حکمِ رسول ﷺ پر تسلیم و رضا: معیارِ ایمان

باب فی الامر بالمحافظۃ علی السنۃ وآدابھا، درس نمبر: 231، اشاعتِ اول: 12 مارچ، 2023 بمطابق 19 شعبان، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

فیصلۂ نبوی ﷺ کی حاکمیت: شرطِ ایمان

شانِ نزول: منافق اور یہودی کا تنازع

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی غیرتِ ایمانی

موافقاتِ عمر رضی اللہ عنہ اور تائیدِ ربانی

ہر دور کے لیے شریعتِ نبوی ﷺ کی اتباع کی فرضیت

احکامِ نبوی ﷺ پر قلبی تسلیم اور محبت کی اہمیت

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

﴿فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا﴾ (مؤمن: 65)

ترجمہ: ”تمہارے پروردگار کی قسم! یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کرو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مؤمن نہیں ہوں گے۔“

اس کا شانِ نزول یہ ہے کہ

تشریح: ایک منافق اور ایک یہودی کا جھگڑا ہو گیا، آپ ﷺ نے اس یہودی کے لئے فیصلہ کر دیا، اس پر اس منافق نے کہا کہ فیصلہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کروایا جائے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس مقدمہ لے گئے، جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معلوم ہوا کہ فیصلہ آپ ﷺ کر چکے ہیں اور اس منافق نے آپ ﷺ کے فیصلہ کو تسلیم نہیں کیا، اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تلوار سے اس منافق کا سر قلم کر دیا، پھر مقتول کے اولیاء حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف دعویٰ لے کر آپ ﷺ کے پاس آئے تو اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی بہت ساری چیزوں کے بارے میں قرآن پاک کی آیتیں نازل ہوئی ہیں، ان میں سے یہ بھی ہے۔تو

تشریح: متعدد آیات قرآنیہ سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ ﷺ کی اطاعت ضروری ہے۔ اس آیت مبارکہ میں بھی اللہ جل شانہ نے قسم کھا کر فرمایا کہ کوئی آدمی اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک آپ ﷺ کو ٹھنڈے دل سے پوری طرح تسلیم نہ کرے کہ اس کے دل میں اس فیصلہ سے کوئی تنگی نہ پائی جائے، آپ ﷺ کے فیصلہ کو دل و جان سے تسلیم کر کے عمل کرے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ حکم صرف آپ کے عہد مبارک کے ساتھ مخصوص نہیں، آپ ﷺ کی حیات میں تو خود بلا واسطہ آپ سے رجوع کیا جائے اور آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی شریعت کی طرف رجوع کرنا مراد ہے۔

یعنی تعلیماتِ نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔ اللہ جل شانہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت نصیب فرمائے۔ اس محبت کی برکت سے اللہ تعالی ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حکم سے ہمارا دل تنگ نہ ہو۔ اور ہم خوشی خوشی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چلنے والے بن جائیں۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔

حکمِ رسول ﷺ پر تسلیم و رضا: معیارِ ایمان - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور