حکمِ رسول ﷺ کی مخالفت کا انجام

باب فی الامر بالمحافظۃ علی السنۃ وآدابھا، درس نمبر: 233، اشاعتِ اول: 14 مارچ، 2023 بمطابق 21 شعبان، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• مخالفتِ رسول ﷺ پر قرآنی وعید

• نافرمانی کا دنیوی انجام (فتنہ و مصیبت)

• آخرت کا دردناک عذاب

• سنت اور اقوالِ نبوی ﷺ سے اعراض کے خطرات

• غیر شرعی اعمال کا مردود ہونا

• اطاعتِ رسول ﷺ کی اہمیت و ضرورت

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

﴿فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴾(نور: 63)

ترجمہ: ”نیز فرمایا جو لوگ ان کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہئے (ایسا نہ ہو کہ) ان پر کوئی آفت پڑ جائے یا تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو۔“

تشریح: فِتْنَةٌ: سے مراد بقول مجاہد دنیوی مصیبت اور ”عَذَابٌ اَلِیْمٌ“ سے مراد آخرت کا عذاب ہے۔ اب اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہئے کہ کہیں ان پر کوئی دنیوی عذاب نہ آجائے یا پھر قیامت کے دن عذاب میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ اس آیت میں ڈرایا جا رہا ہے کہ جو لوگ بھی آپ ﷺ کے اقوال واعمال سے اعراض اور مخالفت کرتے ہیں تو ان کے لئے دنیا و آخرت میں مصیبت ہے اور وہ شخص مردود ہوگا جیسا کہ ایک روایت میں فرمایا: ”مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَیْسَ عَلَیْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ.“ جس نے کوئی عمل کیا جس کا ہم نے حکم نہیں دیا تو وہ عمل مردود ہے۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔

حکمِ رسول ﷺ کی مخالفت کا انجام - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور