تزکیۂ نفس اور صحبتِ صالحین سے معرفتِ الٰہی

کتاب: پیغام محبت، درس 15، اشاعت اول: 1 اکتوبر 2013 بمطابق 24 ذو القعدہ 1434 ہجری، حصہ دوم

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اپنے تمام اعضاء کو گناہوں سے بچا کر شریعت کا پابند بنایا جائے۔

بندگی کا اصل مقصد درجات کے بجائے صرف اللہ کی رضا پانا ہے۔

اسباب اختیار کرتے ہوئے بھی اصل بھروسہ صرف اللہ کی ذات پر رکھا جائے۔

دین کے ظاہر اور باطن دونوں کو ایک ساتھ درست رکھنا ضروری ہے۔

دنیا پرست لوگوں کی صحبت چھوڑ کر سچا تعلق صرف اللہ سے جوڑا جائے۔

اللہ کی معرفت اور دل کے نور کے لیے اللہ والوں کی صحبت اختیار کی جائے۔

ذکرِ الٰہی سے دل کو بیدار کر کے نیک لوگوں کے طریقے پر چلا جائے۔

باطنی اصلاح کے لیے اہل دل سے جڑیں اور ہر حال میں نظر صرف اللہ پر رکھیں۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ۔ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ۔ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

آج منگل کا دن ہے اور منگل کے دن ہمارے ہاں تزکیہ نفس کے لیے کچھ اشعار پڑھے جاتے ہیں اور ان کی تشریح کی جاتی ہے۔ دنیا کی محبتیں آج کل اتنی غالب ہیں کہ انسان ساری چیزوں کو جانتا بھی ہے کہ یہ اللہ کی ناپسندیدہ ہیں اور میرے لیے نقصان دہ ہیں لیکن چونکہ دل اور نفس کی اصلاح نہیں ہو چکی ہوتی لہذا وہ ساری باتیں جو سارا علم ہے وہ رائیگاں چلا جاتا ہے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ اس وجہ سے اب اللہ تعالیٰ کی محبت کو غالب کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اتنی غالب ہو جائے کہ ہم خود بخود اللہ تعالیٰ کی بات ماننے کو اور دین اسلام کے احکامات کو اولیت دیں اور شریعت کو اپنے رواج پر ترجیح دیں۔

تو اس وجہ سے ایسی محافل کی، ایسی مجالس کی ضرورت اب زیادہ ہو گئی ہے۔ تو اب ہے۔۔۔

اللہ اللہ کریں

یعنی ہمارا کام کیا ہو، اللہ اللہ کرنا۔

صراطِ مستقیم پر اب ہم چلا کریں
دل سے بھی اور زبان سے اللہ اللہ کریں

ہیں قیدِ شریعت میں کان دونوں اپنے بند
جائز اگر نہ ہو تو اسے کیوں سنا کریں

صراطِ مستقیم پر اب ہم چلا کریں

مطلب یہ ہے کہ میرے جو کان ہیں پابند ہیں۔ شریعت کے قوانین میں۔ ہم آزاد نہیں کہ ہر چیز سنیں۔ گانے سنیں، غلط باتیں سنیں۔ کانا پھونسی، پوری کانا پھونسی کریں۔ یہ کام ہمارے نہیں ہیں کیونکہ پابند ہیں۔ ہمارے کان پابند ہیں۔ تو جب پابند ہیں تو اب ہم وہی سنیں جس کی اجازت ہے۔

بیشک ہماری آنکھیں بھی ہیں اس کی امانت
غیر محرم دیکھنے سے نہ مجرم بنا کریں

صراطِ مستقیم پر اب ہم چلا کریں

ہماری جو آنکھیں ہیں یہ بھی اس کی امانت ہیں اس کو ہم اس کے خلاف، اس کی مرضی کے خلاف نہ استعمال کریں۔ لہذا ہم کہیں غیر محرم کو دیکھ کر اس کا مجرم نہ بن جائیں۔

اک گوشت کا لوتھڑا ہے زباں میرے منہ میں بند
جائز نہ ہوں جو بول اسے کیوں ادا کریں

صراطِ مستقیم پر اب ہم چلا کریں

یعنی ایک گوشت کا لوتھڑا ہے زبان اور اگر ہم لوگ اس کو ایسے بولوں پہ چلائیں جو ناجائز ہوں تو وہ تو اس کی مرضی کے خلاف کام ہو جائے گا۔

اس سر میں جو دماغ ہے کنٹرول پہ مامور
تو اس کا استعمال غلط کیوں کیا کریں

صراطِ مستقیم پر اب ہم چلا کریں

یہ دل بھی امانت ہے مرے رب کی جب شبیرؔ
تو اس کے علاوہ نہ کسی کو دیا کریں

صراط مستقیم پر اب ہم چلا کریں

گویا کہ ایک زندگی کا منشور ہے جو اس میں پیش کیا گیا۔ اب ذرا ٹارگٹ کیا ہے، منشور تو بتایا ہے نا لیکن ٹارگٹ کیا ہے؟

نہ ہوں منزلوں کی تلاش میں

نہ ہوں منزلوں کی تلاش میں نہ ہی درجوں کی ہے طلب مجھے
بس یہی تو دل کی ہے آرزو کہ اب اپنا بنا ہی لے رب مجھے

یہ دیوانگی ہی کی تو بات ہے کہ حجاب اب نہ ہو درمیاں
مرا مانگنا اس کا عجیب تر مگر کیا ہوا ہے یہ اب مجھے

مطلب یہ تو دیوانگی کی بات ہے کہ میں کہوں کہ اس کے اور میرے درمیان حجاب نہ ہو، جل جاؤں گا۔ طور کے ساتھ کیا ہوا؟ تو ظاہر ہے مطلب یہ کہ کیسے میں کہہ سکتا ہوں کہ حجاب نہ ہو، حجاب تو ہوگا۔ لیکن میری دیوانگی ہے محبت کی طلب ہے۔ تو طلب بے شک ہو۔ لیکن میں کروں گا وہی جو حکم ہے۔ لہذا مانگنے پہ وہ نہیں ہے لیکن یہ ہے کہ یہ سوچنا چاہیے کہ ہماری حیثیت کیا ہے ہم کیا کر سکتے ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ یہاں اس کے قابل بن جائیں کہ اللہ تعالیٰ وہاں دیدار نصیب فرما دے۔ یہاں محنت کر لیں۔

میری خلوت و جلوت بھی اس کی ہو مرا دل و دماغ بھی اس کا ہو
میں دیوانہ ہوں ہاں دیوانہ ہوں کہیں یہ کہیں لوگ سب مجھے

نہ ہوں منزلوں کی تلاش میں نہ ہی درجوں کی ہے طلب مجھے

میری خلوت و جلوت بھی اس کے لیے ہے، میرا دل و دماغ بھی اس کے لیے ہے۔ اور مجھے کوئی اگر دیوانہ کہتا ہے تو کہنے دے۔ یہی میں چاہتا ہوں۔

جو سبب ہے اس کا ہے حکم ہاں میں کروں گا پورا، ضروری ہے
میرے دل کی نگاہ سے وہ دور ہو کبھی کھینچے یوں نہ سبب مجھے

مطلب یہ ہے جو سبب ہے وہ اس کا حکم ہے۔ آگ کو حکم دیا جلاؤ، پانی کو حکم دیا کہ بجھاؤ، تو یہ اس کے احکامات ہیں جو ہمارے جس کو ہم properties کہتے ہیں، خواص کہتے ہیں۔ تو میں ان خواص کو استعمال کروں گا اسباب کو استعمال کروں گا کیونکہ اس کا حکم ہے۔ لیکن ان چیزوں کا میرے اوپر اتنا اثر نہیں ہونا چاہیے کہ وہ مجھے مسبب الاسباب سے بھی دور کر لیں۔ اس پر ہی بھروسہ ختم ہو جائے میں اسباب ہی کا بن جاؤں۔ اسباب اختیار کروں گا اس کے حکم کے مطابق لیکن اسباب پر میری نظر نہیں ہوگی نظر کس پر ہوگی؟ مسبب الاسباب پر ہوگی۔

جو سبب ہے اس کا ہے حکم ہاں میں کروں گا پورا، ضروری ہے
میرے دل کی نگاہ سے وہ دور ہو کبھی کھینچے یوں نہ سبب مجھے

نہ ہو لمحہ بھر کی بھی غفلت اب مجھے کیا پتہ کہ ہو جائے کیا
کہیں بے خبر رہوں میں یوں اور کرم سے دیکھے وہ کب مجھے

نہ ہوں منزلوں کی تلاش میں نہ ہی درجوں کی ہے طلب مجھے

مطلب لمحہ بھر کی غفلت بھی گوارا نہیں کی جا سکتی۔ کیونکہ مجھے کیا پتہ کس وقت میری طرف رحمت کی نظر کر دے اور میں غافل ہوں۔

یک لحظہ زدن غافل ازاں شاہ نہ باشی
شاید کہ نگاہے کند آگاہ نہ باشی

مطلب ایک لمحہ بھی غفلت نہیں اختیار کرنی چاہیے اس مالک الملک سے۔ ہاں کہ ممکن ہے کسی وقت بھی رحمت کی نظر کر رہا ہو اور مجھے پتہ نہ ہو۔

مرے سجدے عبادتیں اس کا حق، مرا حق تو اس پہ کوئی نہیں
یہ کرم ہے اس کا کرے قبول سنو خود سے کھینچے وہ جب مجھے

نہ ہوں منزلوں کی تلاش میں نہ ہی درجوں کی ہے طلب مجھے
بس یہی تو دل کی ہے آرزو کہ اب اپنا بنا ہی لے رب مجھے

یعنی میرے سجدے عبادتیں جو ہیں، اس کا حق ہیں۔ اور میرا اس کے اوپر کوئی حق نہیں۔ البتہ یہ اس کا کرم ہو گا اگر اس کو قبول فرما لے۔ اور خود سے وہ کھینچے مجھے جب بھی تو اس کا فضل ہو گا۔

مجھ پہ فضل رب کا ہے اے شبیر مجھے اہلِ حق سے ملا دیا
اب خدا کے کرم سے نصیب ہو ان ہی اہلِ حق کا ادب مجھے

نہ ہوں منزلوں کی تلاش میں نہ ہی درجوں کی ہے طلب مجھے

یعنی اپنے فضل سے مجھے اہل حق کے ساتھ ملا دیا۔ اب اللہ کرے ان اہل حق کا ادب بھی نصیب ہو جائے۔

دین کا ظاہر اور باطن

ظاہرِ دین ایک چھلکا ہے
اصل معاملہ تو دل کا ہے
چھلکا اس دین کو سلامت رکھے
دل میں ہی راستہ منزل کا ہے

چھلکا اس دیں کو سلامت رکھے، چھلکا فضول نہیں ہے۔

چھلکا اس دین کو سلامت رکھے
دل میں ہی راستہ منزل کا ہے

جو مقصد ہے وہ تو دل میں ہے لیکن وہ تب سلامت رہے گا جب ظاہر سلامت رہے گا۔ جیسے چھلکا سلامت ہو گا تو گری سلامت ہو گی نا۔ تو اس وجہ سے ظاہر کو درست رکھنا ضروری ہے۔ لیکن باطن کو ٹھیک کرنا مجبوری ہے یعنی اس میں انسان کچھ نہیں compromise کر سکتا۔ وہ بھی ٹھیک اور یہ بھی ٹھیک، دونوں ایک ٹھیک ہونا چاہیے۔

ظاہرِ دین ایک چھلکا ہے
اصل معاملہ تو دل کا ہے
چھلکا اس دین کو سلامت رکھے
دل میں ہی راستہ منزل کا ہے

اغیار سے دوستی

اغیار کی اب دوستی سے ہے مری توبہ
کہ ان کی بے وفائی نے ہے مجھ پہ یہ کھولا
دنیا ہو جس کے دل میں تجھے دل میں کیا سمجھے
جو ہے غلام نفس کا کرے کیسے وہ وفا

مطلب اغیار کی دوستی نہیں ہونی چاہیے۔ اب ایک بہت بڑا سبب، اللہ تک پہنچنے کا۔ وہ ہے: اللہ والوں کو دیکھ لینا۔

اللہ والوں کو دیکھ لینا

اللہ کے ہونے کے لئے اللہ والوں کو دیکھ لینا
اللہ کو دیکھ سکتے نہیں اس کے بندوں کو دیکھ لینا

سورج کی شعائیں رستے میں غائب ہوتی ہیں بالکل تو
جس پر پڑیں وہ روشن ہوں تب ان شعاؤں کو دیکھ لینا

اللہ کے ہونے کے لئے اللہ والوں کو دیکھ لینا

تو روشن دل سے روشن ہو یہ روشنی کہاں سے آئی ہے
روشنی کے سفر کو دیکھ لینا روشن رستوں کو دیکھ لینا

اللہ کے ہونے کے لئے اللہ والوں کو دیکھ لینا

یعنی سورج کی شعاعیں راستے میں غائب ہوتی ہیں، photons نظر نہیں آتے۔ ظاہر ہے ہمارے سائنس دان یہی کہتے ہیں، photons نظر نہیں آتے۔ لیکن جس وقت، اب ظاہر ہے سورج سے یہ چیز، شعاعیں آ رہی ہیں نا، تو راستے میں تو روشنی نظر نہیں آ رہی۔ لیکن جس چیز پر بھی پڑ جائے وہ روشن نظر آتی ہے۔ اس کی بہت بڑی مثال بتاتا ہوں۔ گھپ اندھیرے کے اندر چاند چمک رہا ہوتا ہے۔ ارد گرد اندھیرا ہوتا ہے، اور چاند چمک رہا ہوتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ اب یہ ارد گرد اندھیرا کیوں ہے؟ کیوں کہ سورج کی روشنی جیسے چاند پر پڑ رہی ہے، اس طرح تو ارد گرد بھی جا رہی ہے۔ یعنی چاند کے آگے پیچھے سب جگہ روشنی جا رہی ہے نا۔ تو وہاں اندھیرا کیوں نظر آ رہا ہے؟ کیا خیال ہے؟ وہاں اندھیرا نہیں ہونا چاہیے، کیوں کہ سورج کی روشنی تو ہر طرف پڑ رہی ہے۔ لیکن چوں کہ وہاں کوئی جسم نہیں ہے لہٰذا اس پہ پڑ نہیں رہی، جب پڑ نہیں رہی تو نظر نہیں آ رہی۔ اور درمیان میں چوں کہ چاند حائل ہو گیا، چاند پر روشنی پڑ گئی، وہ روشنی ہماری طرف منعکس ہو گئی۔ تو ہمیں پتہ چل گیا کہ چاند روشن ہے۔

کمال کی بات ہے کہ ستاروں کی روشنی اپنی روشنی ہے۔ لیکن فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے کم نظر آتے ہیں، بعض ستارے بالکل نظر نہیں آتے۔ اور چاند چوں کہ ہمارے قریب ہے، اور سورج کی روشنی اس پہ پڑ رہی ہے، تو وہ ہمیں زیادہ روشن نظر آ رہا ہے۔ تو مقصد یہ ہے کہ سورج کی شعاعیں راستے میں غائب ہوتی ہیں۔ لیکن جس چیز پر وہ پڑ جائیں تو روشن ہو جاتی ہیں وہ چیزیں۔ تو اصل میں آپ نے ان چیزوں کو جو روشن دیکھا تو اس سے آپ سورج پہ استدلال کر رہے ہیں کہ سورج ہے۔ اگر سورج غائب ہو جائے کسی وقت اچانک، تو کیا چاند چمکتا ہوا نظر آئے گا؟ چاند تو چمکتا ہوا نظر نہیں آئے گا پھر۔ بلکہ درمیان میں زمین آ جائے تو گرہن ہو جاتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ اس پر استدلال ہے، کہ جو اللہ والے اس طرح چمک رہے ہیں۔ یعنی اللہ والوں کو جو آپ دیکھ رہے ہیں، تو اصل میں یہ کس کی وہ ہے؟ وہ اصل میں ان کے اندر جو اللہ پاک کے ذکر کا جو نور ہے وہ داخل ہو گیا ہے، اس وجہ سے وہ چمک رہے ہیں۔

سورج کی شعائیں رستے میں غائب ہوتی ہیں بالکل تو
جس پر پڑیں وہ روشن ہوں تب ان شعاؤں کو دیکھ لینا

تو روشن دل سے روشن ہو

ہاں، کسی کے دل سے تو روشنی لے رہا ہے۔

یہ روشنی کہاں سے آئی ہے

اس میں کہاں سے روشنی آ گئی؟ تو اس میں اپنے شیخ سے آئی ہے، پھر اس میں اپنے شیخ سے آئی ہے، اس میں اپنے شیخ سے آئی ہے۔ تو یہ ایک راستہ ہے، جس کو ہم سلسلہ کہتے ہیں کہ روشنی کا سفر ہے۔

روشنی کے سفر کو دیکھ لینا روشن رستوں کو دیکھ لینا

یعنی سلسلے کی آب و تاب کو دیکھ لینا۔ کیوں کہ تو جو اس کے دل سے چمک لے رہا ہے، تو وہ بھی کسی کے دل سے چمک لے چکا ہے اور پھر وہ کسی سے چمک لے چکا ہے اور اس طرح ہوتے ہوتے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک بات پہنچ جاتی ہے۔ تو یہ ہے روشنی کا سفر، جو دلوں سے دلوں کو ہوتا ہے۔ اس کے لیے جو reflectors ہیں وہ دل ہیں۔ دل کے ذریعے سے روشنی دوسرے دل میں جا سکتی ہے۔

دل پر دنیا کی چھاپ ہو تو دنیا ہی نظر آئے فقط
گر دل کو بنانا چاہتے ہو ان کے دلوں کو دیکھ لینا

اللہ کے ہونے کے لئے اللہ والوں کو دیکھ لینا

مطلب یہ ہے کہ جس دل کے اوپر دنیا کی چھاپ لگ جاتی ہے، دنیا کی محبت ہوتی ہے اس میں، تو پھر تو دنیا ہی نظر آئے گی۔ لیکن اگر تو اپنے دل کو بنانا چاہتا ہے، تو پھر ان کے دلوں کو دیکھ لینا، جن کے دل میں دنیا کی محبت نہیں ہے۔ پھر آپ کو حقیقت نظر آ جائے گی۔

جو مٹ مٹ کے باقی بنے، رحمت کے سائے میں ہیں وہ

یعنی فنا اور بقا سے گزر کر وہ باقی ہو چکے ہیں، تو اللہ کی رحمت کے سائے میں ہیں

جو مٹ مٹ کے باقی بنے، رحمت کے سائے میں ہیں وہ تم بھی ذرا طالب بنو اور ان سایوں کو دیکھ لینا

اللہ کے ہونے کے لئے اللہ والوں کو دیکھ لینا

اب ایک بہت عجیب بہت عظیم اشکال ہے جس کا جواب دے رہے ہیں۔

تجھ سے لینا کیا چاہیں گے تو ان کو کیا دے سکتا ہے؟
اللہ کے طالب ہیں وہ فقط ان کے کاموں کو دیکھ لینا

اللہ کے ہونے کے لئے اللہ والوں کو دیکھ لینا

باطن کے کان میں رس گھولے آنکھیں دید سے بھی ٹھنڈی ہوں
آنکھوں سے کوثر لٹائے جائیں شبیرؔ تو ان جاموں کو دیکھ لینا

جو ان کی بات ہے وہ کان میں رس گھولے اور ان کی دید سے آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں اور جو جام یہ آنکھوں سے لٹاتے جاتے ہیں ان کو دیکھ لینا۔

ذکر اور صحبتِ صالحین

ذکر سے دل کی جب تیار ہو زمین
کر لے اختیار صحبتِ صالحین
اس سے اعمال ان کے پائے تو
اس سے حاصل ہو تجھ کو فوزِ مبین

ماشاءاللہ یہ تصوف کا بہت بڑا نقطہ الحمدُ للّٰه بہت خوبصورتی کے ساتھ اس رباعی میں آ گیا۔

ذکر سے دل کی جب تیار ہو زمین
کر لے اختیار صحبتِ صالحین
اس سے اعمال ان کے پائے تو
اس سے حاصل ہو تجھ کو فوزِ مبین

اہلِ دل سے ملنا

جو ظاہر میں خرابی ہو تو لوگ وہ درست کردیں گے

ظاہر میں اگر خرابی ہے (مثلاً) آپ نماز صحیح نہیں پڑھ رہے، ایک بچہ بھی آپ کو بتا سکتا ہے کہ آپ نماز صحیح نہیں پڑھ رہے

جو ظاہر میں خرابی ہو تو لوگ وہ درست کردیں گے
اگر دل میں خرابی ہے تو نفس اور سست کردیں گے
تو اہلِ دل سے ملنا اس لئے ہوتا ضروری ہے
کہ دل کے ٹھیک کرنے کے لئے وہ چست کردیں گے

اہل دل ہی چونکہ اس چیز کو جانتے ہیں، ان کے پاس بیٹھو گے تو پتہ چلے گا کہ میرے اندر کچھ مسئلہ ہے۔ ورنہ پھر تو ظاہری چیز تو ہے نہیں کہ جس کا دوسرے لوگوں کو پتہ چل جائے۔

اک طرف ہی جائے نظر

کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر
وہ ہر صورت میں اس کی پائے نظر

سر کی آنکھوں سے نظر آئے نہیں
دل کی آنکھوں سے مگر آئے نظر

جو نظر اس کے ساتھ ہو نامانوس
پڑے جہاں وہ غضب ڈھائے نظر

کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر

جو نظر اللہ کے ساتھ مانوس نہیں ہے وہ چیزوں سے اثر لیتی ہے اور چیزوں کو متاثر کرتی ہے۔ یعنی حسد کی نظر پڑ جاتی ہے جس کی وجہ سے نظر لگ جاتی ہے۔ اس وجہ سے فرماتے ہیں کہ جس کی نظر لگتی ہو وہ جب کسی اچھی چیز کو دیکھے جس کی طرف اس کی طلب ہو تو فوراً ما شاء اللّٰه کہہ دے تاکہ اس کی نظر نہ لگے، تاکہ اللہ کی طرف نظر چلی جائے اور اس کی نظر اس چیز سے ہٹ جائے۔

جو نظر اس کے ساتھ ہو نامانوس
پڑے جہاں وہ غضب ڈھائے نظر

جو مجھے اس سے آشنا کردے
کوئی مجھ کو بھی وہ بتائے نظر

کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر

میں تو جو بھی کروں شبیر یہاں
بس مری اس طرف ہی جائے نظر

کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر

یعنی ایک طرف یہ ہے کہ اللہ کی طرف نظر جائے کہ اللہ نے توفیق دی ہے۔