سرمایہ داری و اشتراکیت کے معاشی تضادات اور اسلام کا عادلانہ نظام

اشاعت، اول: جمعرات، 29 اکتوبر، 2020ء بمطابق: 12 ربیع الاول، 1442 ھ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. اسلام نے سرمایہ داری اور اشتراکیت کی خامیاں دور کر کے ذاتی ملکیت کے جواز اور ارتکازِ دولت کی ممانعت پر مبنی معاشی نظام دیا ہے۔
  2. سرمایہ داری نظام استحصال پر مبنی ہے، جبکہ اشتراکیت ذاتی محنت کا incentive ختم کر کے معاشرے کو کاہلی اور جبر کا شکار بناتی ہے۔
  3. اسلام نے سود حرام قرار دے کر استحصال روکا اور زکوۃ کے ذریعے امراء کی دولت کا ایک حصہ غریبوں کے لیے مقرر کیا۔
  4. متروکہ جائیداد کی وسیع تقسیم اور نفع عام کی چیزوں کو اشخاص کے بجائے جماعت کی ملکیت قرار دے کر معاشی مساوات قائم کی گئی ہے۔
  5. شریعت نے زکوۃ صرف بقا اور نمو کی صلاحیت رکھنے والے اموال پر فرض کی ہے تاکہ لوگ سرمایہ دبا کر رکھنے کے بجائے تجارت کریں۔
  6. سونے اور چاندی کو معاشی گردش سے نکال کر جمع رکھنا ملکی معیشت کو تباہ کرتا ہے اور شدید معاشی عذاب کا سبب بنتا ہے۔
  7. اسلام نے غرباء کی مالی کفالت کا انتظام کیا اور ساتھ ہی انہیں گداگری کی ذلت اور بے محنت کھانے کی عادت سے بچنے کا پابند بنایا۔
  8. صدقہ خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے، احسان جتا کر یا طعنہ دے کر لینے والے کی عزتِ نفس مجروح کرنا اسے باطل کر دیتا ہے۔
  9. مستحقین تک زکوۃ پہنچانے کا بہترین طریقہ بیت المال ہے تاکہ غریب کی خودداری برقرار رہے اور دینے والے میں تکبر پیدا نہ ہو۔
  10. براہ راست مستحق کو مالی امداد چھپا کر دینا بہتر ہے تاکہ اس کی پردہ پوشی ہو اور گداگری کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہو۔
  11. اللہ کی راہ میں اپنے کمائے ہوئے مال کا عمدہ حصہ دینا ضروری ہے، ردی چیزیں دینا دینے اور لینے والے دونوں میں پستی پیدا کرتا ہے۔
  12. امداد کے حقیقی مستحق وہ خوددار لوگ ہیں جو شدید ضرورت اور تنگدستی کے باوجود قناعت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے۔
  13. طاقتور اور صحیح سالم اعضاء والے شخص کے لیے بھیک مانگنا حرام ہے، اپنی محنت سے کما کر پیٹ پالنا گداگری کی ذلت سے بہت بہتر ہے۔
  14. اجتماعی نظام میں زکوۃ کی فراوانی کے باعث سود کی لعنت سے پاک داد و ستد اور مستحقین کے لیے قرض حسنہ کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔
  15. ملکی پیداوار اور وسائل کو درست منصوبہ بندی اور شرعی اصولوں کے تحت منظم کر کے معاشی و اقتصادی مسائل باآسانی حل کیے جا سکتے ہیں۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

معزز خواتین و حضرات! آج ہمارے ہاں جیسے کہ آپ سب جانتے ہوں گے۔ حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت النبی سے ہم تعلیم کرتے ہیں۔ پچھلی دفعہ ایک معرکۃ الآراء بات چیت اس پر حضرت کی ہوئی ہے۔ جو سرمایہ داری نظام سے متعلق تھی۔ آج ان شاء اللہ اس کی جو ضد ہے اشتراکیت۔ اس کے بارے میں ان شاء اللہ بات ہو گی۔ عنوان ہے:

اشتراکیت کا علاج

یعنی اسلام نے اشتراکیت کا علاج کیسے کیا ہے۔

دنیا میں امیر و غریب کی جنگ ہمیشہ سے قائم ہے۔ ہر تمدن کے آخری دور میں قوم کے مختلف افراد کے درمیان دولت کی غیر مساوی صورت یقینی طور سے پیدا ہو جاتی ہے۔ بعض طبقے نہایت دولت مند ہو جاتے ہیں جن کے خزانوں کے لئے زمین کا پورا طبقہ بھی کافی نہیں ہوتا اور دوسری طرف وہ غریب ہوتے ہیں جن کے پاس کھانے کے لئے ایک سوکھا ٹکڑا اور سونے کے لئے ایک بالشت زمین بھی نہیں ہوتی اور دولت مند طبقوں کی خود غرضی، خود پسندی اور عیاشی اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ اپنے بھوکے اور ننگے بھائیوں کے لئے روٹی کا ایک ٹکڑا اور کپڑے کا ایک چیتھڑا تک دینے کے روادار نہیں ہوتے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اتفاقی دولت خدا کی طرف سے نہیں بلکہ ان کے علم و ہنر سعی و کوشش اور دست و بازو سے حاصل ہوئی ہے۔ اس لئے ان سست و ناکارہ افراد کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔ قارون کو جب زکوٰۃ و خیرات کا حکم ہوا تو اس نے جواب میں یہی کہا۔ ﴿ اِنَّمَآ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِىْ ﴾ (قصص: 78) مجھ کو تو ایک ہنر سے جو میرے پاس ہے یہ سب ملا ہے۔ چنانچہ ہر زمانہ کے قارونوں کا اپنی دولت کے متعلق یہی تصور اور اعتقاد ہوتا ہے۔

یونان کے آخری دور میں یہی صورت پیدا ہوئی۔ ایران کے انتہائی زمانہ میں یہی شکل نمودار ہوئی۔ یورپ کی موجودہ فضا میں یہی آب و ہوا، اقتصادی مشکلات کی ابر و باد کا طوفان اور سیلاب پیدا کر رہی ہے۔ مزدور و سرمایہ دار کی جنگ پورے زور پر قائم ہے اور سوشلزم، کمیونزم، انارکزم اور بالشوزم کے طوفان جگہ جگہ اٹھ رہے ہیں لیکن دنیا میں مساوات اور برابری پیدا کرنے کے لئے یہ دنیا کے نئے خاکے تیار کرنے والے جو نقشے بنا رہے ہیں وہ انسانی فطرت و تربیت کے اس درجہ مخالف ہیں کہ ان کی دائمی کامیابی حد درجہ مشکوک ہے۔

محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم نے دنیا کی اس مشکل کا اندازہ کر لیا تھا اور اس نے اسی کے حل کرنے کے لئے یہ اصول مقرر کر دیا کہ ذاتی و شخصی ملکیت کے جواز کے ساتھ جس کی انسانی فطرت متقاضی ہے، دولت و سرمایہ کو چند اشخاص کے ہاتھوں میں جانے سے روکا جائے۔ سود کو حرام قرار دیا، متروکہ جائداد کو صرف ایک ہی شخص کی ملکیت قرار نہیں دیا، نفع عام کی چیزیں اشخاص کے بجائے جماعت کی ملکیت قرار دیں، قیصریت اور شہنشاہیت کی بجائے جماعت کی حکومت قائم کی۔ زمینداری کا پرانا اصول جن میں کاشتکار غلام کی حیثیت رکھتا تھا بدل دیا اور اس کی حیثیت اجیر اور مزدور کی رکھی۔ انسانی فطرت کے خلاف یہ نہیں کیا کہ سرمایہ کو لے کر تمام انسانوں میں برابر تقسیم کر دیا جائے تا کہ دنیا میں کوئی ننگا اور بھوکا باقی نہ رہے بلکہ یہ کیا کہ ہر سرمایہ دار پر جس کے پاس سال کے مصارف کے بعد مقررہ رقم باقی بچ جائے اس کے غریب بھائیوں کی امداد کے لئے ایک سالانہ رقم قانونی طور سے مقرر کر دی تا کہ وہ اس کے ادا کرنے پر مجبور ہو اور جماعت کا فرض قرار دیا کہ وہ اس رقم سے قابل اعانت لوگوں کی دستگیری کرے۔ یہی وہ راز ہے جس کی بنا پر اسلام کے تمدن کا دور اس قسم کی اقتصادی مصیبتوں سے محفوظ رہا اور آج بھی اگر اسلامی ممالک میں اس پر عمل درآمد ہو تو یہ فتنے زمین کے اتنے رقبہ میں جتنے میں محمد رسول اللہ ﷺ کی روحانی حکومت ہے پیدا نہیں ہو سکتے، خلافت راشدہ کے عہد میں حضرت عثمانؓ کی حکومت کا دور وہ زمانہ ہے جب عرب میں دولت افراط کی حد تک پہنچ گئی تھی۔

حضرت ابوذر غفاریؓ نے شام میں قرآن پاک کی اس آیت کے مطابق کہ ”جو لوگ سونا چاندی گاڑ کر رکھتے ہیں اور خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے“ یہ فتویٰ دیا کہ دولت کا جمع کرنا حرام ہے اور ہر شخص کے پاس جو کچھ اس کی ضرورت سے زیادہ ہو وہ خدا کی راہ میں دے دے اور شام کے دولت مند صحابہؓ نے ان کی مخالفت کی اور فرمایا کہ ہم خدا کی راہ میں دے کر بچاتے ہیں تو حضرت ابوذرؓ کی یہ آواز عام پسند نہ ہو سکی اور نہ عوام میں کوئی فتنہ پیدا کر سکی کیوں کہ زکوٰۃ کا قانون پورے نظام کے ساتھ جاری تھا اور عرب کے آرام و آسائش کا یہ حال تھا کہ ایک زمانہ میں کوئی خیرات کا قبول کرنے والا باقی نہیں رہا۔

یہ اب ذرا تھوڑا سا اس پر ہم بات کرتے ہیں۔ دیکھیں ہر چیز کے effects بھی ہوتے ہیں اور side effects بھی ہوتے ہیں۔ تو ظاہر ہے ایک کامیاب نظام وہ ہوتا ہے جو effects اور side effects سب کو دیکھے۔ مثلاً اگر دولت کو مشترکہ قرار دیا جائے، یعنی اس میں محنت کا جو figure ہے، محنت کا جو effect ہے، اس کو ایک ضروری امر نہ قرار دیا جائے، یعنی اس کے لیے کچھ incentive نہ ہو، تو اس صورت میں لوگ کاہل ہو جائیں گے۔ وہ کہیں گے جو ایک آدمی آرام سے بیٹھا ہے وہ بھی یہی کما رہا ہے اور جو محنت کر رہا ہے وہ بھی یہی کما رہا ہے تو میں کیوں محنت کروں؟ تو اس سے پوری قوم معطل ہو کر رہ جائے گی۔ آج کل اگر میں کہوں تو ہماری سرکاری نوکریوں کے بارے میں یہ ہے یا نہیں ہے۔ لوگ بالکل صاف کہتے ہیں کہ سرکاری نوکری میں داخل ہونا مشکل ہے۔ لیکن ایک دفعہ داخل ہو جائیں پھر آپ سے کام کروانا مشکل ہے۔ مطلب یہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے نکالنے کے راستے چونکہ قانونی طور پہ کافی مشکل بنا دیے گئے ہیں۔ لہٰذا لوگ اس سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور کاہلی پیدا کرتے اس کے لیے پھر جو کامیاب management ہوتی ہے وہ incentives پیدا کرتی ہے کام کرنے والوں کے لیے۔ یعنی ان کی promotion بہتر ہو، ان کے کچھ privileges ہوں، کچھ ایسی چیزیں ہوں جو ان کو ممتاز کر سکیں باقی لوگوں سے۔ پھر وہاں تو کام ہوتا ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر کاہلی زور پکڑتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پرائیویٹ اداروں میں یہ چیز نہیں ہے۔ کیونکہ پرائیویٹ میں ہر ایک کی جو آمدنی ہے وہ اس کی محنت پر منحصر ہوتی ہے، ان سے خوب کام لیا جاتا ہے۔ اور کوئی آدمی کاہل نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ ان کے پاس hire and fire کی صلاحیت ہوتی ہے، وہ hire بھی کر سکتے ہیں fire بھی کر سکتے ہیں۔ جبکہ حکومت کے پاس hire کی صلاحیت تو ہوتی ہے fire کی نہیں ہوتی۔ fire کے لیے کافی مسائل ہوتے ہیں۔ اب جب یہ والی بات سمجھ میں آ گئی تو اس کا مطلب ہے کہ ہم incentives کو ختم نہیں کر سکتے۔ محنت کے incentives کو ختم نہیں کر سکتے۔ ختم کریں گے تو یہ بھی قوم کے زوال کی طرف جائے گا۔

اس کی بنیاد پر جو سرمایہ داری نظام ہے وہ اس کو claim کرتا ہے کہ ہم ایک کامیاب نظام کو پیش کر رہے ہیں۔ کیونکہ اس میں incentive based چیزیں ہیں اور جو لوگ جتنی محنت کر رہے ہیں وہ اتنا ہی زیادہ کما رہے ہیں۔ جس کا side effect یہ ہے کہ وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے، ہر ایک آدمی سمجھتا ہے جو کما رہا ہے کہ میری محنت کے بدلے میں ملا ہے اور میں مجھے اس پر حق ہے، مجھ سے کوئی اگر اس کو لے رہا ہے تو یہ زیادتی کر رہا ہے۔ دیکھا جائے تو اب یورپ اور امریکہ وغیرہ میں ٹیکس کا نظام اچھا خاصا وہ effective ہے۔ جو لوگ کما رہے ہیں وہ دے بھی رہے ہیں۔ لیکن لوگ اس لیے دے رہے ہیں کہ وہ خرچ بھی ہو رہا ہے۔ یعنی ان کی بھلائی کے لیے خرچ بھی ہو رہا ہے۔ مثلاً وہاں کی roads کو دیکھیں، وہاں کی buildings کو دیکھیں، وہاں کے سرکاری، وہاں کی اور facilities دیکھیں، تو پتہ چلتا ہے کہ وہ جو دولت ہے وہ صحیح جگہ خرچ ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس قسم کا infrastructure بنایا ہوا ہے، اس مسئلے میں وہ ٹھیک ہیں۔ تو یہ معاملہ تو ان کا ٹھیک ہے، لیکن وہاں گڑبڑ کیا ہے؟ وہاں گڑبڑ یہ ہے کہ کمانے پہ کوئی check نہیں۔ کمانے پہ کوئی check نہیں، کس طرح کمائیں؟ تو اس میں یہ بات ہے کہ سود وہ چونکہ وہاں پر بلکہ promote کیا جاتا ہے۔ وہاں کا جو banking system ہے، بڑا powerful ہے۔ تو نتیجتاً وہ یہ ہے کہ ہر چیز سود پہ، بلکہ جتنے بھی گھر بن رہے ہیں، وہ بھی سود پر بن رہے ہیں، جو گاڑیاں لی جا رہی ہیں، وہ بھی سود پر لی جا رہی ہیں، جو کاروبار کیے جا رہے ہیں، وہ بھی سود پر کیے جا رہے ہیں، ہر چیز سود کے ذریعے سے بندھی ہوئی ہے۔ نتیجتاً ان کی جو companies ہیں، وہاں افراد کی بات نہیں، لیکن کمپنیوں کی بات ہوتی ہے کہ جو companies ہیں، وہ بڑی strong سے strong ہوتی جاتی ہیں، billionaire ہوتی جاتی ہیں۔ اور دوسرے لوگ ان کے محتاج ہوتے جاتے ہیں۔ ہر صورت میں ان کے محتاج ہوتے ہیں۔ کولہو کے بیل کی طرح لگے رہتے ہیں ان کی خدمت کرنے کے لیے۔ تو یہاں پر، مطلب یہ ہے کہ وہاں پر یہ بات ہے کہ اگرچہ tax payer ہیں، لہٰذا وہ جو ان کا سرمایہ ہے وہ کچھ state پہ لگ رہا ہے۔ لیکن کمانے کی کوئی حد نہیں ہے اور طریقہ کوئی ممنوع نہیں۔ لہٰذا وہ اپنے کام ایک اپنی مرضی کر رہے ہیں۔

دوسری طرف ہم دیکھیں رشیا وغیرہ میں اور چائنہ میں اور دوسری جگہوں، چائنہ تو خیر تبدیل ہو گیا کافی حد تک، لیکن جو رشیا وغیرہ ہے، ان کا جو block ہے۔ تو وہاں پر چونکہ communism اور socialism اس کی وجہ سے دولت کی تقسیم اس طرح تھی کہ ہر چیز state کی تھی۔ تو اس وجہ سے وہاں پر احساس ذمہ داری کم سے کم ہوتی گئی۔ نتیجتاً وہ معاملہ وہاں پر ہے کہ جو رشینز block کے علاقے ہیں اور جو یورپین block، دوسرے یورپ کے علاقے ہیں، ان میں ایک واضح فرق حتیٰ کہ جو East Germany، West Germany جو تھا، تو West Germany کا جو mark تھا وہ بہت زیادہ اونچا تھا اور East Germany کا بہت کم تھا۔ اور وہاں پر لوگ مشکل سے گزارا کرتے تھے جبکہ West Germany میں لوگ کافی well to do تھے۔ تو یہ سرمایہ داری اور اشتراکیت، یہ ان کا یورپ میں اچھا خاصا یعنی وہ ہے، مقابلہ۔ وہ چل رہا ہے۔

اب اشتراکی لوگ جو ہیں نا وہ ظلم کرتے ہیں، وہ اس طرح کہ۔۔۔ بلکہ میں ایک دفعہ ایک صاحب تھے، socialist تھے۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ socialist ہیں۔ اور کافی اچھے دلائل دیتے ہیں اس پر، تو ان کے ساتھ میری بات ہوئی تھی۔ تو اس سے میں نے کہا کہ اگر ساری دولت سو لوگوں کے ہاتھوں میں آ جائے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ ملک کی ساری دولت اگر سو لوگوں کے ہاتھوں میں آ جائے تو اس نے کہا کہ یہ سرمایہ داری ہے، capitalism ہے۔ میں نے کہا اگر سو سے پچاس لوگ چھین لیں۔ تو کہتے ہیں capitalism زیادہ ہو گیا۔ میں نے کہا پچاس سے اگر دس چھین لیں۔ کہتے ہیں اور بھی زیادہ ہو گیا۔ میں نے کہا دس سے اگر ایک چھین لے۔ تو کہتے ہیں this is the peak، میں نے کہا this is socialism۔ مطلب یہ کہ وہاں تو، اس کے مقابلے میں، ایک دفعہ ایسا ہوا کہ خروشیف، یہ ان کے تھے وہ، chief تھے رشیا کے۔ تو سٹالن کے بعد یہ آیا ہوا تھا۔ تو اس نے سٹالن کے خلاف کافی سخت باتیں کیں، وہ ظاہر ہے وہ مر گیا تھا، کہ سٹالن نے یہ غلطی کی، یہ غلطی کی، یہ غلطی کی۔ تو اس پر ایک چٹ بھیج دیا کسی نے کہ جس وقت سٹالن زندہ تھا اور chief تھا، اس وقت آپ یہ باتیں کیوں نہیں کر رہے تھے؟ تو خروشیف نے بآواز بلند وہ چٹ پڑھ لیا کہ کسی نے مجھے یہ چٹ بھیجا ہے۔ وہ کون ہے؟ ذرا بتائیں، ہاتھ کھڑے کر دیں کہ کس نے بھیجا ہے؟ کسی نے بھی ہاتھ نہیں کھڑا کیا۔ انہوں نے کہا میرے خیال میں اس کو جواب مل گیا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ جس طرح تم میرے سامنے بات نہیں کر سکتے، اس طرح میں بھی اس وقت بات نہیں کر سکتا تھا۔ تو وہاں جبر اور اکراہ کی بات تھی۔ اور capitalism میں لالچ اور احتیاج مطلب جس کو کہتے ہیں بنیاد ہے۔ اس کو کسی نے یہ کہا ہے کہ ایک جگہ پر آہنی زنجیر سے لوگوں کو باندھا گیا ہے، یعنی اشتراکیت میں۔ اور capitalism میں سونے کی زنجیروں سے باندھا گیا ہے۔ باندھے گئے تو دونوں حالت میں ہیں، اب اگر کوئی سونے کی زنجیروں سے باندھا گیا ہو یا لوہے کی زنجیر سے باندھا گیا ہو، تو اگر وہ حرکت نہیں کر سکتا آگے پیچھے تو کیا فائدہ؟ بات تو وہی ہے ایک ہی۔

تو اس وجہ سے یہ جو بات ہے کہ یہ بنیادی... effects اور side effects کو دیکھنے کے بعد پتہ چلا کہ دونوں نظام منصفانہ نہیں ہیں۔ ظالمانہ ہیں۔ پتہ چل گیا۔ اب ان ظالمانہ نظاموں کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟ تو اس کا اسلام نے بہترین حل بتایا ہے۔ جو اشتراکیت میں مسائل تھے، وہ بھی حل کیے اور جو capitalism میں مسائل تھے وہ بھی حل کیے۔ اصول و قواعد ایسے بنا دیے کہ اگر اس پر عمل کیا جائے تو نہ اشتراکیت کی ضرورت ہے، نہ capitalism کی ضرورت ہے۔ تو وہ حضرت نے بات فرما دی ہے۔ یعنی ابھی جو حضرت نے یہ باتیں فرمائی ہیں کہ

محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم نے دنیا کی اس مشکل کا اندازہ کر لیا تھا اور اس نے اسی کے حل کرنے کے لئے یہ اصول مقرر کر دیا کہ ذاتی و شخصی ملکیت کے جواز کے ساتھ

دیکھیں نا وہاں تو جواز ہی نہیں ہے اشتراکیت میں capitalism میں اسی پر سب کچھ ہے۔ فرمایا نہیں،

جواز کے ساتھ جس کی انسانی فطرت متقاضی ہے، دولت و سرمایہ کو چند اشخاص کے ہاتھوں میں جانے سے روکا جائے۔

یعنی یہ کسی کے دو چار پانچ لوگوں کے ہاتھوں میں نہ جمع ہو، بلکہ اس کا حصہ ہر ایک کو ملتا رہے۔ اب کیسے ملے؟ اب اگر آپ نے ذاتی incentive کو ختم کر دیا تو کام ختم ہو جاتا ہے۔ اور اگر ذاتی incentive کو آزاد رکھتے ہیں۔ تو پھر جو بیچارے غریب ہیں وہ رگڑے جائیں۔ تو اس کے لیے اللہ پاک نے ایسا انتظام کروا دیا اسلام کے ذریعے سے، کہ سود کو حرام قرار دیا۔ لہٰذا money pump نہیں ہو سکتا۔ پیسے کے ذریعے سے آپ پیسے کو نہیں کھینچ سکتے۔ محنت کے ذریعے سے آپ پیسہ کھینچ لیں۔ کوئی بات نہیں۔ لیکن اگر محنت کے ذریعے سے بھی کھینچا ہے تو اس کو بھی آپ اس کا بھی ایک خاص حصہ لازمی طور پر آپ نے غریبوں کو دینا ہے۔ لازمی، یعنی زکوۃ کی صورت میں، عشر کی صورت میں۔ ایک اس کو دینا ہے۔ تو یہ گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ اشتراکی نظام اس کو یعنی گویا کہ ایک چیز سے روک دیا کہ ذاتی و شخصی ملکیت کے جواز کو جائز قرار دیا۔ دوسری طرف سود کو حرام کر دیا تو capitalism کی جڑ کاٹ دی۔ اور یہ ہے کہ مطلب یعنی غریبوں کے لیے ایک حصہ رکھا گیا۔ مطلب غریبوں سے پیسے کھینچنے کے بجائے غریبوں کو دینے کا نظام قائم کیا گیا۔

اگر دیکھا جائے تو خوشحال ملکوں میں جو سود کی مقدار ہوتی ہے۔ تقریباً یہی دو ڈھائی percent...تک بات جاتی۔ تو اب دیکھ لیں مطلب یہ ہے کہ باقاعدہ وہاں لیتے نہیں وہاں دیتے ہیں۔ زکوۃ ڈھائی percent وہ لوگ دیتے ہیں اپنے اس کا۔ بجائے اس کے کہ وہ غریبوں سے لیں۔ کیونکہ غریبوں سے لیا جاتا ہے نا۔ جس کے پاس پیسہ ہو تو سود کیوں لے گا؟ سود تو وہی لے گا جس کے پاس پیسے نہیں ہوں گے۔ نتیجتاً جس کے پاس پیسے نہیں ہوتے وہ سود دیتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ لوگ پیسوں کے بل بوتے پر پیسے ان سے لیتے ہیں جن کے پاس پیسے نہیں ہیں تو یہ ظلم نہیں ہے؟ اس کے مقابلے میں زکوۃ اس کا reverse ہے۔ یعنی یوں کہہ سکتے ہیں کہ ارتکاز دولت کو اس کے ذریعے سے روک دیا۔ کیونکہ اگر کوئی اپنی دولت کو circulate نہیں کرتا تو اس کی زکوۃ کے ذریعے سے دولت خود بخود کم ہوتی جائے گی۔ تو اس کو circulate کرے گا تو تب وہ اپنے کام کو جاری رکھ سکے گا۔

تو یہ ایک بات فرمائی۔

نفع عام کی چیزیں اشخاص کے بجائے جماعت کی ملکیت قرار دیں، قیصریت اور شہنشاہیت کی بجائے جماعت کی حکومت قائم کی۔ زمینداری کا پرانا اصول جن میں کاشتکار غلام کی حیثیت رکھتا تھا بدل دیا اور اس کی حیثیت اجیر اور مزدور کی رکھی۔

یوں جتنی محنت کرتا ہے اس محنت کا پھل اس کو ملتا ہے۔

انسانی فطرت کے خلاف یہ نہیں کیا کہ سرمایہ کو لے کر تمام انسانوں میں برابر تقسیم کر دیا جائے

کیونکہ یہ تو کاہل اور محنتی سب کو برابر ملے گا۔

تاکہ دنیا میں کوئی ننگا اور بھوکا باقی نہ رہے بلکہ یہ کیا کہ ہر سرمایہ دار پر جس کے پاس سال کے مصارف کے بعد مقررہ رقم باقی بچ جائے اس کے غریب بھائیوں کی امداد کے لئے ایک سالانہ رقم قانونی طور سے مقرر کر دی تا کہ وہ اس کے ادا کرنے پر مجبور ہو اور جماعت کا فرض قرار دیا کہ وہ اس رقم سے قابل اعانت لوگوں کی دستگیری کرے۔ یہی وہ راز ہے جس کی بنا پر اسلام کے تمدن کا دور اس قسم کی اقتصادی مصیبتوں سے محفوظ رہا اور آج بھی اگر اسلامی ممالک میں اس پر عمل درآمد ہو تو یہ فتنے زمین کے اتنے رقبہ میں جتنے میں محمد رسول اللہ ﷺ کی روحانی حکومت ہے پیدا نہیں ہو سکتے،

اب یہاں پر ایک بات فرمائی گئی صحابہ کے دور کی۔

خلافت راشدہ کے عہد میں حضرت عثمانؓ کی حکومت کا دور وہ زمانہ ہے جب عرب میں دولت افراط کی حد تک پہنچ گئی تھی۔ حضرت ابوذر غفاریؓ نے شام میں قرآن پاک کی اس آیت کے مطابق کہ ”جو لوگ سونا چاندی گاڑ کر رکھتے ہیں اور خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے“ یہ فتویٰ دیا کہ دولت کا جمع کرنا حرام ہے.

یعنی اجتہادی بات تھی۔

اور ہر شخص کے پاس جو کچھ اس کی ضرورت سے زیادہ ہو وہ خدا کی راہ میں دے دے اور شام کے دولت مند صحابہؓ نے ان کی مخالفت کی اور فرمایا کہ ہم خدا کی راہ میں دے کر بچاتے ہیں تو حضرت ابوذرؓ کی یہ آواز عام پسند نہ ہو سکی اور نہ عوام میں کوئی فتنہ پیدا کر سکی کیوں کہ زکوٰۃ کا قانون پورے نظام کے ساتھ جاری تھا اور عرب کے آرام و آسائش کا یہ حال تھا کہ ایک زمانہ میں کوئی خیرات کا قبول کرنے والا باقی نہیں رہا۔

اقتصادی اور تجارتی فائدے:

زکوٰۃ میں ان روحانی اور اخلاقی فائدوں کے ساتھ اقتصادی حیثیت سے دنیاوی فائدے کے پہلو بھی ملحوظ ہیں اور گذر چکا ہے کہ زکوٰۃ انہی چیزوں میں واجب ہوتی ہے جن میں دو صفتیں پائی جائیں یعنی بقا اور نمو۔

یعنی کوئی چیز جو sustain کرتی ہو اور دوسرا جو grow کر سکتی ہو۔

بقا سے یہ مقصود ہے کہ وہ ایک مدت تک اپنی حالت پر باقی رہ سکیں کیوں کہ ہر چیز ایسی نہ ہوگی۔

مثلاً یہ سبزی وغیرہ اس کو آپ جمع تو نہیں کر سکتے۔

اس کی تجارت میں نہ چنداں فائدہ ہے اور نہ دوسروں کے استعمال کے لئے دیر تک ذخیرہ بن سکتی ہے اسی لئے سبزیوں اور ترکاریوں پر زکوٰۃ نہیں ہے اور نمو سے یہ مقصد ہے کہ ان میں یا تو پیداوار یا تناسل یا مبادلہ کی بنا پر افزائش کی صلاحیت ہو۔

جیسے جانور وغیرہ ہوتے ہیں ان میں تناسل کے ذریعے سے اور باقی پیداوار production وغیرہ اس کے لحاظ سے۔

اسی لئے جواہرات اور دیگر قیمتی معدنی پتھروں میں یا غیر مزروعہ زمین اور مکان میں بھی زکوٰۃ نہیں ہے ان دونوں نکتوں سے یہ بات حل ہوتی ہے کہ شریعت نے زکوٰۃ کے فرض کرنے سے یہ مقصد بھی پیش نظر رکھا ہے کہ لوگ اپنے سرمایہ کو بیکار نہ رکھیں بلکہ محنت کوشش اور جدوجہد سے اس کو ترقی دیں ورنہ اصل سرمایہ میں سال بہ سال کمی ہوتی جائے گی جس کو فطرتاً کوئی برداشت نہیں کر سکتا اس طرح زکوٰۃ کا ایک بالواسطہ مقصد یہ بھی ہے کہ تجارت و زراعت کو جو دولت کا اصل سرچشمہ ہیں ترقی دی جائے کیوں کہ جب ہر شخص کو لازمی طور پر سال میں ایک خاص رقم ادا کرنا پڑے گی تو وہ کوشش کرے گا کہ جہاں تک ہو یہ رقم منافع سے ادا کرے اور اصل سرمایہ محفوظ رکھے اسی بنا پر اسلام نے زکوٰۃ کو انہی چیزوں کے ساتھ مخصوص کیا ہے جن میں نمو اور اضافہ کی قابلیت ہو اور اسی بنا پر زکوٰۃ کے ادا کرنے کے لئے ایک سال کی وسیع مدت مقرر کی تاکہ ہر شخص اپنے مال یا جائداد سے کامل طور پر فائدہ اٹھا سکے۔ صحابہؓ کرام اس نکتہ کو سمجھ کر ہمیشہ تجارت اور کاروبار میں مصروف رہتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں ان لوگوں کو جو یتیموں کے سرمایوں کے متولی تھے ہدایت کی کہ وہ ان کو تجارت میں لگائیں تاکہ ان کے بالغ ہونے تک ان کا اصل سرمایہ زکوٰۃ میں سب صرف نہ ہو جائے۔

یورپ نے بڑی تحقیق کے بعد ایشیاء کے تجارتی اور تمدنی تنزل کی یہ وجہ بتائی ہے کہ یہاں مال کا اکثر حصہ بیکار زمین میں مدفون رکھا جاتا ہے۔ لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کی زبان وحی ترجمان نے آج سے تیرہ سو برس پہلے زکوٰۃ کو فرض کر کے یہ نکتہ بتا دیا تھا۔ ﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ (توبہ - ۵) اور جو لوگ چاندی اور سونے کو گاڑ کر رکھتے ہیں اور اس کو خدا کی راہ میں نہیں صرف کرتے ان کو سخت دردناک عذاب کی بشارت دو۔

یہ دردناک عذاب قیامت میں تو جو کچھ ہوگا وہ ہوگا اس دنیا میں بھی ان کے لئے اقتصادی دردناک عذاب یہ ہے کہ وہ اس مدفون سرمایہ کو دبا کر ملک کی دولت کو تباہ کرتے ہیں اور اس سے دولت کی افزائش اور ترقی کا کام لینے کے بجائے اس کو بیکار اور معدوم کر کے ملک کو فقر و محتاجی کے عذاب الیم میں مبتلا کرتے ہیں اور بالآخر خود مبتلا ہوتے ہیں اس لئے امراء کی اخلاقی اصلاح اور مالی ترقی اسی میں ہے کہ وہ اپنی دولت کو مناسب طور سے صرف کریں۔

یہ تو امراء کی اصلاح ہے۔ امراء کی بھی تو اصلاح ہونی چاہیے اور فقراء کی بھی ہونی چاہیے۔ اور فقراء کی اصلاح میں فرماتے ہیں۔

فقراء کی اصلاح:

اب دوسری طرف فقراء کا گروہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کے تمام شارعین مذاہب نے انسانوں کے اس قابل رحم فرقہ کی جانب ہمدردی اور ترحم کی نگاہ سے دیکھا ہے اور اس کی طرف امداد و اعانت کا ہاتھ بڑھایا ہے مگر درحقیقت ان کے رحم، ہمدردی اور محبت کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کے پھوڑا یا زخم ہوا اور اس کا دوست اس کی محبت اور خیر خواہی کی بنا پر ہمیشہ اس کے پھوڑے اور زخم کی حفاظت کرتا ہے کہ اس کو ٹھیس نہ لگے اور ٹوٹنے نہ پائے اور نہ کسی جراح کا نشتر اس کو چیرے کہ ان باتوں سے ان کو تکلیف ہوگی، کیا کوئی عقلمند کہہ سکتا ہے کہ اس نادان دوست کا یہ عمل اس کے ساتھ دوستی کا ثبوت ہوگا۔

گذشتہ مصلحین نے عموماً اس میں افراط و تفریط سے کام لیا ہے۔ بعض نے تو اس زخم میں صرف نشتر ہی لگایا ہے اور مرہم کا کوئی پھایہ نہیں رکھا۔ چنانچہ زردشتی مذہب میں سوال قطعاً ممنوع قرار دیا گیا ہے اور اس کے بالمقابل بودھ مذہب میں اس زخم کو سرتا پا مادہ فاسد بننے دیا گیا ہے اور بھکشوؤں کا ایک مذہبی گروہ ہی سوال اور بھیک کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ لیکن اسلام نے نہایت حکمت کے ساتھ اس زخم کو بھرنے اور پھوڑے کو دور کرنے کے لئے ایک تجربہ کار اور ماہر جراح کی طرح دونوں عمل کئے ہیں۔ اس نے اس غمگین اور دردمند طبقہ کے زخم میں نشتر بھی لگایا ہے اور اس پر مرہم بھی رکھا ہے۔ یہ مرہم اس کی وہ مہربانیاں، تسلیاں، بشارتیں اور عملی امداد و اعانت کی تدبیریں ہیں جو اس کے دل کی ڈھارس اور اس کی امیدوں کا سہارا ہیں اور نشتر اس کی وہ اصلاحات ہیں جو اس نے اس طبقہ کو دنائت، پستی، کم ہمتی، لالچ، دوسروں کی دست نگری اور ان کے سہارے جینے کی ذلت سے بچانے کے لئے جاری کیں۔ اس نے اہل حاجت کے لئے دوسروں سے سوال اور مانگنے کی قانونی ممانعت نہیں کی۔ لیکن ہر اخلاقی طریق سے ان کو اس ذلت سے باز رکھنے کی کوشش کی ہے اور ان کی کفالت کا بار خود جماعت کے سر پر ڈالا ہے۔

عام طور سے اس قسم کا وعظ جیسا کہ عیسائی مذہب میں ہے کہ جو کچھ ہے لٹا دو اور غریبوں اور مسکینوں کو دے ڈالو نہایت اعلیٰ اخلاقی تعلیم اور رحم و محبت کا نہایت بلند مظہر نظر آتا ہے لیکن غور سے تصویر کا دوسرا رخ دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ جس شدت سے آپ دولت مندوں کو سب کچھ غریبوں اور مسکینوں کو دے دینے کی ترغیب دے رہے ہیں اور اس سے دینے والوں کے جذبہ ایثار اور ان کے جود و سخا اور فیاضی کے جوہر کو ترقی دے رہے ہیں اسی شدت سے آپ انسانیت کے کثیر التعداد طبقے کو گداگری کی لعنت، بھیک مانگنے کی پستی، اور دوسرے کے سہارے جینے کی ذلت کا خوگر بنا رہے ہیں، اور بے محنت کھانے اور بے تلاش پانے کا سبق پڑھا رہے ہیں۔ اس طرح ان کے لئے گداگری، دنائت، پستی، ذلت، سَفَلہ پن، کم ہمتی، نامردی اور تمام رذیل پست اخلاق کا گڑھا تیار کر رہے ہیں جہاں یہ تمام نجاستیں آ کر جمع ہوں گی۔ کیا یہ انسانیت کے ساتھ رحم ہے؟ کیا یہ نوع بشر کے ساتھ محبت ہے؟ کیا یہ جنس بنی آدم کے ساتھ ہمدردی ہے؟

پیغمبر اسلام کی بعثت کسی ایک طبقہ کی اصلاح کے لئے نہیں ہوئی وہ انسانوں کے ہر طبقہ کے مصلح اور معلم بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ غریب و امیر اور مسکین و دولت مند دونوں آپ کی نگاہ میں یکساں ہیں اس لئے آپ نے کسی ایک ہی طبقہ کی اصلاح کا فرض انجام نہیں دیا بلکہ دونوں طبقوں کو ترازو کے دونوں پلڑوں میں رکھ کر برابر باٹ سے ناپا ہے اور اپنی تعلیمات اور اصلاحات میں سے دونوں کو مساوی حصہ دیا ہے۔

یہ اخلاقی اصلاح کی وہ نازک پل صراط ہے جس پر نبیوں کے خاتم اور دینوں کے مکمل علیہ السلام کے سوا دنیا کے کسی اخلاقی معلم اور روحانی مصلح کے قدم نہ جم سکے اور نہ وہ اپنے ہاتھ میں ترازو کے دونوں پلوں کو برابر رکھ سکا۔ اگر غریبوں کی اصلاح کی خاطر صدقہ اور خیرات اور دوسروں کی اعانت و ہمدردی کے تمام دروازے بند کر دیئے جائیں تو انسانی جوہر شرافت کی بربادی کے ساتھ امراء کا طبقہ اپنے اخلاقی معایب کی فراوانی اور کثرت سے ہلاک اور اخلاقی محاسن سے تمام تر تہی مایہ ہو جائے گا اور اگر غرباء اور فقراء کو ہر قسم کی گداگری اور دریوزہ گری کی اجازت دے دی جائے تو انسانوں کی وسیع آبادی کی اخلاقی زندگی تباہ و برباد ہو جائے گی۔ اسی لئے داعی اسلام نے انسانوں کے دونوں طبقوں کے سامنے خدا کی بتائی ہوئی وہ تعلیم پیش کی جس سے دونوں طبقوں کو اپنی اپنی جگہ پر اپنے اپنے اخلاقی معیار کی ترقی کا موقع مل گیا اور دونوں کو اپنی اپنی شرافت کے جوہر کو پیش کرنے اور اپنے اپنے نقائص اور کمزوریوں کو دور کرنے کی صورت ہاتھ آئی۔ ایک طرف تو اسلام نے امراء اور دولت مندوں کے طبقہ کو خطاب کر کے کہا۔ ﴿وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ﴾ (ضحٰی - ۱) مانگنے والے کو جھڑک نہ دو۔

دوسری طرف خوددار و بے نیاز فقراء اور غریبوں کے طبقہ کی مدح فرمائی۔ ﴿يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُم بِسِيمَاهُمْ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا﴾ (بقرہ - ۳۷) ناواقف ان کی خودداری اور سوال کی ذلت سے بچنے کے سبب سے ان کو دولت مند سمجھتے ہیں۔ تو ان کو ان کی پیشانی سے پہچانتا ہے۔ وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے۔ اور بھیک مانگنے کو خلافِ تقویٰ قرار دیا، جو لوگ بھیک مانگ مانگ کر حج کرتے تھے ان کو خطاب کر کے کہا: ﴿وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ﴾ (بقرہ - ۲۵) اور زادِ راہ لے کر چلو کہ بہترین زادِ راہ تقویٰ (بھیک نہ مانگنا) ہے۔ ایک طرف دولت مندوں کو فرمایا:

سبحان اللہ! آج یہ آیت سمجھ میں آئی، کیسے حضرت نے۔۔۔﴿وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ﴾ عموما اس کا ترجمہ اس طرح کیا جاتا ہے نا اور زادِ راہ لے کر چلو کہ بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔ تو اس میں بہترین زاد راہ تقوی کو explain نہیں کیا جاتا یہاں پر explain کیا ہے، کیا ہے؟ یعنی بھیک نہ مانگنا۔ سبحان اللہ کیسی زبردست بات کی ہے کہ یہی زاد راہ آپ کو اصل زاد راہ تک پہنچا دے گی یعنی تقوی اور بھیک نہیں مانگیں گے آپ یہ کیسی زبردست۔۔۔

ایک طرف دولت مندوں کو فرمایا کہ تمہارا حسنِ اخلاق یہ ہے کہ جو تمہارے سامنے ہاتھ پھیلائے اس کو خالی مت لوٹاؤ ﴿وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ﴾ اگرچہ چھوہارے کی ایک پھانک ہی کیوں نہ ہو، دوسری طرف فقیروں کو فرمایا کہ تمہاری خودداری یہی ہونی چاہئے کہ کسی کے سامنے کبھی ہاتھ نہ پھیلاؤ کہ ﴿الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَىٰ﴾ اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے (یعنی لینے والے ہاتھ سے دینے والا ہاتھ بہتر ہے) یہ ہے وہ تعلیم جس نے انسانوں کے دونوں طبقوں کو اپنے فیض سے معمور کیا اور دونوں کے لئے اپنے اخلاق کی اصلاح کا موقع بہم پہنچایا۔

صدقہ و خیرات درحقیقت وہ پانی ہے جو دینے والوں کے قلوب و نفوس کے تمام میل اور گندہ پن کو چھانٹ کر ان کو پاک و صاف بنا دیتا ہے۔ لیکن وہ خود جب اس میل اور گندہ پن کو لے کر باہر نکلتا ہے تو حرص و طمع کے پیاسے اس کو چلو میں لے کر پینے لگتے ہیں اسی لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ ﴿إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَاتِ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ﴾ یہ صدقہ تو لوگوں کا میل ہے۔ اگر آج ان فقیروں اور گداگروں کی صورتوں اور سیرتوں پر نظر ڈالو جو استحقاق شرعی کے بغیر اس مال سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو نظر آجائے گا کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے اس کو لوگوں کے دلوں کا میل کہہ کر کتنی بڑی حقیقت کو آشکارا کیا ہے۔

سبحان اللہ۔ ہمارے محاوروں میں بڑی اچھی اچھی چیزیں ہیں لیکن لوگ اس کو سمجھ نہیں پاتے۔ وہ اصل میں وہ اپنے مطلب سے دور ہو جاتی ہیں۔ مثلاً دولت ہاتھوں کا میل ہے۔ ہمارے ہاں کہتے ہیں مطلب محاورہ ہے باقاعدہ۔ یہ دولت تو ہاتھوں کا میل ہے۔ دولت ہاتھوں کا نہیں دلوں کا میل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر آپ یہ دولت خرچ کرتے ہیں تو آپ کے دل سے دنیا کی محبت کی گندگی نکلتی ہے۔ اس لیے یہ دلوں کا میل ہے۔ یہ بڑی بات ہے۔

حرص، طمع، لالچ، فریب، بے حیائی، بے غیرتی اور وہ تمام باتیں جو ان کے لازمی اخلاقی نتائج ہیں ان میں سے کونسی چیز ہے جو غیر مستحق ابناء السبیل، فقراء اور مہذب گداگروں کا تمغائے امتیاز نہیں اور درحقیقت یہی وہ میل ہے جو زکوٰۃ دینے والوں کے دامن سے چھٹ کر فقراء اور گداگروں کے دامنِ دل کو نجس بنا دیتا ہے۔ تاہم اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ بعض دفعہ قدرتاً ایسی مجبوریاں پیش آ جاتی ہیں جب نفیس الطبع سے نفیس الطبع انسان کو اپنی جان بچانے کے لئے گندے سے گندہ اور میلے سے میلا پانی کے پی لینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے اور اس وقت اس اجازت کی ضرورت پیش آتی ہے کہ ایسے مجبور اشخاص کو شخصی طور سے صدقہ و خیرات کے قبول کرنے کی اجازت دی جائے۔ شریعتِ محمدیہ نے اسی اصول پر اسی حیثیت سے لوگوں کو اس کے قبول کرنے کی اجازت دی ہے اور اس مجبورانہ قبول سے اس گروہ کے اخلاق و عادات پر جو برے اثرات طاری ہو سکتے ہیں ان کے انسداد اور دفعیہ یا ان کو کم سے کم مضر بنانے کے لئے مفید تدابیر اختیار کی ہیں اور چند نہایت مناسب احکام جاری کئے ہیں، جن کی تفصیل حسبِ ذیل ہے۔

جاری ہے ان شاء اللہ۔۔۔