پیغامِ محبت: حُبِ دنیا سے نجات اور عشقِ الٰہی کا روحانی سفر

کتاب: پیغام محبت، درس 10، اشاعت اول: 17 ستمبر 2013 بمطابق 10 ذو القعدہ 1434 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·      دنیا کی محبت کا خاتمہ اور طریقِ جذب

·      ٹوٹے ہوئے دل کی اہمیت اور مقامِ عبدیت

·      بے خودی کے ذریعے تلاشِ خودی اور فنا و بقا کا تصور

·      عشقِ حقیقی کے تقاضے اور اطاعتِ الٰہی

·      ہر عمل میں رضائے الٰہی اور اخلاص کی اہمیت

·      نمود و نمائش سے گریز اور مجرم سے محرم بننے کا سفر

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۝ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ ۝ أَمَّا بَعْدُ: فأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ۝ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ۝

آج منگل کا دن ہے اور منگل کے دن ہمارے ہاں "پیغامِ محبت" سے کچھ پڑھا جاتا ہے اور اس کی تشریح کی جاتی ہے۔ پیغامِ محبت میں دل کو جو appeal کرنے والی چیزیں ہیں وہ ہیں۔ یعنی انسان کا جو جذبۂ محبت ہے، اس کو اپنی حقیقت کی طرف موڑ دیا جائے۔ دوسرے جو محبت کے جذبے ہیں جن کی ممانعت ہے، ان سے اس جذبے کی طرف لے آئے جو مطلوب ہے۔ تو لہٰذا یہ بہت بڑا کام ہے اور ساتھ یہ جیسے کہ حدیث شریف ہے کہ: "حُبُّ الدُّنْيَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ" (دنیا کی محبت ساری خطاؤں کی جڑ ہے) تو اسی طریقے سے اگر دنیا کی محبت سے انسان بچ جائے تو تمام خطاؤں سے انسان نکل سکتا ہے، اور اللہ کی محبت نصیب ہو جائے تو ساری سعادتیں نصیب ہو سکتی ہیں۔ اسی دنیا کی محبت کو نکالنے کا اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو دل میں لانے کا جو طریق ہے اس کو "طریقِ جذب" کہتے ہیں۔ تو یہ جو کتاب ہے، یہ طریقِ جذب کی ترجمان ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کا فائدہ نصیب فرمائے۔

گزشہ سے پیوستہ

اب ایک غزل ہے جس کا نام ہے

پوٹلی ہی جل گئی

ایک چوٹ دل پہ لگ گئی جو ضربِ دل بنی
تیری خوشی ہے جس میں وہی میری بھی خوشی

"اَنَا عِنْدَ مُنْکَسِرَةِ الْقُلُوْبِ"، اللہ پاک فرماتے ہیں حدیث قدسی میں، میں ٹوٹے ہوئے دلوں کے ساتھ ہوں۔ تو جس وجہ سے بھی کسی کا دل ٹوٹ جائے تو اللہ کے نزدیک وہ بہت قیمتی بن جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے یہ مشائخ اس موقع سے بڑا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ شیطان بھی فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ اس وقت اس کے دل میں مایوسی ڈالتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے بدظنی ڈالتا ہے، تاکہ اس کو اللہ تعالیٰ سے بے بہرہ کر لے۔ لیکن مشائخ تک جب کوئی پہنچ جائے تو وہ اسی کیفیت سے بہت فائدہ اٹھا لیتے ہیں اور آن کی آن میں ان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ واصل کر دیتے ہیں۔

ایک چوٹ دل پہ لگ گئی جو ضربِ دل بنی
تیری خوشی ہے جس میں وہی میری بھی خوشی

میں حالِ دل بیان کن الفاظ میں کروں
تیری نظر پڑی تو زندگی بدل گئی

ایک چوٹ دل پہ لگ گئی جو ضربِ دل بنی
تیری خوشی ہے جس میں وہی میری بھی خوشی

اصل میں انسان کا دل جب ٹوٹ جاتا ہے، اس وقت دنیا سے اس کا دل اچاٹ ہو جاتا ہے۔ اس وقت میں اگر اس کے لیے اللہ کا در کھل جائے، تو بس پھر اس کی ساری تکلیفیں ختم ہو جاتی ہیں۔ پھر وہ اپنی ہر خوشی کو اللہ کی خوشی کے ساتھ باندھ لیتا ہے۔ لہٰذا پھر جس چیز پہ اللہ خوش ہوتا ہے، اس پہ وہ خوش ہوتا ہے۔ اور ظاہر ہے یہی ایک مقامِ عبدیت ہے اور جو انسان کو حاصل ہو جائے تو سب کچھ حاصل ہو گیا۔ آخری مقام ہے تصوف کا۔ تو لہٰذا بعض دفعہ انسان کا دل جب ٹوٹ جاتا ہے تو بہت قیمتی ہوتا ہے۔ اور اس کو ضائع نہیں کرنا ہوتا۔ اور شیطان اس کو ضائع کروانا چاہتا ہے۔ لہٰذا اگر کوئی اچھے ہاتھوں میں ہوتا ہے، یعنی اچھے لوگوں کی تربیت میں ہوتا ہے، تو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اس کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتے ہیں۔

ایک پیار کی نظر نے مجھے کاٹ ہی دیا
جس کے لیے گزر گیا ہر راہگزر سے ہی

اللہ پاک کی محبت کی نظر جب اس حالت میں پڑتی ہے، تو وہ تو پھر انسان کو ہر چیز سے کاٹ دیتی ہے۔ پھر اس کے بعد انسان سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ جو بھی راستہ اس کو ملتا ہے اللہ کی طرف، وہ اس سے گزر جاتا ہے۔

ایک پیار کی نظر نے مجھے کاٹ ہی دیا
جس کے لیے گزر گیا ہر راہگزر سے ہی

کہہ دوں وفورِ عشق سے عاشق تیرا میں ہوں
پر ہوش سے دیکھوں نظر آؤں کہیں نہیں

مطلب یہ ہے کہ انسان عشق کے زور سے کہہ دیتا ہے کہ میں تیرا عاشق ہوں۔ لیکن کہاں وہ اور کہاں ہم۔

کہاں یہ خاک کہاں وہ عالمِ پاک

کیسے مطلب انسان وہ کر سکتا ہے جرأت؟ لیکن جوش میں آ کر کہتا ہے، میں تیرا عاشق ہوں۔ ہوش میں آتا ہے تو حیران ہوتا ہے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔

کہہ دوں وفورِ عشق سے عاشق تیرا میں ہوں
پر ہوش سے دیکھوں نظر آؤں کہیں نہیں

اس نور کی بارش نے مجھے کر دیا بے کل
ایک چوٹ جب لگی ہے تو دل پہ چلی چھری

اب فکر ہے کوئی، نہ کوئی غم مجھے شبیرؔ
دنیا کی خواہشات کی پوٹلی ہی جل گئی

اصل میں نظر جب ہو جاتی ہے اللہ تعالیٰ کی محبت کی تجلی جب ہو جاتی ہے، وہ ساری چیزوں کو جلا دیتی ہے۔ تو اگر کسی کی خواہشات کی پوٹلی اس سے جل جائے تو اس کو پھر اور کیا چاہیے؟

اب فکر ہے کوئی نہ کوئی غم مجھے شبیرؔ
دنیا کی خواہشات کی پوٹلی ہی جل گئی

اب بہت مشہور غزل ہے۔ وہ حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کے دو شعروں پر بنی ہے۔

جُہْد کُن در بے خودی خُود را بیاب
خَتْم شُد وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَاب

یہ کوئی صاحب یہاں پر آئے تھے، اس نے اس کی تشریح پوچھی تھی۔ اس وقت جو اللہ نے چاہا وہ تشریح ہو گئی، لیکن بعد میں اس طرف ذہن چلا گیا کہ کیوں نہ اس کی تشریح کو منظوم کر دیا جائے۔ تو یہ وہ منظوم تشریح ہے

جُہْد کُن در بے خودی خُود را بیاب

مثنوی میں کیا ہیں فرماتے جناب
جُہْد کُن در بے خودی خُود را بیاب

مثنوی میں مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کیا فرماتے ہیں؟ جُہْد کُن در بے خودی خُود را بیاب۔ اس کا لفظی ترجمہ یہ ہے، جُہْد کُن، "کوشش کر" در بے خودی، "بے خودی کو حاصل کرنے میں"، خُود را بیاب، "اس سے اپنے آپ کو دریافت کر لو"۔ خُود را بیاب، اپنے آپ کو دریافت کر لو۔ مطلب بے خودی حاصل کر کے اپنے آپ کو دریافت کر لو۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ خود کو مٹا
کر فنا اپنی جو ہے یہ آب و تاب

یہ جو ہماری خواہشیں ہیں پتہ نہیں ہم کیا ہو جائیں گے، کیا ہو جائیں گے، کیا ہو جائیں گے، ان کو فنا کرو۔ یعنی یوں سمجھ لیں کہ اپنے نفس کی خواہشات کو ختم کرو۔ یعنی فنائیت حاصل کر لو یہ جو نفس کی خواہشات ہیں ان کو مٹا دو۔

نفس کی آلائشوں کو دور کر
چھائی تیرے دل پہ جو ہیں بے حساب

یہ نفس کی آلائشیں تیرے دل پر جمی ہوئی ہیں ان کو دور کر لو۔

آنکھیں تیری سچ بھی پھر دیکھ لیں
دنیا ایسی ہو کہ جیسے خیال و خواب

پھر تیری آنکھیں سچ دیکھیں گی۔ جھوٹ اس سے ہٹ جائے گا۔ اس وقت ہم جھوٹ کے شکار ہیں۔ ہمیں وہ چیزیں جو فانی ہیں وہ باقی نظر آ رہی ہیں۔ ہم سمجھ رہے ہیں کہ ہمیشہ کے لیے یہاں پر رہنا ہے۔ جھوٹ ہے، بہت بڑا جھوٹ ہے۔ اسے کون سچ کہہ سکتا ہے؟ لیکن اس جھوٹ میں کتنے لوگ عملاً گرفتار ہیں؟ ٹھیک ہے زبان سے بے شک کہہ دیں وہ بھی جھوٹ کہتے ہوں گے کہ ہم لوگ اس طرح نہیں ہیں۔ کیونکہ ان کا عمل یہ دکھا رہا ہے کہ یہ تو اس کو ہمیشہ کے لیے سمجھ رہے ہیں۔ اور وہ جو ہمیشہ کی چیز ہے، اس کی کوئی پرواہ ہی نہیں۔ تو اس وجہ سے:

آنکھیں تیری سچ بھی پھر دیکھ لیں
دنیا ایسی ہو کہ جیسے خیال و خواب

کان تیرے حق سے روگرداں نہ ہوں
اور نہ سنوائے غلط نفسِ خراب

جو تیرے کان ہیں، وہ پھر حق سے روگرداں نہ ہوں۔ اور پھر جو تیرے نفس کانوں کے ذریعے سے شامل ہوتا ہے نا، وہ جو غلط چیزیں سنواتا ہے، وہ تجھے نہ سنوا سکے۔

اور نہ سنوائے غلط نفسِ خراب

خود سے تو گم ہو صرف وہ یاد ہو

تو خود کو بھول جائے اور صرف اس کو یاد رکھے۔

پھر وہاں سے آئے بھی کوئی جواب

مَنْ كَانَ لِلّٰهِ كَانَ اللّٰهُ لَهُ تو نے اپنے آپ کو اللہ کے لیے فنا کر دیا تو اللہ پاک جواب دے گا پھر تو اللہ کا بن جائے گا اور اللہ تیرا بن جائے گا۔

پھر وہاں سے آئے بھی کوئی جواب

تو سمجھ جائے کہ تو کچھ بھی نہیں
اور سب کچھ اس کا ہی ہے لاجواب

اپنے خود کو عشق میں معدوم کر
تو بقا کا پھر کھلے گا تجھ پہ باب

اپنے خود کو عشق میں معدوم کر لو، پھر جب تو فنا ہو جائے گا، یعنی معدوم ہو جائے گا، تو پھر تیرے اوپر بقا کا باب کھل جائے گا۔ پھر تو جان لے گا کہ تیرے پاس اللہ تعالیٰ نے کیا کیا رکھا ہوا ہے۔ تو وہ نہیں ہے جو تُو پہلے تھا۔

جس میں تو اس کا ہی ہے اور وہ تیرا
ہر وقت سنتا ہو تو اس کا خطاب

جس میں تو پھر وہ نہیں رہتا جو پہلے تھا، بلکہ تو اس کا ہے اور وہ تیرا بن جاتا ہے۔ اور پھر اس وقت تو ہر وقت اس کا خطاب سن رہا ہوتا ہے۔

تو کرے وہ جو اسے منظور ہو

ظاہر ہے رابطہ ہو گا نا

تو کرے وہ جو اسے منظور ہو
وہ کرے گا جو کہ چاہے آں جناب

ہاں، تو وہی کرے گا جو اللہ چاہے گا۔ اور اللہ وہ کرے گا جو تو چاہے گا۔ لیکن تیرا دل چونکہ بن چکا ہوگا، لہٰذا وہ غلط نہیں چاہے گا۔ وہ وہی چاہے گا جو اللہ چاہے گا۔ لہٰذا یہ ایک circle ہے، اس میں انسان پھر چلتا رہتا ہے۔

خود کو پہچانو شبیرؔ کہ کیا ہو تم
خَتْم شُد وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَاب

اس وقت تم پھر اپنے آپ کو پہچان لو گے۔ یعنی اپنے آپ کو دریافت کر لو گے۔ تو یہی چیز خودی ہے علامہ اقبال کی۔ لیکن اس کا ذریعہ بے خودی ہے۔ بے خودی سے گزرے بغیر خودی کی بات کرنا جھوٹ ہے، ناممکن ہے۔ بے خودی کے بغیر بے خودی کی بات کرنا۔ آج کل لوگ بے خودی کی باتیں نہیں کرتے ہیں، اور خودی پہ پہنچنا چاہتے ہیں، تو یہ ممکن نہیں ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے۔ یہ ممکن تب ہوگا جب انسان بے خودی کے مقام سے گزرے گا۔ اپنے آپ کو فنا کرے گا تو باقی بنے گا۔ اب فنائیت کے بغیر باقی بننا، یہ ایسا لکھا نہیں ہے۔ ایسا ہوا نہیں ہے۔ ایسا ہوتا نہیں ہے۔ لہٰذا طریقہ یہی اختیار کرنا پڑے گا۔

ہم کو دعوائے محبت ہے

ہم کو دعوائے محبت ہے مگر کیا ہے یہ
نام ویسے ہی بس زبان پر چلا ہے یہ

پوری ہوں خواہشیں اپنی تو محبت ہو ہمیں
اور ایسا نہ ہو کہتے ہیں جانے کیا ہے یہ

نا امیدی کے ہوں الفاظ زباں پر جاری
دل میں شکوہ بھی ہو ہر ایک سمجھتا ہے یہ

عشق کا نور تو شعلوں کو بھی بجھا ہی دے
بیٹا قرباں ہو عجب یہ کہ باپ چاہے یہ

ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام

بیٹا قرباں ہو عجب یہ کہ باپ چاہے یہ

کیسے معشوق کی چاہت کو نہ چاہے عاشق
ہے اگر ایسا، محض عشق کا دعویٰ ہے یہ

مطلب یہ ہے کہ معشوق کی جو چاہت ہے، وہ عاشق کیسے نہیں چاہے گا؟ اور اگر ایسا ہے تو پھر صرف عشق کا دعویٰ ہے۔ وہ پھر دودھ والا مجنوں ہے، خون والا مجنوں نہیں ہے۔

ہم تو بس اس کی اطاعت بڑا مقصد جانیں
بڑوں سے ہم نے شبیرؔ ایسا ہی سیکھا ہے یہ

خدا کے لیے ہو

یہ ہنسنا یہ رونا خدا کے لئے ہو
یہ جاگنا یہ سونا خدا کے لئے ہو

خدا کی مدد اور تائید ہووے
اگر کام ہونا خدا کے لئے ہو

یہ ہنسنا یہ رونا خدا کے لئے ہو
یہ جاگنا یہ سونا خدا کے لئے ہو

یہ پانا ہے بالکل یہ پانا ہے بالکل
اگر خود کو کھونا خدا کے لئے ہو

یہ ہنسنا یہ رونا خدا کے لئے ہو
یہ جاگنا یہ سونا خدا کے لئے ہو

دھلے حبِ دنیا سے دل میرا ہو صاف
مگر اس کا دھونا خدا کے لئے ہو

یہ ہنسنا یہ رونا خدا کے لئے ہو
یہ جاگنا یہ سونا خدا کے لئے ہو

جو بوئے یہاں پر وہاں کاٹے شبیرؔ
مگر اس کا بونا خدا کے لئے ہو

یہ ہنسنا یہ رونا خدا کے لئے ہو
یہ جاگنا یہ سونا خدا کے لئے ہو

ہماری ہر چیز خدا کے لیے بن جائے۔ تو پھر اللہ پاک بھی ہمارے بن جائیں گے۔

یہ اس کا عنوان ہے:

تو میرے دل میں رہے

قلب میرا ہو سلیم ایسا بنانا مجھ کو
جن کے تو ساتھ ہے ایسوں سے ملانا مجھ کو

قلب میرا ہو سلیم ایسا بنانا مجھ کو

تو مرے دل میں رہے میں تری نظروں میں رہوں
اپنی نظروں سے الہٰی نہ گرانا مجھ کو

قلب میرا ہو سلیم ایسا بنانا مجھ کو
جن کے تو ساتھ ہے ایسوں سے ملانا مجھ کو

یعنی جن کو یہ مقام حاصل ہو چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے۔ تو ان کے ساتھ ملنے میں ہی خیر ہے۔ ان کے ساتھ ملنا اللہ تعالیٰ سے ملنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

وسعتِ قلبی کا شیشہ مجھے عطا کرنا
تنگ نظری سے ہمیشہ تو بچانا مجھ کو

قلب میرا ہو سلیم ایسا بنانا مجھ کو

دیکھنے والی بات! یعنی انسان، واقعتاً کھلا بھی دیکھتا ہے اور تنگ نظری بھی کرتا ہے۔ Broad-minded جس کو ہم انگریزی میں کہتے ہیں۔ تو جو Broad-minded ہوتا ہے ان کو دوسروں کی بہت ساری چیزیں نظر آتی ہیں، خوبیاں بھی۔ لہٰذا وہ ان کو مسئلہ کوئی نہیں ہوتا۔ لیکن جو تنگ نظر ہوتا ہے، وہ صرف ہمارے پشتو میں کہتے ہیں " هر يو دَ خپلې برخې آسمان ويني " کہتے ہیں (ہر ایک صرف اپنے حصے کا آسمان دیکھتا ہے)۔ اس کو صرف اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں۔ تو ہر چیز میں اپنے مفادات کے Reference سے دیکھتے ہیں۔ وہ اصل چیز کو نہیں دیکھتے۔ تو اس وجہ سے کہتے ہیں:

وسعتِ قلبی کا شیشہ مجھے عطا کرنا
تنگ نظری سے ہمیشہ تو بچانا مجھ کو

نفس میرا ہو شریعت پہ مطمئن یا رب
اور تو اپنا بنا دینا دیوانہ مجھ کو

یعنی شریعت پر میں مطمئن ہو جاؤں، میرا جو نفس ہے شریعت پر مطمئن ہو جائے، اور دل میرا تیرا دیوانہ بن جائے۔ یعنی دل کی بھی اصلاح ہو جائے، نفس کی بھی اصلاح ہو جائے۔

آمدِ شعر ہے اور کیف ہے، ہے فضل ترا
اپنے آدابِ محبت بھی سکھانا مجھ کو

ترا بندہ ہوں میں خاکی جو ہے شبیرؔ موسوم
رہِ شبیر حقیقت میں دکھانا مجھ کو

"رہِ شبیر" سے مراد، امام حسین رضی اللہ عنہ کا راستہ ہے۔ یعنی امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی جان کو قربان کیا، لیکن حق کی بات نہیں چھوڑی۔ یہ اصل میں یہ ایک راستہ ہے۔ یعنی حق کے لیے انتہائی قربانی دینا۔ یہ چیز انسان کے اوپر کھل جائے۔

ترا بندہ ہوں میں خاکی جو ہے شبیرؔ موسوم
رہِ شبیر حقیقت میں دکھانا مجھ کو

یہ اصل میں ایک Touch ہے کہ انسان کچھ سے کچھ ہو سکتا ہے۔ تو ایک ہے مجرم سے تو محرم بنے۔ ایک نقطہ کی کمی بیشی ہے۔ مجرم کے نقطے کو ہٹا دیں تو کیا بن جائے گا؟ محرم بن جائے گا۔ تو ایسے ہی ہوتا ہے۔

مجرم سے تو محرم بنے

سر حق کی معرفت میں ذرا تو جھکا کے دیکھ
جو تُو ہے ترے دل میں اسے تُو مٹا کے دیکھ

سر حق کی معرفت میں ذرا تو جھکا کے دیکھ

اپنے سر کو اللہ کی معرفت میں ذرا جھکا کے دیکھ لینا، اور تیرے دل میں جو "تُو" ہے (یعنی تیرے جو مفادات کا چکر ہے، جس میں صرف "تو" نظر آتا ہے، کوئی اور نظر نہیں آتا)، اس کو مٹا دو تاکہ اور چیزیں نظر آنی شروع ہو جائیں۔

جو تُو ہے ترے دل میں اسے تُو مٹا کے دیکھ

کتنے فضول کام ہمارے نظر آئیں
تھوڑا سا شہرتوں سے تصور ہٹا کے دیکھ

بہت ساری چیزیں ہمارے شہرتوں کے تصور سے بنتی ہیں۔ مثال کے طور پر میں مشہور بننا چاہتا ہوں، اس کے لیے میں الٹی سیدھی چیزیں کرنا چاہوں گا۔ ایک دفعہ میں جرمنی میں تھا، تو وہاں پر فروری کے مہینے میں fasten... fasten کہلاتا ہے۔ fasten وہ جرمن زبان میں روزے رکھنے کو کہتے ہیں۔ بہرحال یہ ہے کہ وہ لوگ جب سردیاں گزر جائیں تو اپنے خیال میں اب سردی کو الوداع کہتے ہیں۔ فروری کے مہینے۔ حالانکہ اچھی خاصی سردی ہوتی ہے۔ وہ جو fasten کا ہو رہا تھا سیشن ہو رہا تھا، اس وقت میں دیکھ رہا تھا ٹمپریچر سامنے منفی ون ڈگری سینٹی گریڈ (1°C-) تھا۔ اور میں اس کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا تو چونکہ اسپیڈ کم تھی، تو میری ٹانگوں میں خون جم گیا۔ حالانکہ گرم کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ ٹانگوں میں خون جم گیا، اور وہ سردی کو رخصت کر رہے تھے اپنے خیال میں۔ اس میں پھر یہ ہوا کہ میں نے دیکھا کہ بڑے بوڑھے، بوڑھے، مرد عورت اور سارے وہ بچے بنے ہوئے تھے۔ کوئی ادھر سے ناک سرخ کی ہے، کسی نے پتا نہیں یہ سبز کیا ہے، کسی نے بال منڈوائے ہوئے ہیں، کسی نے چوٹی نکالی ہوئی ہے۔ عجیب و غریب شکل ان لوگوں نے بنائی ہوتی تھی اور لوگ ان کو دیکھ رہے ہوتے اور وہ گویا کہ یوں سمجھ لیجئے کہ اس بات کے سوالی ہوتے تھے کہ ہمیں کوئی دیکھ لے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یعنی وہ اس بات کے سوالی ہوتے تھے کہ ہمیں کوئی دیکھ لے۔ بس اور کچھ نہیں۔ یا اس کا مجھے کوئی اور بتا دیں مقصد۔ کوئی اور مقصد نہیں، صرف ہمیں کوئی دیکھ لے۔ تو یہ تو وہ خیر پاگل لوگ ہیں ہی، لیکن ہمارے ہاں بھی ان پاگلوں کی کمی نہیں ہے۔ ہم لوگ بھی پتہ نہیں مختلف مواقع پہ جو حرکتیں کرتے ہیں، تو اس میں مقصود کیا ہوتا ہے؟ ہمیں لوگ دیکھیں۔ ابھی میں اعلان سن رہا تھا ایک فوتگی کا۔ جب عصر کی نماز سے آ رہے تھے۔ ایک فوتگی کا اعلان ہو رہا تھا۔ اس کو اعلان کرنے کا طریقہ بھی نہیں آتا تھا۔ لیکن شوق تھا کہ میں اعلان کر دوں۔ بس وہ اس شوق میں وہ اعلان کر رہا تھا۔ بہت سارے لوگ صرف لاؤڈاسپیکر پر اپنی آواز کو لانے کے لیے الٹی سیدھی حرکت کرتے ہیں۔ اور اتنے سے بہت سارے جو سکرین پر آنے کے لیے بہت ساری الٹی سیدھی حرکتیں کرتے ہیں۔ یہ ایکٹر لوگ جو ہوتے ہیں۔ یہ جو کامیاب ایکٹر ہوتے ہیں یہ تو بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔ آپ حیران ہوں گے کہ ان کامیاب جو چند ایکٹرز ہیں، ان کے پیچھے لاکھوں ناکامیاب ایکٹرز ہیں۔ جو کہ یہاں تک پہنچتے پہنچتے پہنچتے ختم ہو گئے۔ ناکامیاب ایکٹرز ہیں۔ وہ ناکامیاب ایکٹرز کتنی حرکتیں کر رہے ہوتے ہیں؟ کتنے انہوں نے جتن کیے ہوتے ہیں؟ یہ جو فیشن ہوتا ہے یہ کیا چیز ہوتا ہے؟ فیشن؟ فیشن کا میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ فیشن اس بات کا اعلان ہے کہ ہم میں کوئی عقل نہیں، ہم بیوقوفوں کے پیچھے چلنے والے ہیں۔ کیا یہ بات نہیں ہوتی؟ فیشن میں کوئی سوچتا نہیں ہے۔ فیشن کو گائیڈ کرنے والے کوئی اور ہوتے ہیں۔ آپ لوگوں کو تو شاید یاد نہیں ہوگا، ہمیں یاد ہے۔ ایک ہوتا تھا ٹیڈی فیشن (Teddy fashion)۔ ٹیڈی فیشن میں چست پاجامے، چست لباس، نوکدار جوتے۔ اور بس کیا بتاؤں آپ کو؟ جب وہ فیشن ختم ہو گیا، تو یقین جانیے جو اس کو پہن رہا ہوتا تھا وہ چوڑے نظر آتے تھے۔ اور وہ کوئی جرأت نہیں کر سکتا اس کو پہنے۔ لیکن اس سے پہلے سارے شرفاء پہنتے تھے۔ جو اس وقت فیشن کے مارے تھے۔ تو فیشن اس بات کا اعلان ہے کہ ہم میں کوئی عقل نہیں ہے۔ جو ہمیں اُلو بنانا چاہے بیوقوف بنانا چاہے، بنا سکتا ہے۔ اس کے لیے ہمیں کوئی وہ نہیں ہے۔ تو یہ ساری باتیں کیا ہیں؟ یہ اسی قسم کی باتیں ہیں۔ یقین کیجئے بہت ساری فضول چیزیں... مثلاً یہ بوُفے (Buffet) کا کھانا۔ یہ بھی دیکھیں کتنا فضول! یعنی کمال کی بات ہے کہ جس ہوٹل میں بوفے کا کھانا ہوتا ہے، وہ ہوٹل والے تین گنا چارجز لیتے ہیں۔ اور پھر ان کو خوب الو بناتے ہیں۔ اور بس لوگ بن جاتے ہیں کیونکہ فیشن ہے۔ advertisement، یہ بھی اسی قسم کی چیز ہے کہ اس میں advertisement کے ذریعے سے لوگوں کے ذہنوں میں وہ غلط چیزیں ڈالی جاتی ہیں، جو اگر ویسے بغیر advertisement کے وہ سوچے تو کچھ بھی اس کی طرف نہ دیکھے۔ لیکن advertisement کے ساتھ، بس پھر جی جان سے فدا۔ مثلاً یہ پیپسی کولا جو ہے، اس کے اندر فوڈ ویلیو کیا ہے؟ اس کے اندر مطلب ایک ٹیسٹ ویلیو کیا ہے؟ لیکن دیکھیں، تو دو روپے کی چیز آپ کو پندرہ بیس روپے میں ٹکا دیتے ہیں، اور آپ بڑے شوق سے لیتے ہیں، خوشی سے۔ تو یہ چیزیں کیا ہیں؟ یہ اصل میں یہ شعر اس طرح ہے:

کتنے فضول کام ہمارے نظر آئیں
تھوڑا سا شہرتوں سے تصور ہٹا کے دیکھ

مسئلے جو تیرے حل نہ ہوئے مال سے اگر
کچھ اس سے تو نادار کو بھی تو کھلا کے دیکھ

کب تک تو بے مہار لذتوں میں رہے گا
ان کو تو شریعت کے دائرے میں لا کے دیکھ

اخلاقِ حمیدہ سے مسلح تو خود کو کر
اخلاقِ ذمیمہ کے رذائل دبا کے دیکھ

یہ کام ہے ضروری مگر آسان نہیں ہے
ہاں شیخ جو کامل ہو اس کے پاس آکے دیکھ

دنیا کی چیزیں آئیں نظر ساری تجھ کو ہیچ
اللہ کا تصور ذرا دل میں سجا کے دیکھ

ہر چیز کے ڈر نے تجھے بزدل بنا دیا
ناراضئ خدا سے تو دل کو ڈرا کے دیکھ

کتنوں کو منانے میں تو ناکام ہوا ہے
توبہ سے ذاتِ بخت کو ذرا تو منا کے دیکھ

یعنی، تو سب کتنے لوگوں کو منانے میں ناکام ہوا ہے۔ چونکہ لوگ عاجز لوگ ہیں وہ تو نہیں مطلب معاف کر سکتے، لیکن تو توبہ کر تو اللہ تعالیٰ کتنی کتنے جلدی تجھے معاف کر لیتا ہے۔

دل عشق سے ہو لبریز عقل اس کی ہو خادم
اور قیِد شریعت میں بھی دونوں کو لاکے دیکھ

مجرم سے تو محرم بنے اک آن میں شبیرؔ
دنیا کو چھوڑ اس کو تو دل میں سما کے دیکھ

دنیا کو چھوڑ دے اور اس کو دل میں لے آ، پھر دیکھو تو مجرم سے محرم بنے گا۔

جاری ہے ان شاء اللہ

پیغامِ محبت: حُبِ دنیا سے نجات اور عشقِ الٰہی کا روحانی سفر - عارفانہ کلام مجلس - اشاعت دوم