دعوت کا قرآنی ادب اور منکرین کی ہٹ دھرمی کی حقیقت
درس نمبر 267، سورۃ الانعام، آیات: 108 تا 110، اشاعتِ اول: 26 اگست، 2022، بمطابق 27 محرم الحرام، 1444 ہجری
باطل معبودوں کو بُرا کہنے کی ممانعت اور اس کی حکمت
گمراہی کا خوشنما لگنا اور بارگاہِ الٰہی میں بازپُرس
مطلوبہ معجزات پر ایمان کی جھوٹی قسمیں
نشانیاں ظاہر کرنے کا کلی اختیار صرف اللہ کے پاس ہونا
حق کو جھٹلانے کی سزا: دلوں اور بصیرت کا پھر جانا
ہٹ دھرمی کی انتہا: عظیم ترین معجزات کے مشاہدے کے بعد بھی عدمِ ایمان
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ ؕ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ۪ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(108) وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَىٕنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَا ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ مَا یُشْعِرُكُمْۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(109) وَ نُقَلِّبُ اَفْـٕدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ (110)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: (مسلمانو!) جن (جھوٹے معبودوں) کو یہ لوگ اللہ کے بجائے پکارتے ہیں، تم اُن کو بُرا نہ کہو، جس کے نتیجے میں یہ لوگ جہالت کے عالم میں حد سے آگے بڑھ کر اللہ کو بُرا کہنے لگیں۔
یہ ایک بہت مشہور آیت ہے، ایک خاص موقع کے لیے بہت زیادہ بیان کی جاتی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ انسان کسی کے غلط اس کو بھی، مطلب ایسا نہ کہے، گالی وغیرہ نہ دے۔ کہیں ری ایکشن میں وہ ہماری صحیح چیزوں کو گالی نہ دے۔
حاشیہ: اگرچہ جن دیوتاؤں کو کافر و مشرک لوگ خدا مانتے ہیں، ان کی حقیقت کچھ بھی نہیں ہے، لیکن اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کافروں کے سامنے اُن کے لئے نازیبا الفاظ استعمال نہ کیا کریں۔ اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ کافر لوگ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرسکتے ہیں۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تو اس کا سبب تم بنوگے، اور جس طرح اللہ تعالیٰ کی شان میں خود گستاخی کرنا حرام ہے، اسی طرح اس کا سبب بننا بھی ناجائز ہے۔ اس آیت سے فقہائے کرام نے یہ اُصول نکالا ہے کہ اگر کوئی کام بذاتِ خود تو جائز یا مستحب ہو، لیکن اندیشہ ہو کہ اس کے نتیجے میں کوئی دوسرا شخص گناہ کا ارتکاب کرے گا تو ایسی صورت میں وہ جائز یا مستحب کام چھوڑ دینا چاہئے۔ تاہم اس اُصول کے تحت کوئی ایسا کام چھوڑنا جائز نہیں ہے جو فرض یا واجب ہو۔ مزید تفصیل کے لئے اس آیت کے تحت تفسیر ’’معارف القرآن‘‘
میں زیادہ تفصیل کے ساتھ دی، دیکھی جا سکتی ہے۔
حاشیہ: یہاں یہ بھی واضح رہے کہ اہل عرب اگرچہ اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے، اور اصل میں تو وہ خود بھی اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کو جائز نہیں سمجھتے تھے، لیکن ضد میں آکر ان سے ایسی حرکت سرزد ہوجانا کچھ بعید نہیں تھا، چنانچہ بعض روایات میں ہے کہ ان میں سے کچھ لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات کہی تھی کہ اگر آپ ہمارے بتوں کو بُرا کہوگے تو ہم آپ کے ربّ کو بُرا کہیں گے۔
تو اس کا مطلب ہے کہ انسان کو بہت محتاط رہنا چاہیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم کسی برائی کا سبب بن جائیں۔
ترجمہ: (اس دُنیا میں تو) ہم نے اسی طرح ہر گروہ کے عمل کو اُس کی نظر میں خوشنما بنا رکھا ہے۔
حاشیہ: یہ درحقیقت ایک ممکن سوال کا جواب ہے۔ اور وہ یہ کہ اگر کافر لوگ اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کریں تو اُن کو دُنیا ہی میں سزا کیوں نہیں دے دی جاتی۔ جواب یہ دیا گیا ہے کہ دُنیا میں تو ان لوگوں کی ضد کی وجہ سے ہم نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ رکھا ہے کہ یہ اپنے طرزِ عمل کو بہت اچھا سمجھ رہے ہیں۔ لیکن آخر کار ان سب کو ہمارے پاس لوٹنا ہے۔ اُس وقت انہیں پتہ چل جائے گا کہ جو کچھ وہ کررہے تھے، اس کی حقیقت کیا تھی۔
یہ بھی اصل میں ایک دھوکا ہوتا ہے انسان کو کہ مثلاً دنیا کی کچھ فتوحات وغیرہ انسان کو حاصل ہو جائیں تو وہ یہ سمجھنے لگے کہ شاید میں اللہ پاک کا پسندیدہ شخص ہوں،کہ مجھے زیادہ اچھی چیزیں دی جا رہی ہیں۔ اصل میں حدیث شریف میں آتا ہے کہ یہ دنیا اور اس کے اندر جو کچھ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے سامنے ایک مچھر کے پر کے برابر بھی وقعت رکھتی۔ تو اللہ پاک فرماتے ہیں، حدیث مطلب قدسی ہے، کہ میں کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ پینے دیتا۔ یعنی اس دنیا کی حیثیت ہی کچھ نہیں ہے۔ ایک اور بات بھی ہے، کہ اللہ پاک کے ہاں یہ بھی ہے، کہ چونکہ مسلمان، جو مومن ہیں، ان کو آخرت میں نوازا جاتا ہے۔ لہٰذا دنیا ان کے لیے ایک اصل مستقر نہیں ہے۔ تو یہاں تو آزمائش کے لیے کمی کی جا سکتی ہے، لیکن اس کا بدلہ وہاں ملتا ہے۔ جو کافر ہیں، ان کو وہاں تو کچھ بھی نہیں ملتا، تو اگر وہ کوئی نیکی کرے گا، تو اس کا کیا ہو گا؟ تو اللہ پاک کے ہاں بے انصافی تو نہیں ہے۔ تو اللہ جل شانہ اس کا بدلہ یہاں دنیا میں دے دیتے ہیں۔ مثلاً کسی نے کوئی اچھا کام کیا تو اس کی بڑی شہرت ہو جائے گی، یا اس کو کوئی مالی منفعت ہو جائے گی، یا کوئی اور فائدہ اس کو ہو جائے گا، یعنی دنیا میں۔ تو یہ بعض، اب چونکہ ہم یہ جو، جتنے کافر ہیں، ان پہ شیطان کا زور تو اتنا نہیں ہوتا جتنا کہ مسلمانوں پہ ہوتا ہے۔ تو اچھے اچھے کام بھی کرتے ہیں۔ اب ان اچھے اچھے کاموں کا بدلہ ان کو دنیا میں مل جاتا ہے۔ اور وہ ظاہر ہے نسبتاً ہمارے مقابلے میں اچھی دنیاوی حیثیت رکھتے ہیں۔ تو اس سے بعض مسلمان جو کمزور ہوتے ہیں، سمجھ دار نہیں ہوتے، تو وہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ دیکھ کر، مطلب ان کے ساتھ، یا مطلب کہ ہم سے اچھے ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ بعض لوگ کہہ بھی دیتے ہیں، زبان سے کہہ دیتے ہیں کہ ان سے تو کافر بھی اچھے ہیں۔ تو یہ ایسا نہیں ہوتا، کافر کبھی بھی اچھے نہیں ہو سکتے، کیونکہ دیکھیں اگر کسی کے پاس، میں آسان بات بتاتا ہوں، کسی کے پاس اگر ایک ارب پاؤنڈ ہو، اور دوسرے کے پاس پچاس کھرب روپے ہوں۔ تو ایک، ایک ارب پاؤنڈ اور پچاس ارب، کون زیادہ مال دار ہے؟ ظاہر ہے مطلب پاؤنڈ کی ویلیو بہت زیادہ ہے، تو اس کے حساب سے بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ اب ایمان، اس کی ویلیو اتنی زیادہ ہے اس کے مقابلے میں اعمال کی کوئی وہ نہیں ہے۔ کیونکہ ایمان کی وجہ سے انسان ابد الآباد زندگی میں بالآخر جنت چلا جائے گا، چاہے وہ اپنے اعمال کی وجہ سے کسی وقت تک دوزخ میں بھی رہے، لیکن بالآخر جنت چلا جائے گا۔ اور جو اعمال والی بات ہے، تو ظاہر ہے، مطلب ہے کہ وہ تو ایک محدود نفع مطلب یہاں پہنچاتا ہے اگر کافر کے ہیں۔ تو ایمان کے مقابلے میں کوئی حیثیت، تو اب اگر میں ایمان، کسی میں جانتا ہوں کہ اس میں ایمان ہے، اور اس کے مقابلے میں جو دوسرا شخص ہے جس کے اعمال اچھے ہیں لیکن اس میں ایمان نہیں ہے، اس کو اچھا کہنے لگوں تو یہ کتنا بڑا دھوکا ہے! یعنی جس میں ایمان نہیں ہے، اس کے اعمال اچھے ہیں، مثلاً، مثلاً وہ سچ بول رہا ہے، وہ کسی کے ساتھ دھوکا نہیں کرتا، اور مطلب یہ ہے کسی پہ ظلم نہیں کرتا، یہ اچھی باتیں ہیں۔ اگر مسلمان کر لے تو اس کا بہت بڑا اجر ہے۔ لیکن اگر کافر کر لے تو ظاہر ہے مطلب آخرت میں تو اس کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ تو اب دنیا میں یہ اچھی چیزیں ہیں۔ تو لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ کافر اچھے ہیں۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کافروں کی یہ باتیں اچھی ہیں۔ یہ نہیں کہہ سکتے کافر اچھے ہیں۔ کیونکہ کافر کے ساتھ کیا بات ہے؟ وہ، اس کے پاس ایمان نہیں ہے۔ اور جو مسلمان ہے، اس کے پاس ایمان ہے۔ تو مسلمان کے مقابلے میں کافر کو کبھی بھی اچھا نہیں کہنا چاہیے۔ ہاں، کچھ اعمال کے بارے میں کہہ سکتے ہیں، ہم کہہ سکتے ہیں کہ اچھا، یہ ان کے جو ہیں، اعمال یہ اچھے ہیں۔ مثلاً سچ بولتے ہیں، ٹھیک ہے، بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ اچھا، دھوکا نہیں کرتے، بہت اچھا کام کرتے ہیں۔ کرپشن نہیں کرتے، بہت اچھا کام کرتے ہیں۔ لیکن چونکہ ایمان نہیں ہے، لہٰذا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مسلمانوں سے اچھے ہیں۔ یعنی مسلمان کو برا نہیں کہہ سکتے، کیونکہ اس میں انبیاء بھی ہیں، اولیاء بھی ہیں۔ اور من حیث القوم کافروں کو اچھا بھی نہیں کہہ سکتے۔ ہاں، selective انداز میں ہم بات کر سکتے ہیں۔ تو یہ مطلب ظاہر ہے، ہمیں اسی طرح اچھی طرح سمجھ میں آنا چاہیے۔ ورنہ شیطان ہمیں بہت بڑے دھوکے میں مبتلا کر دے گا۔ تو یہ فرمایا گیا ہے،
ترجمہ: اور ان لوگوں نے بڑی زور دار قسمیں کھائی ہیں کہ اگر ان کے پاس واقعی کوئی نشانی (یعنی ان کا مطلوب معجزہ) آگئی تو یہ یقیناً ضرور اس پر ایمان لے آئیں گے۔ (ان سے) کہو کہ: ’’ساری نشانیاں اللہ کے قبضے میں ہیں‘‘۔
یہ اصل میں
تشریح: تشریح کے لئے اسی سورت کی آیت نمبر 35کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔
اور فرمایا کہ،
ترجمہ: اور (مسلمانو!) تمہیں کیا پتہ کہ اگر وہ (معجزے) آبھی گئے، تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے ﴿109﴾ جس طرح یہ لوگ پہلی بار (قرآن جیسے معجزے پر) ایمان نہیں لائے، ہم بھی (ان کی ضد کی پاداش میں) ان کے دلوں اور نگاہوں کا رُخ پھیر دیتے ہیں، اور ان کو اس حالت میں چھوڑ دیتے ہیں کہ یہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے پھریں ﴿110﴾
یہاں پر ایک بہت اہم بات ہے جو بار بار آتی ہے اور سمجھنا پڑتا ہے، وہ کیا ہے؟ کہ اللہ جل شانہ اعمال کے خالق ہیں۔ یعنی اللہ پاک ہی اعمال کو پیدا فرماتے ہیں۔ اور انسان کاسب ہے۔ یعنی انسان اس کا ذریعہ بنتا ہے۔ اب دیکھیں، میں ارادہ کرتا ہوں، لیکن وہ ارادہ اس وقت تک تکمیل نہیں پا سکتا جب تک اللہ پاک کا ارادہ اس کے ساتھ نہ ہو۔ تو اصل میں تو اللہ نے وہ کام کیا، کیونکہ اللہ پاک نہ چاہتا تو یہ کام نہ ہوتا۔ لیکن چونکہ میں نے ارادہ کیا ہے، تو اس وجہ سے میری طرف وہ منسوب ہے کہ میں نے یہ کام کر لیا۔ تو اسی طریقے سے جب لوگ دیکھیں نا، یہ فرمایا کہ انہوں نے ایسا کام کیا، تو اس کی پاداش میں وہ کیا کرتے ہیں؟ ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کا رخ پھیر دیتے ہیں۔ اب اگر کوئی کہہ دے کہ اب اللہ پاک نے ہی کسی کا رخ پھیر دیا تو پھر اس کے، نہیں، وہ ان کے جو کام ہیں، اس کی وجہ سے اللہ پاک نے ایسا کر دیا۔ تو جس کی وجہ سے اب سرکشی سے باز نہیں آتے۔ تو یہ اس میں ایک حدیث شریف بھی ہے جس میں فرماتے ہیں کہ جب انسان کوئی نیکی کرتا ہے، تو اس کا فوری بدلہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے لیے دوسری نیکی آسان ہو جاتی ہے۔ اور اگر کوئی برائی کرتا ہے، تو اس کے لیے فوری نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس کے لیے دوسری برائی آسان ہو جاتی ہے۔ تو اب جو لوگ اچھے کام کرتے ہیں، ان کے لیے اچھائی آسان ہوتی جاتی ہے۔ اور جو لوگ برے کام کرتے ہیں، ان کے لیے برائی آسان ہو جاتی ہے۔ اس میں تصوف کے لیے یہ نکتہ ہے، کہ اگر کوئی شخص ہے جو سالک ہے، وہ بالجبر اپنے آپ کو مجبور کر کے کوئی نفس کے خلاف کام کرتا ہے۔ نفس اس کا برا کام چاہتا ہے اور یہ نہیں چاہتا، اور یہ نہیں کرتا، تو ایسی صورت میں اس کے اندر صلاحیت اس سے بچنے کی بڑھتی جائے گی۔ مثلاً پہلی دفعہ نہیں کرے گا تو صلاحیت کچھ کم ہو جائے گی برائی کی، یعنی وہ دوبارہ وہ عمل کی خواہش اتنی زیادہ نہیں ہو گی۔ دوبارہ نہیں کریں گے تو پھر خواہش کچھ اور کم ہو جائے گی۔ تیسری بار نہیں کریں گے تو کچھ اور کم ہو جائے گی، مطلب گویا کہ نفس کی بات کو دبانے کے لیے طاقت انسان کے اندر آتی جائے گی۔ اور یہی چیز، نفس کی مخالفت مجاہدہ ہے۔ بس مجاہدے کے ذریعے سے نفس کا علاج ہو سکتا ہے۔ یعنی مجاہدہ جب انسان کرنا شروع کر لیتا ہے، یہ جو کرتے ہیں نا خانقاہوں میں مجاہدات کراتے ہیں، یہ اسی لیے کرتے ہیں۔ یا مثال کے طور پر میں یہاں پر کہتا ہوں کہ جب ہمارے پاس ساتھی آتے ہیں، تو ہم کہتے ہیں بھئی اتنا ذکر کرو، اتنا ذکر کرو۔ عمومی طور پر کوئی اتنا نہیں بتاتا۔ لیکن اس لیے بتاتے ہیں تاکہ یہاں پر اپنے نفس کے خلاف یہ ذکر کرنے کے قابل ہو جائیں۔ جب یہاں قابل ہو جائیں گے تو دوسری جگہ بھی قابل ہو جائیں گے۔ نتیجتاً ان کو عادت ہو جائے گی۔ جب عادت ہو جائے گی تو پھر ان کے لیے کرنا آسان ہو جائے گا۔ اب یہی والی بات نفس کو گھیرنے والی بات ہے نا۔ تو اس طریقے سے ماشاءاللہ اس میں ہمارے پاس یہ نقطہ بھی آتا ہے کہ اگر ہم اپنے نفس کی مخالفت کرتے پھریں تو ہمارے اندر نفس کے خلاف کام کرنے کی طاقت مزید آتی جائے گی۔ اللہ جل شانہ آپ سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ۔ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔
اضافی تشریحی نوٹس
قرآن مجید میں باطل معبودوں کو برا بھلا کہنے سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ کہیں غیر مسلم غصے یا نادانی میں آ کر سچے معبود، یعنی اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی نہ کر بیٹھیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ جو شخص حق کو پہچاننے کے بجائے اپنے نفس کی پیروی کرتا ہے، وہ تعصب میں مبتلا ہو جاتا ہے؛ ایسے موقع پر وہ یہ نہیں سوچتا کہ اس کا معبود سچا ہے یا جھوٹا، بلکہ اسے اپنی اور اپنے آباؤ اجداد کی توہین سمجھ کر ضد پر اڑ جاتا ہے، اور یوں حق کو قبول کرنے سے اور زیادہ دور ہو جاتا ہے۔ یہی وہ ضد ہے جس کا ذکر بیان میں اہلِ عرب کے حوالے سے آیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو ماننے کے باوجود، اور خود گستاخی کو جائز نہ سمجھنے کے باوجود، ضد میں آ کر یہ کہہ بیٹھے کہ اگر ہمارے بتوں کو برا کہا گیا تو ہم بھی جواب میں گستاخی کریں گے۔
اسی اصول کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کسی گروہ کے ماننے والوں کی گستاخیوں یا زیادتیوں کا بدلہ اُن بزرگ ہستیوں کی بے ادبی سے نہیں لیا جا سکتا جن کی طرف وہ اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہوں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں یا حضرت علی رضی اللہ عنہ — یہ سب ہمارے ہیں، اس لیے ان کے ماننے والوں کے رویے کو بنیاد بنا کر ان ہستیوں کی شان میں کمی کرنا کسی طرح جائز نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اگرچہ تمام انبیاء سے بلند تر ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ باقی انبیائے کرام علیہم السلام کی تنقیص کی جائے۔
آیت 109 کے تحت یہ بات سمجھنے کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے نفس اور فرمائش کے مطابق معجزہ صادر نہیں فرماتے، بلکہ اپنے ارادے سے فرماتے ہیں۔ پھر ان لوگوں کو کسی نئے معجزے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کے درمیان موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی ان کے سامنے تھی، وہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق و امین کہتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی دعوت بھی اسی بنیاد پر دی تھی؛ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ اور زبانِ اطہر ہی اس دعوت کی سچائی کے لیے کافی تھی، اور قرآن پاک بذاتِ خود ایک معجزہ تھا۔
اور جہاں اللہ تعالیٰ نے چاہا، معجزہ ظاہر بھی فرمایا — شق القمر کا معجزہ سامنے آیا، مگر کفار پھر بھی ایمان نہ لائے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام مٹی کا پرندہ بنا کر اس میں پھونک مارتے تو وہ زندہ ہو کر اڑنے لگتا، اور وہ مُردوں کو زندہ کر دیتے، لیکن جنہوں نے ایمان نہیں لانا تھا وہ اپنے کفر پر قائم رہے۔ اہلِ کتاب تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے پہچانتے تھے جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں، اس کے باوجود ایمان نہ لائے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو آیت میں بیان ہوئی کہ نشانی آ جانے پر بھی یہ ایمان نہ لاتے، اور انہی کی ضد کی پاداش میں ان کے دلوں اور نگاہوں کا رخ پھیر دیا گیا۔