فہمِ کتاب و سنت اور اجتہاد و قیاس کی شرعی حیثیت
باب فی الامر بالمحافظۃ علی السنۃ وآدابھا، درس نمبر: 232، اشاعتِ اول: 13 مارچ، 2023 بمطابق 20 شعبان، 1444 ہجری
تنازعات کے حل کے لیے کتاب و سنت کی طرف رجوع
آیتِ قرآنی سے اجتہاد اور قیاس کا شرعی ثبوت
حدیث اور سنت کے درمیان اصولی فرق
نصوص کے فہم اور استنباط میں فقیہ کا کردار
اجتہادی اختلاف اور اس پر اجر و ثواب کی حیثیت
بے دلیل رائے کی نفی اور اصلِ سنت تک رسائی کی اہمیت
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
﴿فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ﴾ (نساء: 59)
ترجمہ: فرمایا: ”تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں خدا اور اس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو۔“
حاشیہ: علماء نے بیان کیا اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مختلف فیہ امر کو کتاب و سنت سے معلوم کرو۔
یعنی کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو فیصلہ اس پر ہو گا، قرآن اور سنت پر ہو گا۔
حاشیہ: اس کا مطلب یہ ہے کہ کتاب اللہ اور سنت کی طرف رجوع کرنے کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ وہ حکم قرآن یا احادیث میں صاف طور سے موجود ہے۔ دوسرا یہ کہ وہ حکم صاف طور پر موجود نہیں تو پھر اجتہاد اور قیاس کرنا ہوگا۔ اسی وجہ سے بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اس آیت سے اجتہاد اور قیاس کا ثبوت بھی ملتا ہے۔ ”فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ“ یہ جملہ عام ہے یہ دونوں صورتوں کو شامل ہے۔
اس وجہ سے جو بھی کام ہو وہ تو اس طریقے سے کرنا چاہیے اگر وہ دین کا کام ہے، جس طرح اللہ نے بتایا اور جس طرح اللہ کے رسول نے بتایا۔ تو اللہ نے بتایا، اس کے لیے ذریعہ کتاب اللہ ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو بتایا، اس کے لیے ذریعہ احادیث شریفہ ہیں۔ تو یہاں پر کتاب اور سنت کی بات کی گئی ہے، کتاب اور حدیث کی بات نہیں کی گئی۔ یہ بات اس میں ایک بڑی بات ہے۔ کہ سنت جو ہے وہ ہے وہی جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا ہے۔ اور اس کی خبر ہمیں حدیث شریف کے ذریعے سے ملتی ہے۔ تو حدیث شریف اس کی خبر ہے۔ اور اخبار میں پھر فیصلہ جو ہوتا ہے وہ ایک خبر کی معلومات کی جاتی ہے کہ وہ کیسی ہے۔ دوسرا پھر یہ ہے کہ قرائن سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ اس کا مطلب کیا ہو سکتا ہے۔ یعنی اگر یہ بات ایسی ہے اور یہ بات ہے، یہ بات ہے، تو پھر یہ بات اس طرح ہو گی۔ تو اس وجہ سے جو اجتہاد ہے وہ اس میں شامل ہے، یعنی اجتہاد فقیہ کرتا ہے۔ تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی واقعہ ہو گیا، مثلاً کوئی لڑائی ہوئی یا کوئی اس طرح واقعہ ہو گیا۔ تو بہت سارے لوگوں نے دیکھا، اور ان لوگوں نے بیان کر دیا، تو یہ اخبارات ہیں۔ لیکن جج یا قاضی جو فیصلہ کرے گا، وہ ان تمام بیانات کو دیکھ کر پھر غور کرے گا کہ اس سے اصل مطلب کیا نکلتا ہے۔ تو فیصلہ اس پہ کرتا ہے۔ تو اس میں اختلاف کی گنجائش بھی ہے۔ تو اب یہ جو بات آ گئی، یہ اجتہادی بات ہو گئی۔ یعنی گویا کہ اخبارات آ گئے، اور اخبارات پہ فیصلہ جو ہے وہ اجتہادی ہے۔ تو ایسی صورت میں اجتہاد کا اس سے ثابت ہو گیا کیونکہ کتاب اللہ اور سنت۔ تو سنت کو معلوم کرنے کے لیے احادیث شریفہ ہیں، اور پھر اس کے اس فہم میں اختلاف ہو سکتا ہے۔ اگر صحیح فہم ہو گیا تو دو اجر اور اگر صحیح فہم نہیں ہوا، اس کے مقابلے میں ہو گیا، تو پھر ایک اجر ہے۔ تو اس میں ہمارے پاس نظیر آ گئی کہ فیصلہ حدیث پر نہیں ہے، فیصلہ سنت پر ہے۔ اور سنت اصل وہ چیز ہے جو کہ ہو چکی ہو۔ تو بعض حضرات جو مطلب حدیث شریف مراد لیتے ہیں، تو وہ کہتے ہیں بس چونکہ ہم حدیث شریف کی بات کرتے ہیں تو بس وہی، وہی لینا چاہیے۔ تو اس میں سمجھ کی بات آ جاتی ہے، اور سمجھ فقہا کو حاصل ہوتی ہے۔ لہذا وہ جب تمام چیزوں، احادیث شریف کا اندازہ لیتے ہیں، قرآن پاک کا اور تمام ساری چیزوں کا اندازہ لیتے ہیں، پھر اس پر ایک رائے قائم کر لیتے ہیں۔ تو وہ رائے جو ہوتی ہے، وہ اصل میں ایک فقیہ کی رائے ہوتی ہے۔ اور اس میں اگر بالکل وہی ہو جیسے ہوا ہے، تو اس کے مطابق تو اس کو دو اجر ملیں گے، نہیں تو پھر اس کو ایک اجر ملے گا۔ اور اگر ویسے بغیر کسی دلیل کے بات کرے گا، تو پھر وہ ٹھیک نہیں ہے۔ تو اس میں سنت تک پہنچنے کی کوشش لازمی ہے۔ کہ قرآن کی سمجھ تک اور وہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کی سمجھ تک یہ بات آخر لے جانی ہو گی۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔