عقیدۂ توحید اور شرک کی تردید (حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعے کی روشنی میں)

درس نمبر 262، سورۃ الانعام، آیات: 74 تا 82، اشاعتِ اول: 18 اور 19 اگست، 2022، بمطابق 19 اور 20 محرم الحرام، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

قرآن میں بیان کردہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ اور اس کی تاریخی تصدیق قرآن کے کلام الٰہی ہونے کی دلیل ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چاند، سورج اور ستاروں کے ڈوبنے کو اپنی قوم کے عقائد کی لغویت ظاہر کرنے کے لیے پیش کیا۔ کائنات کی پرورش کرنے والا رب کوئی تغیر پذیر اور ناپائیدار چیز نہیں ہو سکتا۔ بائبل اور تورات کے برعکس قرآن نے پہلی دفعہ صراحت کی کہ اس دور کے لوگ celestial bodies کی عبادت کرتے تھے۔ بیسویں صدی میں دریافت ہونے والے کتبوں نے قرآن کے بیان کردہ ان تاریخی حقائق کی مکمل تصدیق کر دی ہے۔ یہ تاریخی شواہد قرآن کو اللہ کی کتاب تسلیم کرنے اور عقائد کو درست کرنے کی مضبوط دلیل ہیں۔ سچا امن اور ہدایت صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو توحید پر ایمان لاتے ہیں اور اسے شرک سے پاک رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت ملنے کے بعد آباؤ اجداد کی اندھی تقلید اور ان کے شرک کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ نفع و نقصان صرف اللہ کے اختیار میں ہے، اس لیے بے بنیاد دیوتاؤں کے بجائے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے سے ڈرنا چاہیے۔ اپنی پریشانیوں کو توہمات اور مزارات سے جوڑ کر رسم و رواج کی خلاف ورزی سے ڈرنا مشرکانہ خیالات کا ہی تسلسل ہے۔ قرآن و حدیث کی رو سے شرک ایک ظلمِ عظیم ہے جس کی ہر شکل سے خود کو محفوظ رکھنا لازم ہے۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةًۚ اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(74) وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ(75) فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًاۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ(76) فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّیْۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَىٕنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَ كُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ(77) فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ(78) اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ (79)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اور (اُس وقت کا ذکر سنو) جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا تھا کہ : ”کیا آپ بتوں کو خدا بنائے بیٹھے ہیں؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ اور آپ کی قوم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔“ ﴿74﴾ اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا نظارہ کراتے تھے ، اور مقصد یہ تھا کہ وہ مکمل یقین رکھنے والوں میں شامل ہوں ﴿75﴾ چنانچہ جب اُن پر رات چھائی تو اُنہوں نے ایک ستارا دیکھا۔ کہنے لگے: ”یہ میرا رَبّ ہے۔“

حاشیہ: حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق کے جس علاقے نینوا میں پیدا ہوئے تھے، وہاں کے لوگ بتوں اور ستاروں کو خدا مان کر ان کی عبادت کرتے تھے۔ ان کا باپ آزر بھی نہ صرف اسی عقیدے کا تھا، بلکہ خود بت تراشا کرتا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام شروع ہی سے توحید پر ایمان رکھتے تھے، اور شرک سے بیزار تھے۔ لیکن انہوں نے اپنی قوم کو غور و فکر کی دعوت دینے کے لئے یہ لطیف طریقہ اختیار فرمایا کہ چاند ستاروں اور سورج کو دیکھ کر پہلے اپنی قوم کی زبان میں بات کی۔ مقصد یہ تھا کہ یہ ستارہ تمہارے خیال میں میرا پروردگار ہے۔ آؤ دیکھتے ہیں کہ یہ بات تسلیم کرنے کے قابل ہے یا نہیں؟ چنانچہ جب ستارہ بھی ڈوبا اور چاند بھی، اور آخر میں سورج بھی، تو ہر موقع پر انہوں نے اپنی قوم کو یاد دلایا کہ یہ تو ناپائیدار اور تغیر پذیر چیزیں ہیں۔ جو چیز خود ناپائیدار ہو اور اُس پر تغیرات طاری ہوتے رہتے ہوں، اُس کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ پوری کائنات کی پرورش کر رہی ہے، کیسی غیر معقول بات ہے۔ لہٰذا انہوں نے چاند ستاروں یا سورج کو جو یہ کہا تھا کہ یہ میرا رَبّ ہے، وہ اپنے عقیدے کے مطابق نہیں، بلکہ اپنی قوم کے عقیدے کی لغویت ظاہر کرنے کے لئے فرمایا تھا۔

تو یہاں پر گویا کہ اس جیسے کہ میں نے ابھی بتایا ہے۔ کہ انہوں نے اپنی قوم کی زبان میں کہا۔ یعنی ان کو سمجھانے کے لیے کہ

ترجمہ: ”یہ میرا رَبّ ہے۔“ پھر جب وہ ڈوب گیا تو انہوں نے کہا: ”میں ڈوبنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“ ﴿76﴾ پھر جب انہوں نے چاند کو چمکتے دیکھا تو کہا کہ : ”یہ میرا رَبّ ہے۔“ لیکن جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہنے لگے: ”اگر میرا رَبّ مجھے ہدایت نہ دے تو میں یقیناً گمراہ لوگوں میں شامل ہو جاؤں۔“ ﴿77﴾ پھر جب انہوں نے سورج کو چمکتے دیکھا تو کہا: ”یہ میرا رَبّ ہے۔ یہ زیادہ بڑا ہے۔“ پھر جب وہ غروب ہوا تو انہوں نے کہا: ”اے میری قوم! جن جن چیزوں کو تم اللہ کی خدائی میں شریک قرار دیتے ہو، میں اُن سب سے بیزار ہوں ﴿78﴾ میں نے تو پوری طرح یکسو ہو کر اپنا رُخ اُس ذات کی طرف کرلیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں ۔“ ﴿79﴾

یہ اصل میں اس وقت کے دور کے جو عقائد تھے اس قوم کے، اس کی بنیاد پر یہ بات کی گئی ہے۔ ایک سکالر یہ بات کر رہا تھا کہ بائبل جو ہے اس میں شرک کی بات ہے دوسرے یعنی gods کو یعنی وہ کرتے تھے ان تورات میں۔ لیکن یہ تفصیل نہیں ہے کہ وہ کس طرح تھے۔ تو قرآن نے یعنی اتنے عرصے کے بعد ہزاروں سال بعد پہلی دفعہ یہ فرمایا کہ وہ اس طرح کرتے تھے۔ یعنی ستاروں کی بھی کرتے تھے اور چاند کی بھی کرتے تھے اور سورج کی بھی کرتے تھے۔ مطلب یہ celestial bodies ہیں، ان کی بھی عبادت کرتے تھے اور باقی بت پرستی بھی تھی۔ تو یہ قرآن نے پہلی دفعہ یعنی تشریح کر دی کہ اس طریقے سے۔ تو یہ مطلب یہ ہے کہ قرآن میں جو بتایا گیا ہے وہ آج، اتنے عرصے کے بعد twentieth century میں، وہ مطلب پتا چل گیا کہ یہ اس طریقے سے کرتے تھے۔ یعنی مطلب کہ وہ کتبے مل گئے اور ساری چیزیں، اس پہ تصویریں تھیں تو پتا چل گیا، اس سے پہلے کسی کو پتا نہیں تھا کہ کس طرح کرتے تھے۔ تو قرآن نے یہ چیز بتائی ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ واقعتاً قرآن اللہ کا کلام ہے۔ اور اللہ کے کلام میں کون سی چیز کی کمی ہو سکتی ہے؟ لیکن بہرحال جو لوگ پہلے سے نہیں مانتے ان کے لیے یہ ایک دلیل ہوتی ہے کہ وہ اس پر ایمان لائیں اور اس کو اللہ پاک کی کتاب سمجھیں اور اپنے عقائد کو اس کے مطابق درست کریں۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو صحیح عقائد رکھنے کی توفیق عطا فرما دے اور اس پر استقامت اور موت تک ہمیں اللہ اسی کے ساتھ رہے۔

وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْــٴًـاؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًاؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ(80) وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًاؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (81) اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ (82)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔

ترجمہ: اور (پھر یہ ہوا کہ) اُن کی قوم نے اُن سے حجت شروع کردی۔

حاشیہ: سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے حجت کرتے ہوئے ان کی قوم نے دو باتیں کہیں۔ ایک یہ کہ ہم برسوں سے اپنے باپ دادوں کو ان بتوں اور ستاروں کی پوجا کرتے دیکھ رہے ہیں۔ ان سب کو گمراہ سمجھنا ہمارے بس سے باہر ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کا جواب پہلے جملے میں یہ دیا ہے کہ ان باپ دادوں کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی وحی نہیں آئی تھی، اور مذکورہ بالا عقلی دلائل کے علاوہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی بھی آئی ہے۔ لہٰذا اللہ کی دی ہوئی ہدایت کے بعد میں شرک کو کیسے درست تسلیم کر سکتا ہوں؟ دوسری بات ان کی قوم نے یہ کہی ہوگی کہ اگر تم نے ہمارے بتوں اور ستاروں کی خدائی سے انکار کیا تو وہ تمہیں تباہ کر ڈالیں گے۔ اس کے جواب میں انہوں نے فرمایا کہ میں ان بے بنیاد دیوتاؤں سے نہیں ڈرتا، بلکہ ڈرنا تمہیں چاہئے کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ بے بنیاد دیوتاؤں کو اس کی خدائی میں شریک مان رہے ہو۔ نقصان اگر پہنچا سکتا ہے تو وہ صرف اللہ تعالیٰ ہے، کوئی اور نہیں۔ اور جو لوگ اس کی توحید پر ایمان لاتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ نے امن اور چین عطا فرمایا ہے۔

یہ بات ابھی بھی، ظاہر ہے، موجودہ دور میں جو مشرکین ہیں ان کے ہاں چلتی ہے۔ مشرکین جو ہوتے ہیں وہ اپنی دنیا چونکہ آخرت پر تو یقین نہیں رکھتے تو اپنی دنیا کے ساتھ ساری چیزوں کو attach کرتے ہیں۔ یعنی وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری جو بیماری ہے، ہماری جو تکلیفیں ہیں، ہماری پریشانی ہیں، اس کے مقابلے میں ہمارے لئے جو امن کے راستے ہیں اور خوشی کے راستے ہیں۔ ان سب کے لیے جو انہوں نے جو بھی سوچا ہوتا ہے یا جو چلا آ رہا ہوتا ہے جیسے ابھی اس میں کہہ دیا کہ جو چلا آ رہا ہوتا ہے ان کے باپ دادوں کی طرف سے۔ تو وہ اس میں شک میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ہم اس میں اس کے خلاف کریں گے تو ہمیں بڑا نقصان ہو جائے گا۔ میں اس کی ایک ادنیٰ مثال آپ کو دیتا ہوں کہ ہمارے گھروں کے اندر خواتین میں کچھ وہمی باتیں پائی جاتی تھیں۔ ابھی بھی شاید پائی جاتی ہوں گی جہاں جہاں جہالت ہے۔ کہ اگر کسی نے فلاں دن جھاڑو دے دیا تو یہ ہو جائے گا۔ اگر یہ، مطلب یہ ہے کہ فلاں دن یہ شعبان کے مہینے میں شادی کی تو یہ ہو جائے گا۔ فلاں کام کر لیا تو یہ ہو جائے گا۔ انہوں نے چیزوں کو assume کیا ہوا تھا۔ تو بیشک آپ کتنے ہی دلائل دیتے نا تو وہ ڈر رہے ہوتے تھے کہ اگر ہم نے یہ کر لیا تو یہ بڑا مسئلہ ہو جائے گا۔ تو اس وجہ سے ان کو (سمجھانا) بڑا مشکل ہوتا تھا۔ یہ بڑی بوڑھیاں، عورتیں، بوڑھے لوگ، وہ ان چیزوں پر اتنے پکے ہوتے تھے کہ بیشک آپ کتنے ہی دلائل ان کو دے دیں، وہ دلائل کی بات نہیں سنتے تھے، وہ صرف بس اپنا ظاہری خوف اسی طرح کرتے تھے۔ اب اسی طریقے سے جو لوگ یعنی ہمارے جو اولیاء اللہ کے جو مزارات ہوتے ہیں ان میں جو اس کے ساتھ انہوں نے کچھ چیزیں اس طرح وابستہ کی ہوتی ہیں تو وہ بھی اسی طرح ڈرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پتہ نہیں اگر ہم نے ایسا کیا تو پتہ نہیں کیا ہو جائے گا۔ حالانکہ اگر عقل سے کام لیا جائے تو جن بزرگوں کے نام لیتے ہیں انہوں نے پوری زندگی خود کیسے گزاری؟ آیا انہوں نے ان چیزوں میں گزاری ہے؟ اچھا پوری زندگی کیا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے گزاری ہے، اپنی طرف دعوت دیتے گزاری ہے؟ آدمی خود دیکھ لے مطلب ان کی history پڑھے ان کا جو طریقہ کار ہے وہ پڑھے تو ساری چیزیں سمجھ میں آ جائیں گی۔ تو یہ چیز ہے کہ یہ آباؤ اجداد کی طرف سے جو آئی بات ہے یہ بھی ابھی تک چلی آ رہی ہے کہ اگر آپ ان کو کہہ دیں کہ بھئی یہ وہ ہمارے باپ دادا تو یہ کیا سارے غلط تھے؟ ہمارے کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے جو کاکا خیل قوم میں وہ تو وہاں یہ عرس وغیرہ، اب تو ہر جگہ عرس تو ایک تماشہ ہے ایک میلہ ہوتا ہے۔ تو وہاں بھی میلہ بن گیا۔ تو ہمارے چچا تھے، ظاہر ہے بڑے عالم تھے، تو انہوں نے منبر پر بیٹھ کے اس کے خلاف بیان کر لیا کہ یہ ساری باتیں لغو ہیں اور اولیاء اللہ کے اوپر بہتان ہیں اس قسم کی چیزیں تو یہ نہیں ہونی چاہیں۔ تو ایک بہت بڑے آدمی خاندانی لحاظ سے بھی وہ اٹھے اور کہتے ہیں کیا ہمارے باپ دادا سب غلط تھے؟ بالکل وہی پرانی بات۔ مطلب یہ ہے کہ اس میں کوئی نئی بات نہیں تھی۔ ہمارے کیا ہمارے باپ دادا سارے غلط تھے؟ تو یہ، یہ چیزیں ابھی تک چلی آ رہی ہیں اور اسی طریقے سے وہ چیزیں ہوتی ہیں۔ ہاں البتہ اللہ کا شکر ہے کہ یہاں پر اس حد تک نہیں ہے کہ اس کو سجدہ کریں یا کوئی اس طرح کریں لیکن بعض جاہل کرتے بھی ہیں۔ پاکپتن شریف پہ پتہ نہیں لوگ سجدے کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟ تو بعض جاہل کرتے بھی ہیں لیکن مطلب یہ ہے کہ چلو اس علاقے میں ایسے نہیں ہے کہ جو سجدے تو کرتے ہیں لیکن یہ ہے کہ کم از کم یہ باتیں ان میں بھی پائی جاتی ہیں۔ تو اللہ جل شانہٗ ہم سب کو ان چیزوں سے خلاصی نصیب فرمائے۔ بہت زیادہ خطرناک باتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کام میں کسی کو شریک کرنا بہت ہی خطرناک بات ہے۔

ترجمہ: ابراہیم نے (اُن سے) کہا: ”کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں حجت کرتے ہو جبکہ اُس نے مجھے ہدایت دے دی ہے؟ اور جن چیزوں کو تم اللہ کے ساتھ شریک مانتے ہو، میں اُن سے نہیں ڈرتا (کہ وہ مجھے کوئی نقصان پہنچادیں گی) اِلا یہ کہ میرا پروردگار (مجھے) کچھ (نقصان پہنچانا) چاہے (تو وہ ہر حال میں پہنچے گا) میرے پروردگار کا علم ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ کیا تم پھر بھی کوئی نصیحت نہیں مانتے؟ ﴿80﴾ اور جن چیزوں کو تم نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے، میں اُن سے کیسے ڈر سکتا ہوں جبکہ تم اُن چیزوں کو اللہ کا شریک ماننے سے نہیں ڈرتے جن کے بارے میں اُس نے تم پر کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے؟ اب اگر تمہارے پاس کوئی علم ہے تو بتاؤ کہ ہم دو فریقوں میں سے کون بے خوف رہنے کا زیادہ مستحق ہے؟ ﴿81﴾ (حقیقت تو یہ ہے کہ) جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور اُنہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ کسی ظلم کا شائبہ بھی آنے نہیں دیا،

حاشیہ: ایک صحیح حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت میں لفظ ”ظلم“ کی تشریح شرک سے فرمائی ہے،

اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ۔ قرآن پاک کی نص سے بھی۔

حاشیہ: شرک سے فرمائی ہے، کیونکہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے شرک کو ظلم عظیم قرار دیا ہے۔

اللہ جل شانہٗ ہم سب کو اس ظلم عظیم سے محفوظ فرما دے، چاہے کسی بھی رنگ میں ہو۔ ہاں اللہ کو پتہ ہے جس کسی بھی رنگ میں ہو اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ فرمائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔