حقیقتِ نورِ محمدی ﷺ اور تقاضائے محبتِ رسول (کثرتِ درود، تزکیہ اور آدابِ نعت)
خواتین کے لیے اصلاحی بیان
- ربیع الاول کے مہینے کی تکوینی نسبت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یاد آنا اور درود شریف کا اہتمام فطری بات ہے۔
- درود شریف ہر وقت پڑھنے کا حکم ہے، لیکن اس مہینے کو کثرتِ درود کی عادت ڈالنے کا ذریعہ بنانا مفید ہے۔
- تسبیح اور ذکر کی مجالس وہ نفسیاتی طریقے ہیں جو انسان کو ذکر اور درود شریف کی کثرت کا عادی بناتے ہیں۔
- درود شریف کی اجتماعی مجالس اور مقررہ اہداف کی ترغیب سے لوگ روزانہ ہزاروں مرتبہ درود پڑھنے کے عادی بن جاتے ہیں۔
- مشائخ کا دیا ہوا ذکر نفس کی اصلاح کا علاج ہونے کے سبب درود شریف سے بھی افضل ہے کیونکہ اپنی اصلاح فرضِ عین ہے۔
- موجودہ دور کی ظلمتوں سے محفوظ رہنے کے لیے درود شریف کی کثرت اور سیرتِ طیبہ کا مطالعہ مؤثر ترین وسیلہ ہے۔
- اللہ تعالیٰ نے اپنے جمال و کمال کے ظہور کے لیے سب سے پہلے اپنے نور کے فیض سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نور پیدا فرمایا۔
- کائنات کی تمام اشیاء، قلم، لوح اور عرش سمیت ہر چیز اسی نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے پیدا کی گئی ہے۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی خاتم النبیین طے شدہ تھے جب حضرت آدم علیہ السلام ہنوز روح اور جسد کے درمیان تھے۔
- عالمِ میثاق میں ربوبیت کے سوال پر سب سے پہلے اقرار کرنے کے سبب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاء پر تقدم حاصل ہے۔
- تصوف کا اصل مقصد نفسِ امارہ کو مغلوب کر کے روح کو غالب کرنا ہے تاکہ انسان عالمِ ارواح والے اقرار پر قائم رہ سکے۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نور مبارک حضرت آدم، نوح اور ابراہیم علیہم السلام کے پاکیزہ واسطوں سے منتقل ہوتا ہوا دنیا میں جلوہ گر ہوا۔
- نعت پڑھنا تلوار پر چلنے کے مترادف ہے جس میں افراط و تفریط سے بچتے ہوئے انتہائی ادب ملحوظِ خاطر رکھنا لازمی ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ۔ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ۔ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ۔ وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: أَنَا رَحْمَةٌ مُهْدَاةٌ۔
ربیع الاول کے مہینے میں یقیناً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر ایک کو یاد آنا یہ فطری بات ہے۔ جیسے کوئی مدینہ منورہ پہنچ جائے۔ تو وہاں سخت سے سخت دل والا بھی درود شریف پڑھنے لگتا ہے؛ کیونکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شہر ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ادھر مدفون ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کا تعلق جو ہے وہ اس شخص کے سامنے ہوتا ہے۔ ہر ہر ذرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق کا مظہر ہوتا ہے۔ اس طرح ربیع الاول کا مہینہ زماناً یعنی وہ مکاناً ہے۔ تو یہ زماناً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق کا مظہر ہے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس مہینے کے ساتھ ایسے تکوینی تعلق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے تو ربیع الاول کا مہینہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے تشریف لے گئے تو ربیع الاول کا مہینہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بعثت مبارک ہوئی یعنی نبوت عطا ہوئی بھی ربیع الاول کا مہینہ تھا۔ اس وجہ سے ربیع الاول کے مہینے سے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ تکوینی نسبت ہے۔ اس لحاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یاد آنا یہ فطری بات ہے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ربیع الاول کے مہینے میں درود شریف پڑھنا کون سی خاص بات ہے؟ ہم کہتے ہیں بالکل یہی بات ہے کہ ربیع الاول کے مہینے میں صرف نہیں پڑھنا چاہیے بلکہ ہر وقت پڑھنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ پاک کا حکم عام ہے۔
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔ بے شک اللہ اور اس کے فرشتے اس عظیم نبی پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ اے مومنو! تم بھی ان پر درود و سلام اہتمام کے ساتھ بھیجا کرو۔
اس وجہ سے اس میں ربیع الاول کا کوئی خاص مطلب وہ نہیں ہے کہ اسی مہینے میں بھیجنا چاہیے باقی مہینوں میں نہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے۔ لیکن اگر کسی کو عادت نہیں ہے۔
ہے بہت اہم بات مثلاً ذکرِ اللہ، اللہ پاک نے ذکر کے اندر کتنا کچھ رکھا ہوا ہے۔ یہاں تک فرمایا گیا کہ جو ذکر کرنے والا ہے وہ زندہ ہے اور جو ذکر نہ کرنے والا ہے وہ مردے کی طرح ہے۔ اس حد تک ذکر کی افادیت ہے، اہمیت ہے اور ضرورت ہے۔ لیکن لوگ آگاہ نہیں ہوتے یا غافل ہوتے ہیں، پتہ نہیں ہوتا یا پتہ نہیں چلتا۔ تو اس لحاظ سے اگر کسی ذکر کی مجلس میں پہنچ جائیں، اور وہاں وہ ذکر شروع کر لے۔ تو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ اس مجلس میں ذکر کرنا تو خاص نہیں، ہر جگہ ذکر کرنا چاہیے۔ ہاں بالکل ٹھیک ہے، ہر جگہ کرنا چاہیے۔ لیکن اس ذکر کی مجلس سے اگر کسی کو یاد آ گیا تو اچھی بات ہوئی یا اچھی بات نہیں ہوئی؟ اب ہر جگہ کرے نا۔ اب تو ممانعت تو نہیں ہے تو ہر جگہ کرے۔
اسی طریقے سے ربیع الاول کے مہینے میں اگر کسی کو درود شریف یاد آ گیا زیادہ کرنا۔ ویسے تو درود شریف ہر حالت میں ہر مومن کرتا ہی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز میں درود شریف ہے۔ اذان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک آتا ہے۔ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ۔ تو حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو اذان ہو جائے تو اذان کے الفاظ کے ساتھ ساتھ تم بھی وہی الفاظ پڑھو جو مؤذن کہتا ہے۔ جب مؤذن اذان مکمل کر لے، تو پھر تم درود شریف پڑھو۔ اور پھر اس کے بعد یہ پڑھو: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ۔۔۔ تو اب درود شریف پڑھنا تو اس وقت بھی ہے۔ اس طریقے سے بہت سارے مواقع ہیں جہاں پر درود شریف پڑھا جاتا ہے حتیٰ کہ اللہ پاک نے فرمایا: وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ۔ تو اس کے بارے میں جو جبرائیل علیہ السلام نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے، کہ کیا آپ کو پتا ہے کہ یہ کیوں کہا گیا؟ اس کا مطلب کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ بہتر جانتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا اللہ پاک فرماتے ہیں کہ جہاں میرا ذکر ہوگا وہاں تیرا ذکر ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ذکر جہاں جہاں پر بھی ہوگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ذکر ہوگا۔ تو اس وجہ سے درود شریف ہر مومن پڑھتا ہے۔ لیکن وہ ایک محدود تعداد ہوتی ہے۔ محدود مواقع ہیں، اس میں پڑھتا ہے۔ یہ جو بہت زیادہ پڑھنے والی جو عادت ہے، یہ ربیع الاول کے مہینے میں اگر کسی کو پڑ جائے تو مجھے بتاؤ یہ اچھی بات ہے یا اچھی بات نہیں ہے؟ عادت ڈالنے والی بات ہے نا، عادت ڈل گئی۔
اس طرح بعض لوگ یہ درود شریف کی مجالس پہ اعتراض کرتے ہیں کہ درود شریف کی مجالس کیوں؟ خواہ مخواہ اس کی کیا اہمیت ہے، کیوں ضرورت ہے؟ ہم کہتے ہیں دیکھو خدا کے بندو، نفسیاتی طریقے جو ہوتے ہیں علاج کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں، نفسیاتی طریقے۔
ایک دفعہ ایسا ہوا، ہمارے ایک دوست تھے۔ اس کا ایک بیٹا تھا، وہ بہت شریر تھا، شرارتیں بہت کیا کرتا تھا۔ پریشان تھا اس سے۔ اس کو نفسیاتی ماہر کے پاس لے گیا، کہ آپ اس کو کچھ گائیڈ کریں، کس طریقے سے شرارتیں چھوڑ دے اور کچھ پڑھنا وڑھنا شروع کر لے۔ انہوں نے اس کی پوری کیس ہسٹری لی۔ کسی پیر کی بات نہیں کر رہا۔ یعنی مطلب یہ سائیکاٹرسٹ کی بات کر رہا ہوں، ٹھیک ہے؟ مطلب ان کے پاس لے گئے۔ تو انہوں نے اس کو جو نصیحت کی وہ کیا تھی کہ بیٹا! یہ ایک فقرہ ہے، پانچ دفعہ آپ نے روزانہ پڑھنا ہے۔ چاہے تو اس کو سمجھتا ہو یا نہیں سمجھتا ہو، لیکن پانچ دفعہ اس کو پڑھنا ہے۔ اور وہ کیا بتایا؟ بے ہنر سے ہنرمند اچھا ہوتا ہے۔ بے ہنر سے ہنرمند اچھا ہوتا ہے۔ یہ پانچ دفعہ آپ نے روزانہ پڑھنا ہے۔ کیوں بتایا؟ اس لیے کہ جب یہ پڑھے گا تو اس کی طرف کسی وقت تو ذہن جائے گا نا۔ کسی وقت تو ذہن جائے گا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ تو اس کا اس کے اوپر اثر ہوگا۔
تو اسی طریقے سے یہ جو ہم کہتے ہیں تسبیح، اس پر بھی بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں۔ بھئی انگلیوں سے آپ کریں نا، مسنون تو انگلیوں سے کرنا ہے۔ تو تسبیح کے ساتھ کیوں آپ ذکر کرتے ہیں، لوگ اعتراض کرتے ہیں۔ ہم ان کو کہتے ہیں ہم نے آپ کو کب روکا ہے کہ آپ انگلیوں پر ذکر نہ کریں؟ کبھی کہا ہے آپ کو؟ اگر کبھی کہا ہو تو آپ ہمیں گناہ گار کہہ دیں۔ ہم نے تو آپ کو انگلیوں پر ذکر کرنے سے نہیں روکا۔ البتہ یہ بات ضرور کہہ دیں گے کہ جن کے ہاتھ میں تسبیح ہے تم بھی اتنی تعداد میں پڑھ کے دکھاؤ۔ اگر کسی کو تسبیح کی وجہ سے ایک دفعہ ذکر کرنا زیادہ نصیب ہو جائے تو تسبیح کی افادیت تو ثابت ہو گئی نا؟ ایک دفعہ اللہ کا نام اس کو زیادہ مل گیا تو اس کا فائدہ سامنے آ گیا یا نہیں آیا؟ میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ اگر کسی کی بڑی قیمتی تسبیح ہو یعنی اس میں سب موتی ہی موتی ہوں، اور اس پر ذکر کرے اللہ ایک دفعہ کہہ دے۔ اور پھر اس کی وہ تسبیح کوئی چھین لے یا کوئی گم ہو جائے یا کوئی اور بات ہے، تو اس پہ غم نہیں کرنا چاہیے اس نے اپنا کام کر دیا ہے۔ اللہ ایک دفعہ کہنا نصیب ہونا معمولی بات نہیں ہے۔ ٹھیک ہے آپ اس کو ابھی فی الحال نہیں سمجھتے لیکن آخرت میں پتہ چل جائے گا کہ اللہ ایک دفعہ کہنے کا مطلب کیا تھا۔ تو اسی طریقے سے اگر آپ کو تسبیح کی برکت سے زیادہ تعداد میں ذکر نصیب ہوتا ہے تو میرا اپنا خیال ہے کہ شاید آپ سوچنا نہیں چاہتے، ورنہ اگر سوچتے تو آپ اس کی افادیت کے قائل ہو جاتے۔
اس طرح تسبیح کے بعد یہ جو ہم مل کے بیٹھتے ہیں اور پڑھتے ہیں درود شریف۔ مجالس ہیں درود شریف کی۔ اگر ان مجالسِ درود شریف کو آپ دیکھ لیں، انہی مجالس سے ایسے لوگ تیار ہوئے الحمد للہ، ہمارے دیکھا دیکھی بات کرتا ہوں کسی اور کی سنی سنائی بات نہیں کر رہا ہوں۔ دیکھا دیکھی کی بات کر رہا ہوں۔ ان میں ایسے لوگ بھی بن گئے جو روزانہ دس ہزار مرتبہ درود شریف پڑھتے ہیں۔ پانچ ہزار مرتبہ درود شریف پڑھتے ہیں، ہزار مرتبہ تو بہت سارے پڑھنے والے ہیں۔ کیوں، کیسے؟ یہ انہی سے پیدا ہوئے ہیں۔ یہی درود شریف کی مجالس تھیں، عادت پڑ گئی۔ اور پھر اس کے بعد راستہ کھل گیا۔ اور الحمد للہ اب کر رہے ہیں۔ تو یہ نفسیاتی طریقے ہیں۔ ممنوع نہیں ہیں، نفسیاتی طریقے ممنوع نہیں ہیں۔ ہاں اگر کوئی خاص قید کر دے گا اس کو، کہ بھئی تسبیح سے آپ ذکر کریں گے، وہ تو اللہ کو مقبول ہے، کسی اور طریقے سے مقبول نہیں، سب سے پہلے اس کی مخالفت ہم کریں گے۔ ہم کہیں گے نہیں، ایسا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف اس کے لیے نہیں کہا، بلکہ تسبیح سے کریں، انگلیوں سے کر لیں، ویسے کر لیں۔
کہتے ہیں بعض لوگ ذکر کی کنجیاں ہوتی ہیں، وہ اتنی تعداد میں ذکر کرتے ہیں کہ اللہ پاک ان کو اس لحاظ سے قبول فرما لیتے ہیں، ان کو ذکر کی کنجیاں بنا لیتے ہیں۔ اور وہ کیسے؟ ان کو دیکھ کر ذکر یاد آ جاتا ہے۔ ان کو دیکھ کر ذکر یاد آ جاتا ہے، ادھر ذکر کرنا شروع کر لیتے ہیں، یہ ان کی ایک افادیت ہوتی ہے، ان کا فائدہ ہوتا ہے۔ ان کا کام ایسے ہی ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ ماشاء اللہ، اللہ پاک نے اس چیز کو وابستہ کیا ہوتا ہے۔ تو میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ یہ جو ذکر کے جو حلقے ہیں، بہت بڑی نعمت ہیں۔ اس طرح جو درود شریف کی مجالس ہیں، ماشاء اللہ رحمتوں کے خزانے ہیں۔ ایک دفعہ درود شریف پڑھو گے تو دس رحمتیں اترنی یقینی ہیں۔ آپ ماشاء اللہ مجلس کی برکت سے پانچ ہزار مرتبہ پڑھنا، دس ہزار پڑھنا تو یہ بالکل آسان سی بات ہے، اس میں تو کوئی مشکل ہی نہیں ہوتی، تھوڑی دیر میں ہو جاتا ہے۔
تو اس لحاظ سے میں عرض کرتا ہوں کہ مطلب جو درود شریف کی مجلس، آپ اس کو سمجھ لیں ربیع الاول کے مہینے کو۔ آپ کہتے ہیں میں درود شریف کی مجلس میں ہوں، اور درود شریف میں پڑھ رہا ہوں، درود شریف پڑھنا سیکھ رہا ہوں۔ سیکھنے کے لحاظ سے تو بہت ساری چیزوں کی اجازت ہوتی ہے نا، جب انسان سیکھتا ہے تو بہت ساری چیزوں کی اجازت ہوتی ہے۔ تو یہ آپ کہہ دیں کہ میں درود شریف پڑھنا سیکھ رہا ہوں اس میں، اور زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھنا میں سیکھ لوں گا ان شاء اللہ اس سے۔
اب الحمد للہ، اللہ کا شکر ہے الحمد للہ، ہم نے ایک اللہ کے کرم سے ایک پروگرام شروع کیا۔ یہ آٹھ سے چار سال پہلے کی بات ہے، کہ ہم نے ساتھیوں کو کہا بھئی درود شریف پڑھو اور ہمیں اطلاع کر دو اخیر میں، پورے مہینے کے گزرنے کے بعد۔ آپ نے جتنا پڑھا ہوگا، کم از کم ایک لاکھ پچیس ہزار مرتبہ ضرور پڑھ دیا کرو، پڑھ لو، اور پھر ہمیں اطلاع کر دو۔ ہم ان شاء اللہ مدینہ منورہ کے کچھ ساتھی ہیں، الحمد للہ وہاں مستقل ہیں الحمد للہ، تو ان کو پہنچا دیں گے تو وہ ان شاء اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس پہ پیش فرما لیں گے۔ ویسے بھی پہنچتا ہے۔ یعنی اگر کوئی یہاں سے درود شریف پڑھتا ہے تو ویسے بھی پہنچتا ہے۔ یعنی اس میں کوئی دوسری بات نہیں ہے۔ لیکن دیکھیں میں آپ کو ایک بات بتاؤں، اگر کوئی شخص مدینہ منورہ جا رہا ہو، تو کیا آپ اس کو نہیں کہتے کہ میرا بھی سلام کہنا؟ کہتے ہو یا نہیں کہتے ہو؟ تو پھر کیوں کہتے ہو؟ درود تو ادھر سے بھی پہنچتا ہے، سلام تو ادھر سے بھی پہنچتا ہے تو پھر ان کو کیوں کہتے ہو؟ اس کا مطلب ہے اس کی کچھ خصوصیت ہے۔ اس جگہ پہ براہ راست آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو سنتے ہیں، اس کی خصوصیت ہے۔ لہذا اگر ہم اس کا انتظام کر لیتے ہیں تو خوش نصیبی کی بات ہے۔
تو ایسے ہے کہ مطلب اس سے ہم نے شروع کر لیا، اللہ کا شکر ہے، پہلے سال ایک کروڑ مرتبہ ہو گیا۔ دوسرے سال چار کروڑ مرتبہ ہو گیا۔ تیسرے سال ہماری توقع آٹھ کروڑ کے حساب سے تھی گزشتہ experience کی بنیاد پر کہ دگنا ہوا تھا یعنی دگنے سے زیادہ ہوا تھا۔ تو کیا ہوا؟ وہ الحمد للہ چودہ کروڑ ہو گیا۔ اور ہم نے ساتھیوں سے کہا کہ بھئی گزشتہ سال چودہ کروڑ ہو گیا تو آپ کریں۔ الحمد للہ چونتیس کروڑ مرتبہ ہو گیا، اللہ کا شکر ہے الحمد للہ۔ اللہ پاک دے رہا ہے، اس کا کرم ہے۔ اب اگر ہم یہ پروگرام نہ چلاتے تو آپ اندازہ کر لیں کتنا ہوتا؟ چلانے کے بعد یہ فائدہ ہو گیا۔ میں آپ کو ایک بات بتاؤں، آسان سی بات ہے سمجھنے کے لیے باتیں بتا رہا ہوں۔
تہجد کی نماز فرض ہے یا نفل ہے؟ نفل ہے۔ فائدے بہت زیادہ ہیں، بہت زیادہ ہیں۔ کوئی کسی سے تہجد کی نماز نہ پڑھنے پہ خفا نہیں ہو سکتا کیونکہ نفل ہے۔ ترغیب دی جا سکتی ہے لیکن آپ اس کے نہ کرنے والے کو ملامت نہیں کر سکتے۔ بلکہ ملامت اس کو کی جائے گی جو اس پر ملامت کرے گا۔ لیکن یہی تہجد اگر شیخ اس کو اپنی تربیت کا ذریعہ بنا دے گا تو شیخ اس پہ زجر کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ اس کے لیے تو تربیت کا ذریعہ ہے۔ جیسے دوائی ہوتی ہے، دوائی، تو دوائی پہ کوئی کسی کو نہیں کہہ سکتا کہ تم نے دوائی کیوں نہیں کھائی، لیکن اگر ڈاکٹر کے پاس آپ گئے ہیں اور ڈاکٹر نے دوائی دی، تو ڈاکٹر تو کہہ سکتا ہے کہ تم نے دوائی کیوں نہیں کھائی؟ دوائی کھانا نہ فرض ہے، نہ واجب ہے، نہ سنت ہے، نہ مستحب ہے۔ لیکن اس نے جو دوائی دی آپ کی بیماری کے لیے تو اس کے لیے تو یہ ذریعہ بن گیا تو اس پر وہ ناراض بھی ہو سکتے ہیں آپ سے۔ کہہ سکتے ہیں میں تمہارا علاج نہیں کرتا، آپ نے میری بات نہیں مانی۔ تو اس طریقے سے اگر مشائخ اس کو ذریعہ بنا دیں تربیت کا تو پھر اس کا رخ بدل جاتا ہے۔ یہ جو ذکر کے جو حلقے ہوتے ہیں یہ بھی اسی رینج میں ہوتے ہیں۔ یہ جو ہم لوگ مطلب کرتے ہیں۔ یہاں تک فرماتے ہیں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، عجیب بات فرمائی ہے۔ صحیح بات ہے ہماری ہمت نہیں ہے ایسی بات کرنے کی، اگر حضرت یہ بات نہ فرماتے تو ہماری جرات نہیں ہو سکتی تھی۔ حضرت نے فرمایا۔ بڑا عجیب نکتہ ہے۔ مکتوب شریف 57 جلد نمبر دوم۔ حضرت فرماتے ہیں۔ عام ذکر سے درود شریف پڑھنا افضل ہے۔ عام ذکر سے درود شریف پڑھنا افضل ہے کیونکہ درود شریف میں ذکر بھی ہے، دعا بھی ہے اور درود تو ہے ہی۔ اب جب آپ کہتے ہیں اللّٰهُمَّ صَلِّ تو کیا چیز ہو گیا؟ دعا ہو گئی نا۔ اللَّهُمَّ صَلِّ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ کیا ہے؟ ذکر ہے۔ اور درمیان میں، یہ درود پاک ہی ہے۔ تو اس میں درود پاک بھی ہے، ذکر بھی ہے اور ساتھ دعا بھی ہے، تینوں حیثیتیں اس کی ہیں، لہذا یہ افضل ہے۔ فرمایا لیکن مشائخ جو ذکر دیتے ہیں۔ یہ درود شریف سے بھی زیادہ افضل ہے۔ مشائخ جو ذکر دیتے ہیں یہ درود شریف سے بھی زیادہ افضل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ذکر جو ہے یہ علاج کے لیے ہے۔ اور علاج کس چیز کے لیے؟ اپنی اصلاح کے لیے، اور اصلاح کرنا اپنی یہ فرض عین ہے۔ موت سے پہلے پہلے اپنی اصلاح کرنا فرض عین ہے۔ تو ہر چیز کا جو ذریعہ ہوتا ہے وہ اسی کا مقدمہ ہوتا ہے، لہذا اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ تو اس کی اہمیت اس کے مطابق ہوتی ہے۔ اب ساری باتیں کھل گئیں الحمد للہ۔
تو اس لحاظ سے میں عرض کرتا ہوں کہ الحمد للہ اللہ کا شکر ہے الحمد للہ ایک اجتماعی اصلاح کی صورت بنانے کے لیے، اگر ایسے انتظامات ہو جائیں تو بڑے مستحسن ہوتے ہیں۔ میں نشر الطیب فی ذکر الحبیب اس کے بارے میں عرض کروں گا، یہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھی ہے۔ تو انہوں نے وجہ جو تالیف کی لکھی ہے کہ اس وقت مسلمانوں پہ جو مشکلات ہیں، اور جو مصائب ہیں۔ ان مصائب کے حل کے لیے درود شریف کو فروغ دینا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو بیان کرنا بہت بڑا وسیلہ ہے۔ اس لیے میں یہ کتاب لکھ رہا ہوں، سیرتِ نبی پر۔ جو واقعی بہت بڑی کتاب ہے ماشاء اللہ۔ نشر الطیب فی ذکر الحبیب صلی اللہ علیہ وسلم۔ تو یہ ماشاء اللہ حضرت نے۔۔۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم لوگوں کو درود پاک کی کثرت کرنی چاہیے آج کل کے دور میں بالخصوص۔
اس کی وجہ یہ ہے، کہ ظلمتیں بہت زیادہ ہو گئی ہیں۔ ظلمتیں بہت زیادہ ہو گئی ہیں ہمارے اعمال کی وجہ سے۔
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ۔ زمین بحر و بر میں فساد برپا ہو گیا لوگوں کے اعمال کی وجہ سے۔
تو بہت زیادہ بہت زیادہ یعنی ظلمتیں آ گئی ہیں۔ ان ظلمتوں کے اندر اپنے آپ کو محفوظ کرنا یہ بالکل اصحاب کہف والی بات ہے۔ بہت زیادہ محنت اور کوشش کرنی پڑتی ہے اپنے آپ کو محفوظ کرنے کے لیے۔ تو ایسے ذرائع پیدا کرنا ایسے دوروں میں اور ایسے حالات میں یہ مشائخ کا کام ہوتا ہے۔ بیشک عام لوگوں پہ وہ باتیں نہیں کھلی ہوتیں۔ عام لوگ ان چیزوں کو نہیں جانتے، نہیں سمجھتے۔ لیکن جن کو پتہ ہوتا ہے ان کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ کام میں کیوں کر رہا ہوں اور اس کی وجہ کیا ہے اور اس سے کیا کیا چیزیں ہوں گی۔
تو اس طریقے سے درود شریف کی جو بات حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے خصوصی طور پر شروع کی درود شریف کی مجالس کی۔ پھر حضرت کے خلفاء میں صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے حضرات نے اس کو جو خصوصی مشن بنایا کہ ہر جگہ پر درود شریف کی مجالس شروع کر لیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی۔ کیونکہ آج کل کے دور میں واقعی اس کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔
تو یہ جو کتاب میرے سامنے ہے، العطور المجموعة في ذكر النبي الحبيب صلى الله عليه وسلم یہ حضرت صوفی محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ہے۔ اور اس میں حضرت نے چونکہ... یہ اس کی بنیادی بنیاد جو ہے وہ حضرت فرماتے ہیں کہ نشر الطیب فی ذکر الحبیب ہے اس کی تشریح ہے۔ یعنی وہ جو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ہے اور ساتھ ساتھ مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے جو کتب کے آثار ہیں وہ اس میں شامل کیے گئے ہیں۔ تو ان دو چیزوں کو جمع کیا گیا ہے۔ تو اس سے یہ کتاب... اور ہمارے لیے اس میں ماشاء اللہ ایک اور بات بھی ہے کہ اس پہ تقریظ جو لکھی ہے وہ ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے لکھی ہے۔ تو یہ ہمارے لیے تو بہت زیادہ ماشاء اللہ اہمیت ہو گئی۔ تو اس میں حضرت نے سٹائل وہی لیا ہے خوشبوؤں کے انداز میں۔ پہلی مجلس کی خوشبوئیں، دوسری مجلس کی خوشبوئیں، تیسری مجلس کی خوشبوئیں یہی صورت لی ہے۔ تو اب آج میں دوسری مجلس کی خوشبوئیں شروع کر رہا ہوں۔
نورِ محمدی کا بیان۔
قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ۔
نبی خود نور اور قرآن ملا نور
نہ ہو کیوں مل کے پھر نور علی نور
کائنات کا ظہور۔
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: وَإِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ۔ یعنی اللہ تعالیٰ حسین ہے اس کو حسن محبوب ہے۔ حسن کا تقاضا اپنے ظہور اور اپنی معرفت کرانا ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت اور اپنے جمال و کمال کو ظاہر کرنے کے لیے مخلوق پیدا فرمائی۔ روایات اور عارفین کے اقوال سے اس مطلب کی تائید ہوتی ہے اور سب سے پہلے اپنی صفت خلق کو ظاہر کیا۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نور پیدا فرمایا۔ اور اس کو اپنے صفاتِ جمال و کمال کا جامع بنایا۔ پھر مجموعۂ کمالات کی تفصیل کے لیے جملہ کائنات کو اسی نور سے پیدا کیا۔ اور یہ بھی ثابت ہوا کہ اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے لیے تمام کائنات کو پیدا فرمایا۔
حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ جو دیوبند کے بانی ہیں، فرماتے ہیں:
طفیل آپ کے کائنات کی ہستی
بجائے کہیے اگر تم کو مبدأ الآثار
لگاتا ہاتھ نہ پتلے کو بوالبشر کے خدا
اگر ظہور نہ ہوتا تمہارا آخر کار
پہلی روایت۔
عبدالرزاق نے اپنی سند کے ساتھ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، مجھ کو خبر دیجئے کہ سب اشیاء سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کون سی چیز پیدا کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے جابر! اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے... نہ باِیں معنی کہ نورِ الٰہی اس کا مادہ تھا بلکہ اپنے نور کے فیض سے۔
یہاں یہ اصل میں دھوکا ہوتا ہے بعض لوگوں کو۔ اور ہر چیز کے لیے بڑی قوی سند کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ عقائد کے مسئلے ہیں مطلب یہ کوئی ادھر ادھر کی باتیں نہیں ہیں۔ تو کہتے ہیں جیسے ہم کہتے ہیں میں نے اپنی چیز سے اس چیز کو بنایا۔ تو اسی طرح اللہ نے فرمایا میں نے اپنے نور سے اس کو بنایا۔ تو لوگ سمجھتے ہیں کہ چونکہ اللہ نور ہے لہذا اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وجود میں آ گئے اس طرف لے جاتے ہیں، نہیں نہیں ایسا نہیں، اپنے نور سے مراد یہ ہے اضافت کا صیغہ ہے۔ اضافت کس کو کہتے ہیں؟ جیسے یہ میری کتاب ہے۔ یہ اضافت ہے۔ اپنے نور سے مراد یہ ہے کہ جو میں نے نور پیدا کیا ہے، اس نور سے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو، وہ کیا، اپنے نور سے۔ کیونکہ اللہ جل شانہ جو ہے وہ تو ان کی ذات تو وراء الوریٰ ہے۔ اس کی طرف تو آپ کسی چیز کی نسبت ہی نہیں کر سکتے۔ کسی چیز کی نسبت ہی نہیں کر سکتے، لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ۔ اس کی طرح کچھ بھی نہیں ہے۔ لیس کمثلہ شیء۔ قرآن پاک بتاتا ہے، تو اللہ جل شانہ کی ذاتِ عالی، وہ تو مطلب یہ ہے کہ وراء الوریٰ ہے، اس کے بارے میں تو یہ بات ہو ہی نہیں سکتی کہ کوئی چیز اللہ کے کسی جز کی طرح ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اللہ جل شانہ ان تمام چیزوں سے بالا ہے۔ ہاں البتہ یہ ہم کہہ سکتے ہیں اللہ جل شانہ نے اپنے نور کے فیض سے جو خاص نور بنایا تھا، اس کے نور کے فیض سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاص نور بنا دیا، یہ والی بات ہے۔
پھر وہ نور قدرتِ الٰہیہ سے جہاں اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا سیر کرتا رہا، اس وقت نہ لوح تھی، نہ قلم تھا، نہ بہشت تھی، نہ دوزخ تھا۔ نہ فرشتہ تھا، نہ آسمان تھا، نہ زمین تھی، نہ سورج تھا، نہ چاند تھا، نہ جن تھا، نہ انسان تھا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنا چاہا تو اس نور کے چار حصے کیے، اور ایک حصے سے قلم پیدا کیا، اور دوسرے سے لوح، اور تیسرے سے عرش۔ آگے طویل حدیث ہے۔ اس حدیث سے نورِ محمدی کا اول خلق ہونا بمعنی اولیت حقیقیہ ثابت ہوا کیونکہ جن جن اشیاء کی نسبت روایات میں اولیت کا حکم آیا ہے، ان اشیاء کا نورِ محمدی سے متاخر ہونا اس حدیث میں منصوص ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت اور ختم الرسل ہونے میں اولیت۔
دوسری روایت: حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک خاتم النبیین ہو چکا تھا اور آدم علیہ السلام ہنوز اپنے خمیر ہی میں پڑے تھے یعنی ان کا پتلا بھی ابھی تیار نہیں ہوا تھا۔ روایت کیا اس کو احمد اور بیہقی نے اور حاکم نے اس کو صحیح الاسناد بھی کہا ہے۔ اور مشکوٰۃ میں شرح السنۃ سے بھی یہ حدیث مذکور ہے،
ہنوز آدم اندر گل و آب بود
کہ او قبلہ ہفت محراب بود
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہم کہتے ہیں اولین و آخرین۔ تو آخرین تو سمجھ میں آتا ہے۔ تو اولین کیسے ہیں؟ تو اولین اس طرح ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور مبارک کو سب سے پہلے پیدا کیا گیا تھا۔ تمام چیزوں سے پہلے پیدا کیا تھا۔ اس وجہ سے وہ اولین ہیں۔ باقی آدم علیہ السلام نے جو لکھا دیکھا تھا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ تو اس کے وسیلے سے جو دعا مانگی تھی۔ تو پتہ چل گیا کہ پہلے سے یہ ساری چیزیں طے ہو گئی تھیں۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دنیا میں تشریف لانا اگرچہ اخیر میں ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلے سے انتظام کیا جانا یہ مطلب ظاہر ہے پہلے سے طے شدہ بات تھی۔ لہذا اولین و آخرین ان کو کہتے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ آپ کے لیے نبوت کس وقت ثابت ہو چکی تھی؟ آپ نے فرمایا اس جس وقت آدم علیہ السلام ہنوز روح اور جسد کے درمیان تھے یعنی ان کے تن میں جان بھی نہیں آئی تھی۔ روایت کیا اس کو ترمذی نے، اس کو حدیث کو اس حدیث کو حسن کہا ہے۔ اور ایسے الفاظ میسرہ ضبی کی روایت میں بھی آئے ہیں امام احمد نے اور بخاری نے اپنی تاریخ میں اور ابو نعیم نے حلیہ میں اس کو روایت کیا اور حاکم نے اس کی تصحیح کی ہے۔
یوم میثاق۔
چوتھی روایت: شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کب نبی بنائے گئے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدم علیہ السلام اس وقت روح اور جسد کے درمیان میں تھے، جبکہ مجھ سے میثاقِ نبوت لیا گیا، كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ۔ روایت کیا اس کو ابن سعد نے جابر جعفی کی روایت سے ابن رجب کے ذکر کے مطابق۔
پہنچ سکا ترے رتبہ تلک نہ کوئی نبی
ہوئے ہیں معجزے والے بھی اس جگہ ناچار
جو انبیاء ہیں وہ آگے تری نبوت کے
کریں امتی ہونے کے یا نبی اقرار
ایک بات میں عرض کرتا ہوں اگر کسی کی یہ باتیں سمجھ میں نہیں آتیں، تو میں ان کو قرآن پاک کی ایک آیت سناتا ہوں، پھر اس کی شرح مجھے کر لیں بتا دیں پھر۔ قرآن پاک کی آیت ہے کہ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمُ؟ قَالُوا بَلٰى۔ یہ ارواح سے کہا گیا تھا۔ ارواح سے کہا گیا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ تو سب نے کہا کیوں نہیں؟ اس وقت وہ پیدا تھے؟ اس وقت پیدا تو نہیں تھے مطلب یہ کہ اس وقت تو عالمِ ارواح میں تھے۔ اس کا قرآن میں ذکر آ رہا ہے کہ کیا میں تمہارا رب نہیں؟ سب نے کہا جی رب۔ اب اس کی کیا تشریح کریں گے؟ تو اللہ جل شانہ کے سامنے تو ساری پہلے چیزیں طے ہو چکی تھیں۔ ہاں البتہ اس کا ظہور بعد میں ہوا جیسے ارواح نے پہلے کہہ دیا تھا، ظہور بعد میں ہو رہا ہے۔ ظہور بعد میں ہو رہا ہے یعنی پہلے وہ بات ہو چکی تھی۔
اب جو ہمارا تصوف ہے وہ اصل میں اسی آیت کے اندر چھپا ہوا ہے۔ اسی آیت کے اندر أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلٰى کیونکہ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ارواح سارے عاشق تھے اللہ کے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ارواح یہ تو -سبحان اللہ- ان کو کبھی کوئی غلط جگہ اتفاق ہی نہیں ہوا تھا۔ لہذا وہ جیسے تھے اسی طرح انہوں نے کہہ دیا جیسے فرشتے اللہ تعالیٰ کے ہوتے ہیں۔ تو انہوں نے وہی کہہ دیا انہوں نے سب نے کہا کہ ہاں کیوں نہیں۔ جس وقت ارواح پیدا ہو گئے یعنی نفسوں کے اندر آ گئے اب ہمارے نفس کے اندر جو آ گئے ہمارے جسم کے اندر آ گئے اب یہ ارواح کے ذریعے سے سارے کام ہو رہے ہیں۔ لیکن یہ اپنی مرضی نہیں چلا سکتے۔ مرضی ہمارے نفس کی چلتی ہے۔ ہم آنکھ سے دیکھتے ہیں روح ذریعہ ہے لیکن اثر نفس کا ہے۔ کان سنتا ہے ذریعہ روح ہے لیکن کیا ہے اس کا داعیہ نفس نے پیدا کیا ہے فلاں چیز کو سنو۔ بولنے کا داعیہ نفس پیدا کرتا ہے لیکن ذریعہ کیا چیز ہے؟ روح درمیان سے نکل جائے تو نفس چاہے کتنی ہی خواہش کر لے کیا کچھ کر سکتا ہے؟ نہیں کر سکتا لیکن اب یہ جو بات ہے کہ یہ جو ذریعہ ہے روح یہ مغلوب ہے۔ عام حالت میں یہ مغلوب ہے اس کو کہتے ہیں نفسِ امارہ کی حالت۔ اس کو کیا کہتے ہیں نفسِ امارہ کی حالت کہ جب یہ روح مغلوب ہوتا ہے اور نفس غالب ہوتا ہے۔ پھر جو لوگ محنت کرتے ہیں اور اپنے روح کو اپنے نفس پہ غالب کر دیتے ہیں اور نفس، نفسِ مطمئنہ بن جاتا ہے یہ ماشاء اللہ منتہی کی بات ہوتی ہے اور یہ محنت سے حاصل ہوتا ہے اسی کے ہم مکلف ہیں یہی تصوف ہے سمجھ میں آگئی نا بات۔ یہی تصوف ہے۔ اسی پہ ہمیں چلنا ہے۔
اس لیے مطلب یہ ہے کہ اب یہ جو بات ہے قَالُوا بَلٰى والی بات یہ ہماری ابتدا ہے۔ اور نفسوں میں جس وقت ہم آگئے یہ ہماری ابتلا ہے۔ اور پھر اس سے جو آزادی ہے وہ ہمارا مدعا ہے۔ اور وہی ہماری وہ کیا ہے؟ گویا کہ ہمارا نفس اس کا جو امارہ پن ہے جب یہ فنا ہو جائے۔ تو پھر دوبارہ وہ روح کی جب بادشاہی قائم ہو جائے یہی اس کی بقا ہے اس کے ذریعے سے پھر ہم الحمد للہ اللہ پاک کے احکامات مانتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں ذریعہ بناتے ہیں یہی سارا تصوف ہے بیشک الفاظ آپ آگے پیچھے کر لیں میں اس کے بارے میں کچھ نہیں کہتا ہوں یہ تو صرف تشریح کی بات ہے کسی وقت کس طرح تشریح کی جاتی ہے کسی وقت کس طرح تشریح کی جاتی ہے لیکن بہرحال چیز تو یہی ہے۔ کہ ہم نے روح کو نفس کے اوپر غالب کرنا ہے۔ روح کو نفس کے اوپر غالب کرنا ہے۔
آدم علیہ السلام سے چودہ ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ کے حضور میں۔
پانچویں روایت: حضرت علی بن الحسین یعنی امام زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے وہ اپنے باپ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اور وہ ان کے جد امجد یعنی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں آدم علیہ السلام کے پیدا ہونے سے چودہ ہزار سال پہلے اپنے پروردگار کے حضور میں ایک نور تھا۔ اس عدد میں کمی کی نفی ہے زیادتی کی نہیں پس اگر زیادتی کی روایت نظر پڑے شبہ نہ کیا جائے رہ گئی تخصیص اس کے ذکر میں سو ممکن ہے کہ کوئی خصوصیت مقامیہ اس کو مقتضی ہو۔
یعنی آدم علیہ السلام پیدا ہوئے ہیں اس سے پہلے جو ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حضور میں ایک نور کے طور پہ قائم تھے۔
سب انبیاء علیہم السلام پر تقدم کی وجہ۔
حضرت علی بن سعد نے امام باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب انبیاء سے تقدم کیسے ہو گیا حالانکہ آپ سب کے آخر میں مبعوث ہوئے انہوں نے جواب دیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے بنی آدم یعنی ان کی پشتوں میں سے ان کی اولاد کو عالمِ میثاق میں نکالا,
عالمِ میثاق وہی ہے أَلَسْتُ بِرَبِّكُمُ والا
میثاق میں نکالا اور ان سب سے ان کی ذات پہ ربوبیت کا اقرار کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو سب سے اول جواب میں بَلَى یعنی کیوں نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ اور اس لیے آپ کو سب انبیاء سے تقدم ہے گو آپ سب سے اخیر میں مبعوث ہوئے ہیں۔ اگر میثاق لینے کے وقت ارواح کو بدن سے تلبس بھی ہو گیا ہو تاہم احکام روحی کے غالب ہیں۔ اس لیے اس روایت کو کیفیاتِ نور میں لانا مناسب سمجھا اور اوپر شعبی کی روایت میں آپ سے قبل آدم میثاق لیا جانا مذکور ہے اور یہ میثاق أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ بظاہر روایت سے بعد خلقِ آدم معلوم ہوتا ہے سو ممکن ہے کہ وہ میثاقِ نبوت کا بالاشتراکِ غیرے ہو جیسے کہ اس حدیث کے ذیل میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔
اب یہ ساری ہماری باتیں ہیں۔ مطلب یعنی تشریحات ہیں۔ تشریحات ہیں۔ آپس میں ڈسکشن ہوتی رہے گی۔ لیکن ایک بات عرض کروں کہ صحابہ جن کے بارے میں فرمایا، الصَّحَابَةُ كُلُّهُمْ عُدُولٌ۔ صحابہ سارے کے سارے عادل ہیں۔ لہذا ان سے جو چیز ثابت ہو جائے تو پھر تو بہت بڑی بات ہو جاتی ہے، وہ تو بہت بڑی سند کے ساتھ یہ بات روایت کی جاتی ہے۔
تو حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، یہ چچا ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے، ان کا قصیدہ ہے، قصیدۂ مدحیہ
ساتویں روایت: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ تبوک سے مدینہ منورہ میں واپس تشریف لائے تو حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ مجھ کو اجازت دیجئے کہ کچھ آپ کی مدح کروں۔ چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح خود طاعت ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، کہو اللہ تعالیٰ تمہارے منہ کو سالم رکھے۔ تو انہوں نے یہ اشعار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھے۔
اب سنو ذرا۔
مِنْ قَبْلِهَا طِبْتَ فِي الظِّلَالِ وَفِي مُسْتَوْدَعٍ حَيْثُ يُخْصَفُ الْوَرَقُ
ثُمَّ هَبَطْتَ الْبِلَادَ لَا بَشَرٌ أَنْتَ وَلَا مُضْغَةٌ وَلَا عَلَقُ
بَلْ نُطْفَةٌ تَرْكَبُ السَّفِينَ وَقَدْ أَلْجَمَ نَسْرًا وَأَهْلَهُ الْغَرَقُ
تُنْقَلُ مِنْ صَالِبٍ إِلَى رَحِمٍ إِذَا مَضَى عَالَمٌ بَدَا طَبَقُ
وَرَدْتَ نَارَ الْخَلِيلِ مُكْتَتِمًا فِي صُلْبِهِ أَنْتَ كَيْفَ يَحْتَرِقُ
حَتَّى احْتَوَى بَيْتُكَ الْمُهَيْمِنُ مِنْ خِنْدِفَ عَلْيَاءَ تَحْتَهَا النُّطُقُ
وَأَنْتَ لَمَّا وُلِدْتَ أَشْرَقَتِ الْأَرْضُ وَضَاءَتْ بِنُورِكَ الْأُفُقُ
فَنَحْنُ فِي ذَلِكَ الضِّيَاءِ وَفِي النُّورِ وَسُبُلِ الرَّشَادِ نَخْتَرِقُ
زمین پر آنے سے پہلے آپ جنت کے سائے میں خوشحالی میں تھے۔
یعنی آدم علیہ السلام کی طرف اشارہ ہے۔ لیکن اصل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نور مبارک ساتھ ساتھ تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں، تو صلب میں تو آدم علیہ السلام کے چلے آ رہے تھے؟
اور نیز ودیعت گاہ میں جہاں جنت کے درختوں کے پتے اوپر تلے جوڑے جاتے تھے، یعنی آپ صلبِ آدم علیہ السلام میں تھے سو قَبْلَ نُزُولٍ إِلَى الْأَرْضِ کہ جب وہ جنت کے سائے میں تھے، آپ بھی تھے۔ اور ودیعت گاہ سے مراد بھی صلب ہے جیسے کہ اس آیت میں مفسرین نے کہا ہے، فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ۔ اور پتے کا جوڑنا اشارہ ہے اس قصے کی طرف کہ آدم علیہ السلام نے اس منع کیے ہوئے درخت سے کھا لیا اور جنت کا لباس اتر گیا تو درختوں کے پتے ملا ملا کر بدن ڈھانک رہے تھے، یعنی اس وقت بھی آپ مستودع میں تھے۔ اس کے بعد آپ نے بلاد یعنی زمین کی طرف نزول فرمایا۔
یعنی آدم علیہ السلام زمین کی طرف آئے۔
اور آپ اس وقت نہ بشر تھے، نہ مضغہ تھے، نہ علق تھے، کیونکہ یہ حالتیں جنین ہونے کے بہت قریب کی ہوتی ہیں اور ہبوط کے وقت جنین ہونے کا انتفاء ظاہر ہے اور یہ نُزُولٌ إِلَى الْأَرْضِ بھی بواسطہ آدم علیہ السلام کے ہے۔ غرض آپ نہ بشر تھے، نہ علقہ تھے، نہ مضغہ تھے، بلکہ صلبِ آباء میں موجود محض ایک مادۂ مجتمعہ تھے کہ وہ مادہ کشتیِ نوح میں سوار تھا۔ اور حالت یہ تھی کہ نسر بت اور اس کے ماننے والوں کے لبوں تک طوفانِ غرق پہنچ رہا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ بواسطہ نوح علیہ السلام کے وہ مادہ راکبِ کشتی تھا۔ مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ نے اس مضمون کی طرف اشارہ کیا ہے،
ز جودش گر نگشتے راہ مفتوح
بہ جودی کے رسیدی کشتی نوح
کہ ان کے کرمِ نور سے اگر راستہ نہ کھلتا تو نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر کیسے پہنچتی؟ اور وہ مادہ اس طرح واسطہ در واسطہ ایک صلب سے دوسرے رحم تک منتقل ہوتا رہا، جب ایک طبقۂ عالم گزر جاتا تو دوسرا طبقہ ظاہر اور شروع ہو جاتا، یعنی وہ مادہ سلسلۂ آباء کے مختلف طبقات میں یکے بعد دیگرے منتقل ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ اس سلسلے میں آپ نے نارِ خلیل میں بھی ورود فرمایا، چونکہ آپ ان کے صلب میں مخفی تھے تو وہ کیسے جلتے؟ پھر آگے اس طرح آپ منتقل ہوتے رہے یہاں تک کہ آپ کا خاندانی شرف جو آپ کی فضیلت پر شاہد ہے، اولاد خندف میں سے ایک بلند درجۂ عالیہ پر جا گزیں ہوا جس کے تحت میں اور حلقے، یعنی دوسرے خاندان مثلِ درمیانی حلقوں کے تھے۔ خندف لقب ہے آپ کے جدِ بعید مدرکہ بن الیاس کی والدہ کا، یعنی ان کی اولاد میں سے اور آپ کے خاندان اور دوسرے خاندانوں میں باہمی وہ نسبت تھی جیسے پہاڑ میں اوپر کی چوٹی اور نیچے کے درمیانی درجوں میں ہوتی ہے۔ اور نطق یعنی اوساط کی قید سے اشارہ کیا اس طرف کہ غیر اولاد خندف کو ان سب کے سامنے بالکل نشیب کی نسبت دَرَجَاتِ الْجَبَلِ کے ساتھ ہوتی ہے۔ اور آپ جب پیدا ہوئے تو زمین روشن ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے آفاق منور ہو گئے۔ سو ہم اس ضیاء اور اس نور میں ہدایت کے راستوں کو قطع کر رہے ہیں۔
یہ قصیدہ ہے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا، اور یہ بیان جو ہے یہ نشر الطیب سے لیا گیا ہے۔ یعنی حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں نا کہ یہ گستاخ ہے۔ اب بتائیں گستاخ ایسی باتیں کر سکتا ہے؟ عجیب بات ہے ویسے۔ حالت مطلب دیکھنے کی ہوتی ہے۔ کتنی محبت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ۔ لیکن مطلب یہ ہے کہ جو عیب لگانے والوں کو حیا نہیں آتی۔ حالانکہ بالکل صاف بات ہے کس طریقے سے مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ صاحب کی بات بھی آ گئی، حضرت تھانوی رحمہ اللہ صاحب کی بات بھی آ گئی اور مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی۔ یہ سب بڑے بہت ہی با ادب تھے، بہت ہی محبت کرنے والے تھے، ہاں محبت قرآن اور سنت کے مطابق کر رہے تھے۔ قرآن اور سنت سے آگے پیچھے نہیں ہوتے تھے۔ تو یہ ضروری ہے۔ یہ تو ہر مسلمان کا طریقہ ہونا چاہیے۔ اس میں ہم آزاد تو نہیں ہیں۔
ایک دفعہ ایسا ہوا، حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا ہمارے شیخ تھے، کہ نعت جو ہے یہ تلوار کے اوپر چلنے کے مترادف ہے۔ نعت پڑھنا، یا نعت لکھنا، کیوں؟ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اتنا اونچا ہے کہ ذرا بھر بھی اگر اپنی مرضی سے اس کو اونچا کرو گے تو الٰہی صفات میں شامل کر سکتے ہو جو خطرناک ہے، عقیدے کو تباہ کرنے والی بات ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی نہیں چاہیں گے کہ ان کو اللہ کے برابر، جیسے عیسی علیہ السلام کو لوگوں نے کیا اس طرح کیا جائے۔ تو تباہ کر لو گے اپنے آپ کو، اور اگر ذرا نیچے کرو گے تو یہ بھی اللہ نہیں چاہتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو نیچے کیا جائے۔ تو وہ بھی تباہی ہے۔ اب ان دو تباہیوں سے بچنے کے لیے آپ کتنی کوشش کریں گے؟ کہ نہ آپ کم کریں نہ زیادہ کریں۔ مشکل بات ہے نا؟ یہ مشکل بات ہے۔
آج کل لوگوں نے خوش طبعی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے نعت شریف کو، اور ہر ایک بغیر کسی سوچ سمجھ کے جو منہ پر آتا ہے کہہ دیتے ہیں۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو مقام ہے اس لحاظ سے انسان کو بہت سوچ سمجھ کے بات کرنی چاہیے۔ بہت اہم بات ہے۔ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ لوگ گانوں کے سُر کو اپنے ذہن میں رکھ کر اس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کے الفاظ جوڑتے ہیں۔ اور پھر لوگوں میں وہ مشہور ہو جاتے ہیں، پھر اس کو لوگ گانے کے طرز پر پڑھتے ہیں۔ ایک انتہائی فحش گانا ہے انڈیا کا، اس کے طرز پر جب میں نے نعت سنی تو میں نے کانوں کو ہاتھ لگایا، میں نے کہا یا اللہ! ان خبیثوں کو کیسے روکا جائے، اتنی بڑی ہستی کے ساتھ یہ حرکت۔ اور رام جی رام جی ایک ان کا ہے وہ اس کے طرز پر آقا جی آقا جی، خدا کے بندوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آقا جی کہنا یہ اتنی بے تکلفی کے ساتھ یہ کوئی طریقہ ہے؟ صرف سُر ملانے کے لیے؟ یہ بہت ہی خبیث حرکت ہے لیکن آج کل یہ لوگ بڑے دھڑلے کے ساتھ کر رہے ہیں۔ بلکہ یہاں تک بعض لوگ کہتے ہیں فلاں گانے کے طرز پر اب نعت سنیں۔ اور بعض لوگوں کو دیکھا گیا کہ کانوں کے وہ لگا کے، وہ کچھ لکھ رہے ہیں، پوچھا جی کیا لکھ رہے ہیں؟ نعت شریف لکھ رہے ہیں۔ تو یہ کیوں لگایا ہوا ہے؟ اس پہ وہ گانا لگا ہوا تھا جس کے سر میں وہ نعت لکھ رہے ہیں۔ یہ ہے، آج کل بے شرمی کا دور ہے۔ اس حد تک بے شرمی آ گئی ہے۔ اب ایسی چیزوں کو روکا جائے تو کیا یہ گستاخی ہوگی؟ اس کو گستاخی کہیں گے؟ اس کو گستاخی نہیں بلکہ گستاخی یہ ہے جو یہ کر رہے ہیں۔ شریعت کے ساتھ مذاق، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے ساتھ مذاق، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کے ساتھ مذاق، یہ گستاخی نہیں ہے؟ تو گستاخی سے بہت بچنا چاہیے۔
اللہ جل شانہ کا تعلق حاصل کرنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پہ چلنا، یہ تو بنیادی بات ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چلنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا ہونا یہ لازمی بات ہے۔ ایمان کا حصہ ہے۔ ان تمام باتوں کو سمجھنا اور اس کے مطابق زندگی گزارنا، یہ بہت اہم بات ہے۔
مجھے ہمارے ایک ساتھی ہیں، میں جا رہا تھا گاڑی میں تو مجھ سے اس نے شکوہ کیا اور شکوہ بھی بڑا پیارا شکوہ کیا، مجھے کہا شبیر صاحب! آپ حمد تو بہت لکھتے ہیں، نعت شریف آپ نہیں لکھتے۔ حمد تو بہت لکھتے ہیں نعت شریف، آپ نہیں لکھتے کیا وجہ ہے؟ میں نے وہی بات بتائی، اپنے شیخ کی بات بتائی۔ میں نے کہا مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرے منہ سے کچھ ایسے الفاظ نہ نکل جائیں جس کی وجہ سے کچھ بے ادبی ہو جائے یا کوئی عقیدے کا مسئلہ ہو جائے، اس وجہ سے اس ڈر سے میں نہیں لکھتا۔ یہ تو ابھی اس کے ساتھ میں نے بات کی۔ اور ابھی یہ بات ختم ہی ہوئی تھی کہ اشعار کچھ وارد ہونا شروع ہو گئے۔ اور پہلا جو شعر وارد ہوا وہ کیا تھا؟ اپنے آقا کی تعریف کیسے کروں، اس کے کرنے کو میری زباں ہی نہیں۔ یہ مطلب اس سے شروع ہو گیا اور تھوڑی ہی دیر میں الحمد للہ وہ مکمل بھی ہو گیا۔ پھر میں نے ان کو سنا دیا، میں نے کہا دیکھو اللہ تعالیٰ نے اپنے شیخ کی برکت سے یہ عطا فرما دی۔ ظاہر ہے میں نے حضرت کی بات کو کوشش کی سمجھنے کی اور اس پر ہی اللہ تعالیٰ نے ماشاء اللہ یہ عطا فرما دی۔ تو یہ مشہور نعت ہے ہماری الحمد للہ، وہ میں آپ کو بھی سنا دیتا ہوں۔ یہ ہے۔
اپنے آقا کی تعریف کیسے کروں اس کے کرنے کو میری زباں ہی نہیں
جس کسی دل میں ان کی محبت نہ ہو ایک پتھر ہی ہے اس میں جاں ہی نہیں
وہ ہیں محبوبِ ربِ کریم مصطفی
وہ کہ مظہرِ ہدایت کے ہیں مجتبی
تو میری اب زباں پر ہو صلِ علیٰ
اب درود و سلام میں ہمیشہ پڑھوں دل سے میں ہر جگہ صرف یہاں ہی نہیں
آج کل کے حالات کے لحاظ سے میں اگر کہوں تو کہوں گا کہ صرف ربیع الاول میں نہیں درود و سلام میں ہمیشہ پڑھوں، بلکہ ہر وقت میں پڑھوں۔
دل سے میں ہر جگہ صرف یہاں ہی نہیں
ہیں سراپا وہ رحمت ہمارے لیے
ان کا رستہ ہدایت ہمارے لیے
منبعِ فیض و حکمت ہمارے لیے
جو کبھی بھی جدا ہو گیا ان سے تو اس کے بچنے کا کوئی مکاں ہی نہیں
اب بھی ملتا ہے ان کی نظر کے طفیل
ان کی تعلیم و دین پر اثر کے طفیل
ہے بشر زندہ خیر البشر کے طفیل
نام لیوا اگر نہ رہے ان کا تو پھر خدا کی قسم یہ جہاں ہی نہیں
پڑھ کے سیرت میں ان کی ہی انساں بنوں
ان کے پیچھے رہوں مردِ میداں بنوں
ان کو میں چھوڑ کر کیسے تیرا بنوں
یہاں پر حیراں بنوں ہے، لیکن ان سے غلطی ہوئی ہے۔
ان کو میں چھوڑ کر کیسے تیرا بنوں
گر محبت نہ حاصل ہو ان کی شبیرؔ تو کہوں یوں کہ پھر تو ایماں ہی نہیں
اپنے آقا کی تعریف کیسے کروں اس کے کرنے کو میری زباں ہی نہیں
جس کسی دل میں ان کی محبت نہ ہو ایک پتھر ہی ہے اس میں جاں ہی نہیں
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد۔ یا اللہ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا شیدائی بنا دے۔ اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سچی محبت کرنے والا بنا دے۔ اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنتوں کو اچھی طرح سمجھنے والا بنا دے۔ اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارک پر یا اللہ دل سے چلنے والا اور چلانے والا بنا دے۔ اور اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری امت میں یا الہ العالمین سنتوں کی یا الہ العالمین ترویج کے لیے ہمیں ذریعہ بنا دے۔ یا الہ العالمین افراط و تفریط سے ہمیں پاک زندگی عطا فرما دے۔ حق پر ہمیں قائم فرما دے اور حق پر ہی قائم کرنے کا ہمیں ذریعہ بنا دے۔ ہدایت نصیب فرما ہدایت کا ذریعہ بنا دے۔ یا الہ العالمین ہمارے جتنے بھی یا اللہ مساجد ہیں جتنی خانقاہیں ہیں جتنے بھی اور یا الہ العالمین یا اللہ الہ العالمین جتنے مدارس ہیں سب کی حفاظت فرما۔ تمام علماء مشائخ کی تمام یا الہ العالمین طلباء طالبات کی اور تمام سالکین سالکات کی سب کی حفاظت فرما دے۔ اور یا الہ العالمین ہم سب کو اپنی رضا کی دولت عظیم عطا فرما دے۔ ہمارے ہر حال میں یا الہ العالمین حفاظت فرما دے۔ اور جتنے بھی فتنے ہیں ان سارے فتنوں سے ہمیں محفوظ فرما دے۔ اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَحَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَحَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم، أَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔