"گناہ مٹانے اور درجات بلند کرنے والے اعمال (حقیقی رِباط)"

بَابٌ فِىْ بَيَانِ كَثْرَةِ طُرُقِ الْخَيْرِ، درس نمبر: 192، حدیث نمبر: 131، اشاعتِ اول: 31 جنوری، 2023 بمطابق 8 رجب، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • کامل اور مبالغے کے ساتھ وضو کرنے (اسباغ الوضوء) کی فضیلت اور فقہی احکام۔
  • مشقت اور ناگواری (سردی، بیماری وغیرہ) کے باوجود طہارت کا اہتمام کرنا۔
  • مسجد کی طرف کثرت سے جانے اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار کا اجر۔
  • 'رباط' کا لغوی معنی، سرحدوں کی حفاظت اور اس کا روحانی پہلو۔
  • شیطان کے حملوں سے بچاؤ کے لیے جہادِ اصغر سے جہادِ اکبر (نفساتی جہاد) کی طرف توجہ۔

الحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

درجات کو بلند کرنے والے اعمال

(131) ﴿الْخَامِسُ عَشَرَ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟" قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ وَ انْتِظَارُ الصَّلَوةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَذَالِكُمُ الرِّبَاطُ"﴾ (رواہ مسلم)

ترجمہ: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں جس سے اللہ گناہوں کو مٹا دے اور درجات کو بلند فرمائے؟ صحابہ نے عرض کیا ضرور یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا مشقت کے وقت میں مبالغہ کے ساتھ وضوء کرنا۔ اور مسجدوں کی طرف زیادہ آمد و رفت رکھنا اور نماز پڑھنے کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، اسی کا نام رباط ہے۔“

الرباط: بمعنی جس سے کوئی چیز باندھی جائے وہ جگہ جہاں لشکر حفاظت سرحد کے لئے پڑاؤ ڈالے، اس کی جمع ربوط آتی ہے۔

تشریح: يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا: اللہ گناہوں کو مٹا دے۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ کنایہ ہے مغفرت سے نیز مراد یہ ہے کہ اللہ ان اعمال کی برکت سے گناہوں کو زائل کر دیتے ہیں۔

تو اس میں جو پہلی چیز آئی ہے وہ ہے وضو میں مبالغہ کرنا؛

تشریح: إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ: وضوء کو مبالغہ کے ساتھ کرنا، اعضاء کو ایک بار دھونا تو فرض ہے اور تین بار دھونا سنت اور مستحب ہے تین بار سے زائد دھونا اس روایت سے جائز معلوم ہوتا ہے۔ علامہ شامیؒ فرماتے ہیں ائمہ احناف سے دھونے کی تعداد کے بارے میں کوئی روایت منقول نہیں ہے۔ علامہ شامی فرماتے ہیں ”لَوْ زَادَ عَلَى الثَّلَاثِ لِطُمَأْنِيَةِ الْقَلْبِ لَا بَأْسَ بِهِ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: "دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يُرِيبُكَ".“

عَلَى الْمَكَارِهِ: ”مشقت کے وقت“ میں اس سے مراد یہ ہے کہ پانی کو قیمت سے زائد پر خریدنا پڑتا ہے یا سخت سردی ہو رہی ہو۔ یا جسمانی درد وغیرہ کے وقت میں پانی کا استعمال ناگوار ہو تب بھی وہ کرے۔

اِنْتِظَارُ الصَّلَوةِ بَعْدَ الصَّلَوةِ: ایک نماز پڑھنے کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نماز پڑھ کر اپنی جگہ بیٹھا رہے دوسری نماز کے ادا کرنے کے لئے یا مطلب یہ ہے کہ مسجد سے اگرچہ وہ باہر چلا جاتا ہے مگر ”قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِهَا“ مگر نماز ہی میں اس کا دل اٹکا ہوا ہے۔

"رباط" کے بارے میں جیسے کہ ابھی عرض کیا گیا کہ

سرحد کی حفاظت کو کہ دشمنوں سے اس کی حفاظت کرنا، تو ان اعمال کو رباط اس لئے کہا گیا کہ ان اعمال سے بھی شیطان سے انسان کی حفاظت ہوتی ہے۔ جیسے کہ دوسری روایت میں آتا ہے ۔ ”رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الأَكْبَرِ“ ”دشمنوں کے جہاد سے نفس کی جہاد کی طرف لوٹے ہیں“ نفس کی بھی مسلسل نگرانی کرنی ہے کہ کسی وقت بھی شیطان حملہ کر سکتا ہے۔ موطا مالک میں یہ دو مرتبہ ہے، نیز ترمذی میں یہی جملہ تین مرتبہ نقل کیا گیا ہے، اہتمام کی وجہ سے اس کا تکرار کیا گیا ہے۔

تخریج حدیث: صحيح مسلم كتاب الطهارة باب فضل اسباغ الوضوء على المكاره. رواه مالك في المؤطاء ٣٨٦ و أحمد ٧٢١٣/٣ ترمذی و النسائی.

"گناہ مٹانے اور درجات بلند کرنے والے اعمال (حقیقی رِباط)" - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور