سرمایہ داری و اشتراکیت کے معاشی تضادات اور اسلام کا عادلانہ نظام
سیرت النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، جلد 5، زکوۃ، اشاعت اول: 29 اکتوبر 2020 بمطابق: 12 ربیع الاول 1442 ہجری، (حصہ دوم)
سود حرام قرار دینا اور زکوٰۃ کا نظام
خلافت راشدہ کے عہد میں زکوٰۃ کا نظام
زکوٰۃ میں بقا اور نمو کی صفتیں
سونا چاندی گاڑ کر رکھنے پر دردناک عذاب
فقراء کی اصلاح اور گداگری کی ذلت
خوددار فقراء کی مدح اور بھیک نہ مانگنا
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
معزز خواتین و حضرات! آج جمعہ کی رات ہے اور جمعہ کی رات ہمارے ہاں جیسے کہ آپ سب جانتے ہوں گے۔ حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت النبی سے ہم تعلیم کرتے ہیں۔
گزشتہ سے پیوستہ
effects اور side effects کو دیکھنے کے بعد پتہ چلا کہ دونوں نظام منصفانہ نہیں ہیں۔ ظالمانہ ہیں۔ پتہ چل گیا۔ اب ان ظالمانہ نظاموں کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟ تو اس کا اسلام نے بہترین حل بتایا ہے۔ جو اشتراکیت میں مسائل تھے، وہ بھی حل کیے اور جو capitalism میں مسائل تھے وہ بھی حل کیے۔ اصول و قواعد ایسے بنا دیے کہ اگر اس پر عمل کیا جائے تو نہ اشتراکیت کی ضرورت ہے، نہ capitalism کی ضرورت ہے۔ تو وہ حضرت نے بات فرما دی ہے۔ یعنی ابھی جو حضرت نے یہ باتیں فرمائی ہیں کہ
محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم نے دنیا کی اس مشکل کا اندازہ کر لیا تھا اور اس نے اسی کے حل کرنے کے لئے یہ اصول مقرر کر دیا کہ ذاتی و شخصی ملکیت کے جواز کے ساتھ
دیکھیں نا وہاں تو جواز ہی نہیں ہے اشتراکیت میں capitalism میں اسی پر سب کچھ ہے۔ فرمایا نہیں،
جواز کے ساتھ جس کی انسانی فطرت متقاضی ہے، دولت و سرمایہ کو چند اشخاص کے ہاتھوں میں جانے سے روکا جائے۔
یعنی یہ کسی کے دو چار پانچ لوگوں کے ہاتھوں میں نہ جمع ہو، بلکہ اس کا حصہ ہر ایک کو ملتا رہے۔ اب کیسے ملے؟ اب اگر آپ نے ذاتی incentive کو ختم کر دیا تو کام ختم ہو جاتا ہے۔ اور اگر ذاتی incentive کو آزاد رکھتے ہیں۔ تو پھر جو بیچارے غریب ہیں وہ رگڑے جائیں۔ تو اس کے لیے اللہ پاک نے ایسا انتظام کروا دیا اسلام کے ذریعے سے، کہ سود کو حرام قرار دیا۔ لہٰذا money pump نہیں ہو سکتا۔ پیسے کے ذریعے سے آپ پیسے کو نہیں کھینچ سکتے۔ محنت کے ذریعے سے آپ پیسہ کھینچ لیں۔ کوئی بات نہیں۔ لیکن اگر محنت کے ذریعے سے بھی کھینچا ہے تو اس کو بھی آپ اس کا بھی ایک خاص حصہ لازمی طور پر آپ نے غریبوں کو دینا ہے۔ لازمی، یعنی زکوۃ کی صورت میں، عشر کی صورت میں۔ ایک اس کو دینا ہے۔ تو یہ گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ اشتراکی نظام اس کو یعنی گویا کہ ایک چیز سے روک دیا کہ ذاتی و شخصی ملکیت کے جواز کو جائز قرار دیا۔ دوسری طرف سود کو حرام کر دیا تو capitalism کی جڑ کاٹ دی۔ اور یہ ہے کہ مطلب یعنی غریبوں کے لیے ایک حصہ رکھا گیا۔ مطلب غریبوں سے پیسے کھینچنے کے بجائے غریبوں کو دینے کا نظام قائم کیا گیا۔
اگر دیکھا جائے تو خوشحال ملکوں میں جو سود کی مقدار ہوتی ہے۔ تقریباً یہی دو ڈھائی percent...تک بات جاتی۔ تو اب دیکھ لیں مطلب یہ ہے کہ باقاعدہ وہاں لیتے نہیں وہاں دیتے ہیں۔ زکوۃ ڈھائی percent وہ لوگ دیتے ہیں اپنے اس کا۔ بجائے اس کے کہ وہ غریبوں سے لیں۔ کیونکہ غریبوں سے لیا جاتا ہے نا۔ جس کے پاس پیسہ ہو تو سود کیوں لے گا؟ سود تو وہی لے گا جس کے پاس پیسے نہیں ہوں گے۔ نتیجتاً جس کے پاس پیسے نہیں ہوتے وہ سود دیتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ لوگ پیسوں کے بل بوتے پر پیسے ان سے لیتے ہیں جن کے پاس پیسے نہیں ہیں تو یہ ظلم نہیں ہے؟ اس کے مقابلے میں زکوۃ اس کا reverse ہے۔ یعنی یوں کہہ سکتے ہیں کہ ارتکاز دولت کو اس کے ذریعے سے روک دیا۔ کیونکہ اگر کوئی اپنی دولت کو circulate نہیں کرتا تو اس کی زکوۃ کے ذریعے سے دولت خود بخود کم ہوتی جائے گی۔ تو اس کو circulate کرے گا تو تب وہ اپنے کام کو جاری رکھ سکے گا۔
تو یہ ایک بات فرمائی۔
نفع عام کی چیزیں اشخاص کے بجائے جماعت کی ملکیت قرار دیں، قیصریت اور شہنشاہیت کی بجائے جماعت کی حکومت قائم کی۔ زمینداری کا پرانا اصول جن میں کاشتکار غلام کی حیثیت رکھتا تھا بدل دیا اور اس کی حیثیت اجیر اور مزدور کی رکھی۔
یوں جتنی محنت کرتا ہے اس محنت کا پھل اس کو ملتا ہے۔
انسانی فطرت کے خلاف یہ نہیں کیا کہ سرمایہ کو لے کر تمام انسانوں میں برابر تقسیم کر دیا جائے
کیونکہ یہ تو کاہل اور محنتی سب کو برابر ملے گا۔
تاکہ دنیا میں کوئی ننگا اور بھوکا باقی نہ رہے بلکہ یہ کیا کہ ہر سرمایہ دار پر جس کے پاس سال کے مصارف کے بعد مقررہ رقم باقی بچ جائے اس کے غریب بھائیوں کی امداد کے لئے ایک سالانہ رقم قانونی طور سے مقرر کر دی تا کہ وہ اس کے ادا کرنے پر مجبور ہو اور جماعت کا فرض قرار دیا کہ وہ اس رقم سے قابل اعانت لوگوں کی دستگیری کرے۔ یہی وہ راز ہے جس کی بنا پر اسلام کے تمدن کا دور اس قسم کی اقتصادی مصیبتوں سے محفوظ رہا اور آج بھی اگر اسلامی ممالک میں اس پر عمل درآمد ہو تو یہ فتنے زمین کے اتنے رقبہ میں جتنے میں محمد رسول اللہ ﷺ کی روحانی حکومت ہے پیدا نہیں ہو سکتے،
اب یہاں پر ایک بات فرمائی گئی صحابہ کے دور کی۔
خلافت راشدہ کے عہد میں حضرت عثمانؓ کی حکومت کا دور وہ زمانہ ہے جب عرب میں دولت افراط کی حد تک پہنچ گئی تھی۔ حضرت ابوذر غفاریؓ نے شام میں قرآن پاک کی اس آیت کے مطابق کہ ”جو لوگ سونا چاندی گاڑ کر رکھتے ہیں اور خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے“ یہ فتویٰ دیا کہ دولت کا جمع کرنا حرام ہے.
یعنی اجتہادی بات تھی۔
اور ہر شخص کے پاس جو کچھ اس کی ضرورت سے زیادہ ہو وہ خدا کی راہ میں دے دے اور شام کے دولت مند صحابہؓ نے ان کی مخالفت کی اور فرمایا کہ ہم خدا کی راہ میں دے کر بچاتے ہیں تو حضرت ابوذرؓ کی یہ آواز عام پسند نہ ہو سکی اور نہ عوام میں کوئی فتنہ پیدا کر سکی کیوں کہ زکوٰۃ کا قانون پورے نظام کے ساتھ جاری تھا اور عرب کے آرام و آسائش کا یہ حال تھا کہ ایک زمانہ میں کوئی خیرات کا قبول کرنے والا باقی نہیں رہا۔
اقتصادی اور تجارتی فائدے:
زکوٰۃ میں ان روحانی اور اخلاقی فائدوں کے ساتھ اقتصادی حیثیت سے دنیاوی فائدے کے پہلو بھی ملحوظ ہیں اور گذر چکا ہے کہ زکوٰۃ انہی چیزوں میں واجب ہوتی ہے جن میں دو صفتیں پائی جائیں یعنی بقا اور نمو۔
یعنی کوئی چیز جو sustain کرتی ہو اور دوسرا جو grow کر سکتی ہو۔
بقا سے یہ مقصود ہے کہ وہ ایک مدت تک اپنی حالت پر باقی رہ سکیں کیوں کہ ہر چیز ایسی نہ ہوگی۔
مثلاً یہ سبزی وغیرہ اس کو آپ جمع تو نہیں کر سکتے۔
اس کی تجارت میں نہ چنداں فائدہ ہے اور نہ دوسروں کے استعمال کے لئے دیر تک ذخیرہ بن سکتی ہے اسی لئے سبزیوں اور ترکاریوں پر زکوٰۃ نہیں ہے اور نمو سے یہ مقصد ہے کہ ان میں یا تو پیداوار یا تناسل یا مبادلہ کی بنا پر افزائش کی صلاحیت ہو۔
جیسے جانور وغیرہ ہوتے ہیں ان میں تناسل کے ذریعے سے اور باقی پیداوار production وغیرہ اس کے لحاظ سے۔
اسی لئے جواہرات اور دیگر قیمتی معدنی پتھروں میں یا غیر مزروعہ زمین اور مکان میں بھی زکوٰۃ نہیں ہے ان دونوں نکتوں سے یہ بات حل ہوتی ہے کہ شریعت نے زکوٰۃ کے فرض کرنے سے یہ مقصد بھی پیش نظر رکھا ہے کہ لوگ اپنے سرمایہ کو بیکار نہ رکھیں بلکہ محنت کوشش اور جدوجہد سے اس کو ترقی دیں ورنہ اصل سرمایہ میں سال بہ سال کمی ہوتی جائے گی جس کو فطرتاً کوئی برداشت نہیں کر سکتا اس طرح زکوٰۃ کا ایک بالواسطہ مقصد یہ بھی ہے کہ تجارت و زراعت کو جو دولت کا اصل سرچشمہ ہیں ترقی دی جائے کیوں کہ جب ہر شخص کو لازمی طور پر سال میں ایک خاص رقم ادا کرنا پڑے گی تو وہ کوشش کرے گا کہ جہاں تک ہو یہ رقم منافع سے ادا کرے اور اصل سرمایہ محفوظ رکھے اسی بنا پر اسلام نے زکوٰۃ کو انہی چیزوں کے ساتھ مخصوص کیا ہے جن میں نمو اور اضافہ کی قابلیت ہو اور اسی بنا پر زکوٰۃ کے ادا کرنے کے لئے ایک سال کی وسیع مدت مقرر کی تاکہ ہر شخص اپنے مال یا جائداد سے کامل طور پر فائدہ اٹھا سکے۔ صحابہؓ کرام اس نکتہ کو سمجھ کر ہمیشہ تجارت اور کاروبار میں مصروف رہتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں ان لوگوں کو جو یتیموں کے سرمایوں کے متولی تھے ہدایت کی کہ وہ ان کو تجارت میں لگائیں تاکہ ان کے بالغ ہونے تک ان کا اصل سرمایہ زکوٰۃ میں سب صرف نہ ہو جائے۔
یورپ نے بڑی تحقیق کے بعد ایشیاء کے تجارتی اور تمدنی تنزل کی یہ وجہ بتائی ہے کہ یہاں مال کا اکثر حصہ بیکار زمین میں مدفون رکھا جاتا ہے۔ لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کی زبان وحی ترجمان نے آج سے تیرہ سو برس پہلے زکوٰۃ کو فرض کر کے یہ نکتہ بتا دیا تھا۔ ﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ (توبہ - ۵) اور جو لوگ چاندی اور سونے کو گاڑ کر رکھتے ہیں اور اس کو خدا کی راہ میں نہیں صرف کرتے ان کو سخت دردناک عذاب کی بشارت دو۔
یہ دردناک عذاب قیامت میں تو جو کچھ ہوگا وہ ہوگا اس دنیا میں بھی ان کے لئے اقتصادی دردناک عذاب یہ ہے کہ وہ اس مدفون سرمایہ کو دبا کر ملک کی دولت کو تباہ کرتے ہیں اور اس سے دولت کی افزائش اور ترقی کا کام لینے کے بجائے اس کو بیکار اور معدوم کر کے ملک کو فقر و محتاجی کے عذاب الیم میں مبتلا کرتے ہیں اور بالآخر خود مبتلا ہوتے ہیں اس لئے امراء کی اخلاقی اصلاح اور مالی ترقی اسی میں ہے کہ وہ اپنی دولت کو مناسب طور سے صرف کریں۔
یہ تو امراء کی اصلاح ہے۔ امراء کی بھی تو اصلاح ہونی چاہیے اور فقراء کی بھی ہونی چاہیے۔ اور فقراء کی اصلاح میں فرماتے ہیں۔
فقراء کی اصلاح:
اب دوسری طرف فقراء کا گروہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کے تمام شارعین مذاہب نے انسانوں کے اس قابل رحم فرقہ کی جانب ہمدردی اور ترحم کی نگاہ سے دیکھا ہے اور اس کی طرف امداد و اعانت کا ہاتھ بڑھایا ہے مگر درحقیقت ان کے رحم، ہمدردی اور محبت کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کے پھوڑا یا زخم ہوا اور اس کا دوست اس کی محبت اور خیر خواہی کی بنا پر ہمیشہ اس کے پھوڑے اور زخم کی حفاظت کرتا ہے کہ اس کو ٹھیس نہ لگے اور ٹوٹنے نہ پائے اور نہ کسی جراح کا نشتر اس کو چیرے کہ ان باتوں سے ان کو تکلیف ہوگی، کیا کوئی عقلمند کہہ سکتا ہے کہ اس نادان دوست کا یہ عمل اس کے ساتھ دوستی کا ثبوت ہوگا۔
گذشتہ مصلحین نے عموماً اس میں افراط و تفریط سے کام لیا ہے۔ بعض نے تو اس زخم میں صرف نشتر ہی لگایا ہے اور مرہم کا کوئی پھایہ نہیں رکھا۔ چنانچہ زردشتی مذہب میں سوال قطعاً ممنوع قرار دیا گیا ہے اور اس کے بالمقابل بودھ مذہب میں اس زخم کو سرتا پا مادہ فاسد بننے دیا گیا ہے اور بھکشوؤں کا ایک مذہبی گروہ ہی سوال اور بھیک کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ لیکن اسلام نے نہایت حکمت کے ساتھ اس زخم کو بھرنے اور پھوڑے کو دور کرنے کے لئے ایک تجربہ کار اور ماہر جراح کی طرح دونوں عمل کئے ہیں۔ اس نے اس غمگین اور دردمند طبقہ کے زخم میں نشتر بھی لگایا ہے اور اس پر مرہم بھی رکھا ہے۔ یہ مرہم اس کی وہ مہربانیاں، تسلیاں، بشارتیں اور عملی امداد و اعانت کی تدبیریں ہیں جو اس کے دل کی ڈھارس اور اس کی امیدوں کا سہارا ہیں اور نشتر اس کی وہ اصلاحات ہیں جو اس نے اس طبقہ کو دنائت، پستی، کم ہمتی، لالچ، دوسروں کی دست نگری اور ان کے سہارے جینے کی ذلت سے بچانے کے لئے جاری کیں۔ اس نے اہل حاجت کے لئے دوسروں سے سوال اور مانگنے کی قانونی ممانعت نہیں کی۔ لیکن ہر اخلاقی طریق سے ان کو اس ذلت سے باز رکھنے کی کوشش کی ہے اور ان کی کفالت کا بار خود جماعت کے سر پر ڈالا ہے۔
عام طور سے اس قسم کا وعظ جیسا کہ عیسائی مذہب میں ہے کہ جو کچھ ہے لٹا دو اور غریبوں اور مسکینوں کو دے ڈالو نہایت اعلیٰ اخلاقی تعلیم اور رحم و محبت کا نہایت بلند مظہر نظر آتا ہے لیکن غور سے تصویر کا دوسرا رخ دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ جس شدت سے آپ دولت مندوں کو سب کچھ غریبوں اور مسکینوں کو دے دینے کی ترغیب دے رہے ہیں اور اس سے دینے والوں کے جذبہ ایثار اور ان کے جود و سخا اور فیاضی کے جوہر کو ترقی دے رہے ہیں اسی شدت سے آپ انسانیت کے کثیر التعداد طبقے کو گداگری کی لعنت، بھیک مانگنے کی پستی، اور دوسرے کے سہارے جینے کی ذلت کا خوگر بنا رہے ہیں، اور بے محنت کھانے اور بے تلاش پانے کا سبق پڑھا رہے ہیں۔ اس طرح ان کے لئے گداگری، دنائت، پستی، ذلت، سَفَلہ پن، کم ہمتی، نامردی اور تمام رذیل پست اخلاق کا گڑھا تیار کر رہے ہیں جہاں یہ تمام نجاستیں آ کر جمع ہوں گی۔ کیا یہ انسانیت کے ساتھ رحم ہے؟ کیا یہ نوع بشر کے ساتھ محبت ہے؟ کیا یہ جنس بنی آدم کے ساتھ ہمدردی ہے؟
پیغمبر اسلام کی بعثت کسی ایک طبقہ کی اصلاح کے لئے نہیں ہوئی وہ انسانوں کے ہر طبقہ کے مصلح اور معلم بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ غریب و امیر اور مسکین و دولت مند دونوں آپ کی نگاہ میں یکساں ہیں اس لئے آپ نے کسی ایک ہی طبقہ کی اصلاح کا فرض انجام نہیں دیا بلکہ دونوں طبقوں کو ترازو کے دونوں پلڑوں میں رکھ کر برابر باٹ سے ناپا ہے اور اپنی تعلیمات اور اصلاحات میں سے دونوں کو مساوی حصہ دیا ہے۔
یہ اخلاقی اصلاح کی وہ نازک پل صراط ہے جس پر نبیوں کے خاتم اور دینوں کے مکمل علیہ السلام کے سوا دنیا کے کسی اخلاقی معلم اور روحانی مصلح کے قدم نہ جم سکے اور نہ وہ اپنے ہاتھ میں ترازو کے دونوں پلوں کو برابر رکھ سکا۔ اگر غریبوں کی اصلاح کی خاطر صدقہ اور خیرات اور دوسروں کی اعانت و ہمدردی کے تمام دروازے بند کر دیئے جائیں تو انسانی جوہر شرافت کی بربادی کے ساتھ امراء کا طبقہ اپنے اخلاقی معایب کی فراوانی اور کثرت سے ہلاک اور اخلاقی محاسن سے تمام تر تہی مایہ ہو جائے گا اور اگر غرباء اور فقراء کو ہر قسم کی گداگری اور دریوزہ گری کی اجازت دے دی جائے تو انسانوں کی وسیع آبادی کی اخلاقی زندگی تباہ و برباد ہو جائے گی۔ اسی لئے داعی اسلام نے انسانوں کے دونوں طبقوں کے سامنے خدا کی بتائی ہوئی وہ تعلیم پیش کی جس سے دونوں طبقوں کو اپنی اپنی جگہ پر اپنے اپنے اخلاقی معیار کی ترقی کا موقع مل گیا اور دونوں کو اپنی اپنی شرافت کے جوہر کو پیش کرنے اور اپنے اپنے نقائص اور کمزوریوں کو دور کرنے کی صورت ہاتھ آئی۔ ایک طرف تو اسلام نے امراء اور دولت مندوں کے طبقہ کو خطاب کر کے کہا۔ ﴿وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ﴾ (ضحٰی - ۱) مانگنے والے کو جھڑک نہ دو۔
دوسری طرف خوددار و بے نیاز فقراء اور غریبوں کے طبقہ کی مدح فرمائی۔ ﴿يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُم بِسِيمَاهُمْ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا﴾ (بقرہ - ۳۷) ناواقف ان کی خودداری اور سوال کی ذلت سے بچنے کے سبب سے ان کو دولت مند سمجھتے ہیں۔ تو ان کو ان کی پیشانی سے پہچانتا ہے۔ وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے۔ اور بھیک مانگنے کو خلافِ تقویٰ قرار دیا، جو لوگ بھیک مانگ مانگ کر حج کرتے تھے ان کو خطاب کر کے کہا: ﴿وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ﴾ (بقرہ - ۲۵) اور زادِ راہ لے کر چلو کہ بہترین زادِ راہ تقویٰ (بھیک نہ مانگنا) ہے۔ ایک طرف دولت مندوں کو فرمایا:
سبحان اللہ! آج یہ آیت سمجھ میں آئی، کیسے حضرت نے۔۔۔﴿وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ﴾ عموما اس کا ترجمہ اس طرح کیا جاتا ہے نا اور زادِ راہ لے کر چلو کہ بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔ تو اس میں بہترین زاد راہ تقوی کو explain نہیں کیا جاتا یہاں پر explain کیا ہے، کیا ہے؟ یعنی بھیک نہ مانگنا۔ سبحان اللہ کیسی زبردست بات کی ہے کہ یہی زاد راہ آپ کو اصل زاد راہ تک پہنچا دے گی یعنی تقوی اور بھیک نہیں مانگیں گے آپ.
جاری ہے ان شاء اللہ