کثرتِ درود شریف کی فضیلت، برکات اور آدابِ زیارت

کتاب: فضائل درود شریف، فصل اول، (کم اجعل لک من صلوتی، صفحہ 42 تا 47)، اشاعت اول: 6 جولائی، 2018، بمطابق: 22 شوال، ۱۴۳۹ ھ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

آدابِ زیارتِ قبرِ نبوی ﷺ اور وسیلہ و مغفرت کی مسنون دعا

حدیثِ اُبی بن کعبؓ: دعا کے اوقات کو درود شریف کے لیے خاص کرنا

کثرتِ درود کا ثمرہ: تمام غموں سے نجات اور گناہوں کی معافی

سفرِ مدینہ میں کثرتِ درود شریف کی اہمیت اور اکابرین کی وصیت

کیا درود شریف تمام وظائف سے افضل ہے؟ (ایک اشکال کا تحقیقی جواب)

فکرِ آخرت، ہولناکیِ قیامت اور نیند سے بیداری کی نبوی ترغیب (راجفہ و رادفہ)

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

وفاء الوفا میں لکھا ہے کہ ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ بن الحسین سامری حنبلیؒ اپنی کتاب مُسْتَوْعِبْ میں زیارۃ قبر النبی ﷺ کے باب میں آدابِ زیارت ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ”پھر قبر شریف کے قریب آئے اور قبر شریف کی طرف منہ کرکے اور منبر کو اپنی بائیں طرف کرکے کھڑا ہو۔“ اور اس کے بعد علامہ سامری حنبلیؒ نے سلام اور دُعا کی کیفیت لکھی ہے اور منجملہ اس کے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ پڑھے:

اَللّٰهُمَّ إِنَّكَ قُلْتَ فِيْ كِتَابِكَ لِنَبِيِّكَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا﴾ وَإِنِّيْ قَدْ أَتَيْتُ نَبِيَّكَ مُسْتَغْفِرًا، فَأَسْئَلُكَ أَنْ تُوْجِبَ لِي الْمَغْفِرَةَ كَمَا أَوْجَبْتَهَا لِمَنْ أَتَاهُ فِيْ حَيَاتِهِ، اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔

اے اللہ! تو نے اپنے کلامِ پاک میں اپنے نبی علیہ السلام سے یوں ارشاد فرمایا کہ: ”اگر وہ لوگ جب انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اور پھر اللہ جل شانہٗ سے معافی چاہتے اور رسول اللہ ﷺ بھی اُن کے لئے اللہ تعالیٰ سے معافی چاہتے، تو ضرور اللہ تعالیٰ کو توبہ کا قبول کرنے والا، رحمت کرنے والا پاتے۔“ اور میں تیرے نبی کے پاس اس حال میں حاضر ہوا ہوں کہ استغفار کرنے والا ہوں۔ تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو میرے لئے مغفرت کو واجب کر دے جیسا کہ تو نے مغفرت واجب کی تھی اُس شخص کے لئے جو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ان کی زندگی میں آیا ہو۔ اے اللہ! میں تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں تیرے نبی ﷺ کے وسیلہ سے۔

اس کے بعد اور لمبی چوڑی دعائیں ذکر کی ہیں۔

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ! إِنِّيْ أُكْثِرُ الصَّلٰوةَ عَلَيْكَ، فَكَمْ أَجْعَلُ لَكَ مِنْ صَلٰوتِيْ؟ فَقَالَ: ”مَا شِئْتَ“، قُلْتُ: الرُّبُعَ؟ قَالَ: ”مَا شِئْتَ، فَإِنْ زِدْتَّ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكَ“، قُلْتُ: النِّصْفَ؟ قَالَ: ”مَا شِئْتَ، فَإِنْ زِدْتَّ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكَ“، قُلْتُ: فَالثُّلُثَيْنِ؟ قَالَ: ”مَا شِئْتَ، فَإِنْ زِدْتَّ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكَ“، قُلْتُ: أَجْعَلُ لَكَ صَلٰوتِيْ كُلَّهَا؟ قَالَ: ”إِذًا تُكْفٰی هَمَّكَ، وَيُكَفَّرُ لَكَ ذَنْبُكَ“۔ (رواه الترمذی وزاد المنذری فی الترغیب احمد والحاکم وقال صححه وبسط السخاوی فی تخریجه)

حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں آپ پر درود کثرت سے بھیجنا چاہتا ہوں تو اس کی مقدار اپنے اوقاتِ دعا میں سے کتنی مقرر کروں؟ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا: ”جتنا تیرا جی چاہے“۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک چوتھائی؟ حضور ﷺ نے فرمایا: ”تجھے اختیار ہے اور اگر اس پر بڑھا دے تو تیرے لئے بہتر ہے“۔ تو میں نے عرض کیا کہ نصف کر دوں؟ حضور ﷺ نے فرمایا: ”تجھے اختیار ہے اور اگر بڑھا دے تو تیرے لئے زیادہ بہتر ہے“۔ میں نے عرض کیا: تو دو تہائی کر دوں؟ حضور ﷺ نے فرمایا: ”تجھے اختیار ہے اور اگر اس سے بڑھا دے تو تیرے لئے زیادہ بہتر ہے“۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنے سارے وقت کو آپ کے درود کے لئے مقرر کرتا ہوں۔ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا: ”تو اس صورت میں تیرے سارے فکروں کی کفایت کی جائے گی اور تیرے گناہ بھی معاف کر دیئے جائیں گے“۔

﴿ف﴾ مطلب تو واضح ہے وہ یہ کہ میں نے کچھ وقت اپنے لئے دُعاؤں کا مقرر کر رکھا ہے اور چاہتا یہ ہوں کہ درود شریف کثرت سے پڑھا کروں تو اپنے اس معین وقت میں سے درود شریف کے لئے کتنا وقت تجویز کروں۔ مثلاً میں نے اپنے اَوراد و وظائف کے لئے دو گھنٹے مقرر کر رکھے ہیں تو اس میں سے کتنا وقت درود شریف کے لئے تجویز کروں۔ علامہ سخاویؒ نے امام احمدؒ کی ایک روایت سے یہ نقل کیا ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! اگر میں اپنے سارے وقت کو آپ پر درود کے لئے مقرر کردوں تو کیسا؟ حضور ﷺ نے فرمایا ”ایسی صورت میں حق تعالیٰ شانہٗ تیرے دُنیا و آخرت کے سارے فکروں کی کفایت فرمائے گا۔“ علامہ سخاویؒ نے متعدد صحابہؓ سے اسی قسم کا مضمون نقل کیا ہے، اس میں کوئی اشکال نہیں کہ متعدد صحابہ کرامؓ نے اس قسم کی درخواستیں کی ہوں۔

علامہ سخاویؒ کہتے ہیں کہ درود شریف چونکہ اللہ کے ذکر پر اور حضور اقدس ﷺ کی تعظیم پر مشتمل ہے تو حقیقت میں یہ ایسا ہی ہے جیسا دوسری حدیث میں اللہ جل شانہٗ کا یہ ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ جس کو میرا ذکر مجھ سے دُعا مانگنے میں مانع ہو (یعنی کثرتِ ذکر کی وجہ سے دُعا کا وقت نہ ملے) تو میں اُس کو دعا مانگنے والوں سے زیادہ دوں گا۔

صاحبِ مظاہر حق نے لکھا ہے کہ: ”سبب اِس کا یہ ہے کہ جب بندہ اپنی طلب، رغبت کو اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ چیز میں کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھتا ہے اپنے مطالب پر تو وہ کفایت کرتا ہے اس کے سب مہمات کی مَنْ كَانَ لِلّٰهِ كَانَ اللهُ لَهٗ، یعنی جو اللہ کا ہو رہتا ہے وہ کفایت کرتا ہے اُس کو۔ جب شیخ بزرگوار عبدالوہاب متقی رحمۃ اللہ تعالیٰ نے اِس مسکین کو یعنی شیخ عبدالحق کو واسطے زیارت مدینہ منورہ کی رخصت کیا۔ فرمایا کہ جانو اور آگاہ ہو کہ نہیں ہے اِس راہ میں کوئی عبادت بعد اداءِ فرض کے مانند درود کے اُوپر سید کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے۔ چاہئے کہ تمام اوقات اپنے کو اِس میں صَرف کرنا اور چیز میں مشغول نہ ہونا۔ عرض کیا گیا کہ اِس کے لئے کچھ عدد معین ہو، فرمایا یہ کہ معین کرنا عدد کا شرط نہیں، اتنا پڑھو کہ ساتھ اس کے رطب اللسان ہو اور اُس کے رنگ میں رنگین ہو اور مستغرق ہو اس میں۔“

اِس پر یہ اشکال نہ کیا جائے کہ اِس حدیثِ پاک سے یہ معلوم ہوا کہ درود شریف سب اوراد و وظائف کے بجائے پڑھنا زیادہ مفید ہے۔ اِس لئے کہ اوّل تو خود اِس حدیثِ پاک کے درمیان میں اشارہ ہے کہ انہوں نے یہ وقت اپنی ذات کے لئے دُعاؤں کا مقرر کر رکھا تھا اُس میں سے درود شریف کیلئے مقرر کرنے کا ارادہ فرما رہے تھے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ چیز لوگوں کے احوال کے اعتبار سے مختلف ہوا کرتی ہے جیسا کہ فضائلِ ذکر کے باب دوم حدیث نمبر 20 کے ذیل میں گزرا ہے کہ بعض روایات میں اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کو افضل الدعاء کہا گیا ہے اور بعض روایات میں اِستغفار کو افضل الدعاء کہا گیا ہے۔ اسی طرح سے اور اعمال کے درمیان میں بھی مختلف احادیث میں مختلف اعمال کو سب سے افضل قرار دیا گیا ہے یہ اختلاف لوگوں کے حالات کے اختلاف کے اعتبار سے اور اوقات کے اعتبار سے ہوا کرتا ہے جیسا کہ ابھی مظاہر حق سے نقل کیا گیا ہے کہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی نور اللہ مرقدہٗ کو اُن کے شیخ نے مدینہ پاک کے سفر میں یہ وصیت کی کہ تمام اوقات درود شریف ہی میں خرچ کریں۔ اپنے اکابر کا بھی یہی معمول ہے کہ وہ مدینہ پاک کے سفر میں درود شریف کی بہت تاکید کرتے ہیں۔

علامہ منذریؒ نے ترغیب میں حضرت اُبیؓ کی حدیثِ بالا میں اُن کے سوال سے پہلے ایک مضمون اور بھی نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب چوتھائی رات گزر جاتی تو حضور اقدس ﷺ کھڑے ہو جاتے اور ارشاد فرماتے ”اے لوگو اللہ کا ذکر کرو اے لوگو اللہ کا ذکر کرو (یعنی بار بار فرماتے) رَاجِفَہ آگئی اور رَادِفَہ آرہی ہے، مَوت اُن سب چیزوں کے ساتھ جو اُس کے ساتھ لاحق ہیں آرہی ہے۔ مَوت اُن سب چیزوں کے ساتھ جو اُس کے ساتھ لاحق ہیں آرہی ہے۔“ اِس کو بھی دو مرتبہ فرماتے۔ رَاجِفَہ اور رَادِفَہ قرآن پاک کی آیت جو سورۃ والنّٰزِعَات میں ہے، کی طرف اشارہ ہے جس میں اللہ پاک کا ارشاد ہے: يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ ۙ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ ۙ قُلُوْبٌ يَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌ ۙ اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌ ۙ جس کا ترجمہ اور مطلب یہ ہے کہ اُوپر چند چیزوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”قیامت ضرور آئے گی، جس دن ہلادینے والی چیز سب کو ہلا ڈالے گی اس سے مراد پہلا صُور ہے۔ اس کے بعد ایک پیچھے آنے والی چیز آئے گی، اس سے مراد دوسرا صُور ہے۔ بہت سے دل اُس روز کے خوف کے مارے دھڑک رہے ہوں گے، شرم کی وجہ سے اُن کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی“۔ (بیان القرآن مع زیادۃ)