حقیقتِ دنیا، اہمیتِ آخرت اور تسلیِ رسول ﷺ

درس نمبر 253، سورۃ الانعام، آیات: 31 تا 34، اشاعتِ اول: 8 اگست، 2022، بمطابق 9 محرم الحرام، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. اللہ سے ملاقات کا انکار کرنے والے بڑے خسارے میں ہیں اور قیامت اچانک آ جانے پر وہ اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھائے حسرت کا شکار ہوں گے۔
  2. آخرت کی ابدی زندگی کے مقابلے میں دنیاوی زندگی محض کھیل تماشا ہے، البتہ متقی لوگوں کے لیے آخرت کا گھر کہیں زیادہ بہتر ہے۔
  3. جو لوگ اللہ کے احکام کی پیروی کرتے ہوئے دنیا کو آخرت کی کھیتی بنا کر زندگی گزارتے ہیں، ان کے لیے دنیاوی زندگی بھی ایک نعمت ہے۔
  4. کفار درحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو نہیں بلکہ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں، جس پر آپ کو شدید رنج ہوتا ہے۔
  5. پچھلے تمام رسولوں نے بھی تکالیف اور جھٹلائے جانے پر صبر کیا یہاں تک کہ انہیں اللہ کی اٹل مدد پہنچ گئی۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ. اَلصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ أَمَّا بَعْدُ.

فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ. بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَاۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ (31) وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (32) قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ (33) وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَاۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ (34)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ.

ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ بڑے خسارے میں ہیں وہ لوگ جنہوں نے اللہ سے جاملنے کو جھٹلایا ہے! یہاں تک کہ جب قیامت اچانک ان کے سامنے آکھڑی ہوگی تو وہ کہیں گے: "ہائے افسوس! کہ ہم نے اس (قیامت) کے بارے میں بڑی کوتاہی کی۔" اور وہ (اس وقت) اپنی پیٹھوں پر اپنے گناہوں کا بوجھ لادے ہوئے ہوں گے۔ (لہٰذا) خبردار رہو کہ بہت برا بوجھ ہے جو یہ لوگ اٹھا رہے ہیں ﴿31﴾ اور دُنیوی زندگی تو ایک کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں،

حاشیہ: یہ بات کافروں کے اس بیان کے جواب میں کہی گئی ہے جو آیت نمبر 29 میں اُوپر گزرا ہے کہ : ”جو کچھ ہے بس یہی دُنیوی زندگی ہے“ جواب میں فرمایا گیا ہے کہ آخرت کی ابدی زندگی کے مقابلے میں چند روز کی دُنیوی زندگی، جسے تم سب کچھ سمجھ رہے ہو، کھیل تماشے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی۔ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام کی پروا کئے بغیر دُنیا میں زندگی گزارتے ہیں تو جس عیش و آرام کو وہ اپنا مقصدِ زندگی بناتے ہیں، آخرت میں جا کر ان کو پتہ لگ جائے گا کہ اس کی حیثیت کھیل تماشے کی سی تھی۔ ہاں! جو لوگ دُنیا کو آخرت کی کھیتی بنا کر زندگی گزارتے ہیں، ان کے لئے دُنیوی زندگی بھی بڑی نعمت ہے۔

ترجمہ: اور یقین جانو کہ جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں، ان کے لئے آخرت والا گھر کہیں زیادہ بہتر ہے۔ تو کیا اتنی سی بات تمہاری عقل میں نہیں آتی؟ ﴿32﴾ (اے رسول!) ہمیں خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے، کیونکہ دراصل یہ تمہیں نہیں جھٹلاتے، بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ﴿33﴾ اے رسول! ہمیں خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے کیونکہ دراصل یہ تمہیں نہیں جھٹلاتے، بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔

حاشیہ: یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو صرف اپنی ذات کے جھٹلانے سے اتنا زیادہ رنج نہ ہوتا، لیکن زیادہ رنج وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلاتے ہیں۔ آیت کے یہ معنی الفاظِ قرآن کے بھی زیادہ مطابق ہیں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج سے بھی زیادہ مطابقت رکھتے ہیں۔ واللہ سبحانہ اعلم۔

ترجمہ: اور حقیقت یہ ہے کہ تم سے پہلے بہت سے رسولوں کو جھٹلایا گیا ہے۔ پھر جس طرح انہیں جھٹلایا گیا اور تکلیفیں دی گئیں، اس سب پر انہوں نے صبر کیا، یہاں تک کہ ہماری مدد ان کو پہنچ گئی۔ اور کوئی نہیں ہے جو اللہ کی باتوں کو بدل سکے۔ اور (پچھلے) رسولوں کے کچھ واقعات آپ تک پہنچ ہی چکے ہیں ﴿34﴾

اللہ جل شانہ ہم سب کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کو صحیح طور سے سمجھنے کی اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ. وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ. وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ. وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعلَمِيْنَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ.


حصہ دوم: تشریحی نوٹس

1. قیامت اچانک آئے گی اور حقیقت کھل جائے گی

آج کی آیات میں یہ بات آئی کہ کفار جو آخرت کا انکار کرتے ہیں، جب اُن پر قیامت اچانک آ جائے گی تو اُس وقت اُن کو حقیقت کا پتہ چل جائے گا۔

2. دنیا میں جو کچھ ملتا ہے، وہ عارضی ہے

دنیا میں چاہے جتنی بھی چیزیں انسان کو ملیں، وہ عارضی ہیں۔

3. وی آئی پی لاؤنج کی مثال

ایک انسان کا اپنا گھر ہوتا ہے، اور سفر پر کسی جگہ چلا جائے اور وی آئی پی لاؤنج میں بیٹھے، جہاں صوفہ سیٹ اور بہترین چیزیں ہوتی ہیں، تو وہ اُن کے ساتھ دل نہیں لگاتا — اسے پتہ ہوتا ہے کہ میں نے ہمیشہ ادھر نہیں رہنا۔ اور اگر وہاں اسے اچھی سہولیات نہ ملیں تب بھی وہ سمجھتا ہے کہ بس یہ کچھ وقت کے لیے ہے، اس لیے گزارا کر لیتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ جہاں جا رہا ہے وہاں اس سے اچھی چیزیں موجود ہیں۔ چیزیں ملتی رہیں تو ممکن ہے وہ اُن سے لطف اندوز ہو، لیکن ساتھ ساتھ یہ خیال بھی رہے گا کہ یہ ساری چیزیں میری اپنی نہیں ہیں، مجھے واپس اپنے گھر جانا ہے، اور وہاں جو چیزیں ملتی ہیں وہ میری ہیں۔

4. ملازمت کی مثال

اسی طرح ایک انسان ملازمت پر جاتا ہے اور وہاں کچھ گھنٹے گزارتا ہے، جیسے آٹھ گھنٹے ڈیوٹی کرتا ہے۔ اس دوران جو سہولتیں اسے ملتی ہیں، اُس کا دل اُن میں پھنستا نہیں، کیونکہ اُسے پتہ ہے کہ یہ سہولتیں فقط آٹھ گھنٹے کے لیے میرے پاس ہیں، اس کے بعد مجھے اپنے گھر جانا ہے۔

5. اصل چیزیں آخرت میں ہیں

اسی طرح ہمیں سوچنا ہے کہ دنیا میں اچھی چیزیں تو ہیں، لیکن جہاں آخرت میں جانا ہے، اصل چیزیں تو وہاں پر ہیں۔ مثلاً یہاں کا جو غم ہے وہ کم ہے، لیکن خدانخواستہ جہنم جانا پڑے تو وہاں کی تکلیفیں اور غم بہت ہی زیادہ ہیں۔

6. بینک کا مال اور آگے بھیجا ہوا ذخیرہ

انسان سوچتا ہے کہ میرے بینک میں پیسے پڑے ہیں اور اس پر مطمئن ہوتا ہے، لیکن یہ کسے پتہ ہے کہ وہ اُس کے کام آئیں گے یا نہیں۔ لیکن جو میں آگے بھیج دوں گا، آخرت میں وہ وہاں کا ہے۔ جو بھی نیکی اللہ کے لیے کروں گا، وہ وہاں ہمارے لیے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سٹور ہو جائے گی۔ افسوس یہ ہے کہ ان چیزوں کی طرف ہمارا دھیان کم ہے۔

7. اپنے ذخیرۂ آخرت کا جائزہ

اصل تو یہ دیکھنا ہے کہ ہم اپنی آخرت کے لیے کیا ذخیرہ کر رہے ہیں — آیا اچھے ہیں یا برے۔ ہماری دنیا کی زندگی ایک عارضی زندگی ہے، اور اس زندگی میں ہم نے اپنی دائمی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کام کرنا ہے۔

8. اب وقت ہے کہ درستی کر لی جائے

تو اب وقت ہے کہ اس کو ٹھیک کرو، اور اگر ہمارے ذمہ کسی کا حق ہے تو اُس کو پورا کرو۔

9. مشکلات میں انبیاء علیہم السلام کا اسوہ

دنیا میں اگر ہم پر جبراً مسائل آ پڑیں، تو دیکھیں انبیاء علیہم السلام نے بھی کیسی کیسی مشکلات اٹھائیں، لیکن وہ آخرت میں تو اچھے ہیں نا۔ تو اگر دیکھیں تو یہی اصل چیز ہے۔

10. اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا تصور

ایک وقت آئے گا کہ اللہ کے ساتھ ملاقات ہوگی ان شاء اللہ۔ تو اگر اچھے اعمال کیے ہوں گے تو ماشاء اللہ انسان بہت خوش ہوگا، اور اگر اچھے نہ ہوئے تو کتنا نقصان ہے، کتنا مسئلہ ہوگا۔ سب سے بہترین چیز اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہوگی — اُس وقت کا تصور کرو۔

جو دعائیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سکھائی ہیں، ہم وہ کریں، ذکر کریں، اور پانچ وقت کی نمازیں اچھی طرح پڑھیں۔

اگر یہ بات ہر وقت ہمیں مستحضر رہے تو ان شاء اللہ ہمارے اعمال میں بہتری آتی جائے گی، اور اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرما دیں گے اور ہماری آخرت کی زندگی کو کامیاب بنا دیں گے۔

حقیقتِ دنیا، اہمیتِ آخرت اور تسلیِ رسول ﷺ - درسِ قرآن - دوسرا دور