سلوک و معرفت اور پیغامِ محبت: دیدارِ الٰہی، تزکیۂ نفس اور سفرِ عشق کے حقائق
کتاب: پیغام محبت، درس 14، اشاعت اول: 24 ستمبر 2013 بمطابق 17 ذو القعدہ 1434 ہجری، حصہ سوم
- دیدارِ الٰہی کی تڑپ اور "ہُو کے عالم" کی حقیقت
- نفس کی سرکشی اور سلاسلِ تصوف کی پابندی
- گناہوں سے بچنے کی اہمیت بمقابلہ مستحبات (شرعی قاعدہ)
- بندگی کے متضاد احوال اور استحضارِ باری تعالیٰ
- دورِ حاضر کے فتنوں اور نفسانی شہوات کا علمی و عملی مقابلہ
- کامیابی کا حقیقی معیار: قال (باتوں) کے بجائے حال اور عمل کی درستی
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ. أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ.
آج منگل کا دن ہے اور منگل کے دن ہمارے ہاں طریقِ جذب کی ترجمان کتاب ”پیغامِ محبت“ کے اشعار کی تشریح کی جاتی ہے۔ آج اس غزل سے شروع کیا جاتا ہے:
دیدار کا عالم
اُف کیا خوب نظارہ ہوگا
سامنے محبوب ہمارا ہوگا
ہم تو مر مر کے جینا چاہیں گے
اذن جینے کا جو پایا ہوگا
اُف کیا خوب نظارہ ہوگا
سامنے محبوب ہمارا ہوگا
وہ کیا مدہوشی کا عالم ہوگا
ہُو کا عالم ہی جو چھایا ہوگا
اُف کیا خوب نظارہ ہوگا
سامنے محبوب ہمارا ہوگا
یہاں پر الحمد للہ، الحمد للہ، الحمد للہ ایک محاورہ ہے جو بالکل صحیح معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ حالانکہ باقی تقریباً ہر جگہ پر غلط استعمال ہوتا ہے۔ جہاں کے لیے یہ لوگ استعمال کرتے ہیں سب جگہ پر غلط استعمال ہوتا ہے، اور الحمد للہ یہاں پر یہ صحیح استعمال ہوا ہے اللہ کا شکر ہے۔ وہ کیا ہے؟ "ہُو کا عالم"۔ "ہُو کا عالم" کیا ہوتا ہے؟ کہ صرف وہی ہے۔ صرف وہی سامنے ہو، تو وہ تو وہاں پر ہوگا نا۔ باقی کوئی بھی نظر میں نہیں ہوگا، ہُو کا عالم ہوگا۔ یہاں پر ہُو کا عالم سے مراد یہ ہے کہ کچھ بھی نہیں۔ غلط ہے! بالکل غلط ہے، غلط العام جس کو ہم کہہ سکتے ہیں، یہ بالکل غلط سوچ ہے لیکن چل پڑا ہے اردو میں۔ بہت ساری چیزیں غلط چل رہی ہیں، ان میں ایک یہ بھی غلط ہے۔ لیکن یہاں پر الحمد للہ بہت ہی fit یہاں پر...
وہ کیا مدہوشی کا عالم ہوگا
حدیث شریف می ہے، پتا نہیں کتنا عرصہ گزر جائے گا لوگوں کو پتہ ہی نہیں چلے گا۔ پتا ہی... پتا ہی نہیں لگے گا، کتنا مطلب وقت گزر چکا ہوگا۔ تو وہ بس اللہ کے دیدار میں گم ہوں گے۔
وہ کیا مدہوشی کا عالم ہوگا
ہُو کا عالم ہی جو چھایا ہوگا
اُف کیا خوب نظارہ ہوگا
سامنے محبوب ہمارا ہوگا
وقت گزرنے کا تو احساس ختم
چہرہ اپنا جو دکھایا ہوگا
اُف کیا خوب نظارہ ہوگا
سامنے محبوب ہمارا ہوگا
سمجھیں ہم کیا پھر اس عالم کو شبیرؔ
سب کیسے ہوں گے اور کیا ہوگا
اُف کیا خوب نظارہ ہوگا
امید کرتا ہوں ان شاء اللہ کہ اس کتاب کا حاصلِ غزل ہے، ان شاء اللہ مطلب یہ ہے کہ پوری کتاب میں پیغامِ محبت کا جو Climax ہے میرے خیال میں اس غزل میں ہے۔ جو اس میں پیغام ہے وہ یہی ہے کہ سب کچھ اسی کے لیے چھوڑ دو، اصل میں تو یہی تو وہ ہے، جس کو پانا ہے۔
اُف کیا خوب نظارہ ہوگا
سامنے محبوب ہمارا ہوگا
ہم تو مر مر کے جینا چاہیں گے
اذن جینے کا جو پایا ہوگا
وہ کیا مدہوشی کا عالم ہوگا
ہُو کا عالم ہی جو چھایا ہوگا
اُف کیا خوب نظارہ ہوگا
وقت گزرنے کا تو احساس ختم
چہرہ اپنا جو دکھایا ہوگا
اُف کیا خوب نظارہ ہوگا
سمجھے ہم کیا پھر اس عالم کو شبیرؔ
سب کیسے ہوں گے اور کیا ہوگا
اُف کیا خوب نظارہ ہوگا
یہ ایک دوسری غزل ہے
شوقِ جنوں
شوق دل میں مرے مچلتا ہے کہ حقِ بندگی ادا میں کروں
ہاتھ میں کیا ہے مرے، کیا ہوں میں سوچتا رہتا ہوں کہ کیا میں کروں
دل سے آواز ایک آئی ہے یہ مرا نفس جس کا باغی ہے
اسے پابندِ سلاسل میں کروں، جو کہے وہ اس پہ چلا میں کروں
شوق دل میں مرے مچلتا ہے کہ حقِ بندگی ادا میں کروں
یہ ذو معنی شعر ہے، اس میں دو معنی پائے جاتے ہیں۔ یعنی دل سے میری آواز آئی کہ میرا نفس جو باغی ہے اس کو میں پابندِ سلاسل کروں۔ سلاسل کہتے ہیں زنجیر کو، یعنی اس کو میں قید کر لوں۔ اس کا عرفی ترجمہ کیا ہے؟ اس کو میں قید کر لوں۔ تو یہ بھی صحیح ہے، ظاہر ہے نفس کو آپ قید کریں گے، اس کو منوائیں گے، کچھ اس کی نہیں مانیں گے، تو پھر بات چلے گی۔ لیکن سلاسل یہ ہمارے سلسلوں کی جمع ہے، تصوف میں اس کو لے آؤں۔ یعنی اس کو میں سلسلوں کا پابند کر دوں اور سلسلوں کے طریقوں پہ اس کو چلاؤں اور جو وہاں سے ارشاد ہو اسی طریقے پہ میں چلا کروں۔ تو دونوں لحاظ سے یہ معنی بالکل صحیح بیٹھتے ہیں، لہٰذا دونوں معنی لیے جا سکتے ہیں۔
دل سے آواز ایک آئی ہے یہ مرا نفس جس کا باغی ہے
اسے پابندِ سلاسل میں کروں، جو کہے وہ اس پہ چلا میں کروں
شوق دل میں مرے مچلتا ہے کہ حقِ بندگی ادا میں کروں
اس لیے تو میں کہتا ہوں کہ یہ الہامی اشعار ہیں، اس طرح چیزوں کو fit کرنا ناممکن سی بات ہے، مضمون کے لحاظ سے اور پھر تمام چیزوں کو اس طرح لانا یہ ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔ لیکن اللہ پاک جب کروانا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسباب بناتا ہے۔
جان و مال وقت مجھے دے کر اس نے کام ان کا مجھے بتایا ہے
جن سے بچنے کو کہا ہے ان کو جان لوں اور ان سے بچا میں کروں
شوق دل میں مرے مچلتا ہے کہ حقِ بندگی ادا میں کروں
یہ اس میں علمِ نافع کی بھی بات آ گئی، کہ میں جان لوں، کہ مجھے کن کن چیزوں سے رکنے کے لیے کہا ہے؟ اور پھر میں اپنے آپ کو ان چیزوں سے بچا لوں۔
مجھے اپنا بنا کے زور دے کر کہا کہ غیر کا کبھی بھی نہ بنوں
اس میں فقہ کا ایک مشہور کلیہ بھی آ گیا، سبحان اللہ! اللہ پاک ہی کراتے ہیں ورنہ ہمارے کہاں بس... ان تمام چیزوں کی رعایت کرنا۔ تو فقہ کا ایک مشہور کلیہ آ گیا کہ مطلب یہ ہے کہ مطلب جو گناہوں سے بچنا مستحب سے افضل ہے۔ گناہوں سے بچنا کیا ہے؟ وہ مستحب سے افضل ہے۔ اس کا پتا نہیں قانون ہے، مجھے ذہن سے الفاظ اتر گئے ہیں، لیکن اس میں یہ ہے کہ جو غلط چیزیں ہیں ان سے بچنا ضروری ہے بمقابلہ اس کے کہ آپ کچھ اچھا کریں۔ وہ مجھے جب یاد آ جائیں گے تو بتا دوں گا لیکن یہ فقہ کا مشہور قاعدہ ہے۔
مجھے اپنا بنا کے زور دے کر کہا کہ غیر کا کبھی بھی نہ بنوں
اس کا غیر جو بھی ہے، کہیں بھی ہے، کبھی اس سے نہ اب ملا میں کروں
شوق دل میں مرے مچلتا ہے کہ حقِ بندگی ادا میں کروں
سبحان اللہ! دیکھیں اس میں بھی کیا عجیب combination ہے کہ اس کا غیر کہیں بھی ہے، اس میں مطلب یہ ہے کہ جہان کا آ گیا، جہاں پر بھی ہے۔ اور کبھی بھی، یہ زمان کا آ گیا، یعنی زمان و مکان دونوں چیزیں اس کے لحاظ سے ہیں۔ اس کا غیر جو بھی ہے، یہ بھی مطلب یہ ہے کہ آ گیا، یعنی Complete specification... completely specified جس کو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کا غیر جو بھی ہے، جہاں بھی ہے، اور جس وقت بھی ہے، میں اس سے نہ ملا کروں۔
مجھے اپنا بنا کے زور دے کر کہا کہ غیر کا کبھی بھی نہ بنوں
اس کا غیر جو بھی ہے کہیں بھی ہے کبھی اس سے نہ اب ملا میں کروں
شوق دل میں مرے مچلتا ہے کہ حقِ بندگی ادا میں کروں
مجھے شوقِ جنوں کہے اپنا ہر وقت یاد رہے وہ ہی شبیرؔ
پھر اس کی یاد میں مست ہو ہو کر جو کہوں اس کو پھر لکھا میں کروں
شوق دل میں مرے مچلتا ہے کہ حقِ بندگی ادا میں کروں
یہاں پر جو Correction والوں نے Correction کی ہے، "وُہ ہی" کو "وہی" کر دیا ہے۔ بات بالکل صحیح ہے، اردو کے لحاظ سے لیکن "وہی" "وُہ ہی" سے بنا ہے، وہ بنا اسی سے ہے اور اس وقت شعری ضرورت اسی میں ہے کہ اس کو "وہ ہی" ہونا چاہیے۔ مطلب ہے "مجھے شوقِ جنوں کہے اپنا ہر وقت یاد رہے وُہی شبیر"۔ وہی شبیر سے سکتہ آئے گا۔ تو اس میں یہ ہے کہ جو شعری ضرورت ہے، شعری ضرورت میں بہت ساری چیزوں کو آگے پیچھے کیا جا سکتا ہے۔ لیکن بہرحال یہ تو اس کے پرانے جو ہے جہاں سے بنا ہے اس کی طرف عود کر جانا ہے۔
مجھے شوقِ جنوں کہے اپنا ہر وقت یاد رہے وہ ہی شبیرؔ
پھر اس کی یاد میں مست ہو ہو کر جو کہوں اس کو پھر لکھا میں کروں
اور استحضار کے لیے "وُہ ہی" میں جو چیز ہے "وہی" میں نہیں ہے۔ "وُہ ہی" میں Specification ہے۔ مطلب وہ زور دے کر وُہ ہی! "اس کو ہی" تو اس طرح جیسے ہوتا ہے نا:
مجھے شوقِ جنوں کہے اپنا ہر وقت یاد رہے وہ ہی شبیرؔ
پھر اس کی یاد میں مست ہو ہو کر جو کہوں اس کو پھر لکھا میں کروں
جذب
یہ تھوڑا سا میں نے Change کیا ہے تو میرے خیال میں میں اس کو اس سے پڑھوں تو زیادہ بہتر ہے۔ تھوڑا سا میں نے اس کو Change کیا ہے اخیر میں۔ تو میں پھر Laptop سے ہی ان شاء اللہ اس کو سنا دوں گا۔
اندازِ محبت
سبحان اللہ!
کبھی فردوس کی جانب خود کو اٹھتا دیکھا
یہ غلام اور بندگی... بندگی غلام سے بھی نیچے کی چیز ہے۔ کیونکہ غلام کے کچھ حقوق ہوتے ہیں، بندگی کے حقوق نہیں ہوتے۔ تو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو بندہ ہوتا ہے اس کا اپنا کوئی حق نہیں ہوتا، البتہ مالک کبھی اس کو تخت پر بٹھاتا ہے کبھی تختے پہ چڑھاتا ہے یہ اس کی اپنی بات ہوتی ہے اور دونوں میں کچھ انکار نہیں کرتا۔ اس وجہ سے اندازِ محبت میں اندازِ بندگی ہوتی ہے۔
کبھی فردوس کی جانب خود کو اٹھتا دیکھا
زمیں سے نیچے کبھی اپنا تماشا دیکھا
کبھی اتنا نیچے گرا دیا کہ زمین کے نیچے کر دیا اور کبھی اتنا اوپر کر دیا کہ فردوس بریں پہنچا دیا۔ یہ اس کے کرشمے ہیں۔
کبھی فردوس کی جانب خود کو اٹھتا دیکھا
زمیں سے نیچے کبھی اپنا تماشا دیکھا
عجب اندازِ محبت مجھے اس کا ہے نصیب
مٹی دیکھی کبھی اس سے بنتا ہیرا دیکھا
کبھی فردوس کی جانب خود کو اٹھتا دیکھا
کبھی خیالات کے صحرا میں اکیلے بھٹکوں
اور کبھی چاہنے والوں کا بھی میلہ دیکھا
کبھی فردوس کی جانب خود کو اٹھتا دیکھا
زمیں سے نیچے کبھی اپنا تماشا دیکھا
میں اندھا نور کی تلاش میں چل پڑا تو پھر
جو دیکھا خود پہ اس کے نور کا جلوہ دیکھا
مطلب سب کچھ اپنے اندر ہے۔ ذرا اپنی طرف انسان توجہ کر لے، اس کا بنا لے، سب کچھ اپنے اندر ہے۔ دور جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے بڑے درد سے ایک دفعہ یہ شعر سنایا، فرمایا:
دل کے میخانے میں ہے تصویرِ یار
جب ذرا گردن جھکا لی دیکھ لی
مطلب جب توفیق مل گئی اور اپنے اندر دیکھ لیا تو جھانک لیا پتا چل گیا۔ اس وجہ سے کبھی انسان دور ادھر ادھر بھاگ رہا ہوتا ہے، تلاش کر رہا ہوتا ہے وہ چیزیں اپنے ساتھ موجود ہوتی ہیں۔
میں اندھا نور کی تلاش میں چل پڑا تو پھر
جو دیکھا خود پہ اس کے نور کا جلوہ دیکھا
بے بسی سے کبھی میں یوں جب اشکبار ہوا
بولے مجھ کو کیوں نہ آپ نے اپنا دیکھا
کبھی فردوس کی جانب خود کو اٹھتا دیکھا
زمیں سے نیچے کبھی اپنا تماشا دیکھا
مطلب مایوس ہونے نہیں دیا، میں جو ہوں۔
جب کبھی اس کی چاہتوں پہ مجھے ناز ہوا
تو معاً لطف پہ اس کے خود کو مٹتا دیکھا
جو رضا میری ہے وہ اس کی رضا میں ہے گم
پھر ہر اک کام مطابق اپنی رضا کا دیکھا
کبھی فردوس کی جانب خود کو اٹھتا دیکھا
زمیں سے نیچے کبھی اپنا تماشا دیکھا
یہ آخری ماشاءاللہ حاصلِ غزل شعر ہے۔
یہی تو عشق کی دنیا ہے بُھلا دے سب شبیرؔ
میں نے دیکھا مگر کچھ اس کے نہ سوا دیکھا
کبھی فردوس کی جانب خود کو اٹھتا دیکھا
زمیں سے نیچے کبھی اپنا تماشا دیکھا
اخفا اور اظہار
یہ ایک رباعی ہے۔
ساقی نے مجھ کو خوب پلایا ہے عشق کا جام
جس سے بنا ہے خوب محبت کا یہ پیغام
اخفا کا دور اس کا گو طویل بہت تھا
پر اس میں ہی ہوا ہے اس اظہار کا انتظام
حضرت نے مجھ سے فرمایا تھا نا کہ اللہ تعالیٰ آپ سے اچھا کہلوائے۔ اس وقت میں حیران تھا کہ ہمارے کیا۔۔۔ اور پھر اردو میں تصور بھی نہیں تھا کہ اردو میں بھی کبھی میں کر سکوں گا۔ لیکن اتنا عرصہ درمیان میں بالکل غائب۔ حتیٰ کہ میرا جو بھائی ہے، ایک دن ایک ہمارے خالو تھے، بہت بڑے شاعر گزرے ہیں، فوت ہو گئے ہیں اب، پشتو زبان کے شاعر تھے۔ تو اس خالو نے کہا کہ جو شاعر ہوتا ہے وہ ہمیشہ شاعر ہوتا ہے، پھر وہ شاعری نہیں چھوڑ سکتا۔ تو میرے بھائی نے کہا بالکل غلط! میرا بھائی شاعر تھا اب شاعر نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اس نے کہا میرا بھائی شاعر تھا اور اب شاعر نہیں ہے۔ اب چونکہ اس کو میں کئی بار سنا چکا تھا، تو معترف بھی تھے وہ میرے جو خالو تھے، تو اس نے انکار تو نہیں کیا۔ فرمایا نہیں! وہ شاعر نہیں تھے، میں نے کہا کیسے؟ آپ خود ان کے بارے میں کہتے تھے؟ کہتا ہے مطلب جو ہوشیار آدمی ہے، جس چیز کی طرف متوجہ ہو جائے تو کر لیتے ہیں، شاعر نہیں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو اس طریقے سے چھڑا لیا۔
لیکن دیکھو اللہ پاک نے رکھا ہوا تھا۔ چھپا کے رکھا ہوا تھا، اس کے بارے میں ہمیں... وہی حضرت مولانا صاحب رحمۃ اللہ علیہ والا جو فیض، وہ چھپا کے رکھا ہوا تھا اور اپنے وقت پر اس کو ظاہر کرنا تھا تو جب ظاہر کر دیا تو ظاہر کر دیا۔ تو ہم تو بالکل اس کو حضرت مولانا صاحب کی کرامت سمجھتے ہیں۔ الحمد للہ! یہ ان کی کرامت ہے۔
ساقی نے مجھ کو خوب پلایا ہے عشق کا جام
جس سے بنا ہے خوب محبت کا یہ پیغام
اخفا کا دور اس کا گو طویل بہت تھا
پر اس میں ہی ہوا ہے اس اظہار کا انتظام
"سفرِ عشق"
اس کے بعد میرے خیال میں شاید ہم ذکر کر لیں۔
سکوں ظاہر پہ میرے گو ہے طاری
پر اندر اضطراب ہے دل پہ جاری
زباں خاموش میری چپ ہوں لیکن
کوئی جانے نہیں حالت ہماری
دبایا مجھ کو ہے شہواتِ نفس نے
ہے جنگ جاری مگر دشمن ہے بھاری
دشمن اتنا بھاری ہے میں آپ کو کیا بتاؤں؟ دیکھو ہر طرف سے زبردست مسلسل تیر برس رہے ہیں۔ آپ بازار میں جائیں تو تیر برس رہے ہوں گے، آپ کو اپنی طرف Attract کر رہے ہوں گے۔ آپ کسی اخبار کو دیکھیں تو تیر برس رہے ہوں گے، کسی اور چیز کو... مطلب جس طرف انسان جائے تو اس وقت پورا ایک نظام ہے چاہتوں کا اپنی طرف مسلسل۔ اور آج کل تو Science بھی ساتھ ملا ہوا ہے۔ Advertisement کے تمام جو اصول ہیں، وہ اس کے اندر شامل ہیں، لہٰذا ان کو خوب سے خوب تر انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ اور بڑے سے بڑے جھوٹ کو بھی سچ بنا کر پیش کرنا ان کے لیے آسان ہے۔ اور بدترین چیز کو خوبصورت بنا کر پیش کرنا...
میں آپ کو کیا بتاؤں اندازہ کر لیں، سگریٹ کے اشتہار میں یہ ساری چیز بالکل موجود ہے۔ سگریٹ کے اشتہار کے نیچے لکھا ہوتا ہے کہ "سگریٹ نوشی مضرِ صحت ہے۔ (وزارتِ صحت)"۔ لکھا ہے! لیکن اس کے اوپر وہ اشتہار اتنا جدید تر سے جاذبِ نظر بنایا ہوتا ہے کہ کوئی بھی اس کو نہیں پڑھتا۔ کوئی بھی اس کو نہیں پڑھتا۔ ایسے عجیب انداز ہے۔
کہتے ہیں کہ شراب کے بارے میں یورپ میں ایک دفعہ Conference ہو رہی تھی، شراب کے نقصانات بتائے جا رہے تھے، یہ نقصان ہے، یہ نقصان ہے، یہ نقصان ہے۔ تو شراب کی Conference جب ختم ہو گئی تو اختتام پر Announcement ہو گئی کہ اب Conference کے اختتام پر میز پر سرخ شراب آپ کا انتظار کر رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دیکھ لو وہ Conference جس پر ہو رہی ہے وہ اس کو بھی۔۔۔ اس کا اثر اتنا ہے۔ تو یہ جتنے بھی مطلب اس کے نفی ہے شر کی، اس کو بہت کمزور بنایا گیا ہے اور جو اس کی Attraction ہے اس کو بہت Powerful بنایا گیا ہے۔ تو دشمن کے ساتھ لڑائی ہے اور پلڑا اس کا بہت بھاری ہے۔ اللہ تعالیٰ کی محبت کو دل میں خوب جمانا ہوگا، بہت جمانا ہوگا، بہت جمانا ہوگا، تاکہ اس شر سے ہم بچ جائیں۔
دبایا مجھ کو ہے شہواتِ نفس نے
ہے جنگ جاری مگر دشمن ہے بھاری
وساوس زور پہ شیطان کے ہیں
اب راستہ بھی بتایا جارہا ہے۔۔۔
وساوس زور پہ شیطان کے ہیں
چلائی میں نے ہے لاحول کی آری
قدم میرے پھسل جائیں کہیں نہ
قیامت میں نہ ہووے شرمساری
وقت کوتاہ ہے کر لے فکر اپنی
تو نوری بن کہیں نہ ہو تو ناری
دکھایا راستہ محسن نے عشق کا
بنوں اللہ کا ہے کوشش یہ ساری
محسن سے مراد شیخ ہے۔
دکھایا راستہ محسن نے عشق کا
بنوں اللہ کا ہے کوشش یہ ساری
سفر ہے عشق کا اب شبیرؔ جاری
کہ جس میں جان مری اس پر ہو واری
کامیابی
کامیابی تو کام سے ہوگی
اور حسنِ انتظام سے ہوگی
قال بے حال لاش بے روح ہے اس کی
تدفین اہتمام سے ہوگی
یعنی جو قال بے حال ہے وہ ایک لاش ہے اور اس کو بڑے تزک و احتشام سے دفن کیا جائے گا۔ ظاہر ہے اس کے بعد پھر کیا رہتا ہے؟
قال بے حال لاش بے روح ہے اس کی
تدفین اہتمام سے ہوگی
کامیابی تو کام سے ہوگی
اور حسنِ انتظام سے ہوگی
میرے خیال میں کافی ہے کیونکہ اور تھوڑا تھوڑا کرکے ہی سنانا زیادہ مفید ہے۔ ان شاء اللہ!