قیقتِ فنا و بقا، توحیدِ شہودی اور اصلاحِ نفس کی ناگزیریت
دفتر اول، مکتوب: 272، اشاعتِ اول: 14 مارچ، 2018 بمطابق 25 جمادی الثانی 1439 ہجری
فنا کا مطلب ما سِویٰ کا نسیان (بھول جانا) ہے، نہ کہ چیزوں کو نیست و نابود کرنا۔
کائنات میں وحدت دیکھنے (شہودِ وحدت در کثرت) کی غلط تاویل کا رد۔
انبیاء اور عام انسانوں کے باطن کا فرق۔
دعوت و تبلیغ کے کام میں اپنی باطنی اصلاح (قلب، نفس اور عقل) کی ناگزیریت
اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
آج بدھ کا دن ہے۔ بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، ان کے مکتوبات شریف کا درس ہوتا ہے۔ یہ بہت ہی معرکۃ الآراء مضامین پر مشتمل ہوتا ہے۔ اللہ جل شانہ ہمیں اس کی قدردانی کی توفیق عطا فرمائے اور حضرت کے فیوض و برکات سے ہم سب کو بیش از بیش حصہ نصیب فرمائے۔
تنبیہ کے طور پر گزشتہ مضامین میں جو بات آئی ہے، اس میں تنبیہ کے طور پر فرماتے ہیں:
تنبیہ: سابقہ تحقیق سے معلوم ہو گیا کہ اگرچہ موجودات متعدد ہوں
یعنی بہت سارے موجودات ہوں، جیسے اب ظاہر ہے مطلب کائنات پوری،
اور حق جل و علا کا ما سوی بھی موجود ہو
یعنی اللہ جل شانہ تو اللہ ہی ہیں اور ساتھ دوسری بھی،
پھر بھی یہ بات روا ہے کہ فنا اور بقا متحقق ہو جائے
کہ فنا اور بقا، اس کا جو وجود ہے وہ قائم ہو جائے، کیسے؟
اور ولایت صغریٰ و کبریٰ بھی حاصل ہو جائے کیونکہ ما سویٰ کا نسیان فنا ہے
یعنی جو اللہ کے علاوہ ہے وہ بھول جائے انسان، اس کو فنا کہتے ہیں،
نہ یہ کہ ما سویٰ کا نیست و نابود کرنا
کیونکہ یہ تو انسان کے بس میں نہیں ہے، ختم تو نہیں کر سکتا۔ یعنی آپ سامنے بیٹھے ہیں میرے اور میں آپ کو بھول جاؤں، یہ تو میرے ساتھ تعلق رکھتا ہے، میرا state of mind ہے۔ لیکن آپ کو ختم کر دوں یہ تو میرا state of mind والی بات نہیں ہے، وہ تو ایک الگ چیز ہے، ٹھیک ہے نا۔ تو فرمایا کہ:
کیونکہ ما سویٰ کا نسیان تو فنا ہے، نہ کہ ما سویٰ کا نیست و نابود کرنا، اور چاہیے کہ ما سویٰ کی دید مفقود ہو جائے
یعنی مطلب یہ ہے کہ انسان اس کو دیکھ نہ سکے، مطلب اس کی طرف نظر نہ ہو،
نہ یہ کہ ما سویٰ معدوم و نا چیز ہو جائے۔
مطلب ظاہر ہے، اس وجہ سے مجھے ذرا تھوڑا سا گزشتہ کی طرف جانا پڑے گا۔ حضرت نے فرمایا ہے مکتوب نمبر 234 میں کہ ساری چیزیں اصل میں عدم ہیں اور اصل وجود تو اللہ جل شانہ کا ہے۔ لیکن اللہ جل شانہ کی تجلیِ وجودی، وہ جس وقت عدم پہ پڑتی ہے تو اس سے چیزیں بطور ترقی—تجلی تو تنزل ہے لیکن یہاں اس کا جو اثر ہے وہ عدم کی ترقی ہے—اور وہ کیا ہے؟ وہ موجودات ہیں، مطلب وہ موجودات وجود میں آ جاتے ہیں۔ تو جو اللہ کی تجلی سے وجود میں آیا ہو، اس کو کوئی ختم تو نہیں کر سکتا: ﴿مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا﴾۔ اللہ پاک، مطلب یہ "مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا" اس کو تو کوئی ختم نہیں کر سکتا، لیکن یہ بات ہے کہ اس کی طرف توجہ نہ رہے، یہ بات ہو سکتی ہے۔ توجہ الی الغیر نہ ہو، اس چیز کا خاتمہ ہمارے بس میں نہیں ہے، وہ تو ہو نہیں سکتا، نہ ہم اس کے مکلف ہیں۔
یہ بات ظاہر ہونے کے با وجود اکثر خواص پر بھی پوشیدہ رہی ہے تو عوام کے بارے میں کیا کہا جائے۔ ان لوگوں نے توحیدِ شہودی کو توحیدِ وجودی کا عین خیال کر کے وحدتِ وجود کی معرفت کو اس راہ کی شرائط میں سے جانا ہے
یعنی یوں سمجھ لیجیے کہ بعض حضرات نے توحید شہودی جو ہے، اس کو توحید وجودی کا ایک نتیجہ قرار دیا ہے۔ یعنی گویا کہ اس کے بغیر کوئی اور راستہ نہیں ہے، حالانکہ ایسی بات نہیں ہے۔
حضرت فرماتے ہیں کہ سابقہ تحقیق سے معلوم ہو گیا کہ موجودات اگر کثرت سے بھی ہوں، پھر بھی فنا اور بقا کا وجود ہو سکتا ہے۔ کیونکہ فنا کا مطلب سویٰ کا نسیان ہے، ما سویٰ کا نیست و نابود ہونا نہیں ہے۔ مجھے حضرت کی وہ مکتوب شریف 234 کی بات یاد آ گئی کہ حضرت نے فرمایا تھا کہ اصل میں تو اللہ ہی کا وجود ہے۔ اس لیے تو واجب الوجود کہتے ہیں، ٹھیک ہے نا، اصل میں تو اللہ ہی کا وجود ہے۔ لیکن اللہ پاک کی تجلی جو تنزل ہے، اس تجلی کے عدم پر پڑنے سے، عدم عروج کر کے، ترقی کر کے وہ موجودات ظہور میں آتے ہیں۔ تو جو چیز اللہ تعالیٰ کی تجلیِ وجود سے ظہور میں آئی ہے، تو ظاہر ہے اس کو کوئی ختم تو نہیں کر سکتا: ﴿ومَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا﴾۔ تو لہٰذا اس چیز کا معدوم کرنا، ہم نہ اس کے مکلف ہیں اور نہ ہم یہ کر سکتے ہیں۔
فرمایا:
یہ بات ظاہر ہونے کے با وجود اکثر خواص پر بھی پوشیدہ رہی ہے تو عوام کے بارے میں کیا کہا جائے۔ ان لوگوں نے توحیدِ شہودی کو توحیدِ وجودی کا عین خیال کر کے وحدتِ وجود کی معرفت کو اس راہ کی شرائط میں سے جانا ہے۔
یہ غلط فہمی مجھے بھی تھی۔ غلط فہمی اس لیے تھی کہ میں جب پڑھتا تھا تو میں یہ سمجھتا تھا کہ شاید یہ وحدت الوجود پہلے ہو گا، پھر اس کے بعد وحدت الشہود وجود میں آئے گا، مطلب ظاہر ہے اس کی ترقی ہے۔ حالانکہ بعد میں پتا چلا کہ نہیں۔ یہ اس کی ایک صورت ہے، اس طریقے سے بھی ہو سکتا ہے، یہ نہیں کہ یہ واحد راستہ ہے۔ واحد راستہ نہیں ہے۔ لاہور جانے کے لیے راستے اور بھی ہیں، صرف جی ٹی روڈ نہیں ہے۔ آج کل موٹروے بھی ہے، دوسرے راستے بھی ہیں۔ تو اس طرح یہ اور راستے بھی ہیں جس کے ذریعے سے انسان جا سکتا ہے۔
اور دو وجود کہنے والے کو۔۔۔
دو وجود سے مراد یہ ہے کہ ایک تو اللہ پاک کا وجود ہے جو واجب الوجود ہے اور دوسرا ممکن۔
کہنے والے کو ضالّ و مضل (گمراہ اور گمراہ کرنے والا) خیال کیا ہے یہاں تک کہ ان میں سے اکثر نے حق جلَّ سلطانہٗ کی معرفت کو توحیدِ وجودی کے معارف میں منحصر خیال کیا
یعنی اللہ جل شانہ کی معرفت تب ہو گی جب توحید وجودی حاصل ہو گا،
اور شہودِ وحدت کو کثرت کے آئینے میں انجام کار تصور کیا ہے۔
شہودِ وحدت یعنی کثرت میں وحدت نظر آئے۔
ایک آن میں مٹ جائیں گی کثرت نمائیاں
جب آئینے کے سامنے ہم آ کے ھو کریں
تو انہوں نے وحدت کو کثرت کی صورت میں دیکھا ہے، یعنی کثرت سے انہوں نے وہ دیکھا ہے کہ ہے تو کثرت لیکن ان سب کو ایک سمجھا، نہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ وہ عدم نہیں ہے، کالعدم ہے۔ فنا میں کالعدم ہو جاتے ہیں۔ عدم نہیں ہو جاتے ہیں۔ یہ فرق ہے۔ یعنی انسان اس کو دیکھ نہیں پا رہا ہوتا۔
تو فرمایا کہ:
یہاں تک کہ ان میں سے اکثر نے حق جلَّ سلطانہٗ کی معرفت کو توحیدِ وجودی کے معارف میں منحصر خیال کیا اور شہودِ وحدت کو کثرت کے آئینے میں انجام کار تصور کیا ہے۔ ان میں سے بعض نے یہاں تک تصریح کی ہے کہ ہمارے حضرت پیغمبر علیہ و علیٰ جمیع اخوانہ من الصلوات افضلہا و من التسلیمات اکملہا کمالاتِ نبوت کے حصول کے بعد شہودِ وحدت در کثرت کے مقام میں رہے ہیں
یعنی پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی کثرت میں وحدت نظر آئی۔ یعنی یوں سمجھ لیجیے کہ وہ گویا کہ پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی وحدت کا نظارہ کیا کثرت میں۔
اصل میں اس میں بہت، یعنی سمجھنے کے لحاظ سے باریک فرق ہے، سمجھنے کے لحاظ سے باریک فرق ہے۔ باریک فرق یہ ہے کہ کثرت اس معنی میں سمجھنا کہ چیزیں بہت زیادہ ہیں لیکن خالق سب کا ایک ہے، یہ تو کثرت میں وحدت ٹھیک ہے۔ اگر یہ معنی ہو، جس کو ہم کہتے ہیں، یعنی چیزیں تو بہت ہیں، موجودات بہت ہیں، ستارے بھی ہیں، آسمان بھی ہے، اس طریقے سے سیارے بھی ہیں، کیا کیا چیزیں ہیں عجائبات! تو کثرت ہے۔ تو یہ کثرت جو مخلوقات کی ہے، ان سب کا خالق ایک ہے۔ اس لحاظ سے تو بات ٹھیک ہے۔ لیکن یوں سمجھ لیجیے کہ یہ جو کثرت ہے، یوں سمجھ لیجیے یہ جو کائنات ہے، وہ عین ہے اللہ تعالیٰ کی ذات کا، یہ نہیں۔ یعنی یوں سمجھ لیں یہ کثرت جو ہے وحدت میں تبدیل نہیں ہوتی۔ البتہ چیزوں کی کثرت اس لحاظ سے وحدت میں تبدیل ہو سکتی ہے کہ سب اللہ پاک کے بنائے ہوئے ہیں۔ سب اللہ پاک کے بنائے ہوئے ہیں۔
اور میرے خیال میں آج کل کی سائنس کا جو بڑا المیہ ہے وہ یہی ہے، سب سے بڑا المیہ، جو atheist ہیں، جو خدا کے منکر ہیں۔ ان کا المیہ یہی ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان تمام منتشر چیزوں کو ایک کیسے پیدا کر سکتا ہے۔ یہ اصل میں ان کا مسئلہ ہے۔ وہ اس چیز میں پھنس جاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اگر اس چیز کو مان بھی لیں کہ ہر چیز کا اپنا ایک فاعل موجود ہے، لیکن وہ یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ سب کا فاعل ایک ہے۔ تو سائنس تو اسی میں پھنسی ہوئی ہے۔ لیکن یہ جو وحدت الوجود والے ہیں، وہ اس چیز میں پھنسے ہوئے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ پوری کائنات جو ہے، یہ گویا کہ عین ہے اللہ جل شانہ کی ذات کا، اصل میں یہ کچھ بھی نہیں ہے۔
حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بہت آسان تعریف اس کی کر لی اور سمجھایا کہ اللہ جل شانہ ہی کی ذات اصل میں موجود ہے، اصل وہی ہے۔ باقی عدم ہے۔ اور اللہ جل شانہ کی ذات کی تجلیِ وجودی جو تنزل ہے اللہ جل شانہ کی ذات، وہ جب پڑی ہے عدم پر، تو عدم سے، مطلب یہ بطور ترقی موجودات ظہور میں آئے۔ اب وہ جتنے موجودات ظہور میں آئے ہیں وہ بطور تخلیق ہے یا بطور امرِ کُن ہے، وہ سب کے سب اللہ پاک کی مخلوق ہیں، اللہ پاک نے پیدا کیے ہیں۔ تو ان سب کو ایک وحدت بے شک مان لو، کہ سب کو اللہ پاک نے پیدا کیا ہے اس کو بے شک مان لو۔ لیکن اس کو اللہ پاک کا عین نہیں کہہ سکتے ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عدم ہے، وہ وجود ہے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ لیکن اس کو اللہ پاک کا عین نہیں کہہ سکتے ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عدم ہے، وہ وجود ہے۔ تو عدم کبھی وجود کا عین ہو سکتا ہے؟
لیکن حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے شیخ اکبر رحمۃ اللہ علیہ کو اسی میں راستہ دیا ہے تاویل میں۔ یہ اسی میں راستہ دیا کہ صفر جمع ایک مساوی ایک۔ تو انہوں نے جو عدم کو، مطلب جس کو کہتے ہیں نا وہ جو عین کہا، تو اس کے بدلے اس کا اپنا وجود تو ہے ہی نہیں۔ اس کا اپنا وجود تو ہے نہیں تو وہ موجود ہے اس کے موجود کرنے سے، تو انہوں نے فرمایا ان کا مطلب یہ ہو سکتا ہے۔ تو حضرت نے ان کو راستہ یہ دیا ہے۔ آگے بات آ رہی ہے، بہت اہم باتیں آ رہی ہیں ماشاءاللہ آگے۔
اور آیت کریمہ: ﴿إِنَّـآ أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ (الکوثر: 1) ترجمہ: ”(اے پیغمبر) بے شک ہم نے آپ کو کوثر (یعنی خیر کثیر) عطا فرمائی“۔ سے اس مقام کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور اس آیت کریمہ کا ترجمہ اس عبارت سے کرتے ہیں: "تحقیق کہ ہم نے آپ کو کثرت میں وحدت کا مشاہدہ عطا کیا ہے"۔
یہ تفسیر بالرائے ہے۔ ظاہر ہے اس کا کہیں پر نص میں تو موجود نہیں ہو گا۔ تو یہ تفسیر بالرائے ہے۔
معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے کوثر کے "و" کے درمیان آنے سے جو حروف کثر کے درمیان ہے اس سے اس اشارہ کو سمجھا ہے۔
کوثر میں کاف کو واؤ مٹا دو تو کیا بنتا ہے؟ کثر۔
حَاشَا وَ کَلَّا (ہرگز ایسا نہیں ہے) کہ اس قسم کے معارف مقامِ نبوت کے شایاں ہوں۔ کیونکہ انبیاء علیہم الصلوات و التحیات خدائے بے چون جل سلطانہٗ کی طرف دعوت دیتے رہے ہیں اور جو چیز چون کے آئینے میں گنجائش رکھتی ہے وہ بے چونی سے بے نصیب ہے
ویسے لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ، اللہ تعالیٰ کی طرح تو کوئی ہے ہی نہیں۔ یعنی مخلوق کہاں اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ملحق ہو سکتی ہے، ممکن نہیں۔
اور چونی و چَندی کے داغ سے داغ دار ہے۔ حضرت حق سبحانہٗ و تعالیٰ ان کو انصاف دے۔ شاید یہ لوگ انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کو اپنے کمالات کی ترازو میں تولنا چاہتے ہیں
اس پر مجھے ایک بات یاد آئی۔ کہتے ہیں ایک لنگڑا، اس کو کسی نے بہت modern بیساکھی جس میں بڑی facilities چلنے کے لحاظ سے تھیں، آج کل ہیں نا ظاہر ہے مطلب یہ کہ دنیائے مصنوعات میں کافی ساری چیزیں آج کل آئی ہیں۔ تو بہت زبردست سی بیساکھی تھی جس سے کافی سارے کام لیے جا سکتے تھے۔ تو وہ لنگڑا جو ہے وہ ایک صحیح آدمی جس کے پیر صحیح سلامت، ان سے کہتے ہیں: "یہ بیساکھی بہت زبردست ہے۔ اور اس کا یہ فائدہ ہے اور اس کا یہ فائدہ ہے اس کا یہ فائدہ ہے، آپ بھی اس کو لے لیں۔" اس کو کہتے ہیں: "مجھے اس کی ضرورت ہی نہیں۔ مجھے بیساکھی کی کیا ضرورت ہے؟" کہتے ہیں: "نہیں، اس کا یہ فائدہ ہے، یہ فائدہ ہے، یہ فائدہ ہے، یہ فائدہ ہے۔" کہتے ہیں: "وہ فائدہ آپ کے لیے ہے نا، ہمارے لیے اس کے کیا فائدے؟" تو یہاں پر یہ ہے کہ انبیاء کرام کو اپنے کمالات کے ترازو میں وہ گویا کہ تولنا چاہتے ہیں، حالانکہ انبیاء کو تو ان چیزوں کی ضرورت ہی نہیں۔ انبیاء تو براہ راست وحی کے مخاطب ہیں۔ تو کہاں ہم اور کہاں وہ!
حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک موقع پر ایک بڑی عجیب بات فرمائی ہے، گزشتہ اسباق میں گزری یہ بات، کہ انبیاء کرام چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخلوق کی طرف متوجہ رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق، اور چونکہ ان کو براہ راست وحی ہوتی ہے، لہٰذا ان کے لیے مخلوق کی طرف متوجہ ہونا عین شریعت ہے۔ ان کو مخلوق کی طرف متوجہ ہونا، کیوں؟ اللہ کے براہ راست حکم کے مطابق ہے نا۔ تو ان کے لیے تو وہ عین شریعت ہے۔ لہٰذا ان کو پھر دوبارہ پیچھے کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان کا یہ اِس طرف دیکھنا ہی اُس طرف دیکھنا ہے۔ کیونکہ وہ ظاہر ہے مطلب مکلف ہیں اسی طرف۔ تو فرمایا جو باقی لوگ ہیں جو ہم غیر انبیاء ہیں، ان کی یہ بات ہے کہ اگر وہ مخلوق کی طرف ہی دیکھیں صرف، تو عین ممکن ہے مخلوق میں ان کا نفس بھی ہے۔ مخلوق میں نفس بھی ہے نا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ مخلوق کی طرف متوجہ ہونے میں اپنے نفس کی طرف متوجہ نہ ہوں۔ لہٰذا ان کو اپنے نفس کے شر سے بچنے کے لیے پیچھے پیچھے دیکھنا ہوتا ہے۔ یعنی اپنے رخ کو سیدھا کرنے کے لیے کہ کہیں میں وہ مخلوق میں نفس کی طرف متوجہ نہ رہوں۔
اب میں ذرا تھوڑی سی بہت عجیب بات کرنے لگا ہوں، لیکن یہ مجبوری ہے میری۔ کیا کریں جب ایسی بات آ جائے تو پھر کرنی پڑتی ہے۔ مثلاً تبلیغی جماعت والے حضرات ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو بہت زیادہ درجات عطا فرمائے، ہمارے بزرگوں کی لائن پر ہیں۔ لیکن اگر یہ صرف مخلوق کی طرف متوجہ رہیں، اور رات کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ نہ رہ سکیں، اور اپنی اصلاح سے غافل ہوں، تو یہ اپنے نفس کے پیچھے چل رہے ہوں گے پھر۔ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔ وجہ یہ ہے انبیاء، انبیاء ہیں، وہ کہتے ہیں نا ہمارا کام انبیاء کا ہے۔ وہ فرق صرف یہی ہے، جو بزرگوں کو معلوم ہے اور ان کو معلوم نہیں ہے۔ کیونکہ انبیاء تو براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوئے ہیں نا، ان کی تشکیل ہے، ان کی حفاظت ہے۔ لیکن باقی انسانوں کی تو نہیں ہے، باقی انسانوں کو تو خود اس چیز کو حاصل کرنا پڑے گا۔ تو اگر ان کا اللہ تعالیٰ سے رابطہ دل کا کسی وقت بھی منقطع ہوتا ہے، تو ان کی توجہ نفس کی طرف ہو جائے گی۔ بجائے اور لوگوں کے، اپنے نفس کی طرف ہو جائے گی۔
میں آپ کو سمجھاتا ہوں نفس کی طرف کیسے ہو جاتی ہے۔ دیکھیں مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ باوجود اس کے اتنے بزرگ مقام کے، جن کے ساتھ اختلاف کرتے ہیں، ان کو اتنے اونچے مقام پر سمجھتے ہیں، شیخ اکبر رحمۃ اللہ علیہ، جن کے ساتھ بہت زیادہ اختلاف کرتے ہیں، باوجود فرماتے ہیں کہ کشف کی نگاہ میں، میں اس کو جنت کے بہت اونچے مقامات میں دیکھ رہا ہوں۔ تو بے نفسی ہے نا، بے نفسی ہے نا۔ لیکن آج کل تبلیغ والے حضرات، جو علماء تبلیغ میں نہیں چلتے ان پہ بھی رحم کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، بے چاروں کے اوپر بات کھلی نہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ بیچاروں کے اوپر بات کھلی نہیں۔ مشائخ کے بارے میں بھی ایسی باتیں کرتے ہیں: بے چاروں کے اوپر بات کھلی نہیں ہے۔
مجھے خود یاد ہے، مکہ مکرمہ میں، حاجی عبدالمنان صاحب کے ساتھ جا رہے تھے تو اس میں تبلیغی جماعت کے ایک بڑے بھی ہمارے ساتھ تھے۔ تو راستے میں بات چیت ہوتی رہی۔ تو وہ ساتھی کہنے لگے جماعت کے ساتھی، کہتے ہیں: "میں صیانۃ المسلمین کے جلسے میں شامل رہا ہوں۔" صیانۃ المسلمین کے جلسے کیا ہوتے ہیں؟ وہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلفاء اس میں مدعو ہوتے ہیں اور وہ بیان فرماتے ہیں۔ خلفاء، عام لوگ نہیں۔ اور وہ بھی حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے، یا ان کے خلفاء کے خلفاء۔ فرماتے ہیں کہ میں نے ان کے بیانات بھی سنے، لیکن وہ تبلیغ والوں کا جو سادہ سا بیان ہے نا اس کے مقابلے میں ان کے بیان کچھ بھی نہیں۔ یہ بات انہوں نے جب کی نا تو مجھے وہ عبدالمنان صاحب کہنے لگے: سنو، یہ المیہ ہے۔ یہ المیہ ہے اسی وجہ سے جو ابھی میں نے بتایا۔ جب تک قلب، نفس اور عقل کی اصلاح نہیں ہو چکی ہو، تو دل میں دنیا کی محبت ہو گی، نفس امارہ ہو گا اور عقل بے وقوف ہو گی، یعنی عقل کام نہیں کرے گی صحیح۔ جب ایسا ہو گا تو بے شک آپ کتنے ہی اونچے کام کیوں نہ کر رہے ہوں، اس کے اندر ان چیزوں کی شرارت موجود ہو گی۔ نفس کی بھی شرارت موجود ہو گی، عقل کا نقصان بھی موجود ہو گا، اور دل کا بھی قصور موجود ہو گا۔
اب جو مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ والے حضرات تھے، بلکہ وہ تو حضرات تو بہت پہلے کی بات ہے جس وقت ہم جماعت میں چلتے تھے، بہت عاجزی ہوتی تھی، بہت عاجزی۔ ڈرتے ڈرتے بات کرتے تھے۔ اور یہ مجھے یاد ہے اپنے بڑوں نے ہمیں بتایا۔ مجھے خود جماعت کے امیر جو تھے وہ یعنی 1971 کی بات ہے، شکرگڑھ کی طرف ہماری تشکیل ہوئی تھی۔ تو وہاں ایک بہت بڑے عالم تھے، ان کی خدمت میں ہمیں جانا تھا۔ یعنی وہ جاتے ہیں نا وہ دعا لینے کے لیے ایک طریقہ کار ہے۔ تو حضرت نے مجھے ساتھ لے لیا اور راستے میں مجھ سے پوچھتے ہیں: "شبیر! جن کے پاس ہم جا رہے ہیں یہ عالم ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ان کو دعوت دیں۔ علماء کو دعوت دینا ہمارا کام نہیں ہے۔ علماء کو دعوت دینا ہمارا کام نہیں ہے۔" اب دیکھیں حضرت کے الفاظ سنیں: "کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری چکنی چپڑی باتوں سے وہ متاثر ہو کر اپنے اہم کام کو چھوڑ کر ہمارے کام کی طرف آ جائیں اور وہ اہم کام رہ جائے، اس کا ذمہ دار پھر کون ہو گا؟" یہ خود میں اپنی بات بتاؤں، درمیان میں کوئی راوی نہیں ہے۔ میں نے کہا: "حضرت! میرا بھی یہی مسلک ہے۔" فرمایا: "پھر کوئی بات نہیں، پھر ٹھیک ہے۔" اچھا جب ہم پہنچے، حضرت کو اطلاع پہلے سے ہو گئی تھی۔ الحمدللہ، بہت بڑے بزرگ تھے، عالم بھی تھے۔ فرمایا: "مجھے آپ کی اطلاع ہو چکی تھی۔ ان شاءاللہ جمعہ کے بیان میں، میں آپ لوگوں کا تعارف کر دوں گا۔" اور بہت دعائیں دیں۔ پھر جب تک ہم ادھر تھے حضرت ہمارے ساتھ ساتھ رہے، یعنی کسی نہ کسی درجے میں ہمارے ساتھ ساتھ رہے۔ یہی بات ہوتی ہے۔ اگر مشائخ کی عظمت دل میں ہو، علماء کا اکرام دل میں ہو تو علماء کے دل اور مشائخ کے دل اس کی طرف آ جائیں گے خود بخود۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو اِدھر ہم پہنچیں گے اُدھر ان کے دل الٹے ہو جائیں گے۔ بجائے فائدے کے توڑ پیدا ہو گا۔ ہمارے دلوں کا جو میل ہے وہ راستے کو خراب کر دے گا۔
یہ والی بات ہے۔ اس کی مثال بزرگوں نے دی ہے، بزرگوں نے۔ بزرگوں کو سمجھانے کا طریقہ آتا ہے۔ یہ دی ہے کہ پرنالہ میں صاف بارش کا پانی آتا ہے۔ اوپر سے چونکہ بارش کا پانی تو بے انتہا پاک ہوتا ہے، کوئی impurity اس میں نہیں ہوتی، بالکل صاف صاف پانی ہوتا ہے۔ لیکن اگر پرنالے کے اندر کوئی گند پڑا ہو، وہ پانی جب نیچے کی طرف پرنالے سے ہو کے گزرے گا وہ پانی ناپاک ہو گا۔ حالانکہ بارش کا پانی ہے۔ اس لیے اگر ہمارے اندر کھوٹ ہو گا تو ان بزرگوں کا فیض ہماری طرف متوجہ ہو گا تو ہمیں کسی اور صورت میں ملے گا۔ یہ والی بات ہے۔
حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ کو اس بات کا اتنا احساس تھا۔ حضرت خود فرماتے ہیں جو مولانا منظور نعمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ملفوظات جمع کیے ہیں ان کی بات میں کر رہا ہوں۔ حضرت نے خود ارشاد فرمایا کہ میں جس وقت میوات گشت کے لیے جاتا ہوں تو میں صلحاء کی جماعت کو ساتھ لے کے جاتا ہوں۔ اس پہلی بات پہ غور کر لیں کہ اس میں کیا بات ہے۔ یعنی اپنی حفاظت اتنی زیادہ مقصود اور فکر تھی اس کی کہ صلحاء کی جماعت کو اپنے ساتھ لینا چاہتے ہیں تاکہ مجھے کوئی نقصان نہ ہو۔ دوسری بات: فرمایا پھر بھی لوگوں کے ساتھ ملنے کی وجہ سے میرے دل پہ اثر آ جاتا ہے۔ اس اثر کو دور کرنے کے لیے یا میں رائے پور شریف جاتا ہوں یا سہارنپور شریف جاتا ہوں یا پھر مسجد میں اعتکاف کرتا ہوں۔ اب بتائیں یہ کیا چیز ہے؟ سہارنپور شریف میں کیا تھا؟ خانقاہ تھی۔ رائے پور شریف میں؟ خانقاہ تھی۔ اور مسجد میں اعتکاف۔
ایک جماعت کے ساتھی نے مجھ سے رمضان میں پوچھا، ہمارے ساتھی ہیں، "اعتکاف بھی آ رہا ہے اور تقاضا ہے کہ میں جماعت میں چلا جاؤں۔ تو کیا کروں؟ آپ کا کیا مشورہ ہے؟" میں نے کہا: "تبلیغ کہاں سے شروع ہوئی ہے؟" کہتے ہیں: "آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔" میں نے کہا: "آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دنوں میں جو کیا ہے وہی کر لو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دنوں میں جو کیا ہے وہی کر لو۔" کہتا ہے: "ہاں، یہ بات تو ٹھیک ہے، سمجھ میں آ گئی بات۔" پھر اعتکاف کیا اس نے۔
مطلب میرا یہ ہے کہ باتیں دور چلی جا رہی ہیں۔ اور اس کی وجہ صرف یہی ہے۔ یہ والی بات نہیں ہے، تین چیزوں کی اصلاح۔ قلب، نفس اور عقل کی اصلاح کا مسئلہ گم ہو گیا ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ بعض ساتھی برملا کہتے ہیں کہ ہم فلاں بزرگ کے پاس اس لیے نہیں جاتے یا فلاں بزرگ کی کتابیں اس لیے نہیں پڑھتے کہ پھر اپنی اصلاح کی فکر ہو جاتی ہے۔ الفاظ بالکل یہی الفاظ: "اپنی اصلاح کی فکر ہو جاتی ہے۔" یعنی اپنی اصلاح کے دشمن ہو گئے ہیں۔ خدا کے بندو! کہاں جا رہے ہو؟ یہ کون سی تبلیغ ہے جس میں آپ اپنی اصلاح سے اتنی زیادہ روگردان ہو گئے ہیں کہ اپنی اصلاح کی فکر کو بھی غلط سمجھنے لگے ہیں!
یہی اصل میں بات ہے جس کی اصلاح بہت ضروری ہے۔ اور یہ اصلاح ہم جیسے لوگ ہی کریں گے، جو جماعت کے ساتھ متعلق لوگ ہیں۔ باقی لوگ باہر سے آ کر نہیں کریں گے۔ باہر والوں کو کیا پتا؟ ان کو کیا پتا کہ جماعت کی عظمت کیا ہے، جماعت کا مقام کیا ہے؟ ان کو تو اس چیز کا پتا نہیں ہے۔ وہ تو مخالفت ہی کریں گے۔ لیکن یہ جو درد ہے وہ صرف ان لوگوں کو ہو گا جن کو جماعت کے ساتھ محبت ہے۔ ہماری جو بزرگوں کی جماعت ہے وہ خدانخواستہ اگر یہ غلط لائن پہ چل گئی ہے پھر اس کا کون کیا کرے گا؟ اور یہ بات بالکل ذہن میں نہیں آنی چاہیے کہ جماعت غلط طرف نہیں جا سکتی۔
عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے کس طرف چلے گئے؟ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ محبت کرنے والے کدھر چلے گئے؟ مہدی سوڈانی کے لوگ کدھر چلے گئے؟ سارے اس طرح ہوتے ہیں، مطلب ابتدا بڑی اچھی ہوتی ہے۔ اور اگر خیال نہ رکھا جائے تو بہت دور جا سکتے ہیں۔ یہ ساری باتیں اپنی جگہ اہم ہیں۔ اصلاح کی بہت ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سوچنے کی توفیق عطا فرما دے۔
بہرحال یہ جو میں آپ سے عرض کر رہا ہوں، حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، انہوں نے جو بات ارشاد فرمائی کہ انبیاء کرام چونکہ ان کی تشکیل ہو چکی ہوتی ہے، وہ براہ راست وحی کے مخاطب ہوتے ہیں اور ان کی یہ جو وحی ہے، وحی ان کے لیے وہ شریعت ہے۔ لہٰذا اس کے اوپر ان کا چلنا، باقی کاموں کے، وہ تو وہی ہے۔ ان کے لیے جیسے نماز ہے اس طرح تبلیغ بھی ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے براہ راست ان کو حکم ہے۔ ہم لوگ اپنے آپ کو بچائیں گے پہلے۔
مجھے آپ بتائیں، جہاز میں جب آپ بیٹھتے ہیں، کچھ ہدایات وہ بتاتے ہیں۔ ان ہدایات میں ایک یہ بھی ہے کہ اگر خراب حالت پیدا ہو جائے، مطلب آکسیجن کم ہو جائے جہاز کی فضا میں، تو آپ کے سامنے ماسک خود گر جائے گا۔ آکسیجن کا ماسک۔ اگر کسی کے ساتھ کوئی infant یا چھوٹے بچے ہیں، یہ جو حضرات جانتے ہیں وہ ان کو یاد آیا ہو گا۔ اگر کسی کے پاس infants یا چھوٹے بچے ہیں، پہلے اپنے آپ کو ماسک لگائیں پھر اس کے بعد بچے کو لگائیں۔ مجھے بتاؤ یہ کیا چیز ہے اس میں؟ پہلے اپنے آپ کو لگاؤ، پھر اس کے بعد اس کو لگاؤ۔ حالانکہ بچے کا حق زیادہ ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ خدانخواستہ آپ نے بچے کو لگایا، اسی دوران آپ خود بےہوش ہو گئے۔ تو بچہ بھی گیا آپ بھی گئے۔ تو اگر آپ اپنے آپ کو لگا رہے ہیں تو چانس تو ہے نا، fifty percent چانس تو ہے کہ بچ جائیں گے۔ آپ بھی، بچہ بھی بچ جائے گا۔ کیونکہ بچے کے لیے آپ care کر رہے ہیں، بچہ خود اپنی care تو نہیں کر سکتا۔ تو یہ ہر چیز کے اندر حکمت ہوتی ہے۔ تو یہاں پر بھی حضرت نے یہ بات فرمائی۔
تشریحی نوٹس
(الف) گزشتہ ہفتے کی تشریح — مختصر فہم
حضرت نے پچھلے ہفتے کی وہ تشریح سنوائی جو پہلے شیئر ہو چکی ہے۔ اس میں اسی مکتوب کے مضمون، یعنی وحدت الوجود اور وحدت الشہود کو نماز اور قرآن پاک سے آسان انداز میں سمجھایا گیا تھا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے:
ساری بنیاد نماز میں ہے: ثنا کا اختتام "وَلَا اِلٰهَ غَيْرُكَ" پر ہوتا ہے، سورۂ فاتحہ کی ابتدائی آیات اللہ پاک کی شان بیان کرتی ہیں، اور رکوع و سجدے کی تسبیحات میں اُس کی پاکی، ربوبیت، عظمت اور بلندی کا اقرار ہے۔
فنا اور بقا: فنا یہ ہے کہ انسان سب چیزوں سے ہٹ کر، یہاں تک کہ اپنے آپ کو بھی بھول کر، بس اللہ کا ہو جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ بقا عطا فرما کر اسے مخلوق میں واپس بھیجتے ہیں، جسے نزول کہتے ہیں۔ جس کا عروج جتنا زیادہ ہو، اس کا نزول بھی اتنا ہی زیادہ نیچے ہوتا ہے، اور سب سے زیادہ نزول آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تھا۔ اسی لیے معراج میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے "اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا" فرما کر گنہگاروں کے بارے میں فرمایا کہ یہ جیسے بھی ہیں، میرے ہیں — یہی بقا ہے۔ اور نماز میں التحیات پڑھتے ہوئے ہم اسی کلام کو دہراتے ہیں۔
شہود: سورۂ آل عمران (آیات 190، 191) میں عقل والوں کا قول ﴿رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا﴾ یہی شہود ہے کہ خالق اللہ ہے، اور اُس کی پیدا کی ہوئی مخلوق بھی حق ہے، باطل نہیں، یعنی موجود ہے؛ کیونکہ عدم پر اللہ تعالیٰ کی تجلیِ وجودی پڑنے سے وہ وجود میں آئی ہے۔
حاصل: فنا کی حالت میں اگر اللہ پاک کی محبت و عظمت کا ایسا غلبہ ہو کہ انسان کو صرف اللہ ہی موجود نظر آئے اور وہ اپنے آپ کو بھی کچھ نہ سمجھے، تو یہ وحدت الوجود کی ایک وقتی کیفیت اور حال ہے۔ جب اللہ تعالیٰ بقا عطا فرماتے ہیں تو مخلوقات کا علم واپس آ جاتا ہے، اسی کو وحدت الشہود کہتے ہیں۔ نیز وحدت الوجود کی کیفیت سے گزرے بغیر بھی، اگر کیفیتِ حضوری حاصل ہو جائے تو اس سے بھی فنا حاصل ہو سکتی ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━━
(ب) آج کی مزید تشریح
فنا اور بقا — ذکر کی روشنی میں
اس کے بعد حضرت نے فنا کی مزید تشریح فرمائی کہ جب انسان ذکر کرتا ہے:
لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ
تو وہ دل سے غیر اللہ کو نکالتا چلا جاتا ہے، نکالتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ غیر اللہ بالکل نکل جاتا ہے اور دل میں بس اللہ رہ جاتا ہے۔ حضرت نے فرمایا: یہی کیفیت فنا ہے۔ پھر اللہ پاک اسے قبول فرما لیتے ہیں کہ یہ تو میرا ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ مخلوق میں لوٹاتے ہیں کہ جاؤ، اب باقی مخلوق کی اللہ کی طرف رہنمائی کرو۔ اب وہ رہتا تو مخلوق میں ہے، لیکن ہوتا اللہ کے لیے ہے — اسی کو بقا کہتے ہیں۔
نماز میں کیفیتِ حضوری
اسے نماز سے سمجھیں: ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے، لیکن اس کے دل کے خیالات بس اِدھر اُدھر بھٹک رہے ہیں؛ جبکہ دوسرے شخص کے دل کی کامل توجہ نماز میں اللہ پاک کی طرف ہے — تو اُس کی نماز کیسی نماز ہو گی!
نماز میں جب ہم تکبیرِ تحریمہ کہتے ہیں تو دنیا کی ہر چیز کو پیچھے ڈال کر صرف اللہ پاک کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں، پھر ہر رکن اللہ کے لیے ادا کرتے ہیں۔ یہ کیفیت جتنی کامل ہو گی، ہماری نماز اتنی ہی اللہ کے لیے ہو گی۔
جماعت کی نماز میں تو سارے ارکان جماعت کے ساتھ ادا ہوتے ہیں، لیکن اس کیفیت کے لیے تہجد کی نماز بہت ہی بہترین ہے؛ تہجد اسی کیفیت کے ساتھ پڑھیں۔ پھر کیفیتِ حضوری میں جتنی جتنی ترقی ہو گی، انسان اسی قدر فنا حاصل کرتا جائے گا۔
دعوت و تبلیغ اور اصلاحِ نفس
دوسری بات یہ آئی کہ تبلیغ میں بھی یہی معاملہ ہے کہ انسان مخلوق میں اپنے نفس کے لیے متوجہ ہے یا اللہ کے لیے۔ تبلیغ میں مشائخ بھی ہوتے ہیں، لیکن اکثر عام تبلیغی حضرات کسی شیخ سے جڑے ہوئے نہیں ہوتے، اس لیے جن کا مشائخ سے تعلق نہیں، ان میں نفس کے یہ مسائل ہوتے ہیں۔
لہٰذا انہیں چاہیے کہ پہلے کسی شیخ کامل سے رابطہ کریں تاکہ اللہ سے ان کا تعلق مضبوط ہو، پھر تبلیغ میں وقت لگائیں؛ ورنہ یہ کام اللہ کے لیے نہیں، اپنے نفس کے لیے ہو گا۔ پھر وہ دوسروں کے دینی کام کو تنقیص کی نظر سے دیکھیں گے کہ ہمارا کام سب سے اعلیٰ ہے اور دوسرے جو کر رہے ہیں وہ کچھ بھی نہیں — یہ کبر ہے۔
تبلیغ میں کچھ ایسے بھی ہیں جو دوسروں کو مشائخ کے پاس جانے سے روکتے ہیں کہ کہیں یہ تبلیغ سے ہی نہ رہ جائیں؛ حالانکہ جو ہمارے پاس آتا ہے، وہ اللہ کے لیے آتا ہے، ہمارے لیے نہیں آتا۔
دین کے سب شعبے دین ہی ہیں
کوئی شخص پہلے شیخ سے اپنی اصلاح کروا لے، پھر بے شک جس دینی شعبے سے اس کی مناسبت ہو، اس میں کام کرے۔ دینی سیاست بھی دین کا شعبہ ہے؛ اسی طرح مدارس ہیں، خانقاہ ہے، جہاد ہے اور تبلیغ بھی — یہ سب دین کے شعبے ہیں، ان میں سے کسی کو بھی کم نہیں سمجھنا چاہیے۔ جو یہ کہے کہ بس میرا ہی کام ٹھیک ہے اور باقی لوگ کچھ نہیں کر رہے، تو یہ کبر ہے۔ اور یہ کبر کیسے نکلے گا، ظاہر ہے کسی شیخ کامل کے ہاتھوں اپنے نفس کی اصلاح کروانے سے ہی ختم ہوگا۔
اس لیے پہلے کسی صحیح شیخ سے اپنا رابطہ کریں اور اپنے نفس کی اصلاح کروائیں، تو ماشاءاللہ بالکل ٹھیک ہے؛ پھر جس شعبے میں چاہیں، کام کریں۔
ایک سوال: نمازوں کی اصلاح
سوال: ایک ساتھی نے عرض کیا: حضرت! کیفیتِ حضوری اور فنا حاصل کرنے کے لیے پھر تو اپنی نمازوں کو بنانا پڑے گا، ان پر محنت کرنی پڑے گی؟
جواب: حضرت نے فرمایا: بالکل!
سب سے پہلے نماز کے شرعی مسائل کا علم حاصل کریں تاکہ نماز ٹھیک طریقے سے ادا ہو۔ مسائل کا مطلب یہ کہ مثلاً ایک رکعت میں دو سجدے ہیں، آپ ان میں کمی بیشی نہیں کر سکتے، ورنہ وہ نماز ہی نہیں ہو گی۔
اس کے بعد یہ کہ نماز میں ہے کیا؟ وہ ذکر ہے۔ دل کا ذکر میں مشغول ہونا خشوع کہلاتا ہے۔ جیسے ہم ہر رکن میں "اللہ اکبر" کہہ کر اللہ پاک کی تکبیر بیان کرتے ہیں، اور اس کے علاوہ تسبیح کرتے ہیں، جیسے "سُبْحَانَ رَبِّيَ الْاَعْلٰى"۔ تو اگر نماز میں آپ کا دل کثرت میں لگا ہوا نہیں، صرف ایک اللہ کی طرف ہے، تو یہی خشوع، فنا ہے۔
اصل میں راستہ یہی ہے: نماز کے مسائل سے لے کر خشوع تک پہنچنا — مسائل بھی معلوم ہوں اور نماز کے اندر دل کا ذکر بھی ہو۔ ایسا نہ ہو کہ زبان سے تو اللہ اللہ کہہ رہے ہیں، مگر نظر اِدھر اُدھر گھوم رہی ہے اور چیزوں میں مشغول ہے؛ تو ذکر زبان پر تو ہے، دل میں نہیں۔
آپ نے یہی تو پوچھا ہے نا کہ نمازوں کو ٹھیک کرنا مشکل ہے؟ تو ٹھیک کریں — یہی تو کرنا ہے!
اختتامی بات
حضرت نے فرمایا: الحمدللہ! آج کل ان مضامین کی جو تشریحات بیان ہو رہی ہیں، وہ بہت آسان انداز میں زبان پر آ رہی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ توحیدِ وجودی اور توحیدِ شہودی جیسی باتیں لوگوں کو آسان انداز میں سمجھانی چاہئیں۔
جب میں بیماری سے صحت کی طرف آیا تو میری زبان پر صرف "اللہ اللہ" ہی کے الفاظ تھے۔ اُس وقت میں یہاں خانقاہ میں لوگوں کو یہی نماز سمجھاتا تھا جو دیوار پر پوسٹر کی صورت میں لکھی ہوئی ہے۔
اصل میں تصوف یہی ہے؛ تصوف اور کچھ نہیں، بس یہی ہے کہ میری یہ سب چیزیں ٹھیک ہو جائیں۔