اُسوۂ رسول ﷺ اور فکرِ آخرت

باب فی الامر بالمحافظۃ علی السنۃ وآدابھا، درس نمبر: 230، اشاعتِ اول: 11 مارچ، 2023 بمطابق 18 شعبان، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں زندگی کے ہر پہلو کے لیے بہترین اُسوہ ہے جس کی اقتدا کرنا واجب العمل ہے۔
  2. بشری تقاضوں کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر حالت میں رہنمائی وحی کے ذریعے ہوتی ہے، لہٰذا آپ کی مکمل پیروی ممکن ہے۔
  3. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سکھایا ہوا طریقہ چونکہ اللہ کی طرف سے ہے، اس لیے آپ کی پیروی درحقیقت اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل ہے۔
  4. آخرت میں کامیابی کی امید اور ناکامی کا خوف ہی انسان کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے سرخرو ہو۔
  5. اللہ تعالیٰ وہی چاہتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، لہٰذا آخرت کی کامیابی کے لیے آپ کے اُسوہ کے مطابق عمل کرنا لازمی ہے۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ﴾ (الاحزاب: 21)

ترجمہ: ارشاد فرمایا: ”تم کو پیغمبر خدا کی پیروی (کرنی) بہتر ہے یعنی اس شخص کو جسے خدا (سے ملنے) اور روز قیامت (کے آنے) کی امید ہو۔“

تشریح: ”اُسْوَةٌ“ بمعنی قدوۃ یعنی وہ طریقہ جس کی اقتداء کی جائے۔ اس جگہ مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ کی حیات طیبہ میں تمہارے لئے ہر پہلو کے لئے خصائل حمیدہ ہیں جو تمہارے لئے واجب العمل ہیں۔

اب دیکھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی انسان ہیں، بشر ہیں۔ اور ہم بھی انسان ہیں، بشر ہیں۔ اس وجہ سے جو بشریت کے تقاضے ہیں وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی ہیں، ہمارے بھی ہیں۔ تو ان بشری تقاضوں کے ساتھ جو فرق ہے نا وہ کیا ہے؟ وہ فرق یہ ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نہیں براہِ راست کچھ کہتے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہ وحی آتی ہے۔ تو اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی ہر حال میں ان بشری تقاضوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کی گئی ہے۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو وحی کی گئی ہے اس وجہ سے ہم ہر حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر سکتے ہیں۔ یعنی یہ بات ہے۔ قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحٰى اِلَيَّ اَنَّمَا اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَاحِدٌ۔ تو اب یہ جو بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی جو ہم کرتے ہیں وہ اصل میں ہم اللہ پاک کا حکم مانتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہمارے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو طریقہ بتایا کسی بھی کام کرنے کا، تو وہ ہمارے سامنے آگیا۔ اب ہمیں کیا کرنا ہے؟ ہمیں وہ کرنا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حالات میں کیا ہے۔ بس اتنی سی بات ہے۔ تو یہاں پر یہ فرمایا، لقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ

تشریح: لِمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ حضرت عبداللہ بن عباسؓ آیت کا مطلب یہ بیان فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کی اقتداء اس کے لئے جو روز آخرت کی امید رکھتا ہے یعنی اللہ جل شانہ سے ثواب اور اس کی ملاقات اور نعمت آخرت کا امیدوار ہے۔ حضرت مقاتلؒ نے ”یرجو“ کو خوف کے معنی میں لیا اور مطلب اس طرح بیان فرمایا جو اللہ سے ڈرتا ہے اور روز حشر سے جب کہ اعمال کا بدلہ ملے گا۔ سعید بن جبیرؒ فرماتے ہیں آپ ﷺ کی اقتداء کون کرے گا جو اللہ کی ملاقات اور قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اعمال کے بدلہ کو سچا سمجھتا ہوگا۔

اب دیکھیں میں آپ سے عرض کرتا ہوں۔ یہ امتحان والی جو بات ہے سٹوڈنٹس کے ساتھ جو ہوتی ہے۔ یہ اگر یہ نہ ہو تو کیا سٹوڈنٹس پڑھیں گے، کام کریں گے؟ کیونکہ ہر چیز تو ان کے مزاج کے مطابق نہیں ہوتی۔ یہ جیسے ناول وغیرہ تو اپنے مزاج کے مطابق پڑھ لیتے ہیں۔ اس میں نمبر لینے کے لیے تو نہیں پڑھتے۔ یا اس قسم کا اخبار وغیرہ۔ لیکن جو چیز مثال کے طور پر جس کو پڑھتے وقت نیند آئے اور مطلب بوریت محسوس ہو لیکن اس کو حاصل کرنا ہو۔ تو اب یہ بات ہے کہ اس کو صرف جس کو امتحان یعنی پاس ہونے کی امید ہو کہ مطلب میں اس کو پاس کرنا چاہوں گا اور میں پاس ہو جاؤں گا۔ یا مطلب ڈر ہو کہ کہیں میں فیل نہ ہو جاؤں۔ یہ ساری باتیں تو اس طرح، اسی طریقے سے ہماری جو یوم جزا ہے، یہ بھی یقینی بات ہے۔ یہ آنے والی ہے۔ تو ایسی صورت میں جس کو یہ یعنی اس بات کا خیال ہو کہ مجھے وہاں کامیاب ہونا ہے۔ اور اللہ کے سامنے سرخرو ہونا ہے۔ اللہ جل شانہٗ کے سامنے اچھی حالت میں سامنے آنا ہے۔ تو اب جس کو یہ خیال ہو گا تو وہ کہے گا کہ میں وہ کروں جو اللہ چاہے گا۔ پھر ذہن میں اس کی یہ سوچ آئے گی کہ اللہ کیا چاہتا ہے؟ تو جواب آئے گا کہ اللہ وہی چاہتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے، تم بھی اس طرح کرو۔ اب ہم پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کو دیکھیں گے اور اس کے مطابق عمل کریں گے۔ یہ اٹومیٹک بات ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکمل وہ اتباع نصیب فرما دے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔

اُسوۂ رسول ﷺ اور فکرِ آخرت - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور