اصلاحِ ظاہر و باطن، حقیقتِ تصوف اور قانونِ ہدایت

درس نمبر 269، سورۃ الانعام، آیات: 119 تا 125، اشاعتِ اول: 29 اور 30 اگست، 2022، بمطابق 1 اور 2 مصفرالمظفر، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

جس جانور پر اللہ کا نام لیا جائے وہ حلال جبکہ دوسرا کھانا حرام ہے۔

شریعت میں اعضاء کے ظاہری اور دل کے باطنی دونوں گناہوں کو چھوڑنا لازم ہے۔

تصوف خرافات نہیں بلکہ باطنی گناہوں کے علاج اور نفس کی اصلاح کا طریقہ ہے۔

باطنی گناہوں کی تشخیص اور علاج کے لیے مشائخ سے رجوع کیا جاتا ہے۔

اسلام دنیا چھوڑنے کے بجائے انسانوں میں اسلامی روشنی کے ساتھ رہنا سکھاتا ہے۔

مجرموں کی تمام سازشیں مسلمانوں کے بجائے خود سازشیوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

کفار کا پیغمبری کا مطالبہ باطل ہے کیونکہ رسالت صرف اللہ کا اختیار ہے۔

انسان بااختیار ہے اور گمراہی جبری نہیں بلکہ اس کی ضد کا نتیجہ ہے

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآىٕهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ ؕ ِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ (119) وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ (120) وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓـٕهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ (121)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اور تمہارے لئے کونسی رکاوٹ ہے جس کی بنا پر تم اُس جانور میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لے لیا گیا ہو؟ حالانکہ اُس نے وہ چیزیں تمہیں تفصیل سے بتادی ہیں جو اُس نے تمہارے لئے (عام حالات میں) حرام قرار دی ہیں، البتہ جن کو کھانے پر تم بالکل مجبور ہی ہوجاؤ، (تو ان حرام چیزوں کی بھی بقدرِ ضرورت اجازت ہوجاتی ہے) اور بہت سے لوگ کسی علم کی بنیاد پر نہیں، (بلکہ صرف) اپنی خواہشات کی بنیاد پر دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں۔ بلاشبہ تمہارا ربّ حد سے گزرنے والوں کو خوب جانتا ہے ﴿119﴾ اور تم ظاہری اور باطنی دونوں قسم کے گناہ چھوڑ دو۔

یہاں دو قسم کے گناہوں کی بات ہو گئی، ظاہری گناہوں کی اور باطنی گناہوں کی۔

حاشیہ: ظاہری گناہوں میں وہ گناہ داخل ہیں جو انسان اپنے ظاہری اعضاء سے کرے، مثلاً جھوٹ، غیبت، دھوکا، رشوت، شراب نوشی، زنا وغیرہ۔ اور باطنی گناہوں سے مراد وہ گناہ ہیں جن کا تعلق دل سے ہوتا ہے، مثلاً حسد، ریاکاری، تکبر، بغض، دوسروں کی بدخواہی وغیرہ۔ پہلی قسم کے گناہوں کا بیان فقہ کی کتابوں میں ہوتا ہے اور ان کی تعلیم و تربیت فقہاء سے حاصل کی جاتی ہے، اور دوسری قسم کے گناہوں کا بیان تصوف اور احسان کی کتابوں میں ہوتا ہے، اور اُن کی تعلیم و تربیت کے لئے مشائخ سے رجوع کیا جاتا ہے۔ تصوف کی اصل حقیقت یہی ہے کہ باطن کے ان گناہوں سے بچنے کے لئے کسی رہنما سے رجوع کیا جائے۔ افسوس ہے کہ تصوف کی اس حقیقت کو بھلا کر بہت سے لوگوں نے بدعات و خرافات کا نام تصوف رکھ لیا ہے۔ اس حقیقت کو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی بہت سی کتابوں میں خوب واضح فرمایا ہے۔ آسان طریقے سے اس کو سمجھنے کے لئے ملاحظہ فرمائیے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’دل کی دنیا‘‘۔

تو یہ اصل میں بنیادی بات ہے، کہ انسان جو ظاہری گناہ ہے، جس کو سب لوگ جانتے ہیں، اور سب لوگ اس کو سمجھتے ہیں، خود بھی نظر آتا ہے، دوسروں کو بھی نظر آ جاتا ہے، وہ ظاہری گناہ ہے۔ اور لوگ عام طور پر اس کو شریعت کہتے ہیں۔ حالانکہ شریعت باطنی گناہوں کے اس سے بچنے کا بھی نام ہے۔ لیکن عام طور پر لوگ اس کو شریعت کہتے ہیں۔ اور جو باطنی گناہ ہیں، مثلاً حسد ہے، کینہ ہے، بغض ہے، ریا ہے، ان گناہوں کو بھی چھوڑنے کا حکم ہے۔ اور عام طور پر اس کو لوگ تصوف کہتے ہیں۔ حالانکہ شریعت ان دونوں سے بچنے کے لیے بتاتی ہے۔ دیکھو قرآن ہے نا، قرآن میں وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ۔ تو اب یہ اس میں جو دونوں قسم کا آ گیا، تو شریعت تو اللہ کے حکم کو کہتے ہیں، معنی اللہ کے حکم کن چیزوں کا ہے، اوامر و نواہی کو کہتے ہیں۔ اب وَذَرُوا کا مطلب کیا ہے؟ وَذَرُوا کا مطلب ہے کہ چھوڑ دو۔ اب چھوڑ دو کا مطلب حکم ہے۔ تو حکم امر میں آ گیا۔ تو امر، اوامر و نواہی، سارا شریعت ہے۔ تو لہذا یہ سارا شریعت ہے۔ ہاں البتہ ظاہری گناہوں کی اصلاح جو ہوتی ہے وہ استاد سے پوچھ کر کی جا سکتی ہے، یعنی چونکہ معلوم ہوتا ہے۔ تو لہذا اس کے محکمات اور علم معلوم ہو جاتے ہیں پھر انسان اس سے بچ سکتا ہے۔ لیکن جو باطنی گناہ ہے، اس کا پتہ بھی چلنا بڑا مشکل مثلاً تکبر کا پتہ چلنا بڑا مشکل کام ہے، یہ آسان کام نہیں ہے۔ اس طرح حسد ہے، کینہ ہے، بغض ہے، اس کا پتہ عام لوگوں کو نہیں چلتا۔ اس کے لیے پھر مشائخ کا کام ہوتا ہے کہ وہ سمجھا دیں کہ یہ چیز ہے، یہ چیز ہے۔ مثلاً وہ بعض دفعہ انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ میں یعنی فلاں رذیلہ میں مبتلا ہوں۔ تو جس وقت کوئی بات کرتا ہے یا کوئی خط لکھتا ہے یا کوئی آگے سے گزرتا ہے۔ تو مشائخ چونکہ اس فن کے ماہر ہوتے ہیں۔ تو ان کو پتہ چل جاتا ہے کہ یہ کس اس میں ہے۔ تو وہ پھر اپنے طریقے سے بعض دفعہ بتا بھی دیتے ہیں، بعض دفعہ نہیں بتاتے۔ مطلب بتاتے نہیں لیکن علاج کر دیتے ہیں۔ مطلب ظاہر ہے، ضروری نہیں کہ مطلب بتا دیں، جیسے بعض ڈاکٹر آپ کو سمجھا دیتے ہیں۔ کہ یہ فلاں ہے، فلاں ہے، فلاں ہے، بتاتے ہیں۔ بعض ڈاکٹر بالکل نہیں بتاتے، بس نسخہ لکھ دیتے ہیں، کہتے ہیں استعمال کرو۔ مطلب یہ، تو اس طرح مشائخ میں بھی ہے کہ بعض لوگ بتا دیتے ہیں۔ اور بعض لوگ نہیں بتاتے۔ تو بہرحال بتائیں نہ بتائیں، لیکن علاج کر دیں تو کام ہو گیا۔ تو اسی طریقے سے مطلب یہ جو ان چیزوں کا جو علاج ہے۔ وہ طور طریقے جو آپ کو ان گناہوں سے بچا دیں۔ یعنی آپ کے نفس کی اصلاح ہو جائے۔ چونکہ نفس ایک مخفی چیز ہے۔ وہ نظر نہیں آتا۔ آپ کے نفس کی اصلاح کر دیں تاکہ اس سے آپ کے ظاہری باطنی گناہ سارے کور ہو جائیں۔ تو یہ اصل میں تصوف ہے۔ مطلب وہ طور طریقے جن کے ذریعے سے نفس کا علاج ہو کر ان ظاہری باطنی گناہوں سے انسان بچ جاتا ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ تصوف ہے۔ مطلب یہ اس قسم کی بات ہے۔ تو حضرت نے فرمایا کہ دل کی دنیا میں یہ باتیں حضرت نے لکھی ہیں۔ تو ہمیں ان چیزوں کو سمجھنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے۔ اور اس کے مطابق اپنے آپ کو درست کرنا چاہیے۔

ترجمہ: یہ یقینی بات ہے کہ جو لوگ گناہ کماتے ہیں، انہیں اُن تمام جرائم کی جلد ہی سزا ملے گی جن کا وہ ارتکاب کیا کرتے تھے ﴿120﴾ اور جس جانور پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، اُس میں سے مت کھاؤ، اور ایسا کرنا سخت گناہ ہے۔ (مسلمانو!) شیاطین اپنے دوستوں کو ورغلاتے رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے بحث کریں۔ اور اگر تم نے اُن کی بات مان لی تو تم یقیناً مشرک ہوجاؤ گے۔ ﴿121﴾

تو اللہ جل شانہ ہم سب کو صحیح باتیں سمجھنے کی، سیکھنے کی اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (122) وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ (123) وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ (124) فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ ؕ كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ (125)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: ذرا بتاؤ کہ جو شخص مردہ ہو، پھر ہم نے اُسے زندگی دی ہو، اور اُس کو ایک روشنی مہیا کردی ہو جس کے سہارے وہ لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہو،

حاشیہ: یہاں روشنی سے مراد اسلام کی روشنی ہے۔ اور ’’لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہو‘‘ فرما کر اشارہ اس طرف کر دیا گیا ہے کہ اسلام کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ انسان مذہبی عبادات کو لے کر دُنیا سے ایک طرف ہوکر بیٹھ جائے، اور لوگوں سے میل جول چھوڑ دے، بلکہ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ وہ عام انسانوں کے درمیان رہے، اُن سے ضروری معاملات کرے، اُن کے حقوق ادا کرے، لیکن جہاں بھی جائے، اسلام کی روشنی ساتھ لے کر جائے، یعنی یہ سارے معاملات اسلامی احکام کے تحت انجام دے۔

ترجمہ: کیا وہ اُس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کا حال یہ ہو کہ وہ اندھیروں میں گھرا ہوا ہو جن سے کبھی نکل نہ پائے؟ اسی طرح کافروں کو یہ سجھا دیا گیا ہے کہ جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں، وہ بڑا خوشنما کام ہے ﴿122﴾ اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں وہاں کے مجرموں کے سرغنوں کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ اُس (بستی) میں (مسلمانوں کے خلاف) سازشیں کیا کریں۔

حاشیہ: یہ مسلمانوں کو تسلی دی جارہی ہے کہ کافر لوگ اُن کے خلاف جو سازشیں کررہے ہیں، اُن سے گھبرائیں نہیں۔ اِس قسم کی سازشیں ہر دور میں انبیائے کرام اور اُن کے ماننے والوں کے خلاف ہوتی رہی ہیں، لیکن بالآخر انجام اہلِ ایمان ہی کا بہتر ہوتا ہے، اور دشمنوں کی سازشیں آخرکار خود انہی کو نقصان پہنچاتی ہیں، کبھی تو اسی دُنیا میں ان کا یہ نقصان ظاہر ہوجاتا ہے، اور کبھی دُنیا میں ظاہر نہیں ہوتا، لیکن آخرت میں ان کو پتہ چل جائے گا کہ انہوں نے خود اپنے حق میں کانٹے بوئے تھے۔

ترجمہ: اور وہ جو سازشیں کرتے ہیں، (درحقیقت) وہ کسی اور کے نہیں، بلکہ خود اُن کے اپنے خلاف پڑتی ہیں، جبکہ اُن کو اس کا احساس نہیں ہوتا ﴿123﴾ اور جب ان (اہلِ مکہ) کے پاس (قرآن کی) کوئی آیت آتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ: ’’ہم اُس وقت تک ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ اُس جیسی چیز خود ہمیں نہ دے دی جائے جیسی اللہ کے پیغمبروں کو دی گئی تھی۔‘‘

حاشیہ: یعنی جب تک خود ہم پر ویسی وحی نازل نہیں ہوگی جیسی انبیائے کرام پر نازل ہوتی رہی ہے، اور ویسے معجزات ہمیں نہیں دیئے جائیں گے جیسے اُن کو دیئے گئے تھے، اُس وقت تک ہم ایمان نہیں لائیں گے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اُن کا مطالبہ یہ تھا کہ ہم میں سے ہر شخص کو پوری پیغمبری ملنی چاہئے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہ جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ پیغمبری کس کو عطا کی جائے۔

ترجمہ: (حالانکہ) اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کس کو سپرد کرے۔ جن لوگوں نے (اس قسم کی) مجرمانہ باتیں کی ہیں اُن کو اپنی مکاریوں کے بدلے میں اللہ کے پاس جاکر ذلت اور سخت عذاب کا سامنا ہوگا۔ ﴿124﴾ غرض جس شخص کو اللہ ہدایت تک پہنچانے کا ارادہ کرلے، اُس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے، اور جس کو (اُس کی ضد کی وجہ سے) گمراہ کرنے کا ارادہ کرلے، اُس کے سینے کو تنگ اور اتنا زیادہ تنگ کردیتا ہے کہ (اُسے ایمان لانا ایسا مشکل معلوم ہوتا ہے) جیسے اُسے زبردستی آسمان پر چڑھنا پڑ رہا ہو۔ اِسی طرح اللہ (کفر کی) گندگی اُن لوگوں پر مسلط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے ﴿125﴾

تو یہاں پر بھی بالکل صاف بات آ رہی ہے نظر کہ اللہ جل شانہ نے چونکہ اختیار دیا ہے لوگوں کو۔ اور ساتھ ساتھ ہدایت کی کتاب بھی دی ہے مطلب ہدایت کی بات پہنچا دی ہے۔ تو اس کے بعد پھر اختیار کے مطابق اگر کوئی شخص اچھا بننا چاہتا ہے تو اس کے لیے اچھا بننے کے جو ذرائع ہیں اللہ تعالی پہنچا دیتے ہیں۔ اور اگر کوئی برا رہنا چاہتا ہے تو پھر اس کے لیے پھر وہی ذرائع۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ جس کا جو جی چاہتا ہے اس کو وہ دے دیا جاتا ہے۔ تو جیسے وَالَّذِينَ جَاهَدُو فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔ اب یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جو لوگ کوشش محنت کرتے ہیں اللہ کے بننے کی، اللہ پاک ان کو راستے سجھا دیتے ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ چونکہ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ تک پہنچیں تو اللہ پاک راستے سجھا دیتے ہیں۔ اور جو لوگ اپنے کفر میں پھنسنا رہنا چاہتے ہیں مطلب کفر سے نہیں نکلنا چاہتے تو پھر ان کے اوپر دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ مطلب اس کا ضد، مطلب the reverse is also true والی بات ہے کہ یعنی اس میں چونکہ وہ لوگ نہیں چاہتے تو جب نہیں چاہتے تو ان کے لیے راستے بند کر دیے جاتے ہیں تو یہاں پر یہ والی کہ

ترجمہ: اُس کے سینے کو تنگ اور اتنا زیادہ تنگ کردیتا ہے کہ (اُسے ایمان لانا ایسا مشکل معلوم ہوتا ہے) جیسے اُسے زبردستی آسمان پر چڑھنا پڑ رہا ہو۔ اِسی طرح اللہ (کفر کی) گندگی اُن لوگوں پر مسلط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے ﴿125﴾

یہ باتیں میں ساتھ ساتھ اس لیے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بہت سارے لوگ اس قسم کی آیات سے بھی وہ جبری عقائد کو سپورٹ کرنا شروع کر لیتے ہیں۔ کہ بس اب ویسے ہی ہے اللہ تعالی نے ہمیں محروم کیا ہے تو پھر ہم تو اس کے وہی نہیں ہیں۔ حالانکہ کرتے اپنے نفس کی وجہ سے ہیں۔ خود ان کو بھی پتہ ہوتا ہے کہ اپنے نفس کی وجہ سے کر رہے ہیں لیکن بہرحال وہ چونکہ وہ عمل نہیں کرنا چاہتے یا یوں سمجھ لیں گمراہ رہنا چاہتے ہیں تو پھر اس قسم کی باتیں بنا اور یہ باتیں بھی اصل میں ان کے گزشتہ اعمال کی پاداش میں ہوتی ہیں۔ وہ چونکہ نہیں چاہتے تو ان کے لیے وہ جیسے ابھی گزرا ہے۔ تھوڑی دیر پہلے گزرا ہے کہ وہ اپنی باتوں کو اچھا سمجھتے ہیں۔ یعنی ان کے لیے ایسا ہو جاتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ شاید ہم اچھا کر رہے ہیں اور اس کو فائدہ مند سمجھتے ہیں۔ تو یہ وہ صرف اور صرف ان اس ضد کی وجہ سے ہے جو وہ کرتے ہیں اس وجہ سے اس لیے ان کو یہ باتیں اچھی لگتی ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید ہم اچھا کر رہے ہیں۔ تو اللہ جل شانہ ہم سب کو اس قسم کے انجام سے بچائے، یہ بہت ہی خطرناک راستہ ہے۔ کیونکہ ایک دفعہ یہاں سے کوئی چلا جائے تو پھر واپس آنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے اور وہاں عمل کرنے کا موقع نہیں ہے۔ لہذا جس پوزیشن میں ہوتے ہیں اسی پوزیشن میں پھنس جاتے ہیں، اللہ ہماری حفاظت فرمائے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّتِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔