"اسلامی نظامِ زکوٰۃ کی کمالِ حکمت اور اکابرینِ امت کی علمی و تجدیدی خدمات"

سیرت النبی ﷺ، جلد 5، زکوۃ، اشاعت اول: 8 اکتوبر 2020 بمطابق: 20 صفر المظفر 1442 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

عباداتِ مالیہ (زکوٰۃ) اور سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ

جانوروں کی زکوٰۃ: سابقہ شریعتوں اور شریعتِ محمدیہ کا تقابل

نصابِ زکوٰۃ کی تعیین اور امراء و غرباء کے درمیان عدل

احکاماتِ شریعت میں ربانی حکمت اور علومِ نافعہ کی عظمت

دورِ حاضر (سوشل میڈیا) میں دین کی منظم اشاعت کی ضرورت

برصغیر کے اکابرین کی علمی، تجدیدی اور عملی خدمات

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

آج جمعہ کی رات ہے اور جمعہ کی رات کو ہمارے ہاں سیرت النبی کی تعلیم ہوتی ہے۔ سیرت النبی جو حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمائی ہے اور مولانا شبلی نعمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔

عبادات کا باب اس میں چل رہا ہے، اور عبادات میں جو دوسری اہم عبادت ہے، مالی عبادت، زکوٰۃ کے بارے میں بات چل رہی تھی۔

جانوروں پر زکوٰۃ:

تورات میں ہر قسم کے جانوروں میں دسواں حصہ زکوٰۃ کا تھا۔ (1) لیکن چونکہ ہر قسم کے جانوروں میں نسل کی افزائش کی صلاحیت اور مدتِ افزائش (زمانہ حمل) یکساں نہیں ہوتی نیز جانوروں میں دسویں بیسویں کا حصہ مشاع ہر تعداد پر چسپاں نہیں ہو سکتا اس لئے ان میں دسویں بیسویں کے بجائے تعداد کے تعیین کی ضرورت تھی۔ شریعتِ محمدیہ نے اس نقص کو پورا کیا۔ چنانچہ اسی پہلے اصول (پیدائش اور افزائش کی مدت کیفیت اور کمیت) کی بنا پر اولاً بے نسل یا کم نسل کے جانوروں کو زکوٰۃ سے مستثنیٰ کر دیا۔ مثلاً خچر، گھوڑے (2) پر کوئی زکوٰۃ نہیں دوسرے جانوروں کی مالیت اور قوت و کیفیت افزائش کے لحاظ سے حسبِ ذیل شرح معین ہوئی۔ یہ وہ شرح نامہ ہے جو خود آنحضرت ﷺ نے اپنی حکمتِ ربانی سے فیصلہ فرما کر طے کیا اور زبانی نہیں بلکہ فرامین کی صورت میں لکھوا کر عمال کو عنایت فرمایا تھا اور خلفائے راشدین نے اسی کی نقلیں حدودِ حکومت میں بھجوائیں اور جس کی تعمیل آج تک برابر بلا اختلاف ہوتی آئی ہے۔

نام جانور: اونٹ۔ تعداد: 1 سے 4 تک۔ شرح زکوٰۃ: کچھ نہیں۔ نام اونٹ، 20 سے 24 تک، 4 بکریاں اس میں آئیں۔ اونٹ، 5 سے 9 تک، ایک بکری۔ 25 سے 35، اونٹ کا ایک سالہ بچہ۔ 10 سے 14 سال تک دو بکریاں۔ (شاید یہاں 10 سے 14 تعداد کا ذکر ہے) 36 سے 45 تک اونٹ کا دو سالہ بچہ۔ 15 سے 19، تین بکریاں۔

یعنی اس کے ساتھ ساتھ تعداد کے ساتھ ساتھ بڑھتی بڑھائی گئی۔ اور بکری، پھر اس کی بکری کے لیے ہے، پھر اس طرح یہ مطلب یعنی گائے بھینس وغیرہ کے لیے ہے۔ تو اس ترتیب کو رکھا گیا ہے کہ جس میں وہی نمو والی اور وہ چیزیں ہوتیں۔ تو اس میں انہوں نے مطلب یہ رکھی کہ ہر ایک پر اس کے proportional رکھا جائے

نصابِ مال کی تعیین:

شرحِ زکوٰۃ کے تعیین کے سلسلہ میں شرائعِ سابقہ میں ایک اور کمی تھی جس کی تکمیل محمد رسول اللہ ﷺ کی شریعت نے کر دی۔ جن دوسری شریعتوں میں قانونی خیرات کی تعیین ہے ان میں امیر و غریب اور کم اور زیادہ دولت والوں کی تفریق نہیں کی گئی تھی۔ مثلاً اگر دس میں روپے والوں یا دس پانچ گائے اور بکری والوں سے یہ زکوٰۃ وصول کی جاتی تو ان پر ظلم ہوتا، تورات میں غلہ اور مویشی پر جو عشر اور نقد پر جو آدھا مثقال مقرر کیا گیا ہے اس میں اس کا لحاظ نہیں کیا گیا ہے بلکہ آدھے مثقال کی زکوٰۃ میں تو یہاں تک کہہ دیا گیا ہے کہ: "خداوند کے لئے نذر کرتے وقت آدھے مثقال سے امیر زیادہ نہ دے اور غریب کم نہ دے"۔ (خروج 30: 15)

لیکن شریعتِ محمدی نے اس نکتہ کو ملحوظ رکھا اور غریبوں، ناداروں، مقروضوں اور ان غلاموں کو جو سرمایہ نہیں رکھتے یا اپنی آزادی کے لئے سرمایہ جمع کر رہے ہیں اس سے بالکل مستثنیٰ کر دیا نیز دولت کی کم مقدار رکھنے والوں پر بھی ان کی اپنی حسبِ خواہش اخلاقی خیرات کے علاوہ کوئی باقاعدہ زکوٰۃ عائد نہیں کی اور کم مقدار کی دولت کا معیار بھی اس نے خود مقرر کر دیا۔ سونے کی زکوٰۃ وہی آدھا مثقال رکھا لیکن بتا دیا کہ یہ آدھا مثقال اسی سے لیا جائے گا جو کم از کم پانچ اوقیہ یعنی بیس مثقال سونے کا مالک ہو اور 5 اوقیہ یعنی 20 مثقال سونے کی متوسط قیمت دو سو درہم چاندی کے سکے ہیں یعنی ایک اوقیہ چالیس درہم کے برابر ہے۔ (1) وہ کم سے کم معیارِ دولت جس پر زکوٰۃ نہیں حسب ذیل ہے۔

نام: غلہ اور پھل۔ 5 وسق سے کم پر زکوٰۃ نہیں۔ اونٹ، 5 عدد سے کم پر نہیں۔ گائے، بیل اور بھینس، 30 عدد سے کم پر نہیں۔ بھیڑ بکری، 40 عدد سے کم ہو تو نہیں۔

سونا 5 اوقیہ یعنی 20 مثقال سے کم پر زکوٰۃ نہیں، اور چاندی 200 درہم سے کم پر زکوٰۃ نہیں۔ اس معیار سے امیر و غریب کی سطحوں میں جو یکساں زکوٰۃ کی ناہمواری تھی وہ دور ہو گئی اور جو غریب خود زکوٰۃ کے مستحق تھے وہ اس قومی محصول سے بری ہو گئے۔

ان مذکورہ بالا اشیاء کی تعداد و جنسیت کے اختلاف کی وجہ سے گو مختلف ہے مگر مالی اعتبار سے وہ ایک ہی معیار پر مبنی ہیں۔ پانچ وسق غلہ، دو سو درہم چاندی اور پانچ اوقیہ سونا درحقیقت ایک ہی معیار ہے۔ ایک اوقیہ جیسا کہ معلوم ہو چکا چالیس درہم کے برابر ہے۔ اس بنا پر پانچ اوقیہ اور دو سو درہم برابر ہیں۔ اسی طرح ایک وسق غلہ کی قیمت اس زمانہ میں چالیس (1) یا 4 مثقال تھی یعنی پانچ اوقیہ اور پانچ وسق کی قیمت وہی دو سو درہم یا 20 مثقال ہوگی۔

اصل میں یہ جو ہے نا، یقین جانیے کہ آپ ﷺ کی ہر بات کو چونکہ اللہ پاک نے خود own کیا ہوا ہے۔ کہ میری طرف سے ہے، کہ "نہیں کوئی بات فرماتے نہیں آپ ﷺ، مگر جو اس کو وحی کی گئی"۔ تو یہ سارا نظام اترا ہے۔ اترا ہے! اور اللہ جل شانہٗ چونکہ ہماری ساری چیزوں کو جانتے ہیں، تو یہ شرح مقرر کرنا، یعنی ایسے proportional، یہ انسان کے بس کی بات نہیں تھی۔ تو اللہ جل شانہٗ نے اس امت کو جو قیامت تک مطلب رہنا تھا، ان کے لیے یہ ساری چیزیں بہت تفصیلی مقرر فرما دیں۔

اللہ جل شانہٗ ہم سب کو ان علومِ عظیمہ سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ بہت بڑے علوم ہیں، بہت بڑے علوم ہیں۔ یعنی واقعی انسان کا دل کھلتا ہے۔ ہمارے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ لوگ پتا نہیں کن چیزوں سے وجد کرتے ہیں؟ وجد کی چیزیں تو یہ ہیں۔ وجد کی چیزیں تو یہ ہیں۔ علومِ نافعہ۔

اور حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ جیسے حضرات بھی فرماتے ہیں کہ یہ جانوروں کی چیزیں، کھانے پینے کی چیزیں، اور اس پہ خوش ہو جانا، یہ انسانوں کا تو یہ عقل کی چیزیں ہوتی ہیں ان چیزوں پہ خوش ہوتے ہیں۔ ان کا تو رزق یہ ہوتا ہے۔

تو مطلب یہ ہے کہ واقعتاً اگر ہم لوگ دیکھیں تو یہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے اوپر بڑا احسان کیا ہے۔ ہمارے اکابرین نے بہت کام کیا ہے۔ سبحان اللہ! اب ان کاموں کو dump رہنے دیا جائے؟ مطلب وہ بس ٹھیک ہے جی پڑے ہوئے ہیں؟ یا ان کو فروغ دینا چاہیے؟ ان کو سامنے لانا چاہیے تاکہ لوگوں تک پہنچیں؟ اس وقت سوشل میڈیا پر اس قسم کی چیزیں اگر آ جائیں، باقاعدہ systematic انداز میں، تو کتنا اچھا اثر ہو گا؟ کہ یہ جو اسلام ہے، کوئی اس طرح randomly نہیں ہے، بلکہ اس کے اندر کتنا systematization ہے، ہر چیز کی اپنی ایک بنیاد ہے۔ تو یہ اس انداز میں اس کو یعنی متعارف کرنے کی ضرورت ہے۔ تو الحمد للہ، ہماری اس خانقاہ میں اللہ پاک نے یہ فضل فرمایا ہے

جس میں ہم میں تو یہ صلاحیت نہیں تھی، لیکن اللہ پاک نے اپنے فضل و کرم سے اپنے اپنے وقت پر، جو اس وقت کی مناسب چیز تھی وہ شروع کروا دی۔ یعنی یہ بھی ہم نے کیسے اس کا فیصلہ کیا، مطلب اس کتاب کا؟ کرونا اس کا باعث ہو گیا۔ تو مطلب یہ ہے کہ الحمدللہ، اللہ کا شکر ہے اللہ تعالیٰ نے اتنے علوم کا دروازہ کھول دیا۔ ورنہ کتابیں ہمارے پاس پڑی تو تھیں نا؟ پڑی تھیں لیکن پڑھی نہیں تھیں۔ اب اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کی توفیق عطا فرمائی، شکر ہے اللہ کا۔ اور پھر ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی جو "سلوکِ سلیمانی" ہے، جو ظاہر ہے اسی کی continuation ہے۔ یعنی کتنے خوبصورت انداز میں تمام چیزوں کو جمع کیا ہے۔ نظری اور عملی چیزوں کو کیسے خوبصورت انداز میں جمع کر لیا ہے تو یہ بہت، بہت، بہت اللہ کا کرم ہے، الحمدللہ۔ اللہ کا شکر ہے۔

حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جو پورا frame of work دے دیا، اس کو پھر سند کی بنیاد شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے دلوا دی۔ چونکہ وہ قرآن و حدیث کے بہت بڑے عالم تھے۔

یعنی وہ کام اللہ تعالیٰ نے ان سے پھر لے لیا۔ عملی طور پر نفاذ کا کام سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ سے لے لیا۔ عملی طور پہ نافذ کیا تھا نا۔ تو وہ ان سے لے لیا۔ اور پھر آج کل کے دور کے لحاظ سے اس کو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کی team سے اللہ تعالیٰ نے یہ کام لے لیا اور یہی اللہ پاک کا نظام ہے، اللہ تعالیٰ اسی طرح چلاتے ہیں۔ قدرتی طور پر اس قسم کے حالات بن جاتے ہیں، جو ماشاءاللہ جو چیز ہونی ہوتی ہے وہ اس طریقے سے ہو جاتا ہے۔

تو اللہ پاک کرے کہ ہم اس مبارک جماعت کے ساتھ رہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو خیر جہاں رکھی ہے، وہاں سے اس کو لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہماری ضد، ہماری اکڑ، ہماری پتا نہیں انانیت اور کیا کیا چیزیں، اس میں رکاوٹ نہ بنیں۔

ہاں جی، آسانی کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہمیں نعمتیں نصیب فرمائے

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

"اسلامی نظامِ زکوٰۃ کی کمالِ حکمت اور اکابرینِ امت کی علمی و تجدیدی خدمات" - درسِ سیرۃ النبی ﷺ - دوسرا دور