احیائے دین، طریقۂ صحابہ اور اہمیتِ صحبت
اشاعتِ اول: 21 فروری، 2018 بمطابق 4 جمادی الثانی 1439 ہجری دفتر اول، مکتوبات: 269 اور 270
- برصغیر میں احیائے دین اور حضرت مجدد الف ثانیؒ کا انقلاب آفرین کردار
- مکتوب 269: باطل کی سرکوبی اور دینِ حق کے لیے استقامت
- روحانی سفر میں ظنیات (خواب و کشف) کے بجائے اصل منزل پر توجہ
- معیارِ حق: طریقۂ صحابہؓ اور مقصود و ذرائع میں فرق
- گمراہی سے بچاؤ کا پیمانہ: قرآن و سنت کی فوری اور غیر مشروط اطاعت
- مکتوب 270: گوشہ نشینی کے مقابلے میں صحبتِ صالحین کی فضیلت اور اہمیت
ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ، وَٱلصَّلَاةُ وَٱلسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ ٱلنَّبِيِّينَ۔ أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِٱللَّهِ مِنَ ٱلشَّيْطَانِ ٱلرَّجِيمِ، بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ۔
آج بدھ کا دن ہے اور بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، ان کے مکتوبات شریف کا درس ہوتا ہے۔ اللہ جل شانہ حضرت کے جملہ فیوض و برکات سے ہمیں مستفید فرمائے۔
بہت اعلیٰ مضامین ہیں اس میں، بقول حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ، کہ یہ بہت اہم مضامین اس میں ہیں اور لوگ اس سے غافل ہیں، وہ کسی اور جگہ نہیں ملتے۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اس کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
دفتر اول مکتوب 269
شیخ فرید (مرتضیٰ خاں) کی طرف صادر فرمایا۔ دین کے دشمنوں کی اہانت کرنے اور ان بے وقوفوں اور بد بختوں کے جھوٹے خداؤں کی توہین و تخریب پر ترغیب دینے اور اس عظیم القدر کام کی تمنا ظاہر کرنے میں اور اس کے مناسب بیان میں۔
حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا طریقہ یہ تھا کہ وقت کے جو مقتدر حضرات تھے، ان کے ذریعے سے دین کی بات پہنچائی۔ اس وقت چونکہ فتنہ بہت زیادہ تھا، شدید فتنہ تھا۔ اکبر کے دینِ الٰہی کی وجہ سے بہت ساری چیزیں تباہ ہو گئی تھیں۔ بڑے بڑے علماء کرام یا شہید کر دیے گئے تھے یا ان کو ملک بدر کر دیا گیا تھا، یا پھر ان کو اپنا ہمنوا بنا لیا گیا تھا۔ تو ایسی صورت میں ظاہر ہے بہت زیادہ یعنی سارے لوگوں پہ محنت کرنے کا کام مشکل تھا۔ تو حضرت نے جو سرکردہ لوگ تھے، ان کے اوپر محنت فرمائی ہے۔ جس میں اکبر کے جو مصاحبین تھے، جو درباری تھے، ان میں سے بھی اکثر، بلکہ نصف سے زیادہ درباری حضرت کے معتقد یا بیعت ہو گئے تھے، اکبر کے دور میں ہی۔ اور بڑے بڑے علماء کے، یا سادات کے، یا جو مطلب اس وقت کے مقتدر حضرات ہو سکتے تھے، تو ان کی طرف یہ مکاتیب شریف بھیجے ہیں۔
تھوڑا سا غور کر لیں، یعنی ایک شخص بیٹھا ہوا ہے اپنی خانقاہ میں، اور مکاتیب کے ذریعے سے وہ راستے بن رہے ہیں، اور اتنے یعنی گہرے راستے بن رہے ہیں کہ وہ پورا ایک انقلاب برپا کر دیتے۔ یعنی جو اتنا زیادہ Establish بے دینی کا طوفان تھا، وہ سارے کا سارا اس کا منہ موڑ دیا، اور ایک Generation کے بعد... مطلب یہ ہے کہ اکبر کے بعد فوراً اس کے بعد جو جہانگیر آیا ہے، تو جہانگیر جو ہے، یہ پہلے تو جہانگیر اصل میں ان لوگوں میں تھا جو یعنی دین کے بارے میں اچھے جذبات رکھتا تھا۔ شہزادہ تو تھا ہی، لیکن بہرحال نسبتاً اچھا تھا۔ نتیجتاً اکبر کے جو درباری تھے، اکبر کی موت کے بعد ان حضرات کی کوششوں سے جو بے دین شہزادہ ہے وہ نہیں آ سکا، اور ان کو لایا گیا، یہ پہلی کامیابی تھی، مطلب جو اکبر کے دربار میں حاصل ہوئی۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ پھر اکبر کے دور کے جو لوگ تھے، انہوں نے کان بھرنے شروع کر دیے جہانگیر کے، جس کی وجہ سے جہانگیر کو مخالف بنا دیا گیا۔ اور سب سے بڑی وجہ جو تھی وہ ان کو یہ دکھائی گئی کہ دیکھیں نا یہ سجدہ تعظیمی نہیں کرتے۔ سجدہ تعظیمی باقاعدہ اس وقت رائج ہو گیا تھا دربار میں۔ تو یہ بات تھی کہ دیکھیں آپ کے لیے سجدہ تعظیمی نہیں کریں گے، یہ آپ کا مخالف ہے۔ تو ان کو جب لایا گیا تو حضرت نے بالکل ایسے ہی کیا، کہ پہلے پیر داخل کیے، پھر اس کے بعد سر ۔ وہ جگہ ایسے بنا دی گئی تھی تاکہ وہ جھک کے ہی آ سکے۔ تو حضرت نے ایسا کیا، تو جہانگیر کو کھٹکا بیٹھ گیا دماغ میں کہ بات تو صحیح ہے۔ تو ان کو گرفتار کر دیا، گوالیار کے قلعے میں۔
تو ادھر جو حضرت کے معتقدین تھے، ان میں مہابت خان نامی ایک تھے پشاور کے، جن کی مشہور مسجد بنی ہے مسجد مہابت خان، ابھی بھی موجود ہے۔ تو انہوں نے بغاوت کر دی۔ بغاوت کر دی، اب جہانگیر جس کو بھی بھیجے اس کو گرفتار کر لیں۔ وہ بڑا مضبوط جرنیل تھا۔ جس کو بھی بھیجے اس کو گرفتار کر لیں۔ تو جہانگیر حیران ہو گیا کہ یہ کیا مسئلہ ہے؟ بہرحال پھر ان کو مجبوراً گوالیار کے اس میں وہ حضرت سے درخواست کرنی پڑی کہ آپ ان کو کہہ دیں کہ وہ جو ہمارے جو لوگ ہیں، چھوڑ دیں۔ تو حضرت نے ان کو خط لکھا اور حضرت نے فرمایا کہ ہم حکومت کرنے کے لیے نہیں آئے، حکومت بے شک یہ کرے لیکن شریعت کے مطابق کرے۔ ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہے، تو آپ ان کو رہا کر دیں۔ تو انہوں نے بڑی عزت کے ساتھ ان کو رہا کر دیا سب کو جن کو پکڑا تھا، بڑے بڑے جرنیلوں کو پکڑا تھا، ان کو رہا کر دیا۔ جس سے جہانگیر پر حضرت کی دھاک بیٹھ گئی کہ یہ تو معمولی شخص نہیں ہے۔ تو پھر ان کو اپنے ساتھ ساتھ رکھتے تھے، اور بہت یعنی قریب ہو گئے تھے حضرت کے۔
اور شاہ جہاں بادشاہ جو تھے، یہ تو باقاعدہ حضرت سے بیعت ہو گئے، یعنی بعد میں جب شاہ جہاں بادشاہ آئے، اور اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ کا تو آپ لوگوں کو پتہ ہے کہ کیسے تھے، یہ خواجہ معصوم رحمۃ اللہ علیہ جو حضرت کے صاحبزادے تھے ان سے بیعت تھے۔ تو ان کا تو معاملہ یہ تھا کہ جس تخت پر بیٹھ کر اکبر فقہاء کو سفہاء کہتے تھے، اس تخت پر اپنے ساتھ فقہاء کو بٹھا کر ان سے فتاویٰ عالمگیری لکھوایا۔ چار Generation میں اتنا زیادہ انقلاب آ گیا کہ جس تخت پر بیٹھ کر اکبر فقہاء کو سفہاء کہتے تھے یعنی بیوقوف، تو اس تخت پر اپنے ساتھ فقہاء کو بٹھا کر ان سے فتاویٰ عالمگیری لکھوایا۔ جو باقاعدہ پوری سلطنت کو چلانے کا وہ ہے، یعنی آئین ہے پورا، اس پر پوری سلطنت چلائی جا سکتی ہے۔ تو یہ ہے ان حضرات کی برکت۔
تھوڑا سا غور کر لیں، دو بڑے بزرگ ہندوستان کے لحاظ سے بہت اہم ہیں۔ ایک ہیں خواجہ معین الدین چشتی اجمیر رحمۃ اللہ علیہ، جو کہ تقریباً ہندوستان کے... ظاہر ہے آئے تو محمد بن قاسم تھے ابتداء میں سندھ میں، لیکن اگر مضبوط Roots پڑ گئیں تو خواجہ معین الدین چشتی اجمیر رحمۃ اللہ علیہ کے ذریعے سے پڑیں۔ کیونکہ حضرت کی برکت سے تقریباً 90 لاکھ ہندو وہ اسلام میں داخل ہو گئے تھے۔ 90 لاکھ لوگ، معمولی بات تو نہیں، اس وقت انڈیا کی آبادی کتنی ہوگی؟ تو یہ بات ہے کہ پورا داغ بیل جس کو ہم کہتے ہیں، وہ بھی ایک صوفی کے ذریعے سے پڑی ہے۔ اور پھر جب مشکل پڑ گئی، یعنی جب تقریباً ختم ہونے کو تھا، پھر ایک صوفی کو اللہ نے اٹھا دیا، یعنی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کو، جس کی وجہ سے دوبارہ یعنی احیائے دین ہو گیا اور احیائے سنت ہو گئی۔ دونوں محاذوں پہ حضرت لڑے ہیں۔ دونوں محاذوں پہ، شریعت کے محاذ پر بھی اور طریقت کے محاذ پر بھی۔ شریعت کے محاذ پر بھی لڑے ہیں، بہت -سبحان اللہ- ایسی ایسی چیزیں جو غلط رائج ہو گئی تھیں، ان کو وہ توڑ دیا، ان کو وہ سمجھا دیا لوگوں کو۔ اور طریقت کے محاذ پر بھی، کہ جو غلط چیزیں شامل ہو گئی تھیں، برملا ان کا انکار کر دیا۔
اس وقت ان چیزوں کا انکار کرنا معمولی بات نہیں تھی، بہت مشکل تھا۔ تو حضرت کے مکتوبات شریف میں یہی بات تھی۔ تو جس وقت ہم نے مکتوبات شریف شروع کیے، تو دیوانوں کا خواب تھا، مکتوبات شریف اور کہاں ہم۔ کیا بات تھی، دیوانوں کے خواب والی بات تھی۔ لیکن حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت ہمارے ایک ساتھی کو ہو گئی۔ تو حضرت نے ارشاد فرمایا کہ میرا بتایا کہ ان کو کہو کہ یہ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے حالات پہلے دیکھ لیں۔ کہ وہ کن حالات سے گزرے تھے، اور یہ مکتوبات شریف کن حالات میں لکھے گئے ہیں۔ تاکہ ان کو پتہ ہو کہ کسی چیز کا مطلب کیا ہے؟ اور واقعتاً بالکل صحیح ہے، اگر میں ان حالات کو نہ دیکھتا تو شاید میں، مجھے سمجھ میں نہ آتی بات۔ تو پھر میں نے الحمد للہ حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان کی کتاب ہے "کاروانِ دعوت و عزیمت" کی جلد نمبر چہارم، وہ میں نے انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کر لی، اور میں نے اس کو پڑھ لیا الحمد للہ، اس سے مجھے یہ ساری باتیں تفصیلی معلوم ہو گئیں کہ حضرت مجدد صاحب کے کیا حالات تھے اور کن حالات میں حضرت نے یہ کام کیے ہیں۔ تو اس وجہ سے اگر ہم ان چیزوں کو جانیں نا، تو پھر ان شاء اللہ کچھ باتیں ہمیں سمجھ آئیں گی۔
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی (اللہ تعالیٰ کی حمد ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو) ہر شخص کے دل میں کسی نہ کسی امر کی تمنا ہوا کرتی ہے (اسی طرح) اس فقیر کی بہت زیادہ تمنا یہی ہے کہ خدائے عز و جل کے دشمنوں اور اس کے پیغمبر علیہ و علیٰ آلہ الصلوات و التسلیمات کے دشمنوں کے ساتھ سختی کی جائے اور ان بد نصیبوں کو رسوا کیا جائے اور ان کے باطل معبودوں کو ذلیل و خوار کیا جائے۔ اور (یہ فقیر) یقین کے ساتھ جانتا ہے کہ حق جل و علا کے نزدیک اس عمل سے زیادہ پسندیدہ عمل کوئی نہیں ہے، اسی وجہ سے آپ کو اس پسندیدہ عمل کے لئے بار بار ترغیب دیتا ہے اور اس عمل میں بجا آوری کو اسلام کے اہم ترین اُمور میں سے جانتا ہے۔ چونکہ آپ بذاتِ خود وہاں تشریف لے گئے ہیں اور اس گندے مقام اور وہاں کے رہنے والوں کی تحقیر اور اہانت کے لئے متعین ہوئے ہیں اس لئے سب سے پہلے اس نعمت کا شکر بجا لانا چاہیے کیونکہ بکثرت لوگ اس جگہ کی اور وہاں کے باشندوں کی تعظیم و توقیر کے لئے جاتے ہیں۔ لِلّٰہِ سُبْحَانَہُ الْحَمْدُ وَ الْمِنَّۃُ (اللہ سبحانہٗ کی حمد اور اس کا احسان ہے) کہ حضرت حق سبحانہٗ و تعالیٰ نے ہم کو اس بلا میں مبتلا نہیں کیا۔ اس نعمتِ عظمیٰ کا شکر ادا کرنے کے بعد ان بد نصیبوں کی اور ان کے جھوٹے معبودوں کی تحقیر و توہین میں سعیِ بلیغ کرنی چاہیے اور ہر ممکن ذریعے سے خواہ پوشیدہ (طور پر) ہو یا ظاہر (ہر طرح) ان لوگوں کی تخریب میں کوشش کرنی چاہیے، اور ان (ہاتھوں سے بنائے ہوئے) بت تراشیدہ، نا تراشیدہ، گستاخ و بے ادب کی اہانت کرنی چاہیے۔ امید ہے کہ بعض غفلتیں جو آپ سے وقوع میں آئی ہیں اس عمل کی وجہ سے ان کی تلافی اور کفارہ ہو جائے گا۔ جسمانی کمزوری اور سردی کی شدت مانع ہے ورنہ (یہ فقیر) خود آپ کی خدمت میں پہنچ کر اس کام کو بجا لانے کی ترغیب دیتا۔ اور اس تقریب سے اس پتھر پر تھوکتا اور اس کو اپنی سعادت کا سرمایہ سمجھتا۔ اس سے زیادہ کیا مبالغہ کیا جائے۔ و السلام
سبحان اللہ! یعنی یہ جلال ہے حضرت کا، جمال بھی ہے لیکن جمال کے اپنے مواقع ہیں۔ یہ حضرت کا جلال ہے کہ حضرت اپنے ساتھیوں کو ہمت دلایا کرتے تھے۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو حضرت کے ساتھ خاص ہیں۔ ایک تو یہ بات ہے کہ دین کی تشریح میں بالکل ایک تلوار کی طرح واضح بات، ﴿قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيدًا﴾، یہ ہے اور یہ یہ ہے۔ مطلب یہ والی بات نہیں ہوتی تھی کہ درمیان میں آ گیا ایک پیچھے... Diffusion والی بات نہیں ہوتی تھی۔ جس سے Confusion ہو جائے۔ بس ایک صحیح مطلب والی بات کرتے تھے۔
دوسری بات یہ تھی کہ کبھی بھی کسی کو رکنے نہیں دیتے تھے۔ چاہے کتنی ترقی کسی کی کیوں نہ ہو جائے، تو اس کو کہتے ہیں آگے بڑھو، آگے بڑھو، آگے بڑھو، راستہ آگے ہے۔ رکنا نہیں ہے۔ یہ بات بھی حضرت کی خاصیتوں میں سے ہے۔ جس کی وجہ سے حضرت کے ساتھی اور حضرات جو تھے وہ رکتے نہیں تھے، وہ بڑھتے جاتے تھے، بڑھتے جاتے تھے۔
میں آپ کو کیا بتاؤں، آج کل بھی اگر ہم دیکھیں، تو ہم لوگ زنگ آلود ہو چکے ہیں۔ زنگ آلود ہو چکے ہیں۔ میں آپ کو مثال دیتا ہوں۔ اگر کسی کو کوئی اچھا خواب نظر آ جائے، تو بس اس کی خوشی میں بس، پھر ہفتوں مہینوں خوش رہتے ہیں کہ بس یہ ہو گیا، اور یہ ہو گیا۔ یہ کیا چیز ہے؟ بھئی یہ ظنی چیزیں ہیں، ظنی چیزوں کے لیے آپ یقینی چیزوں کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟ ظنی چیزوں کے لیے آپ یقینی چیزوں کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟ تو یہ ظنی چیزوں پہ اتنا وہ ہونا کہ بس وہ یقینی چیزوں میں سستی ہو جائے۔
ایک دفعہ ایک بزرگ تھے ہمارے، فوت ہو گئے تھے، میں نے ان کو خواب میں دیکھا تھا۔ تو تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے میں نے عرض کیا کہ حضرت میں نے ان کو خواب میں دیکھا ہے۔ فرمایا، میں نے ان کو جاگتے میں دیکھا ہے۔ ظاہر ہے جب زندہ تھے تو جاگتے میں دیکھا ہے! مقصد یہ ہے کہ واقعتاً ہم لوگ خوابوں کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اس طرح کشفوں کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ حضرت اس معاملے میں بالکل... ہمارے شیخ رحمۃ اللہ علیہ، ان کا بھی یہی حال تھا۔ کہ میں نے ایک دفعہ حضرت کو کچھ ایسی باتیں سنائیں اپنی، تو انہوں نے فوراً فرمایا دور کرو، دور کرو، یہ راستے کے کھیل تماشے ہیں۔ یہ راستے کے کھیل تماشے ہیں۔ واقعتاً راستے کے کھیل تماشے ہیں۔
اصل چیز یہ نہیں ہوتی۔ اصل چیز تو اللہ تعالیٰ کا تعلق ہے۔ میں آپ کو کیا بتاؤں، اگر آپ کسی چیز کو دو لفظوں میں Define کر سکتے ہیں، دو لفظوں میں اگر Define کر سکتے ہیں، وہ ہے طریقۂ صحابہ۔ اصل چیز یہی ہے، صحابہ کا طریقہ۔ اگر آپ کو صحابہ کا طریقہ مل گیا نا، آپ کو کوئی اچھا خواب نہ آئے، کوئی کشف آپ کو نہ ہو، کوئی چیز آپ کو ایسے Extra نہ ہو، لیکن آپ کو صحابہ کا طریقہ مل گیا، بس پھر آپ کامیاب ہیں، الحمد للہ۔ صحابہ کا طریقہ اصل ہے۔ کیوں؟ اس کی Guarantee دی گئی ہے۔ ﴿مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي﴾۔ یعنی خیر کا جو معیار بتایا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو معیار بتایا ہے، فرمایا: ﴿مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي﴾ جس پر میں ہوں اور جس پر میرے صحابہ ہیں۔ پس اگر کوئی صحابہ کا طریقہ حاصل کر چکا ہے، چاہے کس طریقے سے حاصل کر لے، طریقہ Is not important، "اصل" Important ہے، مقصود Important ہے۔
آج کل یہ بھی بڑا مسئلہ ہے کہ لوگ ذریعوں میں پھنس گئے ہیں۔ ایک خاص ذریعے پہ اتنا Stress دیتے ہیں کہ مقصود فوت ہو جاتا ہے۔ جو مقصود ہے، وہ فوت ہو جاتا ہے۔ تو یہ اصل چیز کیا ہے؟ ذریعے کو ذریعے کے درجے میں رکھو، ذریعے کی توہین نہ کرو، ذریعے کی ناقدری نہ کرو، وہ آپ کو مقصود تک پہنچائے گا، لیکن اس کو مقصود بھی نہ بناؤ۔ کیونکہ اگر آپ نے اس کو مقصود بنایا تو دین میں آپ نے اضافہ کر دیا، وہ دین تو ہے ہی نہیں، وہ دین تو ہے نہیں۔ دین کا ذریعہ ہے۔ تو جو دین کا ذریعہ ہے اس کو ذریعے کے درجے میں رکھو، اور جو دین کا مقصد ہے اس کو مقصد کے درجے میں رکھو۔
یہی صحابہ کا طریقہ تھا۔ کہ صحابہ کرام جس چیز کے بارے میں، جو بات طے ہو چکی ہوتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے فرماتے، بس اس کے بعد... دیکھو دو نعرے تھے صحابہ کرام کے، دو نعرے۔ بڑے مشہور۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔ ﴿آمَنَّا وَصَدَّقْنَا﴾، ﴿سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا﴾۔ "ہم ایمان لائے اور ہم نے تصدیق کر لی"۔ درمیان میں دوسری بات نہیں ہوتی تھی۔ ایمان لائے اور ہم نے تصدیق کر لی۔ ﴿سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا﴾، "ہم نے سن لیا اور اطاعت کر لی"۔ درمیان میں کوئی تیسری بات نہیں ہوتی تھی۔ یہی اصل میں بنیادی چیز ہے، تو حضرت کی پوری کوشش یہی تھی کہ ہم اس پر آ جائیں، صحابہ کے طریقے پر آ جائیں۔
درمیان میں کسی اور جگہ نہ پھنس جائیں۔ ورنہ اگر درمیان میں کسی اور جگہ پھنس گئے، تو میں آپ کو بتاؤں سیدھا راستہ ایک ہوتا ہے، ٹیڑھے راستے بے شمار ہیں۔ ٹیڑھے راستوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ جتنے راستے آپ بنانا چاہیں بنا دیں۔ اچھا میں آپ کو بتاؤں ایک ٹیڑھے راستے کے ساتھ اگر آپ چمٹ جائیں نا، تو آپ کہیں گے چلو جی کسی نہ کسی وقت تو سیدھا ہو جاؤں گا۔ لیکن نہیں، اس کا ایک بڑا نقصان ہوتا ہے اور وہ نقصان انسان کی کمر توڑ دیتا ہے۔ اور وہ کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ ٹیڑھے راستے کو اگر آپ نے لے لیا، اور سیدھے راستے کی جو قدر ہے وہ آپ نے نہیں کی، تو سیدھا راستہ تو ایک ہی ہے، لیکن جس چیز سے آپ کو نقصان ہوگا وہ یہ ہوگا کہ آپ جس بنیاد پر سیدھا راستہ ہے، آپ اس کا انکار کر رہے ہیں۔ جو سیدھا راستہ جس بنیاد پر ہے، آپ اس کا انکار کر رہے ہیں، تبھی تو آپ سیدھا راستہ آپ سے گم ہو گیا نا۔ مثلاً قرآن، اور سنت، یہی دو چیزیں ہیں جو Define کرتی ہیں کہ سیدھا راستہ کیا ہے۔
اب اگر آپ نے سیدھا راستہ چھوڑ دیا اور کوئی بھی ٹیڑھا راستہ لے لیا، تو آپ نے ان دو کا انکار کر دیا۔ اب ان دو کا جو انکار ہے، اب آپ کو کہیں رکنے نہیں دیں گے۔ یہ بگاڑ شروع ہو گیا۔ اب سلطانِ علم اس کو کہتے ہیں، یعنی جو بنیادی جس کو کہتے ہیں معیار جس کو ہم کہتے ہیں، Reference جس کو کہتے ہیں۔ Reference آپ کے ہاتھ سے چلا گیا۔ اب آپ کے پاس Reference کیا رہ گیا؟ آپ کے پاس Reference اپنی خواہش رہ گئی۔ آپ کی مرضی رہ گئی۔ آپ کی جو خواہش ہے وہ آپ کے شیطان کے کنٹرول میں ہے۔ وہ آپ کی خواہشات کے مطابق نئی نئی چیزیں Design کر کے آپ کے سامنے کرے گا۔ پھر آپ چلاتے رہیں، جتنا چلائیں۔ تو There will be no stop. یہ Non stop journey، پھر جتنا بگاڑ آ سکتا ہے، بگڑے گا۔
یہ بگاڑ Multiply اس طرح ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اس چیز کو بالکل Restrict کر لے کہ میں نے یہ نہیں کرنا، بھئی میں نے قرآن نہیں چھوڑنا، میں نے سنت نہیں چھوڑنی، تو اس کی باگ قرآن اور سنت کے ہاتھ میں ہے۔ لہٰذا اگر بگڑے گا بھی تو فوراً واپس آئے گا۔ میں آپ کو ایک عجیب بات بتاؤں، یہ عربوں کے اندر ایک خوبی ہے۔ اور جو ہمارے ہاں نہیں ہے۔ چاہے کتنے بگڑ جائیں نا عرب، ان کو قرآن کی آیت سنا دو نا، فوراً مان جائیں گے۔ حدیث شریف سنا دو، فوراً مان جائیں گے۔ اس میں انکار نہیں کریں گے۔
میں آپ کو واقعہ سناتا ہوں، یہ ہمارے ایک عالم نے سنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خانہ کعبہ کے بالکل پاس ایک شیخ تھے۔ وہ Photography اس کی ہو رہی تھی۔ ہوتی ہے نا مطلب ظاہر ہے Photography، وہاں تو ویسے بھی Photographer Available ہوتے ہیں۔ عرفات جا رہے ہیں تو راستے میں کھڑے ہیں، خانہ کعبہ کے پاس کھڑے ہیں، منیٰ میں کھڑے ہیں، ہر جگہ پر کھڑے ہوتے ہیں، وہ تصویریں بناتے ہیں لوگوں کی۔ اور آج کل تو تصویروں کو لوگ گناہ سمجھتے ہی نہیں، لہٰذا ہوتے رہتے ہیں۔ تو اس شیخ سے اس عالم نے پوچھا، کراچی کا عالم ہے، عربی جانتا تھا، یعنی عربی بول سکتا تھا۔ اس نے کہا "كَمْ ثَوَابٌ فِي هٰذَا الْعَمَلِ؟" اس شیخ سے کہا کہ کتنا ثواب اس کا ہے؟ اس نے کہا "مَا فِيهِ ثَوَابٌ، هٰذَا إِثْمٌ"۔ کوئی ثواب اس کا نہیں ہے، یہ تو گناہ ہے۔ تو اس عالم نے کہا "اچھا، پھر تو گناہ آپ خانہ کعبہ کے پاس ہی کر رہے ہیں؟" بس، فوراً سمجھ گیا، کہتے ہیں "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ"، چھوڑ دیا سارا کچھ، وہاں سے روانہ ہو گیا۔ یہ پاکستانی نہیں کر سکتا، کر کے دکھائیں۔ ہندوستانی نہیں کر سکتا۔ یہ وہ کرتے ہیں۔ ان کو اللہ پاک نے یہ ظرف دیا ہے۔ Original thinking والے لوگ ہیں۔
لیکن بگاڑ ان میں بھی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ اس کی وجہ ہے کہ ان کو الحمد للہ ہمارے جیسے لوگ نہیں ملے، ہمیں جو لوگ ملے ہیں کیونکہ گزشتہ چار پشتوں سے مجددین ہمارے ہندوستان میں آ رہے ہیں۔ کوئی بات تو ہے نا؟ گزشتہ چار صدیوں سے مجددین ہمارے ہندوستان، پاکستان میں آ رہے ہیں۔ لہٰذا دین کا جو رخ ہے مطلب جس کو کہتے ہیں نا Centralization وہ اس طرف ہو گیا۔
تو وہاں پر جرمنی میں جب میں تھا دو سال، تو وہاں عربوں کے ساتھ میرا اٹھنا بیٹھنا ہوتا تھا۔ تو ان کو جب میں باتیں بتاتا تھا، جب وہ پریشان ہو جاتے اور آپس میں الجھ جاتے اور تقریباً گویا کہ جیسے تیز بحث، لڑائی کی صورت اختیار کرتی نا، اس وقت مجھے اپنے بزرگوں کی کوئی بات یاد آ جاتی۔ اور میں کہتا "عِنْدِي تَعْلِيقٌ" (میرے پاس ایک تبصرہ ہے)۔ تو کہتے "کیا، آپ کیا کہتے ہیں؟" میں وہ بات کرتا، کہتے "عِنْدَکَ حَق يَا شَيْخُ" اور دونوں فریق مطمئن ہو جاتے۔ اس پر اتنے وہ ہوگئے کہ تقریباً دو تین مہینے جب مسلسل ایسا ہوتا گیا، تو سمجھے کہ شاید یہ کوئی بڑا شیخ ہے۔ اس کو ہر بات کا پتہ ہے، تو مجھے شیخ شیخ کہنے لگے۔ پھر میں نے ان کو سمجھایا، میں نے کہا بھئی یہ تو میں اپنے علماء کی باتیں آپ کو بتا رہا ہوں، وہ جو ان حضرات کی باتیں ہیں، میری اپنی نہیں ہیں۔ تو بہرحال یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ وہ مانتے ہیں فوراً۔ جیسے میں نے عرض کیا نا کہ میں، میں کہہ دیتا ہوں، کہتے ہیں عِنْدَكَ يَا شَيْخُ؟ اور بات دونوں فریق مان لیتے ہیں۔ تو یہ جو ہے، یہ quality ہمارے اندر ہونی چاہیے۔
یہاں عربوں سے آ کر لوگ کیا کرتے ہیں؟ ٹوپی سر سے اتار لیتے ہیں، نماز میں کثیر حرکت کرنے لگتے ہیں، یا تیز تیز غصے میں باتیں کرنی شروع کر لیتے ہیں۔ یہ ان کے مسائل ہیں، یہ مسائل ہیں ان میں۔ تو میں ان کو کہتا ہوں خدا کے بندو! ان کے اندر جو اچھی باتیں ہیں وہ آپ کیوں نہیں لاتے؟ دیکھو، وہ جب مسجد میں بیٹھے ہوتے ہیں، (یہ تو ما شاء اللہ آپ تو ریاض میں رہے ہیں نا تو آپ کو تو پتہ ہوگا) کہ وہ مسجد میں بیٹھ کر دنیا کی باتیں نہیں کرتے، وہ قرآن پاک پڑھتے ہیں۔ اچھی خوبی ہے، اس کو لے لو نا ان سے! اچھا، دوسری بات مسجد میں جاتے ہی تحیۃ المسجد پڑھیں گے، پھر بیٹھیں گے۔ یہ ان کی اچھی بات ہے۔ اور دوسری بات، عین لڑائی کے وقت آپ کہہ دیں "صَلِّ عَلَى النَّبِيِّ"، لڑائی چھوڑ دیں گے۔ بتاو کون سی چیز ہے جو رکوا رہی ہے؟ یہ بڑی باتیں ہیں۔
تو میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ بھئی ان کی اچھی باتیں لے لو، ان کی بری باتیں نہ لو۔ اور جہاں بھی جاؤ تو ان کی اچھی باتیں لو۔ چاہے England کیوں نہ ہو، England والوں کی اچھی باتیں لے لو، America والوں کی اچھی باتیں لو، Russia والوں کی اچھی باتیں لے لو، پاکستان کی اچھی باتوں کو لے لو۔ مطلب جہاں کوئی خیر ہے، "اَلْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ"، دانائی کی بات مومن کی گمشدہ میراث ہے۔ جہاں سے بھی اس کو مل جائے، اس کا original تو اصل میں ہمارے، ہمارا ہی ہوگا۔ تو لہٰذا ہماری چیز ہوگی۔ تو بہرحال میں عرض کرتا ہوں کہ ہم لوگوں کو اپنے اندر یہ ظرف پیدا کرنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے۔
دفتر اول مکتوب 270
شیخ نور محمد کی طرف صادر فرمایا۔ اس بیان میں کہ بعض صحبتیں گوشہ نشینی پر ترجیح رکھتی ہیں۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی (اللہ تعالیٰ کی حمد ہے اور اس برگزیدہ بندوں پر سلام ہو) میرے بھائی شیخ نور محمد! آپ نے (ہم) دُور پڑے ہوؤں کو اس طرح بھلا دیا ہے کہ سلام و پیام سے بھی یاد نہیں کرتے۔ آپ کو گوشہ نشینی و یکسوئی کی بڑی خواہش تھی، سو میسر ہو گئی۔ لیکن بعض ایسی صحبتیں ہیں جو گوشہ نشینی اور تنہائی پر فضلیت رکھتی ہیں۔
دیکھیں، میں نے کہا رکنے نہیں دیتے نا کسی کو۔ مثلاً۔۔۔ اب دیکھو کتنی اونچی بات کر رہے ہیں، ذرا تھوڑا سا غور کر لیں، reference دیکھو:
(مثلًا) حضرت اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ کے حال پر قیاس کریں کہ چونکہ آپ نے گوشہ نشینی اختیار کی لہٰذا حضرت خیر البشر علیہ و علی آلہ الصلوت و التسلیمات کی صحبت حاصل نہ کر سکے اور اسی لئے وہ صحبت کے کمالات سے بہرہ ور نہ ہوئے اور تابعین میں سے ہو گئے اور اوّل درجے کی فضیلت سے محروم ہو کر دوسرے درجے میں رہ گئے۔
دیکھیں، مطلب یہ والی بات ہے کہ اس طرف کس کا ذہن جاتا ہے؟ یعنی صحابہ میں سے کم سے کم جو مرتبے کے لحاظ سے جو ہوگا، وہ تابعین کے اونچے سے اونچے مرتبے والوں سے اوپر ہے۔
میں آپ کو اس کی مثال دیتا ہوں۔ حرم شریف میں rush ہو جاتا ہے۔ تو پھر لوگ اوپر بھی چڑھ جاتے ہیں، پھر اس سے اوپر چڑھتے ہیں۔ تین چار، وہ ہے نا میزان بھی ہے اور درمیان میں پھر چھتیں بھی ہیں۔ تو چار بنتی ہیں۔ تو اب ground floor پر، جو آخری صف ہے نا، آخری صف کا آخری آدمی، اس کے بعد اوپر والی منزل کا پہلا آدمی ہے۔ اس کے بعد اوپر والی منزل کا پہلا آدمی شروع ہوگا مرتبے کے لحاظ سے۔ اور اس کا جو آخری آدمی ہوگا، اس کے بعد جو اس کے بعد والا floor ہے، اس کا پہلا آدمی ہوگا۔ اور آخری چھت والا جو ہوگا، وہ اس کا آخری آدمی سب سے آخر میں ہوگا۔ اب بالکل اگر آپ دیکھیں ہوائی فاصلے کے لحاظ سے جو آخری چھت والا، وہ یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس کا جو پہلا آدمی ہوگا پہلی صف والا، وہ خانہ کعبہ کے بہت قریب ہوگا۔ لیکن مرتبے کے لحاظ سے کہاں ہے؟ اخیر میں ہے۔
تو یہ اصل میں بنیادی بات ہے۔ اگر ہم دیکھیں تو صحابہ کرام رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ کا جو آخر سے آخر ہے، وہ بھی تابعین کے اول سے اول سے آگے ہے۔ تو حضرت یہ بات فرما رہے ہیں، صحبت کی مثال۔
اکثر میں ایک بات عرض کرتا رہتا ہوں، لیکن اس وقت اکثر time کم ہوتا ہے میں سمجھا نہیں پاتا۔ شیخ کو چننے کی جو آٹھ نشانیاں اکثر لوگوں کو بتاتا ہوں۔ تو ان میں بتاتا ہوں کہ ایک نشانی جو یوں کہہ سکتے ہیں چوتھی نشانی ہے، چوتھی! کہ ان کی صحبت کا سلسلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے ساتھ ملا ہوا ہو۔ یعنی کہ درمیان میں کوئی انقطاع نہ ہو، کوئی break نہ ہو۔ یعنی جیسے حدیث شریف ہوتا ہے نا، فلاں نے فلاں سے، فلاں نے فلاں سے، فلاں نے فلاں سے، فلاں نے فلاں سے، اور آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک بات پہنچ جاتی ہے۔ درمیان میں اگر break آ گیا تو وہ حدیث شریف صحیح نہیں رہ سکتی۔ ٹھیک ہے نا؟ تو اسی طریقے سے صحبت بھی اگر break ہو گئی، تو پھر اس کی چیز وہ نہیں رہے گی۔ آپ کہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فیض نہیں ملا جو سینے کو سینے سے ملا کرتا ہے، جو صحبت کو صحبت سے ملا کرتا ہے۔ الفاظ مل جائیں گے، علم مل جائے گا۔
علم مل جائے گا۔ علم اور بات ہے۔ میں آپ کو بتاؤں جو حدیث شریف کی سند لینے والے لوگ ہیں، وہ علماء ہوتے ہیں یا جہلا ہوتے ہیں؟ علماء ہوتے ہیں نا؟ ہاں علماء ہوتے ہیں۔ اچھا، ان کو اگر کوئی اعلیٰ سند کا استاد مل جائے، شیخ الحدیث مل جائے، اس کے لیے سفر کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟ مشقت بھی اٹھاتے ہیں، سفر بھی کرتے ہیں، منتیں بھی کرتے ہیں۔ تاکہ ہمیں۔۔۔ کیوں؟ آخر کیا ان کو حدیثیں معلوم نہیں ہیں؟ پڑھی ہوئی ہیں حدیثیں! حدیثیں پڑھی ہوئی ہیں، وہ کتابوں میں موجود ہیں، کیوں وہ سفر کرتے ہیں؟ اگر یہ فضول کام ہوتا تو وہ سفر کیوں کرتے ہیں؟ سفر اس لیے کرتے ہیں کہ اس کی value ہے۔
جتنے آپ قریب جاتے ہیں، وہ روشنی بڑھتی جاتی ہے۔ میں خانہ کعبہ کے پاس جب ہوتا ہوں نا، الحمد للہ ایک چیز اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ میرے سامنے ہوتی ہے، الحمد للہ۔ میں کہتا ہوں دیکھو، اس وقت ہم اگر ساتویں row میں ہیں، آٹھویں row میں ہیں، جو بھی ہے۔ لیکن میرے جسم جتنا ہے چوڑا، اس کو خانہ کعبہ کے ساتھ اگر آپ ملا دیں، تو جو solid angle بنتا ہے اس کا۔ اگر میں پاکستان میں اپنے اس جسم کو دیکھوں تو میرا solid angle جتنا بنتا ہے، اس solid angle میں کتنے لوگ آ جائیں گے یہاں کے؟
تو وہ جو فیض ہے جو خانہ کعبہ کا ادھر قریب ہے، وہ یہاں کیسے حاصل ہوگا؟ ٹھیک ہے نا، مطلب دیکھیں نا، یعنی یہ خانہ کعبہ ہے نا، اب یہاں پر، اور ادھر تک۔ تو یہ بالکل اگر اس طرح جاتے ہیں، تو یہاں کتنے لوگ آ جائیں گے؟ تو اگر ہمارے تک پہنچتے ہیں، تو کافی زیادہ لوگ ہو جائیں گے۔ تو گویا کہ جو فیض وہاں ایک آدمی کو ملتا ہے، یہاں لاکھوں کو مل رہا ہوگا۔ تو ایک بٹا لاکھ ہوگا نا آپ کے لیے! تو یہاں تو وہ چیز آپ کو نہیں مل سکتی۔ اس لیے اس کے لیے سفر کرنا پڑتا ہے۔
ٹھیک ہے نا؟ تو یہ جو میں عرض کرتا ہوں کہ یہ جو بات ہے، کہ یہ جو صحبت والا جو فیض ہے، صحبت والا! یہ اسی نے تو صحابہ کو صحابہ بنایا ہے۔ یعنی صحابی کی علمیت، صحابی کی فقاہت، صحابی کی نسبی شان، یہ پیچھے رہ جاتی ہیں۔ صحابی کی "صحبت" سب سے آگے ہے۔ مثلاً شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ سید ہیں، نجیب الطرفین، اور وحشی رضی اللہ عنہ سید نہیں ہیں، بلکہ وہ صحابی ہیں جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میرے سامنے نہ آئیں، مجھے اپنا چچا یاد آتے ہیں۔" لیکن وحشی رضی اللہ عنہ کے مقام تک شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نہیں پہنچ سکتے۔ یہ بہت عجیب analysis ہے۔
تو یہ جو بات میں عرض کر رہا ہوں کہ صحبت، تو اب صحبت در صحبت، در صحبت، در صحبت، در صحبت، جتنا بھی جاؤ، تو غیر صحبت کے مقابلے میں وہ کیسے ہوں گے؟ ظاہر ہے اپنے وقت کی صحبت اور غیر صحبت کا مقابلہ ہے نا۔ تو بہت فرق ہوگا۔ تو یہی حضرت سمجھانا چاہتے ہیں کہ بعض صحبتیں بہت زیادہ کام کر جاتی ہیں۔
اللہ سبحانہٗ کی عنایت سے (یہاں) ہر روز کی صحبت نئی طرز پر ہے۔ مَنِ اسْتَوٰی یَوْمَاہُ فَھُوَ مَغْبُوْنٌ (جس کے دو دن برابر ہوں وہ نقصان میں ہے) اور سلام ہو آپ پر اور اُن سب پر جو ہدایت کے راستے پر چلیں اور حضرت محمد مصطفےٰ علیہ و علیٰ آلہ الصلوات و التسلیمات کی متابعت کو لازم پکڑیں۔
اتنے مکتوب ہیں۔ یعنی ایک بہت اہم message communicate کر دیا، اور وہ message یہ ہے کہ صحبت سے اپنے آپ کو محروم نہ کرے۔ صحبت سے اپنے آپ کو محروم نہ کرے۔ بہت بڑی بات ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرما دے۔ یہ واقعی سمجھ میں نہیں آسکتا آسانی کے ساتھ۔ اور سمجھ میں جب آتا ہے تو وقت بہت گزر چکا ہوتا ہے۔ بہت وقت گزر چکا ہوتا ہے، اس وقت میں بہت کچھ ہو چکا ہوتا ہے۔ اب جن کو ابتداء میں ایک چیز مل جائے، اور ان کو اللہ تعالیٰ وہ نصیب فرما دے ابتداء میں، اور بعد میں اگر اور لوگوں کو مل بھی جائے، لیکن یہ جو ابتداء میں ملا ہے، آخر کہاں تک گیا ہوگا؟ وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ أُولَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ مقربون تو مقربون ہی رہیں گے نا وہ تو۔۔۔ جو پہلے ہیں، جو پہلے ہیں، وہ تو پہلے ہوں گے۔