اتباعِ وحی بمقابلہ وہم و گمان: عقل کا دائرہ کار اور حلال و حرام کا حقیقی معیار

درس نمبر 268، سورۃ الانعام، آیات: 111 تا 121، اشاعتِ اول: 27 اور 28 اگست، 2022، بمطابق 28 اور 29 محرم الحرام، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

حق کے طالب کے لیے ایک اشارہ بھی کافی ہوتا ہے جبکہ نہ ماننے والے محض حیلے بہانے تراشتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ انسان کو زبردستی ایمان پر مجبور نہیں کرتا بلکہ مقصدِ امتحان کے تحت دونوں راستے واضح فرما دیتا ہے۔

شیاطین اور ان کے چیلے کمزور ایمان والوں کو گمراہ کرنے کے لیے چکنی چپڑی باتیں سکھاتے رہتے ہیں۔

اہل کتاب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو بخوبی جانتے تھے مگر انہوں نے عناد اور حسد سے انکار کیا۔

دنیا میں انسانوں کی اکثریت گمراہی پر ہے جس کے خیالی گمان مذہب کے معاملات میں ہرگز معتبر نہیں ہیں۔

انسانی عقل کا صحیح دائرہ کار کائنات میں غور و فکر اور تفہیمِ وحی ہے، واضح احکام میں اجتہاد نہیں۔

حلال و حرام کا دارومدار صرف اللہ کے قطعی حکم پر ہے، اشیاء کی ظاہری صفائی یا عقل پر نہیں۔

اضطراری حالت میں حرام چیز بھی بقدرِ ضرورت استعمال کرنے کی رخصت دی گئی ہے۔

مؤمن کا فریضہ اللہ کے احکام کی بلا چون و چرا اطاعت کرنا ہے، خواہ حکمت سمجھ آئے یا نہ آئے

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰـكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ (111) وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا ؕ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ (112) وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْـٕدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ (113) اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ (114)۔

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔

ترجمہ: اور اگر بالفرض ہم ان کے پاس فرشتے بھیج دیتے، اور مردے ان سے باتیں کرنے لگتے، اور (ان کی مانگی ہوئی) ہر چیز ہم کھلی آنکھوں ان کے سامنے لاکر رکھ دیتے، تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں تھے، الاّ یہ کہ اللہ ہی چاہتا (کہ انہیں زبردستی ایمان پر مجبور کردے تو بات دوسری تھی، مگر ایسا ایمان نہ مطلوب ہے نہ معتبر۔)

یہاں پر، فرمایا گیا کہ

حاشیہ: یہ وہ باتیں ہیں جن کی وہ فرمائش کیا کرتے تھے۔ سورۂ فرقان (آیت نمبر 21) میں ان کا یہ مطالبہ مذکور ہے کہ ہمارے اُوپر فرشتے کیوں نازل نہیں کئے گئے؟ اور سورۂ دخان (آیت نمبر 36) میں یہ مطالبہ کہ ہمارے باپ دادوں کو زندہ کرکے ہمارے سامنے لاؤ۔

اصل میں، واقعتاً جب کسی نے کوئی کام کرنا ہوتا ہے یا طالب ہوتا ہے نا۔ تو وہ تلاش میں ہوتا ہے کہ مجھے پتا چل جائے۔ تو میں اس کے مطابق، تو اس کے لیے ایک اشارہ بھی کافی ہوتا ہے۔ لیکن جو طالب نہیں ہوتے۔ تو پھر وہ ادھر ادھر کی باتیں کرتے ہیں۔ صرف بات کو بڑھانے کے لیے۔ ماننا اس نے نہیں ہوتا۔ یہ آج کل بھی یہ چیز چلی آ رہی ہے۔ مثلاً مناظروں میں یہ چیز بہت زیادہ دیکھی جاتی ہے۔ کہ اگر ایک بات کا جواب دے دیا جائے تو اس میں پھر کوئی درمیان میں چیز نکالی جاتی ہے۔ تو یہ صرف اور صرف یعنی ٹالنے والی بات ہوتی ہے۔ تو اللہ جل شانہٗ نے اصول بیان فرما دیا۔ کہ اگر یہ ساری باتیں جو مطلب ہے کہ جو یہ مانگتے ہیں ان کا ہم اس طرح ہی کر دیتے جس طرح یہ چاہتے ہیں۔ تو پھر بھی ایمان لانے والے نہیں تھے کیونکہ اللہ کے علم میں تھا کہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ ہاں اگر اللہ پاک ان کو مجبور کرنا چاہتے تو پھر یہ کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے، پھر ان کو وہی کر، لیکن اللہ پاک کا یہ قانون نہیں ہے۔ اللہ پاک مجبور نہیں فرماتے، یہاں پر صرف یعنی دونوں باتیں سامنے رکھ لیتے ہیں، یہ صحیح ہے، یہ غلط ہے، یہ اچھا ہے، یہ برا ہے۔ یہ کرو یا نہ کرو، بس۔ اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ وہ نہیں کرتے، بس وہ بتا دیتے ہیں کہ یہ کام کیسا ہے، جیسے کفر کیا ہے، ایمان کیا ہے۔ کفر پر کیا ہوگا، ایمان پر کیا ہوگا۔ ایمان لے آؤ، کفر سے مطلب عذاب سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ اعمال میں بھی ایسی بات ہوتی ہے۔ تو اس وجہ سے جو لوگ کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے بات کافی ہوتی ہے جیسے صحابہ کرام جب ایمان لائے تھے۔ تو اس کے بعد پھر ان کا کام کیا ہوتا تھا اٰمَنَّا وَصَدَّقْنَا، اور جب سن لیتے سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا، اس کے علاوہ کوئی اور بات نہیں ہوتی تھی بس سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا والی بات ہوتی تھی۔ تو جو لوگ اس طرح ہوتے ہیں وہ تو پھر یہی کرتے ہیں۔ لیکن اگر ایسا نہیں کرتے، تو پھر وہ درمیان میں مطلب یہ دے، تو اگر وہ پورا ہو جائے کہتے ہیں اچھا اب یہ کر دو۔ پھر اگر وہ پورا ہو جائے کہتے ہیں اب یہ کر دو۔ تو یہ طریقہ جو ہوتا ہے نا وہ اپنے آپ کو نقصان دینے والا ہوتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ

ترجمہ: لیکن ان میں سے اکثر لوگ جہالت کی باتیں کرتے ہیں۔ ﴿111﴾

تو ظاہر ہے جہالت تو پھر ہے۔

حاشیہ: یعنی حقیقت تو یہ ہے کہ تمام معجزات دیکھ کر بھی یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ پھر بھی جو مطالبات کررہے ہیں، وہ محض جہالت پر مبنی ہیں۔

ترجمہ: اور (جس طرح یہ لوگ ہمارے نبی سے دُشمنی کررہے ہیں) اسی طرح ہم نے ہر (پچھلے) نبی کے لئے کوئی نہ کوئی دُشمن پیدا کیا تھا، یعنی انسانوں اور جنات میں سے شیطان قسم کے لوگ، جو دھوکا دینے کی خاطر ایک دوسرے کو بڑی چکنی چپڑی باتیں سکھاتے رہتے تھے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کرسکتے۔

حاشیہ: یہاں پھر وہی بات فرمائی جارہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو شیاطین کو یہ قدرت نہ دیتا، اور لوگوں کو زبردستی ایمان پر مجبور کردیتا، لیکن چونکہ مقصد امتحان ہے، اس لئے زبردستی کا ایمان معتبر نہیں۔

ترجمہ: لہٰذا ان کو اپنی افترا پردازیوں میں پڑا رہنے دو ﴿112﴾ اور (وہ انبیاء کے دُشمن چکنی چپڑی باتیں اس لئے بناتے تھے) تاکہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اُن کے دل ان باتوں کی طرف خوب مائل ہوجائیں، اور وہ ان میں مگن رہیں، اور ساری وہ حرکتیں کریں جو وہ کرنے والے تھے ﴿113﴾

یعنی انسان یہ ہے کہ چونکہ اس کو اختیار ہے دونوں طرح کی باتوں کا، تو جو مطلب شیاطین ہیں انہوں نے تو چونکہ کہا ہے کہ ہم دائیں طرف سے آئیں گے، بائیں طرف سے آئیں گے، آگے سے، پیچھے سے، تجھ تک نہیں پہنچنے دیں گے۔ تو یہ تو شیطان کا کام ہے، تو شیاطین وسوسے ڈالنے کے بڑے ماہر ہوتے ہیں۔ اور جو شیاطین کے چیلے ہوتے ہیں وہ بھی چکنی چپڑی باتیں بنانے کے بڑے ماہر ہوتے ہیں، وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جس سے جو عام لوگ ہیں وہ اگر غور نہ کریں تو پھسل سکتے ہیں۔ تو یہ اصل میں امتحان ہے،کہ ان میں غور کرنا چاہیے، حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے، اپنے آپ کو بچانا چاہیے، اچھے لوگوں کے ساتھ ہونا چاہیے تاکہ بروقت وہ اس قسم کی چیزوں سے بچ سکیں۔ اور جو شیاطین کو وسوسے کا اختیار دیا گیا ہے وہ صرف امتحان کے لیے ہے۔

ترجمہ: (اے پیغمبر! ان لوگوں سے کہو کہ:) ’’کیا میں اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو فیصل بناؤں، حالانکہ اُسی نے تمہاری طرف یہ کتاب نازل کرکے بھیجی ہے جس میں سارے (متنازعہ) معاملات کی تفصیل موجود ہے؟‘‘ اور جن لوگوں کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ یقین سے جانتے ہیں کہ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق لے کر نازل ہوئی ہے۔ لہٰذا تم شک کرنے والوں میں ہرگز شامل نہ ہونا ﴿114﴾

یہ اصل میں جو لوگ اہل کتاب تھے تو ان کو پہلے سے اس بات کا علم تھا کہ یہ جو کتاب ہے یہ حق ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو اس چیز کا پتا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی، لیکن صرف اور صرف عناد اور حسد اور کینے کی وجہ سے ان لوگوں نے انکار کر دیا۔ اور باقی لوگوں نے جہالت کی وجہ سے۔ تو جو لوگ جاہل نہیں تھے اور جو لوگ حاسد نہیں تھے تو ان کے اوپر جب حق کی بات پیش کی جاتی تو جب غور کرتے تو ان کو پتا چل جاتا تھا۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کو ایسے شیاطین کے شر سے محفوظ رکھے، اور حق کا متلاشی رکھے، اور حق تک ہمیں پہنچائے اور اسی پر قائم رکھے۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کو اپنا تعلق خاص نصیب فرمائے۔

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (115) وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ (116) اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖ ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ (117) فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ (118) وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآىٕهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ (119) وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ (120) وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓـٕهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ (121)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.

ترجمہ: اور تمہارے ربّ کا کلام سچائی اور انصاف میں کامل ہے۔ اُس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ وہ ہر بات سننے والا، ہر بات جاننے والا ہے ﴿115﴾ اور اگر تم زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کے پیچھے چلوگے تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے گمراہ کر ڈالیں گے۔ وہ تو وہم و گمان کے سوا کسی چیز کے پیچھے نہیں چلتے، اور اُن کا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ خیالی اندازے لگاتے رہیں ﴿116﴾ یقین رکھو کہ تمہارا ربّ خوب جانتا ہے کہ کون اپنے راستے سے بھٹک رہا ہے، اور وہی ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو صحیح راستے پر ہیں ﴿117﴾ چنانچہ ہر اُس (حلال) جانور میں سے کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، اگر تم واقعی اُس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو۔ ﴿118﴾

یہاں پر ایک بات آئی ہے کہ اگر تم

ترجمہ: اکثریت کے پیچھے چلوگے تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے گمراہ کر ڈالیں گے۔

تو اس سے پتہ چلا کہ اکثریت جو ہے گمراہی پر ہے۔ مطلب جو اکثریت ہے وہ گمراہی پر ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ان کا جو نظام ہے اکثریت کا، وہ وحی پر نہیں بنیاد اس کی۔ اس کی بنیاد وہم و گمان پر ہے۔ جیسے ہم لوگ بعض لوگ بات چیت میں کہتے ہیں کہ میرے خیال میں ایسا ہونا چاہیے مذہب کی باتوں میں۔ تو یہ خیال کا مطلب ہے ظاہر ہے گمان۔ تو یہ گمان والی باتیں نہیں چلتیں مذہب میں۔ اس میں وحی کی بات چلتی ہے۔ یعنی وحی ہو تو اس کے اوپر بات کرتے ہیں۔ ہاں البتہ وحی نے جس چیز کو سوچنے کے لیے پیش کیا ہو، جیسے لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ یا اس قسم کی جو آیتیں ہیں مطلب اس میں آتا ہے کہ تاکہ تم عقل سے کام لو۔ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ، یہ آیتِ کریمہ بھی بتا رہی ہے کہ انسان کی جو عقل ہے اللہ پاک نے جو دی ہوئی ہے اس کے ذریعے سے سوچے، اور غور کرے ان چیزوں کے اندر۔ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے ذریعے سے اللہ، قدرتوں کی پہچان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ یہ مطلب گویا ہے کہ عقل کا صحیح ڈومین ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ انسان جو ہے وہ وحی کو سمجھنے کی کوشش کرنے میں عقل سے کام لے۔ یعنی عقل سے کام لینے سے مراد یہ ہے کہ جیسے مختلف بزرگوں، مختلف علمائے کرام نے کام وہ بات کی ہو، ان کے اندر غور کر لے راجح مرجوح۔ اور یہ ہے کہ اس طریقے سے جو ترتیب ہے اور راویوں کی مختلف اس کے اندر انسان جو عقلی بصیرت ہے جس کو فقاہت کہتے ہیں، اس سے کام لے کر وہ پھر بات کرتے ہیں اجتہاد کر سکتے ہیں جس چیز میں اجتہاد کی گنجائش ہو۔ تو وہاں پر بھی عقل کی بات چلتی ہے۔ لیکن، لیکن جس چیز کے بارے میں واضح اللہ پاک نے فرمایا ہو کسی چیز کے بارے میں، تو وہاں عقلی گھوڑے نہیں دوڑائے جاتے۔ وہاں پر انسان کو وہ بات دیکھنی ہے جو اللہ نے بتائی ہے، اللہ کے رسول نے بتائی ہے۔ صحابہ کرام کا طریقہ کیا تھا دیکھیں؟ صحابہ کرام کا طریقہ یہ تھا کہ جب کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے کچھ پوچھتے تو یہ جواب دیتے اللہ اور اللہ کا رسول بہتر جانتا ہے۔ یا جو بات وہ سمجھتے ہوں گے تو ان کو بتا دیتے۔ لیکن یہ ہے کہ زیادہ تر یہی بات کہتے ہیں کہ واللہ و رسولہ اعلم، اللہ اور رسول کو پتہ ہے۔ ان کو زیادہ پتہ ہے۔ تو وہ چونکہ یعنی وحی سے استفادہ کرنا چاہتے تھے لہٰذا ہر چیز میں ان کی کوشش ہوتی کہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بتائیں تو اس پر ہم عمل کر لیں۔ تو یہاں پر یہ والی بات ہے کہ وحی کی بات بالکل سامنے ہو گئی کہتا ہے ہاں یہ تو ٹھیک ہے لیکن یہ لیکن میں سارا گڑبڑ کر لیں گے۔ نہیں، یہ لیکن ویکن نہیں چلتا، جب وہ بات ٹھیک ہے تو پھر لیکن کدھر گیا؟ یہ باتیں۔ تو صحیح طور پہ لینا پڑتا ہے۔ تو یہ والی بات رہی کہ

ترجمہ: یقین رکھو کہ تمہارا ربّ خوب جانتا ہے کہ کون اپنے راستے سے بھٹک رہا ہے، اور وہی ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو صحیح راستے پر ہیں ﴿117﴾ چنانچہ ہر اُس (حلال) جانور میں سے کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، اگر تم واقعی اُس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو۔﴿118﴾

اب یہاں اگر کوئی عقل سے، دنیاوی عقل سے کام لے، تو کہتے ہیں بھئی اللہ کا نام اگر لیا گیا ہے تو اس سے گوشت میں کیا تبدیلی آ گئی؟ مطلب اگر وہ مطلب یہ کہتے ہیں کوئی analysis وہ کرتے ہیں، بھئی گوشت اللہ کا نام اگر نہیں لیا گوشت تو وہی ہے، تو اس میں کیا تبدیلی آ گئی؟ تو وہاں پر اس کو بتایا جائے گا کہ یہ خراب اور صحیح، گندا اور پاک ان چیزوں پہ ہم نہیں جاتے۔ کہتے ہیں حلال اور حرام، حلال اور حرام کا تعلق اللہ کے حکم سے ہے۔ حلال اور حرام کا تعلق کس چیز کے ساتھ ہے؟ اللہ کے حکم کے ساتھ ہے۔ اللہ پاک کا حکم جس چیز کا حلال کا ہو گا وہ حلال ہو گا، جس چیز کے حرام کا ہو گا حرام کا ہو گا، یہ انسان کی عقل کی باتیں نہیں ہیں۔ یہ بات صحیح نہیں ہے۔ باقی عام باتوں میں آپ صحیح اور غلط کی باتیں کر سکتے ہو، صاف اور گندے کی بات کر سکتے ہو۔ وہ تمہاری اپنی analysis ہے ان چیزوں کے بارے میں جن کا تعلق حلال اور حرام کے ساتھ نہیں ہے۔ اس میں بات کر سکتے ہو۔ یعنی ایک بالکل ایک چیز صاف ہو گی، لیکن وہ حرام ہو گی۔ اب سور کا گوشت آپ کتنی ہی دفعہ دھو لیں، تو اس سے کیا وہ پاک ہو جائے گا؟ اس کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ لہٰذا اس کو جو شراب کو آپ کس طریقے سے خوبصورت سے خوبصورت برتن میں، صاف سے صاف برتن میں ڈالیں تو کیا پاک ہو جائے گا؟ حلال ہو جائے گا؟ تو نہیں مطلب وہ نہیں ہو سکتا۔ مطلب وہاں پر یہ والی باتیں نہیں ہیں۔ وہاں پر حکم ہے اللہ کا۔ تو جو اللہ کا حکم ہے اس کو ماننا پڑے گا، اس کے اندر کوئی اور ادھر ادھر ہیچ پیچ نہیں کرنی۔

ترجمہ: اور تمہارے لئے کونسی رکاوٹ ہے جس کی بنا پر تم اُس جانور میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لے لیا گیا ہو؟ حالانکہ اُس نے وہ چیزیں تمہیں تفصیل سے بتادی ہیں جو اُس نے تمہارے لئے (عام حالات میں) حرام قرار دی ہیں، البتہ جن کو کھانے پر تم بالکل مجبور ہی ہوجاؤ، (تو ان حرام چیزوں کی بھی بقدرِ ضرورت اجازت ہوجاتی ہے) اور بہت سے لوگ کسی علم کی بنیاد پر نہیں، (بلکہ صرف) اپنی خواہشات کی بنیاد پر دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں۔ بلاشبہ تمہارا ربّ حد سے گزرنے والوں کو خوب جانتا ہے ﴿119﴾

اب یہاں پر یہ والی بات آ گئی کہ انسان کی اپنی جان کی حفاظت کتنی اہم ہے کہ اگر انسان کو خطرہ ہو کہ بس مطلب یہ فاقے کی وجہ سے میں مر جاؤں گا قوۃ لا یموت والی بات ہو جائے۔ اس صورت میں پھر ان کو حرام سے بھی بقدرِ ضرورت لینے کی گنجائش آ جائے گی۔ اس کے اوپر گرفت نہیں ہو گی۔ لیکن اس کو مزے لے کے نہ کھائے بلکہ ضرورتاً کھا لے، جیسے کوئی دوائی کھاتا ہے کوئی اس طرح کھاتا ہے۔ تو اس قسم کی بات ہوتی ہے۔ جیسے تو بہرحال یہی والی بات ہے کہ ضرورت والی بات ہو۔ تو یہ بات ہے کہ یہاں پر یہ فرماتے ہیں کہ

حاشیہ: پیچھے اُن لوگوں کا ذکر تھا جو محض خیالی اندازوں پر اپنے دین کی بنیاد رکھے ہوئے ہیں۔ اُن کی اس گمراہی کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے، اُس کو یہ حرام کہتے تھے، اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حرام کہا ہے، اُسے یہ حلال سمجھتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ کچھ کافروں نے مسلمانوں پر یہ اعتراض کیا کہ جس جانور کو اللہ تعالیٰ قتل کرے،

دیکھو نا یہ، یہ لاجیک، عقل والی بات۔

حاشیہ: جس جانور کو اللہ تعالیٰ قتل کرے، یعنی وہ اپنی طبعی موت مرجائے، اُس کو تو تم مردار قرار دے کر حرام سمجھتے ہو، اور جس جانور کو تم خود اپنے ہاتھوں سے قتل کرتے ہو، اُس کو حلال قرار دیتے ہو۔

یعنی یہ، مطلب ہے، ان لوگوں نے بھی… تو جواب کیا ہے؟

حاشیہ: اِس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حلال و حرام کا فیصلہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے۔ اُس نے واضح فرمادیا ہے کہ جس جانور پر اللہ کا نام لے کر اُسے ذبح کیا جائے وہ حلال ہوتا ہے، اور جو ذبح کئے بغیر مرجائے یا جسے ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو وہ حرام ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے بعد اپنے من گھڑت خیالات کی بنا پر حلال و حرام کا فیصلہ کرنا ایسے شخص کا کام نہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان رکھتا ہو۔ یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ کفار کی مذکورہ اعتراض کے جواب میں یہ مصلحت بھی بتائی جاسکتی تھی کہ جس جانور کو باقاعدہ ذبح کیا جاتا ہے اُس کا خون اچھی طرح بہہ جاتا ہے، اِس کے برخلاف جو جانور خود مرجاتا ہے، اُس کا خون جسم ہی میں رہ جاتا ہے جس سے پورا گوشت خراب ہوجاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ حکمت بیان فرمانے کے بجائے یہ کہنے پر اکتفا فرمایا کہ جو چیزیں حرام ہیں وہ اللہ نے خود بیان فرمادی ہیں، لہٰذا اُس کے احکام کے مقابلے میں خیالی گھوڑے دوڑانا مؤمن کا کام نہیں۔

یہ ٹریفک کے قوانین ہیں۔ کوئی ٹریفک کی خلاف ورزی کر لے، اس کو پکڑ لیا جائے۔ وہ کہتا ہے نہیں نہیں یہ زیادہ بہتر ہے، دیکھو میں جو بتاتا ہوں اس سے یہ فائدہ ہے اس سے یہ فائدہ ہے۔ کہتا ہے اپنے فائدے اپنے پاس رکھو، چالان چالان کر دیں گے۔ پہلے تم یہ بھرو پھر اس کے بعد تجویز بھیج دو۔ تو مطلب ظاہر ہے یہاں کوئی بات سنتا ہے؟ نہیں سنتا۔ مطلب ظاہر ہے مطلب جو قانون ہے اس کے مطابق وہ کرنا پڑتا ہے۔ تو یہاں پر یہ بات ہے کہ قانون کے مقابلے میں جو بات ہوتی ہے ان کو مختصر بتایا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ بحث نہیں کی جاتی۔ بحث تو پارلیمنٹ میں ہو گی۔ وہاں اس کے ساتھ بحث نہیں کی جاتی۔ وہ کہتے ہیں Order is order۔ بس ٹھیک ہے۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ یہاں پر بھی اس قسم کی بات ہے۔ تو اللہ تعالیٰ تو قادرِ مطلق ہے، مالک الملک ہے، اس کے سامنے کون بول سکتا ہے؟ تو جیسے اللہ پاک نے فرما دیا، مطلب کچھ دلائل والی بات نہیں کی۔ فرمایا کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے، بس بات ختم۔

حاشیہ: لہٰذا اُس کے احکام کے مقابلے میں خیالی گھوڑے دوڑانا مؤمن کا کام نہیں۔ اِس طرح یہ واضح فرمادیا کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم میں یقیناً مصلحتیں ہوتی ہیں، لیکن مسلمان کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ اپنی اطاعت کو ان مصلحتوں کے سمجھنے پر موقوف رکھے۔ اُس کا فریضہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم آجائے تو بے چون و چرا اُس کی تعمیل کرے، چاہے اس کی مصلحت اس کی سمجھ میں آرہی ہو یا نہ آرہی ہو۔

تو میرے خیال میں اتنا کافی ہے کیونکہ آگے ذرا بڑا، لمبا مضمون ہے۔ تو اس وجہ سے اس کو فی الحال مؤخر کر لیتے ہیں۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو قرآن پر، قرآن کو سمجھ کر، اس پر صحیح طریقے سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور قبولیت کے ساتھ۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔


اضافی تشریحی نوٹس

آج کے درس میں بہت سی باتیں آئی ہیں، مگر افسوس یہ ہے کہ ہم ان باتوں کو یاد نہیں رکھتے۔ بہت سی باتیں بار بار آتی ہیں، اللہ تعالیٰ خود انہیں بار بار بیان فرماتے ہیں، اس لیے ہم بھی وہی باتیں بار بار بتاتے ہیں، بس لوگوں کی اپنی زبان میں۔ دل، عقل اور نفس کا مضمون بھی انہی میں سے ہے جو کئی بار بیان ہو چکا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ ایک بات بالکل سامنے اور واضح ہو، پھر بھی لوگ کیوں نہیں مانتے؟ وجہ یہ ہے کہ وہ بات نفس کی خواہش کے خلاف ہوتی ہے، اس لیے انسان اڑ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ جو میں نے کہہ دیا بس وہی صحیح ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں بار بار فرماتے ہیں کہ یہ لوگ حق کو جانتے ہیں، مگر نفس کی وجہ سے نہیں مانتے۔ اہلِ کتاب کی مثال خود قرآن میں موجود ہے کہ وہ جانتے تھے، لیکن کبھی حسد اور کبھی عناد آڑے آ گیا؛ یعنی ان کا انکار جہالت کی بنا پر نہیں تھا، بلکہ اس فخر و غرور کی بنا پر تھا کہ ہم تو ایسے ہیں، ہم تو ویسے ہیں۔ آج بھی کتنے لوگ ہیں جو دین کی بات میں کہہ دیتے ہیں کہ ’’میرے خیال میں ایسا ہے‘‘ — حالانکہ وحی کے مقابلے میں تمہارے خیال کی کیا حیثیت ہے، اور تم ہوتے کون ہو یہ کہنے والے!

اسی سلسلے کا ایک واقعہ ہے جو میرے اپنے سامنے پیش آیا۔ ہمارے کالج کے پرنسپل پروفیسر اقبال صاحب تھے، اور کالج ہی میں ایک انگریز پروفیسر میجر ایچ ایم کلوز (Hubert Michael Close) تھے، جو پشاور میں خون کے عطیات جمع کرنے اور بلڈ بینکنگ کے ساتھ ساتھ بہت سے رفاہی کام کرتے تھے۔ غیر مسلم اس طرح کے رفاہی کام کافی کرتے ہیں، اور شیطان انہی کاموں کی بنیاد پر مسلمانوں کے ذہن میں انہیں مسلمانوں سے بہتر ثابت کرتا ہے۔ شیطان کا طریقہ دو رُخا ہوتا ہے: ایک طرف وہ ان لوگوں کو انہی رفاہی کاموں پر مطمئن رکھ کر ایمان کی طرف آنے سے روکتا ہے، اور دوسری طرف مسلمانوں کے سامنے ان کے یہی کام بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ ایسے غیر مسلم اگر مسلمان معاشرے ہی میں موجود ہوں تو معاملہ زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے، کیونکہ مسلمان ان کے حوالے سے بڑی آزمائش میں پڑ جاتے ہیں: کچھ لوگ ان کے ایمان نہ ہونے کی وجہ سے ان کے اچھے کاموں کو بھی تسلیم نہیں کرتے، اور کچھ لوگ ان اچھے کاموں کی وجہ سے ایمان کی اہمیت ہی چھوڑ بیٹھتے ہیں؛ گویا ان کے بارے میں اعتدال پر قائم رہنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ایچ ایم کلوز صاحب کے ساتھ بھی یہی ہوا، یہاں تک کہ اسلامیہ کالج کے ایک پروفیسر صاحب کہا کرتے تھے کہ میں اُس جنت میں نہیں جاؤں گا جس میں ایچ ایم کلوز نہ ہوں۔ ایسی باتیں اپنے ایمان کو خراب کرنے کے مترادف ہیں؛ انسان کو سوچنا چاہیے کہ تم ہو کیا جو دین کے خلاف اس طرح کی باتیں کرتے ہو۔

اسی سے ملتی جلتی ایک اور بات یہ ہے کہ ایک شخص کسی مضمون میں پی ایچ ڈی کر لیتا ہے تو دین کے معاملات میں بھی بے تکان بولنا شروع کر دیتا ہے، ہر معاملے میں رائے دینے لگتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں ہر موضوع پر گفتگو کر سکتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ پی ایچ ڈی ایک مضمون کے انتہائی چھوٹے سے ذیلی موضوع پر تحقیقی کام کا نام ہے۔ علم کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ کسی ایک مخصوص موضوع میں پی ایچ ڈی کر لینے کے بعد بھی انسان اپنے ہی پورے شعبے کا ماہر نہیں بن جاتا۔ اگر کوئی مکینیکل انجینئر ’’گاڑی کے انجن کے پسٹن‘‘ پر تحقیق کر کے پی ایچ ڈی کر لے تو ایک پُرزے کی مہارت پوری انجینئرنگ کی مہارت نہیں بن جاتی۔ اسی طرح کوئی ڈاکٹر ’’آنکھ کے پردے‘‘ (Retina) کی کسی خاص بیماری پر پی ایچ ڈی کر لے تو آنکھ کا ماہر ہونا اسے پورے جسم کا معالج نہیں بنا دیتا؛ وہ دل کی بیماری، ہڈیوں کے فریکچر یا برین سرجری کا علاج نہیں کر سکتا، بلکہ اگر کوئی اس سے بچوں کی کوئی عام بیماری ہی پوچھ لے تو اسے چائلڈ اسپیشلسٹ کے پاس بھیجنا پڑے گا۔ تو پھر انسان خواہ مخواہ اپنے آپ کو کیوں خراب کرے؟

اس سلسلے میں اپنا ایک خواب بھی سنا دوں۔ جب ہم اُس کورس سے فارغ ہوئے جسے ان دنوں CNS کہا جاتا تھا، تو ہمارے دماغ میں یہ بات آ گئی کہ ہم نے بہت بڑا کمال کر لیا ہے، یہ کورس کلیئر کر لیا ہے۔ یہ ہماری غلطی تھی۔ پھر ایک خواب دیکھا جس میں پورا ایک نقشہ دکھایا گیا اور پتا چل گیا کہ ہم کتنے پانی میں ہیں۔ خواب میں دیکھتا ہوں کہ حدِ نگاہ تک میٹھے پانی کا سمندر ہے، کوئی کنارہ نہیں۔ اس کے اوپر ایک پل ہے جس کے پائے بھی پانی کے ہیں، اور ہم اس پر پھر رہے ہیں، تیز بارش ہو رہی ہے اور سب لوگ اسی پر چل رہے ہیں۔ اس پل کے کنارے ایک فٹ × ایک فٹ کی جگہ ہے، اور کوئی مجھے بتاتا ہے کہ یہ CNS ہے۔ جاگا تو سوچا کہ یہ میں نے کون سا خواب دیکھ لیا؛ پھر کچھ ہوش آیا تو تعبیر ذہن میں آ گئی۔ خواب میں میٹھا پانی علم ہے، یعنی علم اتنا وسیع ہے کہ اس کی کوئی حد نہیں؛ اور تیز بارش یہ بتا رہی ہے کہ علم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے — تحقیقات ہو رہی ہیں، ترقیات ہو رہی ہیں، ایجادات ہو رہی ہیں، اور یہ سب بارش کی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں مجھے ایک فٹ × ایک فٹ جگہ دکھا کر بتایا گیا کہ یہ CNS ہے۔ تو اس پورے سمندر کے سامنے اس کی حقیقت کیا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ ہم نے کون سا تیر مار لیا ہے! پھر خیال آیا کہ ایک فٹ × ایک فٹ بھی محض سمجھانے کے لیے دکھایا گیا ہے، ورنہ حقیقت میں اتنا بھی نہیں ہے۔

دوسری بات اس درس میں عقل کے استعمال کی آئی ہے۔ عقل بہت زبردست چیز ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اسے کہاں استعمال کیا جائے؟ اسے نفس کی اصلاح میں استعمال کرو، کیونکہ شیطان دل میں وساوس ڈالتا ہے — جیسا آج کے درس میں آیا: ﴿وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓـٕهِمْ﴾ کہ شیاطین اپنے دوستوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں — لیکن استعمال وہ نفس کو کرتے ہیں۔ اس لیے عقل کو نفس کی تربیت کرانے میں لگاؤ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب بت توڑے اور بڑے بت کو چھوڑ کر اس کے گلے میں کلہاڑی لٹکا دی، اور قوم نے پوچھا تو فرمایا کہ ان کے اس بڑے نے یہ کام کیا ہوگا، اگر یہ بولتے ہیں تو انہی سے پوچھ لو! قرآن مجید میں ہے کہ وہ لوگ اپنے دلوں کی طرف پلٹے، یعنی ان کے ضمیر جاگ اٹھے اور وہ اپنے آپ سے کہنے لگے کہ بیشک تم خود ہی ظالم ہو۔ لیکن اس کے فوراً بعد شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالا اور وہ کہنے لگے: اسے جلا ڈالو اور اپنے خداؤں کی مدد کرو اگر تم نے کچھ کرنا ہے۔

ماشاء اللہ، قرآن پاک کے درس میں یہ ساری باتیں ہمارے لیے سبق آموز صورت میں سامنے آ رہی ہیں۔ جیسا شروع میں عرض کیا گیا کہ حق کے طالب کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے — مسئلہ اگر ہے تو وہ سارا نفس ہی کا ہے۔

اتباعِ وحی بمقابلہ وہم و گمان: عقل کا دائرہ کار اور حلال و حرام کا حقیقی معیار - درسِ قرآن - دوسرا دور