اخلاقِ نبوی ﷺ اور اتباعِ سنت کی اہمیت

اشاعت اول: اتوار، 3 مارچ، 2019 بمطابق 25 ربیع الثانی 1440 ھ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • اللہ تعالیٰ کی بندگی کی اہمیت
  • نبی کریم ﷺ کی صورت و سیرت میں اعتدال
  • عفو و درگزر اور ذاتی انتقام سے گریز (بے نفسی)
  • مریض کی عیادت کے مسنون آداب
  • نبی کریم ﷺ سے محبت کی اقسام (تکوینی اور شعوری محبت)
  • خاموشی کی فضیلت اور زبان کی حفاظت

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ: فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَإِنَّكَ لَعَلىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ.

كَانَ صلی اللہ علیہ وسلم أَحْسَنَ النَّاسِ، وَأَجْوَدَ النَّاسِ، وَأَشْجَعَ النَّاسِ، وَمَا ضَرَبَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ شَيْئًا قَطُّ بِيَدِهِ، وَلَا امْرَأَةً وَلَا خَادِمًا، إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ.

وَلَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا سَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ، وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ، وَلٰكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ.

وَكَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يَعُودُ الْمَرِيضَ، وَيَتْبَعُ الْجَنَازَةَ، وَيُجِيبُ دَعْوَةَ الْمَمْلُوكِ. وَكَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يَخْصِفُ نَعْلَهُ، وَيَخِيطُ ثَوْبَهُ، وَيَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ، وَيَفْلِي ثَوْبَهُ، وَيَحْلِبُ شَاتَهُ، وَيَخْدِمُ نَفْسَهُ.

وَكَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ طَوِيلَ الصَّمْتِ. وَقَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ: خَدَمْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي أُفٍّ، وَلَا لِمَ صَنَعْتَ، وَلَا أَلَّا صَنَعْتَ. وَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ، ادْعُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ. قَالَ: إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً.

وَكَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا، فَإِذَا رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ. وَتَمَامُهُ فِي كُتُبِ الْحَدِيثِ.

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ

معزز خواتین و حضرات! ہم لوگ سب اللہ پاک کے بندے ہیں اور اللہ جل شانہ کی بندگی ہی میں عظمت ہے۔ جو جتنا اللہ جل شانہ کی بندگی میں آگے ہے، اتنا ہی انسانیت اور شرافت میں وہ آگے ہے۔ اور جو کمی اس میں ہو گی، اتنی ہی اس کے مقام میں کمی ہو گی۔ لہٰذا اللہ جل شانہ کی بندگی کو حاصل کرنے کے لیے جس چیز کی بھی ضرورت ہو گی، وہی نیک بختی کا سب سے بڑا ذریعہ ہو گا۔ اور جو چیز بھی اس سے روک رہی ہو گی یا اس میں کمی کر رہی ہو گی، وہی بدبختی اور مصیبت کا دروازہ ہو گا۔

اس وجہ سے ہم لوگ اگر چاہتے ہیں کہ اللہ جل شانہ ہمیں قریب کر دے اور ہم اللہ پاک کے مقربین میں ہو جائیں، تو اس کا سب سے بڑا ذریعہ یہ ہے کہ ہم اللہ پاک کی بندگی اختیار کر لیں اور اس کے لیے جو ذرائع ہیں، ان ذرائع کو حاصل کرنے کی کوشش کر لیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو یقیناً بہت ساری تمنائیں ہیں جو انسان کی دم توڑ جاتی ہیں اور وہ تمنائیں حقیقت نہیں بنتیں۔ کیونکہ اس کے پیچھے کوئی ارادہ، کوئی صحیح طریقہ نہیں ہوتا۔ تو یہی حال اس مسئلے کا بھی ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں واقعی کہ اللہ پاک کے ہم قریب ہوں تو ان اسباب کو اختیار کرنا پڑے گا۔

ہمیں یہ بتا دیا گیا ہے کہ اللہ جل شانہ کی بندگی سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے، یقیناً اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ اور ہم اس کی شہادت دیتے ہیں، باقاعدہ کلمہ شہادت میں: أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ۔ کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر اللہ اور میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ جل شانہ کے بندے ہیں اور اللہ کے رسول ہیں۔

لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چونکہ یہاں اللہ پاک کی پسندیدگی کا نمونہ بنا کر بھیجا گیا ہے، یعنی جو کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے وہی اللہ پاک کو پسند ہے۔ تو لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہی بندگی ہو گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے طریقے سے ہی بندگی حاصل ہو سکتی ہو گی، کوئی اور طریقہ ایسا نہیں ہے جس کے ذریعے سے ہم اس کو حاصل کر سکتے ہیں۔

اب جو یہاں پر ابھی میں نے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند خصائل مبارکہ بیان کیے ہیں عربی میں، میں آپ کے سامنے ان کا ترجمہ بھی پیش کرتا ہوں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کیسے گزاری۔ اور پھر اس آئینے میں ہم اپنے آپ کو بھی دیکھیں کہ ہم لوگ کیسے زندگی گزار رہے ہیں، اس میں کیا کمی ہے اور کس چیز کی ضرورت ہے کہ ہم اس میں آگے ہو جائیں۔

تو مختصر طور پر چند روایتیں جو ابھی آپ کے سامنے پیش کی جا رہی ہیں، ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتِ مبارک کے بارے میں کچھ باتیں ہیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ان کی پیروی کر کے کچھ فائدہ حاصل کرے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اچھے تھے صورتاً بھی اور سیرتاً بھی۔

صورت اس کو کہتے ہیں کہ جو انسان کے جسم کے اعضاء سامنے ہوں، ان میں ایک تناسب ہو، نہ اس میں افراط ہو نہ تفریط ہو۔ مثلاً کوئی شخص کالا ہو بھی خوبصورت نظر نہیں آتا۔ بالکل کاغذ کی طرح سفید ہو پھر بھی خوبصورت نظر نہیں آتا۔ بالکل سرخ ہو پھر بھی خوبصورت نظر نہیں آئے گا۔ چہرہ لمبوترا ہو پھر بھی نہیں۔ بالکل گول ہو پھر بھی نہیں۔ آنکھیں بہت بڑی بڑی ہوں پھر بھی نہیں، بہت چھوٹی چھوٹی ہوں پھر بھی نہیں۔ الغرض ہر چیز کے اندر ایک اعتدال پایا جاتا ہو تو ہم کہتے ہیں یہ شخص خوبصورت ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالکل ایسے ہی تھے، شمائل ترمذی میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ناک نقشہ بیان کیا گیا ہے، وہ ایسے ہی تھا ہر چیز اعتدال پہ، تفصیلات زیادہ ہیں وہ تو ظاہر ہے مختصر وقت میں نہیں آ سکتیں۔

لیکن دوسرا رخ، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارک، وہ بھی ایسے ہی اعتدال پر تھی۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر چیز بالکل اعتدال پر تھی۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ چار چیزیں ہیں جن کا اعتدال پر ہونا یہ اخلاق کا باعث ہوتا ہے، یعنی اخلاق اچھے ہوتے ہیں اس سے۔

شہوت، شہوت صرف ایک خاص چیز نہیں ہے بلکہ اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جس سے انسان کسی اچھی چیز کو جس کو وہ اچھا سمجھتا ہے حاصل کرنے کا جذبہ اس میں ہو۔ اس کو شہوت کہتے ہیں۔ مثلاً اشتہا ہے، اشتہا اس کو کہتے ہیں جیسے بھوک، تو اب اشتہا کے بغیر آپ کھانا نہیں کھا سکتے۔ تو اسی طریقے سے اپنی پسندیدہ چیزوں کو حاصل کرنے کی جو خواہش ہے، اس کو شہوت کہتے ہیں۔ یہ حد سے زیادہ ہو تو حرص بن جاتی ہے اور اعتدال سے باہر ہو جاتی ہے، نقصان ہوتا ہے۔ اور اگر بالکل کم ہو جائے تو ڈپریشن بن جاتا ہے، کہ کسی کام کرنے کو جی ہی نہ چاہے، دنیا پر ایک بوجھ بن جائے۔ اور یہ دونوں چیزیں اعتدال سے باہر ہیں۔

اسی طرح غضب ہے، اب غضب کا عام معنی غصہ لیا جاتا ہے حالانکہ وہ صرف اس کا ایک جزو ہے۔ غضب کا مطلب ہے اپنی ناپسندیدہ چیز کو دفع کرنے کا جو جذبہ ہے اس کو غضب کہتے ہیں۔ تو یہ جو غضب ہے قوت غضبیہ، یہ بھی اگر افراط پہ ہو تو بھیڑیا پن ہو جاتا ہے۔ یعنی آدمی برداشت ہی نہیں کرتا کسی اور چیز کو۔ اور اگر بالکل ہی ختم ہو جائے تو جبن کہلاتا ہے۔ یعنی انسان جو خراب چیز ہے اس کو بھی دفع نہیں کر سکتا۔ اور اس کا جو اعتدال ہے وہ شجاعت کہلاتا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہ وہ شجاعت ان میں تھی۔ بہادر تھے۔

تو اس طریقے سے علم ہے کہ علم جو ہے، اگر ضروری غیر ضروری کے لحاظ سے افراط ہو تو وہ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ جیسے لوگ جادو کے علم کو سیکھتے ہیں یا برائی کی چیزیں جو ہوتی ہیں ان کے علم کو سیکھتے ہیں، تو وہ بھی غلط ہے۔ اور بالکل جاہل ہونا یہ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ درمیان میں جو ضروری ہے جو مفید ہے ان علوم کو حاصل کرنا تو علم ہے۔ اس طرح عقل ہے۔ تو عقل پر بالکل سب کچھ چیزوں کا انحصار کرنا بھی ٹھیک نہیں ہے۔ اور عقل کو بالکل چھوڑ دینا وہ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ جو چیزیں عقل کی بنیاد پہ یعنی ہو سکتی ہیں ان کو اس کی بنیاد پہ کرنا اور جو چیزیں نہیں ہو سکتیں اس میں، اس میں سروکار نہ رکھنا۔

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر چیز ان کسوٹیوں پہ سب سے زیادہ مطلب وہ اچھی تھی۔ تو فرمایا کہ:

صورتاً بھی اچھے تھے، سیرتاً بھی، سب سے زیادہ سخاوت کرنے والے تھے اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی چیز کو اپنے دستِ مبارک سے نہیں مارا۔ نہ کسی عورت کو مارا نہ کسی خادم کو۔ مگر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوں۔

کیونکہ جہاد میں تو یہی چیز مطلوب ہوتی ہے۔ تو یہ مسلم شریف کی روایت ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بے حیائی کی بات فرمایا کرتے اور نہ بتکلف ایسی بات فرما سکتے تھے۔

یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے بے حیائی کی بات تکلف اور قصد سے بھی نہیں نکل سکتی تھی۔

اور نہ بازاروں میں چلانے والے تھے، نہ برائی کا بدلہ دینے والے تھے، بدلہ دیتے تھے۔ بلکہ معاف اور درگزر فرمایا کرتے تھے۔

واقعتاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ رخ اتنا زیادہ واضح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم معاف فرمایا کرتے تھے کیونکہ اپنی ذات کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوچتے بھی نہ تھے۔ جو کچھ ہوتا تھا اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتا تھا۔اب اگر کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی سختی بھی کی ہے تو دو باتیں ہوتی تھیں۔ ایک انسان کا اپنی ذاتی مسئلے کی وجہ سے اس پر غصہ، یہ ایک جزو ہوتا ہے۔ اور ایک چونکہ وہ یعنی دیکھتے تھے کہ اگر یہ مسلمان ہو جائے تو یا دین کی طرف آ جائے تو اس کو کتنا خیر مل سکتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام کتنا اس میں یعنی صحیح ہو سکتا تھا۔ تو دو چیزیں بیک وقت ہر شخص کے سامنے ہوتی ہیں۔ اب جس پر اپنی ذاتی چیزیں غالب ہوتی ہیں وہ اس دوسرے رخ کو بھول جاتا ہے۔ اور جن کا اپنا منصب یہی ہوتا ہے اور جو ان کے سامنے ہوتا ہے، تو وہ اپنی بات کو بھول جاتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اپنی بات کو چھوڑ دیتے تھے، اپنے دین کی بات اور اپنے اللہ کی پسندیدگی کی بات کو سامنے رکھتے تھے۔

مثلاً میں آپ کو ایک بات، مثال دیتا ہوں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یارِ غار ہیں۔ ان کی بیٹی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جو ہماری ماں ہیں، ان پر کچھ لوگوں نے تہمت لگائی تھی۔ جن میں کچھ سادہ صحابہ بھی درمیان میں آ گئے تھے۔ بعد میں ان کو ظاہر ہے سزا بھی ہوئی، سزا سے مراد یہ ہے کہ اللہ کا قانون ان پر ظاہر ہوا۔ ہوتا یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے چونکہ شریعت کو ظاہر کرنا تھا، اور شریعت لوگوں پر ظاہر ہو سکتی تھی۔ ویسے تو ظاہر نہیں ہو سکتی تھی، ویسے بات ہوتی تو وہ تو صرف ایک Theoretical بات ہوتی۔ جیسے کتاب نازل ہوئی، کتاب میں لکھا ہے لیکن اس کی عملی صورت سامنے نہیں ہے۔ تو جب تک عملی صورت سامنے نہ ہو تو Theoretical باتوں میں لوگ اپنی طرف سے باتیں بنا لیتے ہیں۔ کہتے نہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے۔ آگے پیچھے کر لیتے ہیں۔ اور جب عملی مثال سامنے ہوتی ہے تو پھر اس میں کوئی قا، کوئی بات نہیں کر سکتے، وہ سامنے نمونہ موجود ہوتا ہے۔

مثلاً ایسا، تو اسی وجہ سے بعض موقعوں پر صحابہ کرام سے اس قسم کے حالات کروائے گئے تاکہ دین ان پر ظاہر ہو جائے۔ تاکہ عملی صورت اس پر ظاہر ہو جائے۔ چونکہ عام لوگوں کے ذہن میں یہ بات نہیں ہوتی تو وہ صحابہ کی برائی کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ یہ برائی والی بات نہیں ہے، کیونکہ اللہ پاک نے اپنے دین کو ظاہر کرنا تھا۔ ان میں جو باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے مطابق تھیں وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظاہر ہوئیں، خود۔ اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے مطابق نہیں تھیں وہ صحابہ پر ظاہر ہو گئیں۔ گھر والوں پر ظاہر ہو گئیں۔

تو یہ جو بات میں عرض کرتا ہوں کہ ہر چیز کے لیے کوئی بنیاد، تو اس میں حضرت مسطح رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ تو اس سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کی کوئی خدمت وغیرہ بھی کیا کرتے تھے، غریب تھے۔ تو ان کی جو والدہ تھیں وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ملنے آتی تھیں۔ تو جب یہ بات ہو گئی تو انہوں نے اپنے بیٹے کے لیے کچھ بددعا کے الفاظ استعمال کیے۔ معلوم ہوا کہ اس مسئلے میں وہ بھی شامل ہیں۔ تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو طبعاً ناگواری ہوئی اور ذرا ان کی خدمت کرنے میں تھوڑی سی تاخیر یا جو بھی آگے پیچھے بات ہو گئی۔ اس پر باقاعدہ قرآن پاک کی آیت آ گئی۔ کہ ایسا نہیں ہے بھئی آپ کی شان کے مطابق نہیں ہے۔ آپ کی شان کے مطابق نہیں ہے۔ تو انہوں نے فوراً توبہ کر لی اور دوبارہ وہ چیز بحال کر دی۔

تو یہ میں اس لیے کہتا ہوں کہ اپنی ذاتی چیز کو دیکھنا جو کہ ایک طبعی بات ہے، لیکن اپنی طبیعت پر قابو پانا، یہ تو ان حضرات کی بات ہوتی ہے نا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اپنے آپ پر سب سے زیادہ قابو تھا۔ نتیجتاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کا انتقام نہیں لیا کرتے تھے۔ اپنی ذات کا بدلہ نہیں لیا کرتے تھے۔ بلکہ اس میں اس دوسرے پہلو کو زیادہ سامنے رکھتے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ طائف کا جو واقعہ ہوا، تو اس وقت بڑے سخت حالات تھے۔ مطلب ایسا کوئی شاید ہی کر سکتا ہو جو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا۔ تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بددعا کے جو الفاظ ہوتے وہ زیادہ گویا کہ فطری اور طبعی بات ہوتی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت بھی بددعا نہیں دی۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک یہ نہ بھی قبول کریں، ممکن ہے ان کی اولاد ہدایت پہ آ جائے۔ یہ ان کے راستے کو نہیں روکا ان کی اولاد کا۔ ممکن ہے ان کی اولاد ہی دین پر آ جائے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دور تک مطلب نظر دوڑاتے۔

حضرت وحشی رضی اللہ عنہ، حالت یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت تکلیف ہوئی تھی اس سے حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت سے۔ بالخصوص وہ جو مثلہ کیا گیا تھا۔ جو تکلیف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تھی۔ وحشی رضی اللہ عنہ جب مسلمان نہیں ہوئے تھے ان کو اس کا احساس تھا۔ پتہ تو تھا کہ غلط کام میں نے کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں حالانکہ اس وقت کفر کی حالت میں تھے۔ لیکن ان کو اندازہ ہو گیا کہ غلط کام تو میں نے کیا ہے۔ اور طبیعت پر اس کا بہت اثر تھا اور جیسے انسان کوئی غلط کام کر لے اور اپنے آپ کو مردود سمجھ لیتا ہے۔ اس طرح کی کیفیت ان کی بن گئی تھی۔

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کو دعوت دی پھر اس کے باوجود، تو انہوں نے یہی بات رکھ دی کہ میں کیسے یعنی مسلمان ہو سکتا ہوں میں نے تو اتنی بڑی غلطی کی ہے۔ میں نے تو ایسا کام کیا ہے۔ گویا کہ میں قابل معافی ہوں ہی نہیں۔ اس پر یہ آیت اتری ہے: لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللّٰهِ ۚ إِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا۔ کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللہ تعالیٰ تو تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔

ایک بات یہاں پر الحمد للہ دل میں آئی عرض کر لوں اور بہت اہم بات ہے اور بنیادی بات ہے۔ وہ یہ کہ اس واقعے سے جتنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کی طلب کسی کے لیے اور اپنی بے نفسی کا جو عالم ہے یہ جو ظاہر ہوتا ہے، یہ تو یقینی بات ہے۔ لیکن اس سے زیادہ اللہ جل شانہ کی رحمت کا جو پہلو ہے اس میں کتنا واضح ہے، کہ اللہ جل شانہ کتنا اپنے بندوں کے ساتھ محبت کرنے والے ہیں۔ بلکہ ذرا تھوڑا سا غور فرمائیں تو بہت آسان Analysis ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنی شفقت اور محبت اور اپنی امت کے لیے جو تڑپ ہے وہ دی تھی تو کس نے دی تھی؟ اللہ پاک نے دی تھی نا۔ تو گویا کہ اصل میں تو اللہ پاک ہی بہت زیادہ گویا کہ اپنی مخلوق کے ساتھ پیار کرنے والے ہیں۔ اور اللہ جل شانہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے رحمۃ اللعالمین کو پیدا فرما کر اس امت کو کیا کچھ عطا فرمایا۔ تو دینے والی ذات کون ہے؟ اللہ جل شانہ۔ اور تقسیم کرنے والے کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم۔ یہی تو فرمایا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے، إِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللّٰهُ يُعْطِي۔ بیشک میں تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ پاک عطا فرمانے والے ہیں۔ یہ رخ کسی کے اگر ذہن میں نہ ہو تو حقیقت کا ادراک نہیں کر سکتا۔ اگر یہ رخ کسی کے پاس نہ ہو۔ عین ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کی طرف وہ اتنا چلا جائے کہ اللہ کو بھول جائے۔ اور یہ بات ہو نہیں سکتی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف سے اللہ یاد آنے چاہیے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ تعالیٰ کی یاد دلانے والے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ نے ایک انتہائی عارفانہ بات کی ہے۔ فرمایا جو شخص بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعویٰ کرتا ہو، لیکن اس محبت کی وجہ سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے، وہ اللہ جل شانہ کی محبت تک نہ پہنچے، تو وہ اپنی ذات کا عاشق ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق نہیں ہے۔

یہ بات فرما کر، صحیح بات میں عرض کرتا ہوں، تھوڑا سا غور فرمائیں، ہم ارد گرد نظر دوڑائیں۔ جو لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کے دعوے کرتے ہیں، اس چیز کو دیکھو، بالکل ایک زبردست کسوٹی ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ کون ہیں جو واقعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کرتے ہیں اور کون ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کرنے کا محض دعویٰ رکھتے ہیں۔ بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے Mission کو آپ بھول گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو اگر آپ بھول گئے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مقصد کے لیے قربانیوں کو آپ بھول گئے۔ تو اس کا مطلب آپ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے ہی نہیں۔ آپ نے تو ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا ہی نہیں۔ نتیجتاً اس Group میں آپ نہیں آئیں گے۔ ہاں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ پہچان لیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مقام کو جو اللہ کے ہاں ہے وہ جان لیں۔ اور پھر اللہ جل شانہ کی جو محبت ہے اپنی مخلوق کے لیے اس تک آپ پہنچ جائیں۔ تو سمجھ لو کہ واقعی آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت ہے۔ اور واقعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر آپ چلنا چاہتے ہیں۔ یہ بات بھی بہت اہم بات تھی۔

تو یہاں پر بھی بات یہ آ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ درگزر فرمایا کرتے تھے۔ ایسی باتوں کو مطلب اپنے سامنے نہیں لاتے تھے۔ تکلیف ہوئی، تکلیف برداشت کر لی۔ لیکن اس کی وجہ سے بلکہ حتیٰ کہ ایک جگہ پر ایک دعا ہے، بڑی عجیب دعا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی دعا کر سکتے تھے۔ دعا یہ ہے کہ یا اللہ میں بھی انسان ہوں۔ اگر میں نے کسی کو سخت بات کی ہے، کسی کے لیے بددعا کی ہے، کسی کو لعنت ملامت کی ہے، یا اللہ اس کے حق میں اس کو شفاعت بنا دے۔ اس کے لیے اس کو رحمت بنا دے۔ اس کو اپنے قریب کر دے۔ یعنی دیکھیں نا اپنی طبعی طور پر اگر کوئی بات کسی کے لیے آئی بھی ہے تو جو میری طبیعت ہے اس پر میری رسالت والی بات غالب ہونی چاہیے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ یعنی میری طبیعت والی جو بات ہے اس کو چھوڑ دیا جائے اور جو دعوت والی بات ہے اس کو سامنے لایا جائے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقاعدہ اس کے لیے دعا فرمائی ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار کی عیادت بھی کیا کرتے تھے۔

بیمار کی عیادت۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچ مچ صحیح سنتوں کے طریقے پر چلائے۔ بیمار کی عیادت واقعی بہت اعلیٰ، جس کو کہتے ہیں مخلوق کی محبت کی علامت ہے اللہ کے لیے۔ لیکن اس کا طریقہ سنت سے ہی معلوم ہو سکتا ہے۔ بہت سارے لوگ عیادت کرنے چلے جاتے ہیں لیکن عیادت سے بیمار کو تکلیف پہنچا دیتے ہیں۔ حالانکہ عیادت کا مطلب یہ ہے کہ اس کو راحت پہنچائی جائے، اس کو بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ بیمار جو ہوتا ہے وہ تنہائی میں بھی تنگ ہوتا ہے۔ یعنی اپنی بیماری کی طرف ہی اس کا خیال ہوتا ہے۔ اس وقت اس بیمار کی دلجوئی اسی میں ہے کہ اس کو Company دی جائے۔ یعنی ایسا ہوتا ہے۔

تو اس وقت جو لوگ جاتے ہیں تو ان کی تکلیف میں کوئی کمی ہو جاتی ہے، ان کا ذہن بیماری سے ہٹ کر ذرا تھوڑا سا دوسری چیز کی طرف آ جاتا ہے اور اس سے وہ خوش ہوتے ہیں، راحت ان کو پہنچتی ہے۔ بالخصوص جو علماء حضرات جو ہوتے ہیں، جب یہ بیمار ہو جاتے ہیں ان کے ساتھ یہ مسئلہ زیادہ ہوتا ہے۔ چونکہ انہوں نے ایک بڑی بھرپور زندگی گزاری ہوتی ہے۔ لوگ ان کے پاس ہوتے تھے ہر وقت اور سارا دن ان کی خدمت آگے پیچھے ہوتی تھی۔ اب بیمار جب ہو جائے تو تنہائی ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں اگر کوئی علمی شخص ان کے پاس چلا جاتا ہے تو ان کی آدھی بیماری اسی سے ختم ہو جاتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ ہمارے ساتھ بیٹھے رہیں اور کچھ دینی باتیں ہوں، کچھ علمی باتیں ہوں، اس سے ان کا وہ جو ذوق ہے اس کو تسلی ہوتی ہے، جس سے ان کی بیماری کم ہو جاتی ہے۔ یہ تو ایک رخ ہے۔

دوسرا رخ یہ ہے کہ بیمار آدمی کی کچھ ایسی ضروریات ہوتی ہیں جو عوام نہیں جانتے۔ جن کا وہ مسئلہ نہیں ہوتا وہ نہیں جانتے۔ وہ حیا کی وجہ سے بات کر بھی نہیں سکتے لیکن ان کو تکلیف ہو رہی ہوتی ہے۔ اس وقت اگر کوئی پاس بیٹھا ہو تو ان کو راحت نہیں ہوتی بلکہ تکلیف ہوتی ہے۔ اب یہ، یہ جو ہے نا، یہ والی بات بھی ہے۔ تو دونوں باتیں ہیں۔ ایک میں وہ چاہتے ہیں کہ ساتھ ہوں، ایک میں چاہتے ہیں کہ نہ ہوں۔ اور دونوں میں گویا کہ اپنی طبیعت کی بات کو ظاہر بھی نہیں کر سکتے۔ تو ایسی صورت میں اتنی سمجھ ہو انسان میں جو عیادت کے لیے جائے کہ میرا بیٹھنا اس کے لیے مفید ہے یا میرا جلدی رخصت ہو جانا اس کے لیے مفید ہے۔ اس کا جو اندازہ ہے یہی اصل میں اچھی عیادت کی علامت ہے۔

کہ اگر وہاں بیٹھنا مفید ہو اور اس سے راحت ہوتی ہو، تو پھر تو وہ کیا جائے۔ اور اگر جلدی جانا ہو تو بس ٹھیک ہے جی، جا کے ان کے لیے اچھے الفاظ تسلی کے بول کے اور پھر کسی طریقے سے رخصت لے کے جلدی واپس ہو جائیں۔ یہ ماشاءاللہ بالخصوص جو Attendants ہوتے ہیں۔ اگر وہ ہوشیار ہوں اور Attendants نے ایک وقت رکھا ہو ملاقات کا، عیادت کا، اس وقت کا خیال رکھا جائے اور اس کو اپنی طبیعت پر بار نہ ہونے دیا جائے۔ کیونکہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ بیمار کی کچھ تیمارداری کی ضرورت کی وجہ سے، مطلب اگر کوئی شخص اس وقت جاتا ہے تو ان کو تکلیف ہوتی ہے۔ تو یہ بات تو Attendants ہی جانتے ہیں کوئی اور تو نہیں جانتا نا۔ تو ان کے کہنے کو برا نہ مانیں بلکہ اگر وہ یہ کہہ دے کہ اچھا ٹھیک ہے میں ان کو بتا دیتا ہوں کہ آپ کی حاضری منظور ہے۔ لیکن اس وقت کچھ مسئلہ ہے، تو آپ محسوس... تو اس کو واقعی بالکل محسوس نہ کریں۔

حضرت مولانا عزیر گل صاحب رحمۃ اللہ علیہ، شیخ اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے خاص حضرات میں سے تھے، ہماری رشتہ داری تھی ان کے ساتھ۔ تو کبھی کبھی ہم حاضر ہوا کرتے تھے۔ تو میرے ساتھ حضرت کی بڑی بے تکلفی تھی الحمدللہ۔ طبیعت مانوس تھی اور حضرت جانتے تھے کہ یہ ناراض نہیں ہوتے۔ تو میں جب اطلاع کر دیتا تو حضرت اطلاع فرماتے: "آپ کے آنے کی خوشی ہوئی منظور ہے لیکن باہر میں نہیں آ سکتا۔ باہر میں نہیں آ سکتا۔" یہ اطلاع کر دیتے۔ تو میں تو بس کہتا: "بس ٹھیک ہے جی ہماری پہنچ بس منظور ہو گئی، بس اس کے بعد مزید کیا کرنا ہے۔" لیکن حضرت کے بھتیجے جو تھے، وہ میرے دوست تھے۔ تو وہ کہتے: "بھئی جانا نہیں ہے۔ فلاں صاحب آ رہے ہیں، ان کے لیے تو باہر آئیں گے تو آپ کی بھی ملاقات ہو جائے گی۔" ایک بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے نا کہ اب مجھ سے بے تکلفی سے تو کہہ سکتے ہیں، لیکن ہر ایک کو تو بے تکلفی سے نہیں کہہ سکتے۔ تو ان کو پتہ ہوتا تھا کہ فلاں صاحب اور آ رہے ہیں جو کہ نئے ہیں یا مہمان ہیں یا جو بھی ہیں۔ تو ان کے لیے تو باہر آئیں گے، تو مجھے فرماتے: "بھئی بیٹھنا، ابھی فلاں صاحب آئیں گے تو ان کے لیے جب آئیں گے تو آپ کی ملاقات بھی ہو جائے گی۔"

اور اکثر جب حضرت کو اس کی اطلاع کی جاتی تو وہ پوچھتے: "وہ شبیر گیا تو نہیں ہے؟" اچھا، وہ کہتے: "نہیں گیا"، کہتے: "ان کو بھی روکو" خود ہی ان کو حضرت کو اندازہ ہو جاتا کہ مطلب ٹھیک ہے، میں نے اس کو رخصت تو کیا ہے لیکن چونکہ اب باہر آنا ہی ہے تو وہ بتاتے تھے۔

ایک دفعہ ڈاکٹر اسرار صاحب تشریف لائے تھے ملاقات کے لیے۔ تو میں اس سے پہلے گیا تھا۔ تو حضرت نے مطلب مجھے بالکل اسی طریقے سے کہا کہ: "ایسے ہی ہے۔" تو میں تو رخصت کی اجازت لے رہا تھا کہ ان کے بھتیجے نے کہا: "نہیں بھئی، ڈاکٹر اسرار صاحب آ رہے ہیں، ان کے لیے تو باہر آئیں گے، تو آپ جائیں نہیں۔" میں نے کہا: "ٹھیک ہے۔" اتنے میں حضرت کی طرف سے اطلاع آ گئی کہ: "اس کو روکو اگر نہیں گیا تو۔" تھوڑی دیر کے بعد حضرت تشریف لائے تو حضرت کی اس وقت بینائی جا چکی تھی، مطلب یعنی بینائی نہیں تھی۔ پوچھا: "شبیر کدھر ہے؟" تو میں قریب ہو گیا۔ مجھ سے پوچھا، اچھی طرح سے حال احوال معلوم کر لیا، فلاں کام کیسا ہوا، فلاں کیسا ہوا، یہ چیز کیسی، وہ ساری چیزیں طے کرنے کے بعد، مجھے احساس ہوا کہ ڈاکٹر صاحب آخر مہمان ہیں، دور سے آئے ہوئے ہیں، کہیں ان کی حق تلفی نہ ہو جائے۔ تو میں نے کہا: "حضرت، میں بالکل ٹھیک ہوں، آپ کے پاس ہی کھڑا ہوں، ڈاکٹر صاحب بھی تشریف لائے ہیں۔" تو انہوں نے کہا: "اچھا بھئی ڈاکٹر صاحب کیا حال ہے؟" بس پھر اس کے بعد حضرت سے بات چیت شروع ہو گئی۔

مطلب میرا یہ ہے کہ راحت پہنچانا۔ یہ بہت ضروری ہوتا ہے، مریض کو راحت پہنچانا یہ اصل کام ہوتا ہے۔ اگر آپ عیادت اس مقصد کے لیے کر رہے ہیں، تو پھر تو ظاہر ہے ان چیزوں کو، اور اگر رواجی عیادت کر رہے ہیں، تو پھر آپ ان چیزوں کو تو نہیں دیکھیں گے نا، آپ تو کہیں گے بس ٹھیک ہے، یہ اس سے یہ مقصد پورا ہو جائے۔ تو عیادت بہت اچھا عمل ہے، مسنون عمل ہے، اور فرشتے ایسے لوگوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں، بشرطیکہ صحیح طریقے سے ہو۔

اور جنازے کے ہمراہ بھی تشریف لے جاتے تھے۔

جنازہ، الحمدللہ ہم لوگ بھی جاتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم لوگ صرف حاضری لگانے کے لیے جاتے ہیں کہ مجھے پہچان لیں کہ میں بھی آیا ہوں۔ کیونکہ بعد میں ہمارے جنازوں میں بھی آنا ہو گا ان کو۔ کوئی نہ کوئی ادلا بدلا والی بات ہو گی۔ بلکہ بہت سارے لوگ اگر جس وقت جنازہ ہو جاتا ہے، تو اس کے بعد پھر گلے ملتے ہیں ۔اس میں صرف نیت یہی ہوتی ہے کہ میں نظر آ جاؤں کہ میں بھی آیا ہوں۔ یا جو دعا کرتے ہیں، تو دعا کرتے ہیں کا مطلب یہ ہے کہ ابھی دعا ہو چکی ہوتی ہے اور فوراً کہتے ہیں: "جی دعا کریں جی پھر، تاکہ میری آواز بھی محسوس ہو جائے کہ میں بھی حاضر ہوا ہوں۔" تو یہ سارے کے سارے رواجی طریقے ہیں۔ ان میں وہ والی بات نہیں ہے جو ہونی چاہیے۔ ان رواجی طریقوں سے نکلنا تبھی ہو سکتا ہے جب انسان میں بے نفسی ہو۔ جب انسان میں بے نفسی ہو پھر ان رواجی طریقوں سے انسان نکل سکتا ہے۔ ورنہ پھر یہی ہو گا کہ انسان کے اوپر اپنا نفس حاوی ہو گا اور رواج کو اولیت دیں گے، سنت کو پیچھے رکھیں گے۔ یہ مسئلہ ہو گا۔

اور غلام کی بھی دعوت قبول فرما لیتے تھے۔

ایک ہے دعوت کو قبول کر کے، کرنا سنت کے طور پر۔ ایک ہوتا ہے اپنے نفس کے لیے۔ نفس کے لیے میں دعوت قبول کروں گا، تو اس میں پھر اس کی جو دعوت میں جو چیزیں ہیں ان پر نظر ہو گی نا۔ کہ اس میں پلاؤ کھلا رہے ہیں یا حلوہ کھلا رہے ہیں، یا کوئی اور چیزیں کھلا رہے ہیں۔ تو پھر تو ٹھیک ہے جی، دعوت قبول ہے۔ اور اگر ایسی چیزیں نہیں ہیں، تو پھر تو مجبوری ہے میرا فلاں کام ہے فلاں ہے، مجھے یہ ہو گیا وہ ہو گیا، تو اس کو گول کرنے والے طریقے پہ غور کیا جائے گا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں یہ چیز نہیں ہوا کرتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعوت اس شخص کا دل رکھنے کے لیے قبول فرماتے تھے۔ تو اس وجہ سے اس کو نہیں دیکھا جاتا تھا۔ ہمارے بزرگوں میں بھی یہ بات الحمدللہ ہم نے دیکھی۔ کہ وہ بھی دعوت اس نیت سے قبول کر لیا کرتے تھے۔ مطلب اس میں یہ چیز نہیں ہوا کرتی تھی، بلکہ اس کو دیکھتے تھے کہ ایک تو یہ ہوتا ہے اللہ والوں کی دعوت قبول کرنا، اس میں تو بس خوردہ کھانے کی اور برکت حاصل کرنے کی نیت ہوا کرتی تھی۔ ماشاءاللہ یعنی ہمارے جو بزرگانِ دین تھے، وہ اس قسم کی دعوتوں کا باقاعدہ انتظار کیا کرتے تھے۔ کہ جو اللہ والے کیا کرتے تھے، کہ اس میں ان کو جو نورانیت حاصل ہوتی تھی۔ وہ ماشاءاللہ اس کا انتظار کیا کرتے تھے۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے تھے جو معاملات کے بڑے کھرے ہوتے تھے، ان کا مال بڑا حلال ہوتا تھا۔ تو ان کی اس دعوت میں اتنی نورانیت ہوتی تھی کہ پورا مہینہ اس کے ذریعے سے گویا کہ اچھا چلتا۔ تو ایسا کرتے تھے۔ چیزوں کی بنیاد پر نہیں ہوتا تھا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاپوش خود سی لیتے تھے اور اپنے کپڑے بھی سی لیتے تھے، اور اپنے گھر میں کام کاج بھی کر لیتے تھے۔ جیسا کہ تم میں سے ہر کوئی اپنے گھر میں کام کر لیتا ہے۔ اور اپنے کپڑے میں جوئیں بھی دیکھ لیتے تھے۔ کہ شاید کسی کی طرف سے چڑھ گئی ہوں، ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اس سے پاک تھے۔ اور بکری کا دودھ بھی دوہ لیتے تھے اور اپنا کام خود کر لیتے تھے۔

یہ ترمذی شریف کی روایت ہے۔

اللہ اکبر!

عجیب محبتوں کی کہانیاں ہیں، اس میں مطلب ہم لوگ درمیان میں نہیں کچھ کہہ سکتے۔ یہ جو غارِ ثور کا جو واقعہ ہوا ہے۔ کہ جس میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سانپ نے کاٹا تھا۔ تو روایات میں آتا ہے کہ وہ سانپ جو ہے نا، اس کو اس کا پہلے سے پتہ تھا کہ ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے ہیں تو انتظار میں تھا کہ آئیں گے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کروں گا۔ تو ادھر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت زیادہ خیال تھا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ تو ادھر جانے، جاتے وقت انہوں نے سب سے پہلا کام یہ کیا تھا کہ جتنے ڈھیلے، جتنے پتھر تھے، وہ سارے سوراخوں میں رکھ دیے۔ تاکہ وہ بند ہو جائیں۔ کیونکہ ظاہر ہے غار میں تو سب کچھ ہوتا ہے۔ اور پھر جب اور کچھ نہیں تھا باہر تو آ نہیں سکتے تھے۔ تو پھر اندر جو کچھ میسر تھی، وہی کرتے، تو اپنے کپڑوں کو پھاڑ پھاڑ کے صرف تہبند کی جگہ چھوڑ کے گویا کہ وہ کپڑے اس میں رکھ لیے۔ کچھ چیزیں پھر بھی خالی رہ گئیں۔ تو اس پر اپنا انگوٹھا رکھ لیا۔ اور ادھر ہی سانپ تھا۔ تو کہتے ہیں کہ اس سانپ نے بھی مجبورا اس کو کاٹا تھا۔ مجبورا اس کو کاٹا تھا۔ لیکن اس سے جو تکلیف ہوئی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سرمبارک گود میں تھا۔ تو اس تکلیف کی وجہ سے جو آنسو غیر اختیاری نکلے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پہ گرے۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاگ گئے۔ پوچھا: "کیا بات ہے؟" تو انہوں نے کہا، کچھ اس طرح ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماشاءاللہ ادھر لعاب لگا دیا اور ٹھیک ہو گئے۔ تو اب یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو محبت تھی، اب اگر کوئی کہتا ہے جی سانپ کا بھئی تو مجھے اب بتاؤ کہ کیا منبر کی جگہ جو درخت تھا، وہ روتا تھا نہیں، نہیں رویا تھا؟ رویا تھا نا۔ اسطوانہ حنانہ، وہ تو ابھی تک اس کی نشانی موجود ہے۔ ریاض الجنہ میں موجود ہے، اسطوانہ حنانہ۔ اچھا جو درخت باقاعدہ ملاقات کے لیے آیا تھا۔ شجرہ، مسجد شجرہ، وہ بھی موجود ہے۔ اونٹوں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ آ کر اپنے آپ کو قربانی کے لیے پیش کرنا، کیا یہ چیز ثابت نہیں ہے؟ ثابت ہے۔ تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ پاک کا معاملہ ایسا تھا کہ پوری کائنات کو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیدا فرمایا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، تکوینی محبت یہ تو فطری تھی۔ ساری چیزوں کی احد کا جو پہاڑ ہے۔ وہ بھی وجد میں آیا تھا باقاعدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ۔ دو موجود تھے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ تو وہ بھی آیا تھا، اس پہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو، ان سے خطاب بھی فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے، ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔

تو یہ ساری باتیں ہیں۔ البتہ یہ الگ بات ہے کہ جو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ طبعی بات ہے ایسی چیزوں میں ہوا کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ پھر کیا کیا جائے؟ تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ والی بات اسی میں آتی ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آپ مجاہدے کو دیکھ لیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کندھے پہ سوار کر کے غار میں لے گئے۔ اور پنجوں کے بل غار میں گئے۔ تاکہ کم سے کم نشانی پڑے۔ اب آپ ایک ہستی کو کندھے پہ کوئی اٹھا لے اور پھر پنجوں کے بل چلے، تو وہ کیسے ہو گا؟ اور وہ پہاڑ ہو۔ تھوڑا سا اندازہ کر لیں، وہ کیا صورتحال ہو گی؟ آج کل بھی غارِ ثور پہ عام لوگ جرات نہیں کرتے جانے کی۔ غارِ حرا چلے جاتے ہیں لیکن غارِ ثور جانے کی ہمت نہیں کر پاتے۔ لیکن اس حالت میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ گئے ہیں۔ پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اپنی Tension نہیں، یہ Tension کہیں کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان نہ پہنچائے۔ اور یہ Tension زیادہ ہوتی ہے۔ اس حالت میں تین دن گزارنا۔ تو پھر اللہ کا معاملہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کرنے والوں کے ساتھ پھر عجیب! کہ ایک دفعہ حضرت عائشہ صدیقہ رضي الله عنها نے پوچھا: "یا رسول اللہ! کسی کی اتنی نیکیاں بھی ہو سکتی ہیں جتنے ستارے ہیں؟" فرمایا: "ہاں، عمر کی ہیں۔ عمر کی ہیں۔" اب حضرت عائشہ صدیقہ رضي الله عنها چونکہ حضرت ابوبکر صدیق رضي الله عنه کی بیٹی تھیں، ان کے مقام کو جانتی تھیں، تو حیرت سے کہا: "یا رسول اللہ! پھر میرے ابا جان کا کیا حال ہے؟ میرے ابا جان کا کیا حال ہے؟" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ان کی وہ جو تین دن کی نیکیاں تھیں، غارِ ثور میں جو ان کو ملی ہیں، اس تک عمر کی پوری زندگی کی نیکیاں نہیں پہنچ سکتیں۔ عمر کی پوری زندگی کی نیکیاں اس تک نہیں پہنچ سکتیں۔"

اور یہی حال ہوا تھا کہ حضرت عمر رضي الله عنه ایک دفعہ عاجزانہ حضرت ابوبکر صدیق رضي الله عنه کے قریب آئے، ان کا ہاتھ ہاتھ میں لیا، کہا: "ابوبکر! ایک معاہدہ نہیں کرتے؟" پوچھا: "کس بات کا؟" کہتے ہیں: "مجھے وہ تین دن کی نیکیاں دے دو، اور میری ساری عمر کی نیکیاں آپ لے لیں۔" تو حضرت ابوبکر صدیق رضي الله عنه خاموش ہوئے۔ تو اب یہ جو باتیں ہیں، مطلب محبت کی کہانیاں ہیں، یہ محبت کی باتیں ہیں۔ اس کو اہلِ محبت ہی سمجھ سکتے ہیں۔ ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ باقی لوگ تو اس کے بارے میں شاید دوسری کچھ باتیں سوچیں۔ لیکن یہ ہے کہ یہ باتیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اطہر، یہ ان کی آپ کی شان ہی ایسی تھی۔

اکثر میں عرض کرتا رہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے وہ جو مکلف مخلوق کی محبت ہے، جیسے جنات اور جیسے، انسان۔ یہ مکلف مخلوقات کی محبت ہے۔ تو مکلف مخلوقات کی جو محبت ہے، اس پہ تو ان کو اجر بھی ملتا ہے، ان کی ترقی بھی ہوتی ہے روحانی، اور ان کے لیے ماشاءاللہ وہ دروازے کھلتے ہیں روحانیت کے۔ لیکن ایک ہے تکوینی محبت، وہ مکلف مخلوق کی نہیں ہے، مثلاً پتھر کی محبت، درخت کی محبت، پہاڑ کی محبت، اونٹوں کی محبت، یہ محبت جو ہے تکوینی محبت ہے۔ یہ مکلف مخلوقات نہیں ہیں۔ چونکہ مکلف مخلوقات کی اپنی مرضی نہیں چلتی، یہ مرضی کس کی ہوتی ہے؟ اللہ تعالیٰ کی۔ تو اس تکوینی محبت سے گویا کہ مکلف مخلوقات کو محبت کی گویا دعوت دی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کیا ہے؟ اللہ چاہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کی جائے! کہ چونکہ غیر مکلف مخلوق کے دل میں بھی اللہ پاک نے ان کی محبت ڈالی ہے اور وہ ان کے ساتھ محبت کرتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اے مکلف مخلوقات! تم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کر لو، اور تمہیں تو ضرورت بھی ہے کیونکہ تمہارا تو سارا کچھ اس پر منحصر ہے۔ ان کو تو کوئی مطلب فائدہ تو اس طرح نہیں پہنچ رہا نا کیونکہ مکلف مخلوق تو ہیں نہیں۔ لیکن تمہیں تو فائدہ ہے، تمہیں تو آخرت میں بھی فائدہ ہے، دنیا میں بھی فائدہ ہے۔ تو یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ جو مکلف مخلوقات ہیں، وہ غیر مکلف مخلوقات کی محبت سے سیکھ سکتے ہیں۔ اس میں یہ حکمت ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ خاموش رہنے والے تھے۔ زیادہ خاموش رہنے والے۔

خاموشی کئی وجوہات سے ہو سکتی ہے۔ بعض دفعہ نامناسب بات سے رکنے کے لیے خاموشی ضروری ہوتی ہے، اور بعض دفعہ کچھ ایسے احوال ہوتے ہیں کہ جو بیان کیے جائیں تو لوگ برداشت نہیں کر سکیں گے، خاموش۔ اب عام لوگ تو اس لیے خاموش ان کے لیے مفید ہے کہ ان کی کوئی جو مناسب حالت نہیں ہے وہ ظاہر نہ ہو جائے۔ ان کے لیے تو یہ بہتر ہے۔ لیکن جو اللہ والے ہوتے ہیں، جو خاموش ہوتے ہیں، وہ اس لیے خاموش ہوتے ہیں کہ کوئی بات ایسے لوگوں پہ ظاہر نہ ہو جائے جس کو وہ برداشت نہیں کر سکتے یا ان کے لیے وہ مناسب نہ ہو، تو اس وجہ سے وہ خاموش رہتے تھے۔

ایک دفعہ امام ابو حنیفہ رحمة الله عليه نے ایک طالبعلم سے کہا، طالبعلموں کو خاموش نہیں رہنا ہوتا، ان کو تو سوال کرنا ہوتا ہے۔ تو ان سے پوچھا: "دیکھو، سب لوگ سوال کر رہے ہیں تم بھی سوال کیا کرو نا!" اس نے کہا: "حضرت اب آئندہ کروں گا۔" تو مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، حضرت مسئلے بیان کر رہے تھے۔ اس مجلس میں ایک مسئلہ آیا کہ جب سورج غروب ہو جائے تو پھر ایسا کرنا ہوگا۔ تو اس نے سوال کیا: "حضرت اگر سورج غروب نہ ہو جائے تو پھر؟" تو انہوں نے کہا: "آپ کا خاموش رہنا بہتر ہے۔ آپ اچھا کر رہے ہیں، آپ کی خاموشی اچھی ہے۔" کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ اس سے اس کی جہالت کا پتہ چل رہا تھا۔ تو اس پر پردہ پڑا رہے تو اچھا نہیں ہے؟ اچھا ہے نا! تو اب ہم لوگ جو خاموش ہوتے ہیں، اس میں ہماری جو نفس کی گندگی ہے وہ اس پہ پردہ پڑا رہتا ہے۔

ایک پاگل آدمی میں اور صاحبِ شعور آدمی میں جو اس میں فرق کیا ہوتا ہے؟ فرق یہ ہوتا ہے کہ پاگل آدمی کے جو وساوس ہوتے ہیں، وہ اس کی زبان پر ہوتے ہیں۔ جو اس کے دل میں آ رہا ہوتا ہے، وہی بات کر رہا ہوتا ہے، تو لوگ ہنس رہے ہوتے ہیں یا اس پر غصہ ہو رہے ہوتے ہیں یا کوئی اس طرح کیونکہ ظاہر ہے وہ Manage تو کر نہیں سکتا۔ جبکہ جو صحت مند آدمی ہوتا ہے، وہ Control کر لیتا ہے کہ یہ بات باہر آنے کی ہے یا نہیں ہے؟ وہ اس کو Control کر لیتا ہے۔ تو گویا کہ یوں سمجھ لیں بہت ساری باتوں میں تو ہم واقعی خاموش رہتے ہیں۔ یعنی گویا کہ اپنی چیزوں کو ہم Control کر لیتے ہیں۔ تو تھوڑا سا اور شعوری کیفیت ہم بڑھا لیں کہ ہم لوگ یعنی بے موقع بات نہ کریں، جس وقت مفید ہو بات کرنا اس وقت کر لیں، جس وقت مفید نہ ہو، اس وقت اپنے آپ کو خاموش رکھیں۔

باتونی آدمیوں کی شامت باتوں کے ذریعے سے آتی ہے۔ کوئی کبھی جھوٹ بول رہا ہوتا ہے، وہ مصیبت ہے، کبھی غیبت کر رہا ہوتا ہے، وہ مصیبت ہے، کبھی کسی کا استہزاء کر رہا ہوتا ہے، کسی کے ساتھ مذاق کر رہا ہوتا ہے، وہ مصیبت ہے، کبھی زبان سے گالی برآمد ہوتی ہے، وہ مصیبت ہے۔ یہ سارے مصائب زبان کے ہیں۔ تو جو آدمی خاموش ہوتا ہے، وہ باتوں کے شر سے اپنے آپ کو بچا لیتا ہے، اپنے آپ کو محفوظ کر لیتا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بھی سنت ہے کہ انسان خاموش رہے، اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی اور وجوہات سے تھی۔ لیکن ہم لوگ یعنی اس کو اپنی ان چیزوں کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں کہ ہم زیادہ خاموش رہیں، تو اسی میں زیادہ فائدہ ہے۔

حضرت انس رضي الله عنه نے فرمایا کہ میں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال خدمت کی، پس مجھے کبھی اُف نہیں فرمایا۔ اور نہ کسی کام پر یوں فرمایا کہ تم نے یہ کیوں کیا، اور نہ کسی کام کے متعلق یوں فرمایا کہ کیوں نہیں کیا۔

یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انتہائی شفقت کی بات ہے۔ اس میں صرف اتنی بات ہے کہ اگر ہم لوگ یہاں تک رکھیں کہ ہم غیر ضروری طور پر اپنے ملازمین کو تنگ نہ کریں۔ جو ضروری باتیں ہیں، ان سے تو کی جا سکتی ہیں، کیونکہ ورنہ پھر تو ان کو سمجھ ہی نہیں آئے گی۔ لیکن غیر ضروری طور پر ان کو تنگ نہ کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چونکہ شان بہت بلند تھی، تو ان کے لیے تو یہ والی بات تھی کہ انہوں نے اپنی ذات کو تو بالکل ہی، اپنی ذات کو نہیں لاتے تھے۔ ہاں، ہم لوگ برابر برابر معاملہ کر لیں تو بھی اس میں گنجائش ہے، گنجائش ہے۔ برابر سر برابر مطلب میرا یہ ہے کہ جہاں ضرورت ہو وہاں تو بات کر لیں، جہاں ضرورت نہ ہو وہاں پر ہم خاموش رہیں اور کسی کو تنگ نہ کریں۔

بعض دفعہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ملازم نے صحیح کام کیا ہوتا ہے۔ ہوتا ہے، کیونکہ ظاہر ہے اس کو زیادہ پتہ ہوتا ہے۔ اب میں نے بازار میں ان کو بھیجا، اب بازار میں فلاں دکان بند تھی۔ اس کو پتہ ہے، مجھے تو پتہ نہیں ہے، میں تو نہیں گیا ہوں۔ اب وہ اس کے انتظار میں کھڑا ہے جو ہے نا کہ وہ کھل جائے۔ تو اس کے انتظار میں وقت لگ گیا، ادھر میں اس پر غصہ ہوں۔ اور اس پر میں اس کو موبائل پہ فون کروں جو ہے نا، "جلدی آ جاؤ! یہ کیا کیا؟ وہ کیا کیا" میں اس کو غصے میں۔ اب وہ بیچارہ کہہ بھی نہیں سکے گا کہ مسئلہ یہ ہے، آپ اس کو موقع ہی نہیں دے رہے، خوامخواہ اس کی دل آزاری کر رہے ہیں، وہ آپ ہی کے کام میں لگا ہوا ہے، لیکن دل آزاری تو اس کی ہو رہی ہے۔ تو ایسی صورت میں اگر تھوڑا سا صورتحال کا اندازہ لگا لیا جائے تو اچھا نہیں ہے؟ کہ پہلے معلوم کر لیں کہ وجہ کیا بنی؟ اگر آپ اتنی بھی Sense رکھتے ہیں تو ماشاءاللہ امید ہے کہ کسی غلطی میں نہیں پڑیں گے۔ تھوڑا سا توقف کر لیا کریں، اور تھوڑا سا صورتحال کا اندازہ کر لیا کریں۔ مثلاً آپ اس سے پوچھ لیں، "بھئی کیا بات ہو گئی؟" "وہ کیوں؟ وہ نہیں تھا۔" اب اگر وہ صورتحال بتا دے تو آپ کے اندر اتنی فراست امید ہے ہوگی کہ آپ کو اندازہ ہو جائے کہ ویسے کہہ رہا ہے یا حقیقتِ حال یہی ہے۔ اگر وہ کوئی ایسی بات ہو جس کا آپ کو ذرا تھوڑا سا شک پڑ جائے تو آپ مزید تحقیق کر لیں، پھر آپ اس کو سمجھا دیں پھر طریقے سے۔ تو اس سے یہ ہوگا کہ آپ کے تعلقات بھی خراب نہیں ہوں گے، کام بھی خراب نہیں ہوگا، اور بلاوجہ کسی کی دل آزاری بھی نہیں ہوگی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: "اے اللہ کے رسول! مشرکین پر بددعا کیجئے۔" ارشاد فرمایا کہ: "میں لعنت کرنے والا نہیں بھیجا گیا، بلکہ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔"

بڑی بات!

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنواری سے بھی زیادہ شرمیلے تھے جو اپنے پردے میں ہو۔ پس جب کوئی ناگوار بات ملاحظہ فرماتے تو ہم اس ناگواری کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے شناخت کر لیتے تھے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم شرم کی وجہ سے زبانِ مبارک سے ظاہر نہیں فرماتے تھے۔

دیکھو ذرا تھوڑا سا غور کر لیں، قرآن اس پر ناطق ہے سورہ حجرات میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز اس طرح باہر سے نہ دو، جس طرح عام لوگوں کو دیا کرتے ہو۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو حیا کی وجہ سے نہیں کچھ کہیں گے، لیکن اللہ پاک تو اس سے نہیں رکتے، کیونکہ اللہ پاک کو تو صورتحال کا پتہ ہے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں اتنی حیا تھی کہ وہ اس بات کو خود نہیں فرماتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ ایسا کرو، ایسا نہ کرو، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مختلف ہے۔

یہاں تک فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اونچا نہ بولو۔ ان کے الفاظ مبارک سے زیادہ اونچی بات نہ کرو۔ عین ممکن ہے کہ تمہاری ساری چیزیں ختم ہو جائیں، حبط ہو جائیں۔ اور تمہیں پتہ بھی نہ ہو۔ اب اس میں یہ الگ بات ہے کہ آگے ایک حدیث شریف میں اس کی ذرا تشریح ہے کہ ایک صحابی تھے، جن کی آواز زیادہ اونچی تھی، وہ گھر میں ہی مقید ہو گئے، وہ نہیں آتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پھر۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلا لیا کہ "کیوں نہیں آتے ہو؟" فرمایا: "میری آواز اونچی ہے، اور چونکہ حکم آ گیا ہے کہ آپ کی آواز پر اپنی آواز کو بلند نہ کروں، تو مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں سارا کچھ ختم نہ ہو جائے۔" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تسلی دی کہ: "نہیں، آپ کے لیے نہیں ہے۔" اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جو انسان کی غیر اختیاری چیز ہے، اس پر بات نہیں ہے، وہ اختیاری طور پر جو بلندی کی جاتی ہے، اس کی طرف بات چلی جا رہی تھی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ:

بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم خُلُقِ عظیم پر ہیں۔

خُلُقِ عظیم! واقعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق بہت زیادہ بلند تھے، اس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سے مصافحہ فرماتے تو آپ اپنا دستِ مبارک اس سے الگ نہ کرتے یہاں تک کہ وہ خود ہی اپنا ہاتھ الگ کر لیتا، اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی جانب سے رُخ پھیرتے یہاں تک کہ وہ خود ہی بات وغیرہ پوری کرنے کے بعد اپنا رُخ پھیر لے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی اپنے جلیس کے سامنے اپنے زانوؤں کو بڑھائے ہوئے نہیں دیکھے گئے، بلکہ صف میں سب کے برابر بیٹھتے تھے۔

جو حضرات طریقِ نبوی پر مستقیم رہے ہیں، یعنی سنت کے طریقے پہ، ان میں بھی یہ چیز دیکھی گئی۔ یہ حضرت مدنی رحمة الله عليه کے ایک مرید تھے، تو مسجد میں اندر چلے گئے، تو مرید ادب سے اپنے پیر سے آگے نہیں ہوتا تھا۔ یہ مزاج ہے مطلب یہ آداب۔ تو تھوڑا سا پیچھے ہو گئے، حضرت سے۔ تو حضرت بھی پیچھے ہو گئے تاکہ برابر ہو جائیں۔ وہ اور پیچھے ہو گئے تو حضرت بھی اور پیچھے ہو گئے۔ پھر وہ اور پیچھے ہو گئے تو حضرت، فرمایا کہ: "بھئی مسجد سے نکالنا تو نہیں ہے آپ نے؟ بھئی مسجد اللہ کا گھر ہے، اس میں سب برابر ہیں۔ مسجد اللہ کا گھر ہے، اس میں سب برابر ہیں، اس میں یہ تکلف نہ کرو۔" تو ساتھ سمجھا دیا۔ اور واقعتاً جو اللہ والے ہوتے ہیں، یہ حضرت مولانا عزیر گل صاحب رحمة الله عليه کا جو میں نے ابھی تھوڑی دیر پہلے ذکر کیا، تو حضرت کی یہ شان تھی کہ اپنے آپ کو بہت ہی کم سمجھتے تھے، بہت ہی کم۔ اور اس پر دل سے خوش ہوتے تھے اگر کوئی اس طرح کا معاملہ... اب عموماً بزرگوں کو "جَزَاکُمُ اللّٰهُ" کہا جاتا ہے، طریقہ ہے۔ اور عام، "جَزَاکَ اللّٰهُ" ہوتا ہے۔ تو باقی لوگ تو ان کو ایسے کہتے تھے، "میری زبان سے غلطی سے نکل گیا، جَزَاکَ اللّٰهُ۔" اس پر اتنے خوش ہوئے کہ میرا ہاتھ پکڑ کر اس طرح ہلانے لگے کہ، "اس سے بہت زیادہ خوشی ہو گئی کہ آپ نے مجھے جَزَاکَ اللّٰهُ کہا ہے۔" کیونکہ اپنے آپ کو بالکل کچھ نہیں سمجھتے تھے۔ اور حالانکہ جہاں پر، یہ ہمارے پٹھانوں کے علاقے میں بعض دفعہ تو اس پر ہی بات ہوتی تھی کہ " میرے سامنے کیوں کھڑے ہو گئے؟ اور ایسا کیوں کیا؟ اور ایسا کیوں؟" اسی پر لڑائیاں ہوتی تھیں۔ اور انہی علاقوں میں حضرت تھے۔ لیکن حضرت کی ایسی بے نفسی تھی کہ ماشاءاللہ معاف کرنا اور اس قسم کی باتوں میں اپنے آپ کو کچھ بھی نہ سمجھنا، یہ بڑی بات ہوتی تھی۔

ان چیزوں کو لوگ نہیں دیکھتے، لوگ کہتے ہیں، "نفلیں کتنی پڑھتے ہیں؟" بھئی نفلوں کا معاملہ آپ کا اللہ کے ساتھ ہے۔ وہ پتہ نہیں، آپ کو، آپ کو کیا دکھائیں گے کہ میں نفلیں پڑھتا ہوں؟ اگر دکھاتے ہیں تو اس کا تو پاس کچھ بھی نہیں رہے گا۔ تو وہ تو اس کا اللہ کے ساتھ معاملہ ہے، وہ ان کے ذریعے سے آپ کیا Measurement کر رہے ہیں؟ اصل چیز یہ ہے کہ آیا وہ سنت کے طریقے پہ چل رہا ہے یا نہیں چل رہا، ایک بات۔ برداشت کی قوت اس میں کتنی ہے؟ اخلاق اس کے کیسے ہیں؟ یہی وہ چیزیں ہیں جو لوگوں کے ساتھ برتی جاتی ہیں۔ اور اسی پر ہی، اب دیکھیں ذرا حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضي الله عنها کی اس بات کو ذرا غور سے سنیں، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بہت پریشانی میں آئے اور "مجھے کمبل اڑھا دیں، کمبل اڑھا دیں،" اس وقت اب حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضي الله عنها کی جو تقریر ہے، کتابوں میں موجود ہے، کہ وہ کیا تھی؟ اس میں کیا فرمایا کہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ وہ ساری باتیں یہی تھیں کہ آپ کا مخلوق کے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ ساری باتیں مطلب یہی تھیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، آپ تو یہ کرتے ہیں، آپ تو یہ کرتے ہیں، آپ تو یہ کرتے ہیں، آپ تو یہ کرتے ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو ہمارا جو اصل جو کام ہے، وہ یہ ہے کہ ہم لوگوں کے ساتھ صحیح صورت رکھ لیں، اور اسی میں سنت کے طریقے پہ چلنے کی کوشش کر لیں۔

اور اللہ تعالیٰ سے یہی مانگیں: "اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۞ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ" یہ ہمیں اللہ پاک نے یہ دعا جو دی ہے سورہ فاتحہ کی صورت میں، ہر نماز کے اندر، اس میں سب کچھ اللہ پاک نے عطا فرمایا ہے، بشرطیکہ ہمیں یاد ہو۔ یہ اکثر حضرات فرماتے ہیں کہ یہ جو جماعت میں انسان کھڑا ہوتا ہے، اور امام کہتا ہے "وَلَا الضَّالِّينَ"، اس وقت شیطان آپ کے ذہن کو آگے پیچھے کرے گا کہ آپ اس کے ساتھ "آمین"، خفی طور پر، ہم خفی طور پہ کہتے ہیں جو شوافع ہیں وہ زور سے کہتے ہیں، فرق صرف اتنا ہے۔ لیکن بہرحال کہتے ہیں، آپ کے ذہن کو آگے پیچھے کر کے کہ آپ سے آمین جو ہے نا ان کے ساتھ نہ کہلوائی جائے۔ کیونکہ اس میں اللہ پاک کی طرف سے قبولیت کا بہت زیادہ امکان ہوتا ہے۔ تو یہ بات ہے، تو اس میں یہ ہے کہ، یہ جو آمین ہے بہت قیمتی آمین ہے۔ بہت قیمتی آمین ہے۔ تو اس میں یہ ہے کہ راستہ انبیاء کا، راستہ صدیقین کا، راستہ شہداء کا، راستہ صالحین کا۔ یہ جو طریقہ مانگ رہے ہیں اللہ تعالیٰ سے "صِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ"، یہ بہت بڑی بات ہے۔ اللہ کرے کہ ہم واقعی اس کو مانگنے والے بن جائیں، اور اس کو حاصل کرنے والے بن جائیں۔

وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغ۔

اخلاقِ نبوی ﷺ اور اتباعِ سنت کی اہمیت - خواتین کے لیے اصلاحی بیان - اشاعت دوم