محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی تقاضا: اتباعِ سنت اور پابندیِ شریعت

اشاعت اول: 6 نومبر، 2020، بمطابق: 20 ربیع الاول، 1440 ھ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. مسلمان شریعت کا پابند ہے، لہٰذا محبتِ رسول سمیت ہر عمل میں اپنی مرضی کے بجائے اتباعِ سنت اور طریقۂ صحابہ کو اپنانا لازمی ہے۔
  2. امت میں نجات پانے والا گروہ صرف وہ ہے جو ہر معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی مکمل پیروی کرے۔
  3. انسان پر اپنی عقل، جذبات اور نفسانی خواہشات کو شریعت کے تابع کرنا فرض ہے، کیونکہ احکاماتِ الٰہی کے خلاف ہر عمل ناجائز ہے۔
  4. گانوں کی طرز پر نعتیں پڑھنا، راستے بند کرنا اور عبادت میں خلل ڈالنا محبت کے بجائے نفس کی پیروی اور شرعاً قطعی ناجائز ہے۔
  5. شریعت میں دوسروں کو تکلیف سے بچانا اس قدر اہم ہے کہ تلاوتِ قرآن جیسی عظیم عبادت کے لیے بھی مخصوص حدود و آداب مقرر ہیں۔
  6. بزرگانِ دین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی سچی محبت کا ثبوت ہمیشہ شریعت کی پاسداری، کثرتِ درود اور اتباعِ سنت سے دیا۔
  7. روزمرہ معمولات بالخصوص نیند کو سنت کے مطابق ڈھالنے اور کثرتِ درود سے انسان انتہائی آسانی کے ساتھ اللہ کی رحمت اور محبوبیت پا سکتا ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ۔ فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔ وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ۔ وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: إِنَّ اللّٰهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔

معزز خواتین و حضرات، ربیع الاول کا مہینہ شروع ہے۔ اور ربیع الاول کے مہینے کے حوالے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت پر گفتگو ہمارے ہاں الحمد للہ خانقاہ میں مسلسل چل رہی ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ درود شریف بھی سب ساتھی پڑھ رہے ہیں، چاہے مرد ہیں چاہے خواتین ہیں۔ اور اس طریقے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کے اجراء کی دعوت چل رہی ہے۔ اور یہی وہ بنیادی باتیں ہیں جن کا قرآن میں اور سنت میں ہم سے مطالبہ ہے۔ اس کے علاوہ جو دوسری چیزیں ہیں اس میں ہم ان کو دیکھیں گے کہ آیا وہ قرآن و سنت میں اس کا مطالبہ ہے یا نہیں ہے، یا شرعاً وہ جائز ہے یا نہیں ہے۔

اصل میں ہم لوگ آزاد نہیں ہیں، ہم لوگ آزاد نہیں ہیں، یہ بات بالکل پکی ٹھکی ہے، اگر کوئی کسی کو سمجھ نہیں آتی تو اس کو سمجھ میں آنا چاہیے کہ ہم لوگ آزاد نہیں ہیں، ہم لوگ پابند ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ مومن جو ہے اس کے لیے دنیا ایسی ہے جیسے قید خانہ، اور کافر کے لیے ایسا ہے جیسے جنت۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ جیسے قید خانے کے اندر انسان آزاد نہیں ہوتا، اس کو ہر چیز میں قوانین کا پابند ہونا پڑتا ہے جو جیل کے قوانین ہوتے ہیں، وہ اپنے طور سے کچھ نہیں کر سکتا، اس کو جو کرنے دیا جاتا ہے وہ کرتا ہے اور جو نہیں کرنے دیا جاتا وہ نہیں کر سکتا۔ تو اسی طریقے سے ہم شریعت کے پابند ہیں۔ ہمیں جس چیز کی شریعت اجازت دے گی وہ کر سکتے ہیں چاہے وہ کتنی ہی ہمیں معاشرے سے غیر متعلق نظر آ جائے۔ وہ ہمارا معاشرہ غلط ہو گا۔ اگر غیر متعلق نظر آتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ معاشرہ غلط ہے، شریعت کی بات غلط نہیں ہو سکتی۔ اور جس سے منع کیا گیا ہے اس سے بچنا ہو گا چاہے وہ کتنا ہی ہمارے لیے مطلوب نظر آ جائے۔ چاہے وہ کیسے ہی پردے میں ہو، چاہے کیسے ہی لباس میں ہو، چاہے کیسی ہی صورت میں آ جائے، ہم اس میں آزاد نہیں ہیں۔ ہم لوگ اس میں پابند ہیں، جو شریعت کا حکم ہے وہ ہم پورا کریں گے ان شاء اللہ العزیز۔

اور اس کے لیے رہنما اصول ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ گزشتہ امتوں میں، یہود میں اکہتر فرقے بن گئے تھے، نصاریٰ میں بہتر بن گئے تھے، میری امت میں عنقریب تہتر ہو جائیں گے۔ لیکن صرف ایک نجات پائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کون سا فرقہ نجات پائے گا؟ فرمایا: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي، جس پر میں ہوں، جس پر میرے صحابہ چلے ہیں۔ پس ہم لوگوں کو ہر چیز کے اندر یہ دیکھنا ہو گا کہ صحابہ کرام نے کیا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر کیسے عمل کیا؟ اس سے انہوں نے کیا اخذ کیا؟

دیکھیں نا، تین چیزیں ہیں، ہر شخص کے اندر تین چیزیں ہیں، ایک ہماری عقل ہے، دوسرا ہمارے جذبات یعنی دل ہے، اور تیسرا ہمارا نفس ہے۔ ہمارے نفس کی خواہشات، اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ لذیذ کھانا ہر ایک کو پسند ہے، نفس کی کیونکہ نفس کو پسند ہے، لیکن اس کے بارے میں کہ اس کو کھائیں نہ کھائیں شریعت کی اجازت مطلوب ہو گی۔ اگر شریعت نے اس کے جواز کا بتایا ہے تو اس کو ہم کھا سکیں گے، اور اگر شریعت نے اس کے جواز کا نہیں بتایا تو ہم نہیں کھا سکیں گے۔ مثلاً روزے کے اندر، رمضان شریف کے اندر، بہت اچھا عمدہ پلاؤ، جائز طریقے سے حلال طریقے سے اگر آپ کے سامنے پیش کیا جائے دوپہر کے وقت، تو کیا آپ اس کو کھا سکتے ہیں؟ ظاہر ہے آپ اس کو نہیں کھا سکتے، اب اس کھانے کو ہم حرام نہیں کہہ رہے ہیں۔ اس کھانے کو ہم حرام نہیں کہہ رہے، لیکن اس کھانے کے کھانے کو حرام قرار دیں گے۔ اس کی وجہ ہے کہ شریعت نے رمضان شریف میں ظاہر ہے اجازت نہیں دی ہے کھانے کی۔ تو یہ جو بات مطلب میں عرض کر رہا ہوں کہ ہر چیز کو شریعت کے تابع کرنا پڑے گا۔ جائز ناجائز شریعت بتائے گی، ہم لوگ اپنی طرف سے کچھ بھی بات نہیں کر سکتے۔

مثال کے طور پر دیکھیں نماز ہے، نماز شروع ہے۔ اب نماز شروع ہے اس کے وقت آپ یہاں پر ذکر کی محفل شروع کر لیں۔ اور آپ ذکر بالجہر شروع کر لیں یا مراقبات شروع کر لیں یا قرآن پاک کی تلاوت شروع کر لیں یا نفلیں شروع کر لیں، نہیں، اس وقت یہ بات نہیں ہو سکتی اس وقت نماز میں شامل ہونا ضروری ہوگا۔ إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا۔ ہر چیز کے لیے نا اللہ پاک نے اپنا وقت مقرر کیا ہے۔ تو جس وقت جس چیز کا حکم ہوگا وہی ہم کریں گے اور جس چیز کا حکم نہیں ہوگا تو ہم نہیں کریں گے۔ اصل میں بات یہ ہے، یہی وہ فرمانبرداری ہے جو اللہ تعالیٰ ہم سے چاہتے ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی خبر دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عقلمند وہ ہے جس نے اپنے نفس کو قابو کیا۔ اور آخرت کے لیے عمل کیا۔ کیوں وجہ کیا ہے؟ نفس کو قابو کرنا اس وجہ سے ضروری ہے کہ نفس کی جو خواہشات ہوتی ہیں وہ ضروری نہیں کہ شریعت کے مطابق ہوں۔ اگر شریعت کے مطابق ہیں تو اس کو پورا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ مثال کے طور پر آپ کو حلال طریقے سے غیر رمضان میں جب آپ روزے کی حالت میں نہیں ہیں ایک عمدہ کھانا حلال طریقے سے نصیب ہو جائے اور آپ صحت مند بھی ہیں آپ کو ڈاکٹر نے بھی نہیں روکا، سبحان اللہ، بسم اللہ، الحمد للہ شروع کر کے اس میں کھانا شروع کر لیں۔ اس کا مطلب اور جس وقت الحمد للہ بعد میں پڑھ لیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں شریعت نے تو پابندی نہیں لگائی۔ لیکن اگر مثال کے طور پر اس کو آپ نے کمایا نہیں ہے چرایا ہے، پھر بھی جائز نہیں۔ چرایا نہیں کمایا ہے، لیکن رمضان شریف میں کھانا جائز نہیں ہے۔ اور اگر رمضان شریف بھی نہیں ہے لیکن وہ کھانا بذات خود حرام ہے۔ تو پھر وہ نہیں، جیسے شراب ہے یا خنزیر کا گوشت ہے، وہ آپ نہیں کر سکتے۔ حتیٰ کہ حلال مرغی، حلال گائے، حلال دنبہ اگر ذبح نہیں کیا گیا شرعی طریقے سے، اس کو بھی نہیں کھا سکتے۔ اس کو بھی نہیں کھا سکتے۔ یا کوئی چیز ہے جو اللہ کے نام پر ذبح نہیں کی گئی ہے، کسی اور چیز کے نام پر ذبح کی گئی ہے، تو پھر وہ بھی حلال نہیں ہے، وہ بھی آپ نہیں کھا سکتے۔ تو اس کا مطلب ہم شریعت کے پابند ہیں، ہم شریعت کے پابند ہیں، شریعت پر عمل کرنا پڑے گا، اس کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

اب اسی طریقے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سب کو محبت ہونی چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب کو محبت ہونی چاہیے، خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ اس پر دو باتیں نہیں ہو سکتیں، اس پر مسلمانوں کے درمیان ایک ہی بات ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت ہونی چاہیے۔ لیکن اس محبت کا اظہار کس طریقے سے ہو؟ اس کے لیے ہمارے لیے رہنما اصول صحابہ کرام کا طریقہ ہے۔ صحابہ کرام نے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کی ہے، اس طریقے سے ہمیں محبت کرنی پڑے گی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ۔ اے میرے حبیب اپنی امت سے کہہ دیں، اگر تم اللہ کے ساتھ محبت کرنا چاہتے ہو تم میری اتباع کرو۔ یعنی اللہ کی محبت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنی پڑے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اختیار کرنا پڑے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے ساتھ کیسے محبت کی، تم بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ویسے ہی محبت کر لو۔ کوئی اور طریقہ جائز نہیں ہوگا۔ کوئی اور طریقہ جائز نہیں ہوگا۔

تو اس طریقے سے مطلب ظاہر ہے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے علاوہ اللہ کے ساتھ محبت کا کوئی طریقہ جائز نہیں، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے لیے صحابہ کرام کے علاوہ کوئی اور طریقہ جائز نہیں ہے۔ مطلب ظاہر ہے ہمیں اسی طریقے سے محبت کرنی پڑے گی جس طرح صحابہ کرام نے محبت کی ہے۔ تو صحابہ کرام نے کیسے محبت کی ہے؟ کیا ربیع الاول کا مہینہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نہیں آیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسلسل آتا رہا۔ نبوت کے لیے مبعوث فرمائے جانے کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہ دس سال یہ ربیع الاول کا مہینہ آتا رہا۔ ان دس سالوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا؟ ریکارڈ موجود ہے۔ کتابیں دیکھی جا سکتیں، معلوم کریں، کیسے ہوا تھا؟ اس کے بعد تقریباً 101 ہجری تک صحابہ کرام موجود تھے۔ تو کیسے مطلب انہوں نے ربیع الاول کے مہینے کو اختیار کیا؟ اس میں کیسے وہ، یعنی کیا کام کیا اور کیا نہیں کام کیا، وہ موجود ہے، ہمیں بھی اسی طرح کرنا چاہیے۔ یہ جو اپنی مرضی کرنا ہے نا، یہ سب سے بڑی خباثت ہے، یہ شیطان کی طرف سے ہے اور نفس کی طرف سے ہے۔ اپنی مرضی نہیں کر سکتے، کسی بھی چیز میں بھی نہیں کر سکتے۔ ہم لوگ شریعت کے پابند ہیں۔

قرآن شریف کی جو تلاوت ہے، اس کے لیے بھی صحیح طریقہ جو ہو گا وہ ہم اختیار کریں گے، غلط طریقہ نہیں اختیار کریں گے۔ مثلاً اگر ہم لوگ خدانخواستہ کوئی toilet میں قرآن شریف پڑھنا چاہتا ہے، بے شک کتنی خوش آوازی کے ساتھ پڑھتا ہو، وہ جائز نہیں ہو گا۔ وہ جائز نہیں ہو گا، یا جنبیہ یا حائضہ یا مطلب نفاس والی عورت قرآن پاک کو پڑھنا چاہتی ہے، اس کے لیے جائز نہیں ہو گا۔ اس کے لیے جائز نہیں ہو گا، وہ نہیں پڑھ سکتی۔ حالانکہ قرآن پاک کا پڑھنا، اللہ کا کلام ہے اور اس کے لیے حکم بھی ہے کہ قرآن پاک کی تلاوت کرو۔ لیکن کیا ہے اس کے لیے مواقع ہیں، اس کے لیے حالات ہیں، اس کے لیے اجازت طلب کرنی ہوتی ہے۔ شریعت اجازت دے گی تو ہم اس کو کریں گے اور شریعت اجازت نہیں دے گی تو ہم نہیں کر سکتے۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ ہم لوگ درود شریف بھی اس طریقے سے پڑھیں گے جس طریقے سے اللہ اور اللہ کے رسول نے طریقہ بتایا ہے۔ ہم اپنی مرضی سے کوئی مطلب اس طریقے سے نہیں کر سکتے ہیں جس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ آزادانہ طور پر کیا جاتا ہے۔ نہیں، نہیں ہم لوگ شریعت کے پابند ہیں۔ شریعت کے مطابق سارا کچھ کرنا پڑے گا۔

یہ نعت شریف کا میں نے پچھلی دفعہ بتایا تھا کہ نعت شریف بہت اونچی چیز ہے، بہت اونچی نعمت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف تو اللہ نے بھی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف صحابہ کرام نے فرمائی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف گزشتہ انبیاء نے فرمائی ہے۔ قرآن پاک میں آیا ہے مسلسل۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف بھی ہم اس طریقے سے کریں گے جس طریقے سے اجازت ہے۔ جس طریقے سے اجازت ہے۔ جیسے کہ حضرت مولانا اشرف صاحب نے فرمایا کہ نعت شریف لکھنا بہت مشکل کام ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اتنا اونچا ہے کہ اگر اس کو ذرا بھی مزید اونچا کرو گے تو صفاتِ الٰہی میں شامل کر لو گے۔ تو وہ تباہی ہے۔ اور اگر کم کرو گے تو پھر یہ بھی کباڑا ہے۔ تو اس کو اعتدال پر لانا، صحیح طریقے سے کرنا، یہ کوئی آسان بات نہیں ہے۔ اس کے لیے ہمیں، مطلب ظاہر ہے ان تمام اصولوں کو اختیار کرنا پڑے گا۔

اب اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ نعتیں پڑھتے ہیں گانے کے طرز پر۔ گانے کے طرز پر نعت پڑھتے ہیں اور اس میں الفاظ بھی بعض دفعہ ایسے ہوتے ہیں، اللہ معاف فرمائے، اللہ معاف فرمائے میں کیا کہوں، میں کیا کہوں۔ کہنے کی بات نہیں ہے۔ لیکن مثال کے طور پر میں عرض کرتا ہوں کہ انڈیا کا ایک بہت گندی قسم کا گانا ہے۔ اس کے طرز پر وہ نعت شریف بنائی ہے۔ اس کے طرز پر، رام جی، رام جی کی جگہ آقا جی، آقا جی۔ بدبختوں کو بالکل مطلب خدا کا خوف ہی نہیں ہے کہ کیا کر رہے ہیں۔ میں حیران ہوتا ہوں، مطلب پتہ نہیں ان کی عقل کدھر چلی جاتی ہے۔ کیسے مطلب یہ اور یہ بالکل بظاہر شریف نظر آنے والے بے غیرت ان کو کیوں نہیں منع کرتے؟ بڑی بڑی داڑھیوں والے، بڑی بڑی لمبی تسبیح والے، بڑی بڑی پگڑیوں والے، ان کی مجلسوں میں بیٹھ کر ان کے گانے سنتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ نعت شریف ہو رہی ہے۔ گانے کے طرز پر نعت، نعت نہیں ہے وہ گانا بن جاتا ہے۔ اس وجہ سے ایسے لوگوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور ایسے لوگوں کو بند کرنا چاہیے۔ اللہ جل شانہٗ مفتی منیب الرحمن صاحب کو اجر عطا فرمائے، انہوں نے باقاعدہ اس پر فتویٰ دے دیا کہ حرام ہے۔ کم از کم ان کے فتوے کا خیال تو رکھنا چاہیے۔ انہوں نے باقاعدہ اس کا فتویٰ دیا کہ حرام ہے، ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ مطلب یہ شریعت کا مقابلہ نہیں کرنا چاہیے۔ شریعت جیسے قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا جا سکتا، اس کا حکومت وہ یعنی حساب لیتی ہے۔ اسی طریقے سے جو شریعت کو ہاتھ میں لے گا، اس کا اللہ تعالیٰ حساب لے گا۔ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ حساب کرے گا۔ اس وجہ سے کبھی بھی شریعت کا مقابلہ نہیں کرنا چاہیے، ہم لوگ شریعت کے پابند ہیں، ہم شریعت پر عمل کریں گے۔ اس کے علاوہ ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے محبت کا جو طریقہ ہے وہ بھی ہم صحابہ کرام سے سیکھیں گے۔

اب دیکھو اس وقت صورتحال دیکھیں۔ آج ہمارے سارے بازار بند ہو جائیں گے، یہ مطلب یہ اللہ آباد کے بازار بند ہو جائیں گے۔ کوئی گزر نہیں سکے گا۔ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ نمازیں ہو رہی ہوں گی اور نماز کی طرف لوگ نہیں جائیں گے وہاں پر کھڑے ہوں گے۔ وہاں پر کھڑے ہوں گے اور کیا ہے، جگہ جگہ پر ٹکڑیاں بنی ہوں گی۔ انہوں نے کپ رکھے ہوں گے اور وہ شیلڈ رکھے ہوں گے اور بچے اس میں وہ بلکہ اسی طرز پہ جو نعتیں پڑھ رہے ہوں گے۔ اور سارے ایک ہی وقت میں پڑھ رہے ہوں گے، کسی کو کچھ بھی آواز سمجھ میں نہیں آئے گی کہ کیا کہا جا رہا ہے۔ ورنہ تجربہ کر لیں، آج شام کو پتہ چل جائے گا۔ تجربہ کر لیں۔ کسی کو کچھ بھی سمجھ نہیں آئے گا کہ کیا ہو رہا ہے، سوائے دماغ کے اوپر بوجھ۔ اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہو گا۔ یہ آداب ہیں؟ کیوں نعت شریف سے آپ کسی کو تکلیف پہنچا سکتے ہیں؟ ظاہر ہے نعت شریف سے تکلیف تو کسی کو نہیں پہنچانی چاہیے۔

مطلب دیکھو نا تلاوت سے اونچا کلام تو نہیں، اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ تلاوت سے اونچا کوئی کلام نہیں، اس کے بارے میں بھی شریعت کہتی ہے کہ اگر کوئی بیمار ہو، اگر کوئی پڑھ رہا ہو، اگر کوئی سو رہا ہو۔ یا کسی کے اوپر ویسے وہ، اس کو اگر تکلیف ہو رہی ہے تو اس وقت زور سے قرآن پاک کی تلاوت نہیں کرنی چاہیے۔ اس وقت زور سے قرآن پاک کی تلاوت نہیں کرنی چاہیے۔ تہجد کی نماز جو پڑھنا چاہتا ہے، نفلی کام ہے، فرض واجب کام نہیں ہے، نفلی کام ہے، اس کے لیے آداب یہ ہیں کہ جو اٹھتا ہے، وہ اس طریقے سے اٹھے کہ سونے والے اس کی وجہ سے جاگیں نہیں۔ سونے والے اس کی وجہ سے جاگیں نہیں، اس طریقے سے اٹھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھتے تھے تو، بالکل یعنی اس طریقے سے کہ کسی کو پتہ نہیں چلتا تھا۔ اور اگر باہر سے تشریف لاتے، تو سلام اس انداز میں کرتے کہ اگر سویا ہوا ہوتا تو اس کو پتہ نہ چلتا۔ اور اگر جاگ رہا ہوتا تو وہ سن لیتا اور جواب دیتا۔ یہی ہمارے لیے سنت ہے۔ یہی ہمارے لیے طریقہ ہے۔ تو ہمیں ان چیزوں سے دوسرے لوگوں کو تکلیف، بالخصوص نمازیوں کو تکلیف، ادھر جماعت کی نماز ہو رہی ہوتی ہے، ادھر یہ سارے اس قسم کے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ کوئی طریقہ نہیں ہے۔ یہ اپنے نفس کو خوش کرنے والی باتیں ہیں۔ یہ اس کا شریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، اس کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کرنے والے جو ہوں گے، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پہ چلیں گے۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا حق ادا کریں گے۔

الحمد للہ، اللہ کا احسان ہے، ہمارے بزرگ، اللہ والے، انہوں نے، ان کو ہم نے دیکھا ہے۔ ہم کبھی کبھی، ظاہر ہے مطلب ہم تو چھٹیوں کے لیے انتظار کرتے تھے کہ چھٹی مل جائے تو مولانا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بھاگ کے چلے جاتے۔ تو ان دنوں یہ ربیع الاول کی چھٹی بھی ہوتی تھی، بارہ ربیع الاول کی۔ تو خیر، وہ ایسا ہوا کہ ہم پہنچ گئے، حضرت کی مجلس میں ظاہر ہے پھر حاضر ہو گئے۔ تو حضرت پہ اپنا ایک رنگ تھا۔ تو حضرت نے فرمایا، ہم لوگ میلاد نہیں مناتے، لیکن خود میلاد بن جاتے۔ اور ایسا ہی تھا۔ ہمارے بزرگ جو تھے، مطلب ظاہر ہے ان کو اللہ جل شانہٗ نے یہ نعمت عطا فرمائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت تو ان کے دل میں موجزن ہوتی تھی۔ لیکن شریعت کے دائرے سے قدم باہر نہیں نکالتے تھے۔

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ، ان کے لیے مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے علاقے میں، یعنی سلہٹ میں، ایک شخص نے خواب دیکھا۔ خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اشرف علی کو میرا سلام کہیں۔ تو وہ جو وہ صاحب بنگالی تھا، وہ مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو نہیں جانتا تھا۔ تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ میں تو اس کو نہیں جانتا۔ فرمایا ظفر احمد کے ذریعے سے۔ وہ مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب ادھر ہی تھے، ان کو جانتے تھے، تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ بالکل ٹھیک ہے۔ تو چلے گئے اور حضرت کو اطلاع کر دی۔ حضرت کو اطلاع کر دی کہ اس طرح حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام بھیجا ہے۔ اس وقت مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب نے انتہائی تیز رفتار طریقہ اختیار کر کے جلد از جلد اس پیغام کو حضرت تک پہنچایا۔ اس وقت حضرت ذکر کر رہے تھے، غالباً عصر کا وقت تھا۔ ذکر کر رہے تھے کہ یہ پیغام پہنچا۔ تو حضرت نے فرمایا، وَعَلَيْكَ السَّلَام، یعنی وہ ایک مطلب ظاہر ہے وہ جیسے ہوتا ہے نا مطلب، خط میں جیسے بھیجا جاتا ہے، تو ایسے فوراً کہا کہ وعلیک السلام۔ اب تو درود شریف ہی کی بات ہوگی۔ اب تو درود شریف ہی چلے گا، پھر بعد میں درود شریف شروع کر لیا۔ یہ ہے محبت۔ یہ ہے محبت، اب محبت کا حق کیسے ادا کیا؟ ادھر سے سلام آیا تو جواب کا حق کیسے ادا کیا؟ ایسے ادا کیا کہ درود شریف پڑھنا شروع کیا۔ یہی بات ہے، طریقہ کار یہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پہ عمل کرنا شروع کر لو۔

ابھی الحمد للہ ایک جگہ پر، الحمد للہ یہاں درود شریف کی مجالس شروع ہو گئی ہیں۔ اللہ کا شکر ہے الحمد للہ۔ تو اللہ کا شکر ہے کہ وہاں کے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی الحمد للہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی خوشی کا اظہار فرمایا۔ اور فرمایا کہ میں آپ لوگوں کے ساتھ ملنے کے لیے آیا ہوں۔ اور پھر یہ فرمایا، سنتوں پر چلو، سنتوں پر چلو۔ اپنی پوری زندگی۔۔۔ سنتوں پر چلنے میں حرص اختیار کر لو، یہ مطلب یہ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طریقہ بھی بتا دیا۔ کہ سنتوں پر چلنا۔ تو یہی طریقہ ہے۔ اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔ تو اس کا حق کس طرح ادا کر سکتے ہیں، حق تو پھر بھی نہیں ادا ہو گا، لیکن بہرحال کوشش کس طرح کر سکتے ہیں، وہ یہ ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ سنتوں پہ چلیں۔ یہی اللہ تعالیٰ بھی ہم سے چاہتا ہے۔ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔ البتہ بالتحقیق تمہارے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ موجود ہے زندگی گزارنے کا۔ لہذا ہم لوگ سنتوں پر عمل کرنا شروع کر لیں۔ یہی ہمارے لیے بہترین طریقہ ہے۔ پوری زندگی ہم سنتوں پہ چلیں۔

دیکھیں نا، مطلب یہ ہے کہ الحمد للہ تقریباً، تقریباً، تقریباً، تقریباً ہمارا تہائی حصہ زندگی کا نیند میں گزر جاتا ہے۔ نیند میں گزر جاتا ہے۔ کیونکہ تقریباً سات آٹھ گھنٹے ہر ایک آدمی سوتا ہے یا سونا چاہیے۔ اب یہ سات آٹھ گھنٹے، اس میں زیادہ تر وہ سوتا ہے، اس میں اختیاری چیز صرف اس کی ابتدا ہے اور انتہا ہے۔ درمیان میں کوئی اختیاری حصہ نہیں ہے۔ اب اگر کوئی اس اختیاری۔۔۔ اور چونکہ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا یعنی اللہ تعالیٰ کسی بھی غیر اختیاری چیز کا کسی کو مکلف نہیں قرار دیتا، تو اب دیکھ لیں۔ اگر آپ نے نیند شروع کی سنت طریقے کے مطابق، یعنی سنت طریقے کے مطابق آپ نے ایک وہ بستر جھاڑا اور سوتے ہوئے اپنا وہ دائیں رخسار کے نیچے ہاتھ رکھا اور قبلہ رخ آپ سو گئے۔ اور مطلب اس طریقے سے آپ نے وہ کلمات مبارکہ اَللّٰهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا اور مطلب اس طریقے سے وہ جو دعائیں ہیں وہ آپ نے پڑھ لیں۔ وہ اذکار جو سوتے وقت کے ہیں وہ آپ نے کر لیے۔ بس آپ کو نیند آ گئی، اب اس کے بعد آپ سے اور کوئی مطالبہ نہیں کیونکہ اب غیر اختیاری معاملے میں شروع ہو گئے۔ اب آپ سے کوئی مطالبہ نہیں اور پھر اس کے بعد جس وقت آپ جاگ گئے تو فوراً آپ نے سنت طریقہ کو اختیار کر لیا کہ اپنی آنکھوں کو ملنا شروع کر لیا، وہ دعا پڑھی جو نیند سے جاگنے کی دعائیں۔ اس طریقے سے پھر جا کے آپ نے مسواک کر لی، آپ نے وضو کر لیا۔ اب یہ دو کام، ابتدا اور انتہا اگر آپ نے سنت کے مطابق کیے تو آپ کا پورا جو سونے کا عمل ہے وہ دین بن گیا۔ وہ دین بن گیا۔ تو آپ کا ایک تہائی حصہ زندگی کا، صرف ان تھوڑے سے اعمال کے ذریعے سے ہو سکتا ہے بہت آسانی کے ساتھ۔

اس کے علاوہ زیادہ تر وقت ہمارا کن چیزوں میں لگتا ہے؟ مثال کے طور پر اس کے بعد پھر نماز میں لگتا ہے تو نماز کو ہم سنت کے مطابق پڑھیں۔ کھانا کھاتے ہیں، کھانا کھانے کو سنت کے مطابق کر لیں۔ اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ ہم جو جو کام کر رہے ہیں وہ ہم۔۔۔ اب اگر صرف ان موٹے موٹے کاموں کو بھی کر لیں تو تقریباً دو تہائی ہماری یعنی سنت کے مطابق ہو جائے گی اور باقی اس کے بعد پھر آپ ترقی کرتے جائیں۔ اور ان دو تہائی میں آپ کو زیادہ محنت بھی نہیں ہے اور زیادہ یاد کرنا بھی نہیں ہے۔ آسان بھی ہے، آپ اس کو آسانی کے ساتھ سیکھ بھی سکتے ہیں اور آسانی کے ساتھ آپ کر بھی سکتے ہیں۔ اب اتنی سی بات ہے آپ کریں تو سنت کے مطابق آپ زندگی گزارنا ہم سیکھ لیں اور ساتھ ساتھ یہ ہے درود شریف کی کثرت کریں۔ درود شریف کی کثرت کریں۔ بس یہ الحمد للہ اگر یہ دونوں چیزیں ہمارے پاس آ گئیں، سنت پر عمل، اس سے اللہ کا انسان محبوب بنتا ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کا انسان محبوب بنتا ہے۔ اور درود شریف پڑھنے سے اللہ تعالیٰ کی رحمت پڑھنے والے پر اترتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت۔ تو اب دیکھ لیں، رحمت بھی آپ کو مل گئی، محبوبیت بھی آپ کو مل گئی، تو انتہائی نفیس زندگی آپ کو مل گئی۔ اور کیا چاہیے؟ اور اگر آپ مزید کمانا چاہتے ہیں تو اس چیز کو آگے پھیلائیں۔ جتنے لوگوں کو سنت پر چلنا نصیب ہو گا، اس میں آپ لوگوں کا حصہ ہو گا۔ اس میں آپ لوگوں کا حصہ ہو گا، وہ بھی مطلب جو عمل کر رہے ہوں گے اس کا ثواب بھی آپ کو ملے گا، ان کے ثواب سے کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ لیکن، لیکن آپ کو ان کا ثواب ملے گا۔ تو کتنی پیاری بات ہے! کتنا آسان طریقہ ہے!

میں نے تو بہت پہلے بتایا تھا اسوۂ رسولِ اکرم رسول اکرم ڈاکٹر عبدالحئی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی، اس کو لے لیں۔ نمازیں سنت کے مطابق پڑھیے، یہ ہمارے مولانا تقی عثمانی صاحب کی ہے، اس کو لے لیں۔ اور ان کا ذرا مطالعہ کر لیں اور اپنے عمل میں لائیں۔ ہمارے شیخ مولانا اشرف علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے، اصلاح کا بہترین طریقہ، آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ سیرت کی کتابیں عمل کی نیت سے پڑھیں۔ عمل کی نیت سے۔ تو سیرت کی کتابیں الحمد للہ ہمارے ماشاء اللہ یہاں پر اللہ کا شکر ہے، جمعہ کی رات کو سیرت النبی کی تعلیم ہوتی ہے، اس میں ہم عمل کا ارادہ کر لیں۔ ان شاء اللہ راستہ بن جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔