سلسلہِ نبوت، خدائی انتخاب اور منکرینِ حق کا رد
درس نمبر 263، سورۃ الانعام، آیات: 83 تا 92، اشاعتِ اول: 20 اور 21 اگست، 2022، بمطابق 21 اور 22 محرم الحرام، 1444 ہجری
ایمان کی حقیقت اور شرک (ظلمِ عظیم) کی نفی
انبیاء کرامؑ کا سلسلہ اور نبوت کا وہبی انتخاب (چناؤ) ہونا
منکرین کے مقابلے میں صحابہ کرامؓ کا کردار اور انبیائے سابقین کی پیروی
اللہ تعالیٰ کی ناقدری اور غصے و ضد میں وحی و رسالت کا انکار
اتباعِ نفس کی بنا پر اہلِ کتاب کی جانب سے کتمانِ حق (حق کو چھپانا)
قرآنِ مجید کی برکت، پچھلی کتب کی تصدیق اور نماز کی حفاظت
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ (82)
اس کا چونکہ ترجمہ رہ گیا تھا اس آیت کا۔
ترجمہ: (حقیقت تو یہ ہے کہ) جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور اُنہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ کسی ظلم کا شائبہ بھی آنے نہیں دیا، امن اور چین تو بس اُنہی کا حق ہے، اور وہی ہیں جو صحیح راستے پر پہنچ چکے ہیں۔“ ﴿82﴾
یہ کل اصل میں ظلم کی بات تو ہو رہی تھی کہ ظلم سے مراد شرک یہاں پر لیا گیا ہے۔ کیونکہ قرآن پاک میں بھی ایک جگہ پر ہے اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی ایک حدیث شریف میں مروی ہے۔ جس میں ظلم کی تشریح شرک سے فرمائی گئی ہے۔
وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ(83) وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَؕ كُلًّا هَدَیْنَاۚ وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ (84) وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ (85) وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ (86) وَ مِنْ اٰبَآىٕهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(87) ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(88) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ(89) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْؕ قُلْ لَّاۤ اَسْــٴـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًاؕاِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ (90)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔
ترجمہ: یہ ہماری وہ کامیاب دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے مقابلے میں عطا کی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کر دیتے ہیں۔ بیشک تمہارے رَبّ کی حکمت بھی بڑی ہے، علم بھی کامل ہے ﴿83﴾اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق (جیسا بیٹا) اور یعقوب (جیسا پوتا) عطا کیا۔ (ان میں سے) ہر ایک کو ہم نے ہدایت دی، اور نوح کو ہم نے پہلے ہی ہدایت دی تھی، اور اُن کی اولاد میں سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کو بھی۔ اور اسی طرح ہم نیک کام کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں ﴿84﴾ اور زکریا، یحییٰ، عیسیٰ اور الیاس کو (بھی ہدایت عطا فرمائی)۔ یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے ﴿85﴾ نیز اسماعیل، الیسع، یونس اور لوط کو بھی۔ اور ان سب کو ہم نے دُنیا جہان کے لوگوں پر فضیلت بخشی تھی ﴿86﴾ اور ان کے باپ دادوں، ان کی اولادوں اور ان کے بھائیوں میں سے بھی بہت سے لوگوں کو۔ ہم نے اِن سب کو منتخب کر کے راہِ راست تک پہنچا دیا تھا ﴿87﴾ یہ اللہ کی دی ہوئی ہدایت ہے جس کے ذریعے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے راہِ راست تک پہنچا دیتا ہے۔ اور اگر وہ شرک کرنے لگتے تو ان کے سارے (نیک) اعمال اکارت ہو جاتے ﴿88﴾ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب، حکمت اور نبوت عطا کی تھی۔
حاشیہ: مشرکین عرب نبوت و رسالت ہی کے منکر تھے۔ اُن کے جواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اولاد میں جو پیغمبر گزرے ہیں اُن کا حوالہ دیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تو عرب کے بت پرست بھی مانتے تھے۔ اُن سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر وہ پیغمبر ہو سکتے ہیں، اور ان کی اولاد میں نبوت کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے تو یہ کہنا کیسے درست ہو سکتا ہے کہ نبوت کوئی چیز نہیں ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول بنا کر بھیجنے میں آخر کونسی اشکال کی بات ہے جبکہ آپ کی نبوت کے دلائل روزِ روشن کی طرح واضح ہو چکے ہیں۔
اصل میں واقعی، یعنی بات تو ایک ہے۔ ابراہیم علیہ السلام جد ہیں انبیاء کے، اور بنی اسرائیل کے جتنے بھی انبیاء کرام تھے، وہ بھی سارے کے سارے ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔ اور جو بنی اسماعیل میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو یہ بھی حضرت کی اولاد میں سے ہیں۔ تو اگر ایک اولاد کو آپ برگزیدہ مانتے ہیں اور ابراہیم علیہ السلام نبی مانتے ہیں تو اول تو ظاہر ہے اگر ایسی بات ہے تو ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہونے میں سے ظاہر ہے وہی فضیلت ان میں بھی ہے۔ یہ بات ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر وہ نبی ہو سکتے ہیں تو یہ کیوں نبی نہیں ہو سکتے؟ تو پھر ان کی نبوت کا کیوں انکار کر سکتے ہو؟ اور تیسری بات جو اس میں مسلسل جو ارہی ہے، وہ یہ ہے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے چناؤ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان میں سے جس کو چن لیتے ہیں تو چن لیتے ہیں، انبیاء، نبوت تو ایسے ہی چناؤ پر ہوتی ہے۔ نبوت تو کسی کے عمل پر نہیں بلکہ چناؤ پر ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ ان کو چن لیتے ہیں پھر اللہ پاک ان کو ظاہر ہے ہدایت بھی عطا فرماتے ہیں اور ساتھ اللہ تعالیٰ ان سے کام بھی لیتے ہیں۔ تو جیسے ان کو چنا گیا تھا ابراہیم علیہ السلام کو اور ان کی باقی اولاد کو، اسی طرح اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چن لیا گیا ہے۔ تو یہ ان کو گویا کہ لاجیکل دلائل دیے جا رہے ہیں کہ خواہ مخواہ ضد نہیں کرنی چاہیے اور جو حق بات ہے اس کو سمجھنا چاہیے اور اس کو جاننا چاہیے۔
ترجمہ: اب اگر یہ (عرب کے) لوگ اس (نبوت) کا انکار کریں تو (کچھ پروا نہ کرو، کیونکہ) اس کے ماننے کے لئے ہم نے ایسے لوگ مقرر کر دیے ہیں جو اس کے منکر نہیں۔ ﴿89﴾
حاشیہ: یہاں سے بعض یہودیوں کی تردید مقصود ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتے ہوئے ایک مرتبہ اُن کے ایک سردار مالک بن صیف نے غصے میں آکر یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اللہ نے کسی انسان پر کچھ نازل نہیں کیا۔
تو غصے میں انسان عقل وہ کر دے، تو اپنے ابا واجداد کا جو وہ جو نبی تھے، تو ان پر تو اللہ پاک نے نازل کی تھی، تورات بھی نازل کی تھی اور عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل بھی نازل کی تھی۔ تو غصے میں آ کر اس نے گویا کہ اپنی جڑ بھی کاٹی۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ وہ صحابہ کرام کی طرف اشارہ ہے، کچھ حضرات پہلے سے موجود ہیں جو کہ ان کو مانتے ہیں۔ اس وجہ سے ہم لوگوں کو یہ جاننا چاہیے کہ یعنی یہ میں دوبارہ کر لیتا ہوں۔
فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ(89)
ترجمہ: اب اگر یہ (عرب کے) لوگ اس (نبوت) کا انکار کریں تو (کچھ پروا نہ کرو، کیونکہ) اس کے ماننے کے لئے ہم نے ایسے لوگ مقرر کر دیے ہیں جو اس کے منکر نہیں۔ ﴿89﴾
تو ان سے مراد کون سے ہیں؟ اس سے مراد صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین ہیں۔ کیونکہ وہ پہلے سے مطلب صحابہ کرام کا یہی تھا کہ یہود میں جو مسلمان ہوئے تھے وہ بھی صحابہ کرام ہیں، عیسائیوں میں جو مسلمان ہوئے تھے وہ بھی صحابہ کرام اور جو قریش میں یا انصار میں مسلمان ہوئے تھے وہ بھی صحابہ کرام تھے۔ تو صحابہ کرام کی جو جماعت ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر گواہی دینے والی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کو ماننے والے اللہ پاک نے پیدا فرمائے ہیں۔ لہٰذا ان لوگوں کی باتوں کی کوئی پروا نہیں کرنی چاہیے۔
اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْؕ قُلْ لَّاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًاؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ (90)
ترجمہ: یہ لوگ (جن کا ذکر اوپر ہوا) وہ تھے جن کو اللہ نے (مخالفین کے رویے پر صبر کرنے کی) ہدایت کی تھی، لہٰذا (اے پیغمبر!) تم بھی انہی کے راستے پر چلو۔ (مخالفین سے) کہہ دو کہ میں تم سے اِس (دعوت) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ یہ تو دُنیا جہان کے سب لوگوں کے لئے ایک نصیحت ہے، اور بس ﴿90﴾
وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًاۚ وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْؕ قُلِ اللّٰهُۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ(91) وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَاؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ(92)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔
ترجمہ: اور ان (کافر) لوگوں نے جب یہ کہا کہ اللہ نے کسی انسان پر کچھ نازل نہیں کیا تو انہوں نے اللہ کی صحیح قدر نہیں پہچانی۔
اصل میں یہودیوں کا ایک سردار تھا مالک بن صیف۔ تو ایک دفعہ اس نے غصے میں آ کر یہاں تک کہہ دیا تھا حالانکہ خود یہودی تھے اور یہودی موسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے ہوتے تھے۔ اور موسیٰ علیہ السلام پر کتاب نازل ہوئی ہے تورات، لہٰذا کوئی یہودی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ پاک نے کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ لیکن اس یہودی نے اسلام دشمنی میں،
حاشیہ: غصے میں آ کر یہاں تک کہہ دیا کہ اللہ نے کسی انسان پر کچھ نازل نہیں کیا۔
جیسے آج کل کچھ لوگ مطلب غصے میں آ کر کچھ ایسی باتیں کر لیتے ہیں جس سے وہ کافر ہو جاتے ہیں۔ تو یہ کافر تو پہلے سے تھے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر رہے تھے۔ لیکن بہرحال غصے میں آ کر انہوں نے اس بڑی حقیقت سے بھی انکار کر دیا کہ اللہ پاک نے کچھ نازل نہیں کیا۔ تو اس کا گویا کہ یہاں پر اس طریقے سے ذکر آ گیا۔ اور یہ جو اس نے کیا، تو اصل میں اللہ پاک نے کتنی نعمتیں ہمیں دی ہیں اور اللہ پاک کی سب سے بڑی نعمت جو ہے وہ کیا ہے؟ ہدایت ہے۔ کیونکہ اگر ساری نعمتیں آپ کے پاس ہوں دنیا کی لیکن ہدایت نہ ہو تو موت کے ساتھ تو ساری نعمتیں ختم ہو جائیں گی دنیا کی اور آخرت کے عذاب شروع ہو جائیں گے۔ اور وہ اینڈ لیس ہیں، مطلب وہ کبھی اس کا خاتمہ نہیں ہو گا۔ تو مکمل تباہی ہے۔ اور ہدایت اگر کسی کو ملی ہو تو بے شک وہ دنیا میں تکلیفیں بھی اٹھا چکا ہو۔ تو موت کے بعد اس کی خوشی کا زمانہ آ گیا، خوشی کا دور آ جاتا ہے پھر اس کے بعد وہ مزے ہی مزے میں ہو گا۔ تو یہ دنیا کی جو باتیں ہیں ان کے اندر اتنا زیادہ مصروف ہو کر اتنی بڑی نعمت سے انکار کر لینا یہ بہت خطرناک بات ہے۔ تو یہ کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کوئی قدر نہیں پہچانی کہ اللہ پاک نے اتنی بڑی نعمت ہمیں دی ہے اور اس پر ہی وہ اس طرح بات کر رہے ہیں۔
ترجمہ: (ان سے) کہو کہ : ”وہ کتاب کس نے نازل کی تھی جو موسیٰ لے کر آئے تھے، جو لوگوں کے لئے روشنی اور ہدایت تھی، اور جس کو تم نے متفرق کاغذوں کی شکل میں رکھا ہوا ہے،
حاشیہ: یعنی پوری کتاب کو ظاہر کرنے کے بجائے تم نے اسے حصوں میں بانٹ رکھا ہے۔ جو حصے تمہارے مطلب کے مطابق ہوتے ہیں اُن کو تو عام لوگوں کے سامنے ظاہر کر دیتے ہو، مگر جو حصے تمہارے مفادات کے خلاف ہوتے ہیں، انہیں چھپا لیتے ہو۔
اصل میں ہوتا یوں تھا کہ جتنے بھی مذاہب آئے ہوئے ہیں، مذہب تو حق تھے انبیاء کرام کے ذریعے سے۔ تو مذہب تو حق تھے، موسیٰ علیہ السلام بھی حق تھے۔ اور عیسیٰ علیہ السلام بھی حق تھے۔ تو انہوں نے جو کچھ اپنی امت کو بتایا تھا اگر وہ صحیح ان کو مانتے۔ تو اس میں ذکر تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں گے اور ایسا ہو گا اور ایسا ہو گا، ساری باتیں اس میں تھیں۔ تو وہ خود فوراً مان لیتے جیسا کہ عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مان لیا، وہ بھی یہودی تھے۔ لیکن انسان کے پاس ساتھ جو نفس ہے نا نفس۔ یہ وہ فوری چیز چاہتا ہے۔ تو اگر اس کی فوری چیزیں کفر کے ساتھ ہوں۔ تو یہ پھر کفر سے بھی نہیں چوکتا، ہاں البتہ اگر کوئی اس کی تربیت کر لے اور نفس مطمئنہ بنا دے پھر تو بات الگ ہے ورنہ پھر یہ ہے کہ وہ کفر سے بھی نہیں چوکتا۔ یہ جو صالح علیہ السلام کے وقت میں اونٹنی والی بات ہوئی تھی اس وقت وہ جو ظالم تھا اس نے جو اونٹنی کو مارنا چاہا تو کیا وہ جانتا نہیں تھا کہ اللہ کی اونٹنی ہے؟ ان کے سامنے سارا کچھ ہوا تھا۔ لیکن نفس کی خواہش ان پر غالب آ گئی۔ اور اس کے مقابلے میں اللہ پاک کے نبی کی بات نہیں مانی اور تباہ و برباد ہو گئے۔ تو اس طریقے سے جو لوگ اپنے نفس کے پیروکار ہوتے ہیں تو وہ حق بات کو چھپا لیتے ہیں، ان کو جو معلوم بھی ہوتا ہے وہ نہیں بتاتے۔ اگر وہ عالم ہوں، عالم نہ ہوں تو بس عالم کی بات نہیں مانتے۔ لیکن اگر عالم ہوں تو وہ بات چھپا لیتے ہیں۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فیصلے کے لیے یہودی آئے تھے رجم کے بارے میں۔ تو عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ساتھ تھے۔ تو انہوں نے کہا جی ہماری تورات میں رجم کی بات نہیں ہے۔ تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تورات لے آؤ تو جس وقت وہ دکھا رہے تھے تو جو رجم کی آیت تھی نا اس کے اوپر انگوٹھا رکھا ہوا تھا۔ مطلب یہ کہ وہ نظر نہ آئے۔ تو عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو جانتے تھے انہوں نے فرمایا یا رسول اللہ! ان سے کہہ دو یہاں سے انگوٹھا ہٹا دیں۔ اور جس وقت انگوٹھا ہٹایا اس کے نیچے حکم لکھا ہوا تھا، جب لکھا ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر نافذ کر دیا اور رجم ہو گیا۔ تو اب یہ دیکھیں، عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معلوم تھا، ان کو بھی معلوم تھا تبھی تو انگوٹھا رکھا تھا۔ تو اسی طرح وہ چھپاتے تھے۔ تو ظاہر ہے، مطلب یہ ہے کہ یہی بات تھی، اس طرح عیسائیوں نے بھی چھپائیں۔ جو عیسیٰ علیہ السلام نے جو باتیں کیں وہ بھی یعنی مطلب بعض لوگ تو مناظروں میں مان بھی لیتے ہیں۔ پھر بھی رجوع نہیں کرتے۔ تو ایسی باتیں کہ جو نفس کی باتیں ہیں نا اگر یہ ایمان پر اثر انداز ہو جائیں تو ایمان متاثر ہو جاتا ہے۔ اور اگر یہ اعمال پر اثر انداز ہو جائیں تو اعمال متاثر ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ایمانوں کی حفاظت فرما دے اور اعمال کی بھی۔
ترجمہ: اور (جس کے ذریعے) تم کو اُن باتوں کی تعلیم دی گئی تھی جو نہ تم جانتے تھے، نہ تمہارے باپ دادا؟“ (اے پیغمبر! تم خود ہی اس سوال کے جواب میں) اتنا کہہ دو کہ : ”وہ کتاب اللہ نے نازل کی تھی۔“ پھر ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو کہ یہ اپنی بے ہودہ گفتگو میں مشغول رہ کر دل لگی کرتے رہیں ﴿91﴾
اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہٗ غنی ہے۔ تو جب غنی ہے تو اس وجہ سے اللہ پاک کو کسی کی پرواہ نہیں ہے۔ اس وقت تو وہ اپنے یعنی فضل سے یہ باتیں بتا رہے ہیں، قرآن کے ذریعے سے یا پرانی کتابوں جو دینی کتابیں تھیں ان کے ذریعے سے وہ بتا دیتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی نہیں مانتا تو اللہ کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اللہ جل شانہٗ اگر یہ سارے لوگ بھی کافر ہو جائیں تو اللہ پاک کی خدائی میں کیا فرق پڑے گا؟ اللہ تعالیٰ کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، ہاں وہ لوگ تباہ و برباد ہو جائیں گے۔
ترجمہ: اور (اسی طرح) یہ بڑی برکت والی کتاب ہے جو ہم نے اُتاری ہے، پچھلی آسمانی ہدایات کی تصدیق کرنے والی ہے، تاکہ تم اس کے ذریعے بستیوں کے مرکز (یعنی مکہ) اور اس کے ارد گرد کے لوگوں کو خبردار کرو۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں، اور وہ اپنی نماز کی پوری پوری نگہداشت کرتے ہیں ﴿92﴾۔
اللہ جل شانہٗ ہم سب کو حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔