جائز نذر کی تکمیل اور ناممکن یا غیر شرعی نذر کی ممانعت
باب فی الاقتصاد فی الطاعۃ، درس نمبر: 218، حدیث نمبر: 152 اشاعتِ اول: 27 فروری، 2023 بمطابق 6 شعبان، 1444 ہجری
- جو نذر ممکن نہیں، وہ جائز نہیں۔
- جس نذر کا پورا کرنا ممکن نہ ہو، اس کو پورا نہیں کیا جائے گا۔
- بعض جگہ پر بولنا اور نماز کے قعدہ میں بیٹھنا ضروری ہو جاتا ہے، اس لیے بالکل نہ بولنے یا نہ بیٹھنے کی نذر ممکن نہیں۔
- نذر کا جو حصہ پورا کرنا ممکن ہو، اسے پورا کرنے کا حکم ہے۔
- روزے کی نذر میں عید الفطر، عید الاضحی اور ایام تشریق کے وہ پانچ دن داخل نہیں ہوں گے جن کو شریعت نے منع کیا ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ.
جو نذر ممکن نہیں وہ جائز نہیں
(152) ﴿وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَخْطُبُ اِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ فَسَاَلَ عَنْهُ فَقَالُوْا: اَبُوْ اِسْرَائِيْلَ نَذَرَ اَنْ يَّقُوْمَ فِى الشَّمْسِ وَ لَا يَقْعُدَ وَ لَا يَسْتَظِلَّ وَ لَا يَتَكَلَّمَ وَ يَصُوْمَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: مُرُوْهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَ لْيَسْتَظِلَّ وَ لْيَقْعُدْ وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ﴾ (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ)
ترجمہ: ”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ ایک دفعہ نبی ﷺ خطبہ دے رہے تھے تو ایک آدمی کھڑا تھا، آپ نے اس کے متعلق سوال کیا لوگوں نے عرض کیا کہ اس کو ابو اسرائیل کہتے ہیں، اس نے نذر مان رکھی ہے کہ دھوپ میں کھڑا رہے گا نہ بیٹھے گا نہ سایہ میں آئے گا نہ کسی سے بات کرے گا اور ہمیشہ روزہ رکھے گا۔ نبی ﷺ نے فرمایا اسے کہو کلام بھی کرے، سائے میں بیٹھے اور اپنا روزہ پورا کرے۔“
آپ ﷺ نے بات کرنے کا اور بیٹھنے کا حکم دیا
مُرُوْهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَ لْيَسْتَظِلَّ وَ لْيَقْعُدْ. فرمایا کہ اس کو کہو کہ بات بھی کرے سایہ میں بھی بیٹھے۔ مطلب یہ ہے کہ جس نذر کو پورا کرنا ممکن ہے تو اس کو پورا کرنا چاہئے اور جس کو پورا کرنا ناممکن نہ ہو تو اس کو پورا نہیں کیا جائے گا جیسے کہ یہاں پر بعض جگہ پر بولنا ضروری ہوجاتا ہے مثلاً سلام کا جواب دینا، نماز میں قرأت کرنا وغیرہ اسی طرح آدمی بالکل نہ بیٹھے یہ بھی ممکن نہیں کیونکہ نماز میں قعدہ میں بیٹھنا ضروری ہے۔
آپ ﷺ نے روزہ کو پورا کرنے کا حکم دیا
وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ: روزہ کو پورا کرنا ممکن تھا اس لئے آپ ﷺ نے حکم فرمایا کہ پورا کرو مگر اس میں پانچ دن کے روزے (عید الفطر، عید الاضحیٰ، ایام تشریق) جن کو شریعت نے منع کیا ہے وہ داخل نہیں ہوں گے۔
تخریج حدیث: صحيح بخارى كتاب الايمان والنذور (باب النذر فيما لا يملك و فى معصية) رواه مالك و احمد 6 / 17540 ابوداؤد و ابن ماجه و دارقطنى 4/ 161 و ابن حبان والطبرانى 11871، مصنف عبدالرزاق 15817 و البيهقى 10 / 75۔
صَحِيحُ بُخَارِيٍّ كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ بَابُ النَّذْرِ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَفِي مَعْصِيَتِي وَفِي مَعْصِيَتِي. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارَقُطْنِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَالطَّبَرَانِيُّ وَمُصَنَّفُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَالْبَيْهَقِيُّ.