وضو کے فضائل، گناہوں کی معافی اور تبلیغِ دین میں علماء سے رجوع کی ضرورت

بَابٌ فِىْ بَيَانِ كَثْرَةِ طُرُقِ الْخَيْرِ، درس نمبر: 190، حدیث نمبر: 129، اشاعتِ اول: 29 جنوری، 2023 بمطابق 6 رجب، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • وضو کے ذریعے اعضاء کے صغیرہ گناہوں کی معافی پر حدیثِ مبارکہ کا بیان۔
  • کبیرہ گناہوں کی معافی کے لیے توبہ کی لازمی شرط (امام نوویؒ، شیخ الہندؒ اور ابن حجرؒ کے اقوال کی روشنی میں)۔
  • دینی باتوں کو آگے بیان کرنے سے پہلے مستند علماء سے تحقیق کرنے کی سخت تاکید۔
  • حضرت مولانا مصطفیٰ صاحب رحمة الله عليه کا واقعہ اور دین میں مبالغہ آرائی سے بچنے کا سبق۔
  • علمائے کرام سے مسلسل رابطہ رکھنے اور اپنی اصلاح (تصحیح) کرتے رہنے کی ضرورت۔

نمازی کے اعضاء سے وضو کرنے کے ساتھ ہی صغیرہ گناہ نکل جاتے ہیں

(129) ﴿الثَّالِثَ عَشَرَ: عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ، أَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ، أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ كَانَ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ، أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْهَا رِجْلَاهُ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ"﴾ (رواہ مسلم)

صَدَقَ اللّٰهُ صَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب مسلمان یا مومن انسان وضو کرتا ہے اپنا منہ دھوتا ہے تو اس کے منہ سے وہ تمام گناہ جو اس کی بری نظر سے سرزد ہوئے پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتے ہیں، اور وہ جب اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں سے وہ گناہ جو ہاتھ کے ساتھ پکڑنے سے سرزد ہوئے، پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے اور جب اپنے پاؤں دھوتا ہے تو تمام وہ گناہ جو اس کے پاؤں کے چلنے کے ساتھ ہوئے، پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ گناہوں سے بالکل صاف نکل جاتا ہے۔“

یہ اصل میں ما شاء اللہ وضو کی بہت بڑی تعریف ہے۔ البتہ علمائے کرام نے اور فقہائے کرام نے اس میں ایک بحث کی ہے کیونکہ ظاہر ہے وہی حضرات ہمیں سکھاتے ہیں کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ تو

تشریح: امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وضو وغیرہ سے صغائر گناہ معاف ہوتے ہیں نہ کہ کبائر کیونکہ اس کے لئے توبہ شرط ہے

اور یہی تحقیق شیخ الہند رحمة اللّٰه عليه کی بھی ہے۔ اور حضرت ابن حجر رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَيْهِ کی بھی ہے۔ اب اس میں بات یہ ہے کہ ہم لوگ بعض دفعہ اپنے دل کو تسلی دینے کے لیے کچھ ایسی باتیں بنا لیتے ہیں اپنی طرف سے جو کہ ذرا حقیقت سے دور ہوتی ہیں، اس کا بڑا نقصان ہوتا ہے۔

مجھے خوب یاد ہے حضرت مولانا مصطفیٰ صاحب رحمة اللّٰه عليه جو رائیونڈ میں مقیم تھے، اور ما شاء اللہ حضرت ہدایات بھی دیتے تھے اور ما شاء اللہ جو جماعت سے آتے تھے ان کے ساتھ ان کی کارگزاری بھی سنتے تھے۔

تو ایک دفعہ کارگزاری سن رہے تھے۔ تو اس میں انہوں نے فرمایا کہ: ”بزرگو اور دوستو! اگر تم کوئی نئی بات سنو نا کسی بیان میں، کیونکہ بیان میں تو کوئی کچھ بھی کہہ سکتا ہے، بعض دفعہ نئے لوگ آجاتے ہیں وہ اپنی طرف سے بات بھی کر لیتے ہیں۔ اگر کوئی نئی بات سن لو تو اس کو اس وقت تک آگے نہ بڑھاؤ جب تک کہ آپ اپنے علاقے کے علماء سے اس کی تحقیق نہ کرواؤ کہ وہ بات صحیح ہے یا غلط ہے۔ اگر تم لوگوں نے بغیر تحقیق اس کو آگے بڑھا دیا تو تم جھوٹ میں، جھوٹوں میں شامل ہو جاؤ گے۔“ حدیث شریف کے مطابق۔

پھر فرمایا مثال دینے کے لیے، جماعتیں جو آئی تھیں ان میں سے کسی کو اٹھایا، ”بھائی گشت کے آداب سناؤ۔“ وہ اٹھ کھڑا ہو گیا۔ اس نے پہلا لفظ جو کہا: ”گشت بہت بڑا عمل ہے، اس کے ذریعے سارے گناہ معاف ہوتے ہیں۔“ حضرت نے روکا، ”کس سے سنا ہے؟ کس سے سنا ہے؟ بتاؤ۔“ اب چپ۔ ظاہر ہے وہ کیا کہے، کس سے سنا ہے؟ کہتے ہیں: خدا کے بندو! گشت سے سارے گناہ نہیں معاف ہوتے، بہت سارے گناہ معاف ہوتے ہیں، صغیرہ۔ اور کبیرہ گناہوں کی معافی کے لیے توبہ شرط ہے۔ توبہ شرط ہے۔

پھر فرمایا: پھر فرمایا: ”اگر کوئی قتل کر کے آجائے، آپ کے ساتھ گشت کر لے اور کہے کہ میں معاف ہو گیا، تو پھر کیا کرو گے؟“

یہ بات بہت ضروری ہے۔ واقعتاً اگر اس کو ہم نہ سمجھیں تو معاملہ کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے۔ کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے۔ اس وجہ سے ہم لوگوں کو خیال رکھنا چاہیے، علمائے کرام کے ساتھ رابطہ رکھنا چاہیے، اپنی تصحیح کرتے رہنا چاہیے۔ جو بھی ہم کہہ رہے ہیں، کم از کم اس پر ہمیں اطمینان ہو کہ ایک عالم نے جو اس چیز کو جانتا ہے، اس کو مستند کر دیا ہے، مطلب اس کی سند بتا دی یا اس کے بارے میں تحقیق بتا دی۔ اور اگر کسی چیز میں شک ہو کہ یہ پتہ نہیں ٹھیک ہے یا نہیں ٹھیک ہے، اس کو نہیں کہنا چاہیے۔ بہت ساری باتیں اور بھی ہیں، مطلب اس کو نہیں کہنا چاہیے۔ تو اچھی طرح سیکھ کر دوسروں کے سامنے بات کرنی چاہیے، ورنہ انسان ذمہ دار ہو جاتا ہے۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو اس قسم کی غلطیوں سے محفوظ فرما دے۔