دو ٹھنڈی نمازیں (فجر اور عصر): فضیلت، اہمیت اور تقاضائے یقین

بَابٌ فِىْ بَيَانِ كَثْرَةِ طُرُقِ الْخَيْرِ، درس نمبر: 193، حدیث نمبر: 132، اشاعتِ اول: 1 فروری، 2023 بمطابق 9 رجب، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • فجر اور عصر (البردین) کی نماز کا اہتمام اور جنت کی بشارت۔
  • اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے وعدوں پر بلا شک و شبہ یقین کی اہمیت۔
  • ایک نیک عمل کی برکت سے دوسرے نیک اعمال کی توفیق۔
  • صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے کامل یقین کی مثال۔
  • شکی مزاجی کے نقصانات اور Social Media کے ذریعے پھیلنے والے شکوک و شبہات سے بچاؤ۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔ فجر اور عصر کی نماز پڑھنے سے جنت۔

فجر اور عصر کی نماز پڑھنے سے جنت

(132) ﴿السَّادِسُ عَشَرَ: عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ"﴾ (متفق عليه)

ترجمہ: ”حضرت ابوموسیٰ اشعری روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص دو ٹھنڈی نمازیں پڑھتا ہے جنت میں داخل ہوگا۔“

فجر اور عصر کی نماز کی فضیلت

تشریح: (اس فقرے کی) مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ: ”بردین“ کی خود وضاحت حدیث شریف میں فرمائی گئی ہے۔ کہ اس سے مراد صبح اور عصر کی نماز ہے، ایک دوسری روایت میں یہ مضمون آتا ہے۔ ”لَا يَلِجُ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوبِهَا يَعْنِي الْفَجْرَ وَ الْعَصْرَ.“ (۱) یعنی جس نے سورج نکلتے وقت اور غروب کے وقت کی نمازیں ادا کیں وہ جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔ یعنی فجر اور عصر کی نماز۔

یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ

کیا جنت کے دخول کے لئے عصر اور فجر کی نماز کافی ہے؟

سوال: صرف فجر اور عصر کی نماز پڑھنا کافی ہے جس کی وجہ سے جہنم میں داخل نہیں ہوگا اگرچہ وہ باقی نمازیں یا دوسرے گناہ بھی کرتا رہے؟

پہلا جواب: علامہ علقمی اور علامہ قزاز فرماتے ہیں یہ ابتداء اسلام کی بات تھی جب کہ صرف فجر اور عصر کی نماز ہی فرض تھی، پانچ وقتوں کی نماز فرض نہیں ہوئی تھی۔

دوسرا جواب: علامہ طیبی شرح مشکوٰۃ میں اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ جو شخص فجر اور عصر کے وقتوں کا اہتمام کریگا وہ باقی وقتوں کا بدرجہ اولیٰ کریگا کیونکہ فجر میں نیند کی غفلت کا وقت ہوتا ہے اسی طرح عصر میں کام کی مشغولیت ہوتی ہے۔ اور جب یہ نمازوں کا اہتمام کریگا تو ارشاد خداوندی ہے ”اِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَ الْمُنْكَرِ“ ”بے شک نماز بے حیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے“ تو نماز کی برکت سے وہ اور گناہوں سے بچتا رہیگا۔ اس بناء پر وہ جنت میں داخل ہوجائیگا۔

تخريج حديث: أخرجه صحيح بخارى كتاب مواقيت الصلوٰة (باب فضل صلاة الفجر) و صحيح مسلم كتاب المساجد (باب فضل صلاتى الصبح و العصر و المحافظة عليهما). أحمد ١٦٧٣٠/٥. و الدارمي ٣٣١/١ و ابن حبان و البيهقى ٤٦٦/١۔

اس میں ایک بات اکثر جو میں عرض کرتا رہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ اللہ پاک کے وعدوں پر اور آپ ﷺ نے جن وعدوں کے بارے میں فرمایا، تو اس پر انسان صحیح نیت کے ساتھ عمل کر لے، تو پھر باقی کام اللہ پاک کا ہے، وہ اس کے مطابق کر دیتا ہے۔ جیسے اکثر میں ایک مثال دیتا ہوں، یہ: أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ. اب اس میں بھی چونکہ وعدہ ہے، لہٰذا اگر کوئی اس پر عمل کرے گا، تو اس کی برکت سے باقی اعمال اللہ پاک نصیب فرمائیں گے۔

یا یہ جو آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے ضمانت دو جو جبڑوں کے درمیان میں ہے اور جو دو رانوں کے درمیان میں ہے اس کی حفاظت کی، تو میں جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ تو اب یہاں پر بھی یہ بات ہو گئی کہ وعدہ ہے۔ اب وعدہ ہے آپ ﷺ کا۔ لہٰذا اگر ہم اس پر عمل کر لیں، تو اس کی برکت سے خود بخود اللہ تعالیٰ اور اعمال ہمیں نصیب فرما دیں گے۔

کیونکہ کچھ اعمال کچھ اعمال کے ذریعے ہوتے ہیں۔ اس کے لیے وہ واسطہ بن جاتے ہیں، اور یہ وسیلہ بن جاتے ہیں۔ تو اس وجہ سے اگر ہم لوگ وعدے پر عمل کریں جو آپ ﷺ نے وعدہ کیا یا اللہ پاک نے وعدہ کیا ہے، تو اس ذریعے سے، اس وسیلے سے ہم اللہ پاک کا قرب حاصل کر سکتے ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ جو شکی مزاج لوگ ہوتے ہیں نا، وہ ہر چیز میں شک ڈالتے ہیں، اور محروم رہ جاتے ہیں، دوسروں کو بھی محروم کروا دیتے ہیں۔ اور جو یقین کرنے والے ہوتے ہیں، اب صحابہؓ میں سے کسی نے یہ سوال نہیں کیا کہ یہ کیسے کیوں، یہ کیسے کیوں ہے؟ تو ان کو یقین تھا، بس جیسے فرما دیا بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن اب شکی لوگ اس قسم کی باتوں میں وہ سوچتے رہتے ہیں، تو خود بھی اپنے آپ کو خراب کرتے ہیں، دوسروں کو بھی خراب کر لیتے ہیں۔

یہ آج کل جو Social Media ہے، اس لیے تو خطرناک ہے کہ اس میں لوگوں کے دماغوں میں شک ڈالتے ہیں۔ وہ شک پڑ جائے، پھر اس کا نکالنا آسان نہیں ہوتا، وہ مشکل ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے ایسی چیزوں سے پہلو تہی کرنا ہی بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ.

دو ٹھنڈی نمازیں (فجر اور عصر): فضیلت، اہمیت اور تقاضائے یقین - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور