درود شریف: صدقہ کا قائم مقام اور مومن کی طلبِ خیر کی دلیل

کتاب: فضائل درود شریف، اشاعت اول: 11 ستمبر، 2020 بمطابق 22 محرم الحرام 1442 ھ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • درود شریف کی اہمیت اور اس کا مالی صدقہ و زکوٰۃ کے قائم مقام ہونا۔
  • علماء کرام کا درود پاک اور صدقہ کی فضیلت پر علمی اختلاف۔
  • درود پاک کی برکت سے دعاؤں کی قبولیت، گناہوں کا کفارہ اور اعمال کی پاکیزگی۔
  • مومن کی طلبِ خیر (علم اور نیکیوں کی طلب) جو جنت میں جانے تک ختم نہیں ہوتی۔
  • دنیاوی لالچ کی مثال اور اس کے مقابلے میں مومن کی آخرت کے لیے مسلسل جدوجہد۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا.

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: أَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ صَدَقَةٌ فَلْيَقُلْ فِي دُعَائِهِ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، وَصَلِّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ، وَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ، فَإِنَّهَا زَكَاةٌ. وَقَالَ: لَا يَشْبَعُ الْمُؤْمِنُ خَيْرًا حَتَّى يَكُونَ مُنْتَهَاهُ الْجَنَّةَ.

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ جس کے پاس صدقہ کرنے کو کچھ نہ ہو، وہ یوں دعا مانگا کرے، "اللَّهُمَّ صَلِّ" سے آخر تک۔ اے اللہ! درود بھیج محمد ﷺ پر جو تیرے بندے ہیں اور تیرے رسول ہیں، اور رحمت بھیج مومن مرد اور مومن عورتوں پر اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتوں پر۔ پس یہ دعا اس کے لیے زکوٰۃ یعنی صدقہ ہونے کے قائم مقام ہے، اور مومن کا پیٹ کسی خیر سے نہیں بھرتا یہاں تک کہ وہ جنت میں پہنچ جائے۔

رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي صَحِيحِهِ، كَذَا فِي التَّرْغِيبِ، وَبَسَطَ السَّخَاوِيُّ فِي تَخْرِيجِهِ، وَزَادَهُ السُّيُوطِيُّ فِي الدُّرِّ إِلَى الْأَدَبِ الْمُفْرَدِ لِلْبُخَارِيِّ.

علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ حافظ ابن حبان نے اس حدیث پر یہ فصل باندھی ہے: اس چیز کا بیان کہ حضور اقدس ﷺ پر درود پڑھنا، صدقہ نہ ہونے کی صورت میں صدقہ کے قائم مقام ہو جاتا ہے۔ علمائے کرام میں اس بات پر اختلاف ہے کہ صدقہ افضل ہے یا آپ ﷺ پر درود۔ بعض علماءِ کرام نے کہا ہے کہ حضور ﷺ پر درود صدقہ سے بھی افضل ہے، اس لیے کہ صدقہ صرف ایک ایسا فریضہ ہے جو بندوں پر ہے، اور درود شریف ایسا فریضہ ہے جو بندوں پر فرض ہونے کے علاوہ اللہ جلَّ شانہٗ اور اس کے فرشتے بھی اس عمل کو کرتے ہیں۔ اگرچہ علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ خود اس کے موافق نہیں ہیں۔

علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ مجھ پر درود بھیجا کرو، اس لیے کہ مجھ پر درود بھیجنا تمہارے لیے زکوٰۃ یعنی صدقہ کے حکم میں ہے۔ ایک اور حدیث سے نقل کیا ہے کہ مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کہ وہ تمہارے لیے زکوٰۃ یعنی صدقہ ہے۔

نیز حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت سے حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ مجھ پر تمہارا درود بھیجنا تمہاری دعاؤں کی حفاظت کرنے والا ہے، تمہارے رب کی رضا کا سبب ہے، اور تمہارے اعمال کی زکوٰۃ ہے، یعنی ان کو بڑھانے والا، پاک کرنے والا اور محفوظ کرنے والا ہے۔

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سے حضور ﷺ کا ارشاد نقل کیا کہ مجھ پر درود بھیجا کرو، اس لیے کہ مجھ پر درود تمہارے لیے گناہوں کا کفارہ اور زکوٰۃ یعنی صدقہ ہے اور حدیثِ پاک کا آخری ٹکڑا کہ "مومن کا پیٹ نہیں بھرتا"، اس کو صاحبِ مشکوٰۃ نے فضائلِ علم میں نقل کیا ہے، اور صاحبِ مرقاۃ وغیرہ نے "خیر" سے "علم" مراد لیا ہے۔ اگرچہ لفظِ خیر عام ہے اور ہر خیر کی چیز اور ہر نیکی کو شامل ہے، اور مطلب ظاہر ہے کہ مومنِ کامل کا پیٹ نیکی کمانے سے کبھی نہیں بھرتا، وہ ہر وقت اس کوشش میں رہتا ہے کہ جو نیکی بھی جس طرح اسے مل جائے، وہ حاصل کر لے۔ اگر اس کے پاس مالی صدقہ نہیں ہے تو درود شریف ہی سے صدقہ کی فضیلت حاصل کرتا ہے۔

اس ناکارہ کے نزدیک خیر کا لفظ علی العموم ہی زیادہ بہتر ہے، کہ وہ علم اور دوسری چیزوں کو شامل ہے۔ لیکن صاحبِ مظاہرِ حق نے خود بھی صاحبِ مرقاۃ وغیرہ کی اتباع میں خیر سے علم ہی مراد لیا ہے، اس لیے وہ تحریر فرماتے ہیں: ہرگز سیر نہیں ہوتا مومن خیر سے، یعنی علم سے، یعنی آخر عمر تک طلبِ علم میں رہتا ہے، اور اس کی برکت سے بہشت میں جاتا ہے۔ اس حدیث میں خوشخبری ہے طالبِ علم کے لیے کہ وہ دنیا سے باایمان جاتا ہے، اِنْ شَاءَ اللّٰهُ۔ اور اس درجے کو حاصل کرنے کے لیے بعض اہلِ اللہ آخر عمر تک تحصیلِ علم میں مشغول رہے ہیں، باوجود بہت سارا علم حاصل کر لینے کے، کیونکہ دائرۂ علم وسیع ہے۔ جو شخص تصنیف اور تعلیم میں مشغول ہو، حقیقت میں طالبِ علم کے ثواب کی تکمیل بھی اسی کے لیے ہے۔

ایک علمی بحث ہوتی ہے، تو یہ تو علماءِ کرام کرتے رہتے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ ان کا کام ہے۔ اور ایک یہ کہ ہم اس سے اپنے لیے کیا نتیجہ نکالیں، یہ ایک عملی صورت ہے۔

تو ظاہر ہے، عملی طور پر یہ بات ہے کہ درودِ پاک کا فائدہ بہت زیادہ ہے۔ اور صدقے کے بارے میں جو یہاں فرمایا گیا ہے کہ (درود) صدقہ ہے، اس میں یہ نکتہ ہے کہ صدقے میں کیا ہوتا ہے؟ ہم کسی کو دنیا کی کوئی چیز دیتے ہیں تو صدقہ ہو جاتا ہے، لیکن یہاں ہم کیا دے رہے ہیں؟ ہم انہیں آخرت کی چیز دینا چاہتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ باقاعدہ اس دعا میں یہ ارشاد آ گیا ہے: "اے اللہ! درود بھیج محمد ﷺ پر جو تیرے بندے ہیں" — تو آپ ﷺ کے لیے تو درود ہے — "اور تیرے رسول ہیں، اور رحمت بھیج مومن مرد اور مومن عورتوں پر"۔ تو ہم نے ان کے لیے رحمت کی دعا کی، تو دعا کا جو نفع ہے، وہ آخرت کے لحاظ سے ہے۔ پس یہ دعا اس کے لیے زکوٰۃ یعنی صدقہ کرنے کے قائم مقام ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ وہ واقعتاً دوسروں کو خیر پہنچا رہا ہے۔

اور فرمایا کہ مومن کا پیٹ کسی خیر سے کبھی نہیں بھرتا، یہاں تک کہ وہ جنت میں پہنچ جائے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کا تعلق ایمان کے ساتھ ہے۔ "مومن" کا لفظ فرمایا، مومن۔ تو مومن کیا ہوتا ہے؟ وہ مومن آخرت کی تمام چیزوں کو جانتا ہے اور آخرت پر اسے یقین ہے، وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ۔ اس وجہ سے وہ آخرت کے لیے ہر وقت کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہے، تاکہ آخرت میں کامیابی حاصل کر لے، آخرت کے لیے کچھ کمائے۔ جیسے ہم دنیا دار لوگ دنیا کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں، اور جو بھی دنیا کے لیے ملتا ہے، اسے مزید بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی شخص کی دکان بہت اچھی چل رہی ہو تو کیا وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ "چلو کوئی بات نہیں، آج تھوڑا آرام ہو جائے"؟ نہیں، وہ اس کے لیے آرام کو قربان کرتا ہے، کیونکہ اسے یہ ہوتا ہے کہ وہ کبھی آرام نہیں کرتا، بلکہ کہتا ہے: "اور زیادہ، اور زیادہ، اور زیادہ"۔ تو دنیا میں تو ایسے ہی ہوتا ہے۔

اسی طریقے سے جو مومن ہوتا ہے، اس کا آخرت پر یقین ہوتا ہے، لہٰذا وہ آخرت کے لیے کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہے۔ تو ظاہر ہے، اس میں اگر علم مراد لیا جائے تو سُبْحَانَ اللّٰه، وہ بھی ہمارے لیے خیر ہے، اور اگر کوئی اور خیر مراد لیا جائے تو وہ بھی، مَا شَاءَ اللّٰه، ظاہر ہے کہ اسے عام طور پر بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس وجہ سے درود شریف ہر وقت ہمارے لیے خیر ہی ہے، اور اسے باقاعدہ عادت بنانی چاہیے۔