھوکے میں ڈالا ہوتا ہے، تو وہ ان چیزوں کو نہیں respond کرتے۔ وہ صرف اپنی چیزوں کو respond کرتے ہیں۔ مطلب وہ جو اپنے یوں کہہ سکتے ہیں، ان کو جو سمجھانے والی چیزیں ہیں، وہ تو ان کا مذاق اڑاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پتہ نہیں کیا، یہ کیا کر رہے ہیں۔ حالانکہ بعض دفعہ واقعی اپنے دل سے، اندر سے جانتے ہیں کہ ہم غلط کر رہے ہیں، بلکہ جانتے ہیں۔ لیکن وہ نفس کے تقاضے ان کے اوپر اتنے سوار ہوتے ہیں، دنیا کی محبت ان کے اوپر اتنی غالب ہوتی ہے کہ ان کو وہ چھوڑ نہیں سکتے۔ اس وجہ سے ان کے ساتھ ہاں میں ہاں ملاتے جاتے ہیں اور رگڑے جاتے ہیں۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو ایسی گندگیوں میں مبتلا ہونے سے محفوظ فرما دے۔ اللہ اکبر۔
ترجمہ: اور ہر قسم کے لوگوں کو مختلف درجات اُن اعمال کے حساب سے ملتے ہیں جو انہوں نے کئے ہوتے ہیں۔ اور جو اعمال بھی وہ کرتے ہیں، تمہارا پروردگار اُن سے غافل نہیں ہے ﴿132﴾ اور تمہارا پروردگار ایسا بے نیاز ہے جو رحمت والا بھی ہے۔
حاشیہ: یعنی اُس نے رسولوں کو بھیجنے کا جو سلسلہ جاری فرمایا اُس کی وجہ معاذ اللہ یہ نہیں تھی کہ وہ تمہاری عبادت کا محتاج ہے، وہ تو مخلوق کی عبادت سے بے نیاز ہے، لیکن اس کے ساتھ وہ رحمت والا بھی ہے، اس لئے اُس نے پیغمبر بھیجے ہیں جو بندوں کو اُس صحیح راہِ عمل کی طرف متوجہ کرتے رہیں جس میں اُن کی دُنیا اور آخرت دونوں کے لئے بہتری کا سامان ہو۔
وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَ (133)
ترجمہ: اگر وہ چاہے تو تم سب کو (دُنیا سے) اُٹھالے، اور تمہارے بعد جس کو چاہے تمہاری جگہ لے آئے، جیسے اُس نے تم کو کچھ اور لوگوں کی نسل سے پیدا کیا تھا ﴿133﴾
حاشیہ: جس طرح آج کے تمام لوگ اُن لوگوں کی نسل سے ہیں جن کا اب کوئی پتہ نشان باقی نہیں رہا، اسی طرح اللہ تعالیٰ کو یہ بھی قدرت ہے کہ آج کے تمام لوگوں کو ایک ہی مرتبہ میں ختم کرکے دوسری قوم پیدا کردے، لیکن وہ اپنی رحمت کی وجہ سے ایسا نہیں کررہا۔
اللہ جل شانہ ہم سب کو اہل حق کے ساتھ کر دے، اور اہل باطل سے ہم سب کو بچائے۔ اور اللہ پاک جس چیز سے بھی راضی ہوتے ہیں، اس طرح کے کام کرنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔
عنوان: حجت تمام ہو چکی — اب وقت ہے، خود کو ٹھیک کر لو
مزید تشریح
سب کچھ موجود ہے، پھر عمل کیوں نہیں؟
دیکھو، سارا کچھ قرآن میں موجود ہے، حدیث میں موجود ہے، اور علمائے کرام بھی موجود ہیں جنہوں نے قرآن و حدیث کی باتیں کھول کھول کر بیان فرما دی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اِس سب کے باوجود عمل کیوں نہیں ہے؟ وجہ کیا ہے؟ وہ وجہ نفس ہے۔ اور یہ نفس ہر شخص کے اندر موجود ہے۔ آدمی جانتا ہے کہ یہ کام ٹھیک نہیں، پھر بھی اپنی ضد پر اَڑا رہتا ہے۔
ایک مثال — کوکا کولا
میں ایک مثال دیتا ہوں۔ ایک چیز ہے کوکا کولا۔ لوگوں کو پتہ ہے کہ یہ صحت کے لیے ٹھیک نہیں، اِس کے کتنے ہی نقصانات ہیں؛ ڈاکٹر بتاتے ہیں، انٹرنیٹ پر موجود ہے کہ یہ زہر ہے۔ لیکن اِس کی اشتہاربازی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ بات لاشعوری طور پر دماغ میں بیٹھ جاتی ہے، اور لوگ جانتے بوجھتے پیتے ہیں۔ ڈاکٹر حضرات بتاتے ہیں کہ ایک گلاس کوک میں سات چمچ چینی ہوتی ہے۔ مگر دیکھیے، شادی جب ہوتی ہے تو وہاں اِسے لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے اور سب پیتے ہیں۔
دوسری بات یہ کہ پیسے تمہارے لگ رہے ہیں اور جا اسرائیل کے پاس رہے ہیں، اور بدلے میں زہر تم پی رہے ہو۔ حالانکہ جس چیز پر انہوں نے دنیا بھر کو لگا رکھا ہے، خود وہ اُسے نہیں پیتے۔ وہ تمہیں دے رہے ہیں، اور خود کیا کرتے ہیں؟ خود پھلوں کا جوس پیتے ہیں، مالٹا اور لیموں استعمال کرتے ہیں، اور تمہیں کوک پر لگایا ہوا ہے۔
شادی — سنت کا طریقہ یا نفس کا طریقہ؟
اب اگر پوچھا جائے کہ شادی سنتِ رسول ﷺ کے مطابق کی جائے تو آسان ہے، یا شیطان اور نفس کے طریقے پر رسوم و رواج کے ساتھ کی جائے؟ تو جواب کیا ہو گا؟ یہی کہ سنت کے طریقے پر شادی آسان ہے۔ لیکن ہوتا کیا ہے؟ کیا واقعی سنت کے طریقے پر شادی کی جاتی ہے؟
قیامت کے دن جھوٹی قسمیں اور اپنے اعضاء کی گواہی
جب قیامت کے دن کافر اور گنہگار دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ صرف اخلاص والوں اور مسلمانوں کو معاف فرما رہے ہیں، تو وہ آپس میں کہیں گے کہ آؤ! ہم بھی اپنے شرک اور گناہوں کا صاف انکار کر دیتے ہیں اور جھوٹی قسم کھا لیتے ہیں، شاید ہم بھی بچ جائیں۔ چنانچہ کافر اور گنہگار لوگ اِس کا انکار کریں گے، اور سورۃ الانعام کی اِسی آیت کے مطابق اللہ کی جھوٹی قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم تو مشرک یا گنہگار تھے ہی نہیں۔
اللہ پاک اُن کے منہ پر مہر لگا دیں گے — جیسا کہ سورۃ یٰسین میں ہے — تاکہ اُن کا جھوٹ بند ہو جائے۔ اور پھر اُن کے اپنے ہاتھ، پاؤں اور چمڑی بول کر گواہی دیں گے کہ اے اللہ! یہ جھوٹ بول رہے ہیں، انہوں نے یہ گناہ کیے تھے۔ اور جیسا کہ سورۃ فصلت میں ہے، وہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی؟ وہ جواب دیں گی کہ ہمیں اُسی اللہ نے بولنے کی طاقت دی ہے جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی۔
اِس سب کی وجہ کیا ہے؟ وہی نفس۔ اور جہنم میں بھی یہی نفس جلے گا۔
کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے پتہ نہیں تھا
اِس لیے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا۔ انبیائے کرام کی تعلیمات موجود ہیں، علمائے کرام، اُن کی کتابیں اور اُن کے بیانات ہمارے درمیان موجود ہیں۔ اب جیسے میرا یہ بیان ہے — یہ باتیں میں نے کی ہیں یا نہیں؟ یہ بیان موجود ہے، اور اِس میں جو کچھ کہا گیا ہے، سب موجود ہے۔
قرآن ہمارے درمیان موجود ہے۔ حدیث شریف موجود ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر میدانِ عرفات میں خطبے کے دوران آپ ﷺ نے صحابہ کرام سے پوچھا تھا: «کیا میں نے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا ہے؟» صحابہ کرام نے بیک آواز عرض کیا: «ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ نے پیغام پہنچا دیا، حق ادا کر دیا۔» یہ سن کر آپ ﷺ نے اپنی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے تین بار فرمایا: «اے اللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو گواہ رہ۔»
پھر یہاں ہندوستان میں بھی صحابہ کرام تشریف لائے، چین تک بھی گئے، اور اُن کے بعد بڑے بڑے علمائے کرام آئے۔ اور یہ موبائل تو آج کل ہر ایک کے ہاتھ میں موجود ہے، اس پر سارا کچھ موجود ہے۔ اِس لیے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے بتایا نہیں گیا، یا مجھے پتہ نہیں تھا، یا مجھ تک بات نہیں پہنچی۔
خیر، یہ سب تو ہو گا۔ اِس لیے ابھی وقت ہے، کام کر لو۔
خانقاہ کس لیے بنائی گئی؟
یہ ہماری خانقاہ موجود ہے۔ یہ اِس لیے بنائی گئی کہ یہاں لوگ آئیں اور اصلاح کے لیے اپنا وقت لگائیں۔ لیکن کون کون آتا ہے؟ اِس لیے اپنے آپ کو ٹھیک کرو۔
چین کے یوسف صاحب اور معارج کا واقعہ
چین کے یوسف صاحب مجھ سے بیعت تھے اور خانقاہ میں آیا کرتے تھے۔ ابھی پچھلے سال پورا ایک ہفتہ خانقاہ میں وقت لگانے کے لیے آئے ہوئے تھے، اور میں اُن دنوں میں مدینہ منورہ میں تھا۔ جب میں واپس پاکستان پہنچا تو آخری دن صرف ایک گھنٹہ اُن سے ملاقات ہو سکی، کیونکہ اُن کی واپسی کی فلائٹ تھی۔ اُسی میں اللہ نے اُن کو بہت کچھ عطا کر دیا، اور خلافت عطا کر دی۔ یہ میرا کام نہیں، یہ تو اللہ کا کام ہے؛ یہ اللہ نے اُن کو اُن کے اخلاص اور کوشش کی برکت سے عطا فرمایا۔
اب اللہ پاک کے کام دیکھیں۔ ایک بچہ ہے، معارج، تیرہ سال کا۔ اُس کو اچانک انہی دنوں سے پہلے شوق ہوا اور اُس نے چین کی زبان سیکھ لی۔ یہ میری بات نہیں ہے، یہ جذبہ اُس بچے کے اندر خود پیدا ہوا، کیونکہ اللہ پاک نے ایک ذریعہ پیدا کرنا تھا۔ اب وہ بچہ یوسف صاحب کی بات مجھ تک اور میری بات چین میں اُن تک پہنچانے کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ اللہ پاک نے اِس کے لیے یہ چیز پیدا فرما دی۔ اِس لیے یہ سب کون کرتا ہے؟ اللہ پاک ہی کرتے ہیں۔
«تم کرو... نہ کرو... لیکن اللہ پاک پہنچا رہے ہیں»
اِس لیے جو لوگ اِن چیزوں سے بے پروا ہیں، وہ دیکھ لیں کہ اللہ پاک ایسے کرتے ہیں۔ حضرت نے یہاں پر جلال میں فرمایا: تم کرو... نہ کرو... لیکن اللہ پاک پہنچا رہے ہیں۔
آج اِس درس میں اِس بارے میں یہی آیت ہے:
وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَ ﴿133﴾
ترجمہ: اگر وہ چاہے تو تم سب کو (دُنیا سے) اُٹھا لے، اور تمہارے بعد جس کو چاہے تمہاری جگہ لے آئے، جیسے اُس نے تم کو کچھ اور لوگوں کی نسل سے پیدا کیا تھا ﴿133﴾
کیا پتہ تم نہ کرو اور اللہ پاک ماسکو سے کسی کو پیدا فرما دیں؛ امریکا سے کوئی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ یہ تو اللہ پاک ہی کرتے ہیں۔
قریب والے اور دور والے
اب یہ خانقاہ ہے۔ یہاں قریب کے کتنے لوگ آتے ہیں؟ یا بالکل نہیں آتے، یا بہت کم؛ اور کوئی آتا بھی ہے تو دنیا کے لیے، کسی تعویذ یا دم وغیرہ کے لیے۔ لیکن انگلستان سے لوگ یہاں آتے ہیں اور باقاعدہ وقت لگاتے ہیں۔
ابھی دیکھو، میری زبان سے صحیح ادائیگی نہیں ہوتی، لیکن اللہ پاک لوگوں کو اُن کے احوال کے مطابق بات پہنچا رہے ہیں۔ جس وقت جس کا جو مسئلہ ہوتا ہے، وہی بات اللہ پاک بیان سے سامنے لے آتے ہیں۔ اِس لیے وقت ہے، خود کو ٹھیک کرو۔
دعا بڑی چیز ہے
اور یاد رکھو، دعا بڑی چیز ہے۔ اللہ سے مانگو، صرف دنیا کے لیے نہیں۔ دنیا تو اللہ پاک بہت دیتے ہیں، اللہ پاک کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہے؛ لیکن دعا میں اللہ پاک کا تعلق مانگو، آخرت کے لیے درستگی مانگو۔ اگر نہ ہو سک رہا ہو تو توبہ کرو، اور نماز میں اللہ سے مانگو۔
اِس لیے یہ بات کہ ہمیں پتہ نہیں، یہ درست نہیں۔ قرآن موجود ہے، حدیث موجود ہے، ہمارے بیانات موجود ہیں — اِن کو سنو۔ اب دیکھو، یہ بیان کب کا موجود ہے؟ یہ 2022 کا درسِ قرآن ہے۔
اللہ پاک کے پاس کوئی کمی نہیں، اور اللہ پاک دیتے ہیں۔ لے لو، لے لو! تم لینے میں کمی نہ کرو۔
سب سے بڑی دولت — سکون
دنیا میں سب سے بڑی دولت سکون ہے، اور یہ سب سے زیادہ اللہ کے ولی کے پاس ہوتی ہے۔ انسان کے پاس دنیا میں سب کچھ ہو، لیکن سکون نہ ہو، تو سمجھو اُس کے پاس کچھ بھی نہیں۔
یہاں ہمارے پاس لوگ آتے ہیں۔ کچھ تو اِس لیے آتے ہیں کہ کہتے ہیں: ہم جتنی دیر یہاں رہتے ہیں، ہماری زندگی میں بس اتنی ہی دیر سکون ہوتا ہے؛ ہم تو بس اِسی لیے آتے ہیں۔ کسی کے پاس مال ہے، سکون نہیں ہے۔ کوئی عہدے کا بڑا آدمی ہے، لیکن اطمینان نہیں ہے۔ یہیں اسلام آباد میں بڑے بڑے بنگلے ہیں، لیکن ان بنگلوں کے اندر کے حالات کیا ہیں، وہ ہمیں پتہ ہیں؛ وجہ یہ کہ لوگ خود بتاتے ہیں، ہمارے پاس آتے ہیں۔
تو دنیا میں اطمینان سب سے بڑی دولت ہے، لیکن اِس سے بھی بڑا اطمینان آخرت کا ہے — اُسے حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ جیسا کہ آج کے درس میں فرمایا گیا:
لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴿127﴾
ترجمہ: اُن کے پروردگار کے پاس سکھ چین کا گھر ایسے ہی لوگوں کے لئے ہے، اور جو عمل وہ کرتے رہے ہیں، اُن کی وجہ سے وہ خود اُن کا رکھوالا ہے ﴿127﴾
باتیں تو بہت ہیں، لیکن وقت کی کمی ہے۔ اِس وقت کے لیے اتنا کافی ہے۔