ایمانی کیفیات کا اتار چڑھاؤ اور دین و دنیا کا حسین توازن
باب فی الاقتصاد فی الطاعۃ، درس نمبر: 217، حدیث نمبر: 151 اشاعتِ اول: 26 فروری، 2023 بمطابق 5 شعبان، 1444 ہجری
<<<<<<< HEAD
- انسانی احوال بدلتے رہتے ہیں اس لیے انسان کی اصل توجہ کیفیات کے بجائے ہمیشہ اپنے عمل پر ہونی چاہیے۔
- حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں جنت اور دوزخ کا ذکر سن کر ایسا محسوس ہوتا ہے گویا انسان تمام حال آنکھوں سے دیکھ رہا ہو۔
- بیوی بچوں اور مال میں مشغول ہونے سے اس کیفیت میں آنے والی کمی کو حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے نفاق سمجھا۔
- اگر انسان ہمیشہ اللہ کے ذکر اور فکرِ آخرت پر قائم رہے تو فرشتے اس سے بستروں اور راستوں میں مصافحہ کریں۔
- انسان پر کبھی ذکر و فکر کی کیفیت غالب ہوتی ہے اور کبھی دنیاوی مصروفیات، اس لیے دونوں کے لیے الگ الگ وقت ہے۔ =======
- صحابہ کرام کا آخرت پر پختہ یقین انہیں اپنا تمام تر وقت صرف عبادات میں گزارنے پر آمادہ کرتا تھا۔
- عبادات میں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے تاکہ دنیا اور آخرت دونوں کے تقاضے احسن طریقے سے پورے ہو سکیں۔
- دنیا کو آخرت کے لیے استعمال کرتے ہوئے اتنی عبادت کرنی چاہیے جس سے جسمانی طاقت بالکل ختم نہ ہو۔
- اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جسے انسان موت تک ہمیشگی کے ساتھ انجام دے سکے۔
- عورتوں پر شرم و حیا لازم ہے کہ وہ اپنے خاوند کے نجی معاملات کو دوسروں کے سامنے صراحتاً بیان نہ کریں۔
ad2fae6 (add)
<<<<<<< HEAD اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ أَمَّا بَعْدُ
فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اپنے آپ کو منافق کہنا
(151) ﴿وَ عَنْ اَبِيْ رِبْعِيٍّ حَنْظَلَةَ بْنِ الرَّبِيْعِ الْاُسَيِّدِيِّ الْكَاتِبِ اَحَدِ كُتَّابِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ: لَقِيَنِيْ اَبُوْبَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ فَقَالَ: كَيْفَ اَنْتَ يَا حَنْظَلَةُ؟ قُلْتُ: نَافَقَ حَنْظَلَةُ! قَالَ سُبْحَانَ اللّٰهِ مَا تَقُوْلُ؟ قُلْتُ: نَكُوْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يُذَكِّرُنَا بِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ كَاَنَّا رَاْىَ عَيْنٍ فَاِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ عَافَسْنَا الْاَزْوَاجَ وَالْاَوْلَادَ وَ الضَّيْعَاتِ نَسِيْنَا كَثِيْرًا، قَالَ اَبُوْبَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهِ عَنْهُ: فَوَ اللّٰهِ اِنَّا لَنَلْقٰى مِثْلَ هٰذَا، فَانْطَلَقْتُ اَنَا وَ اَبُوْبَكْرٍ حَتّٰى دَخَلْنَا عَلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَقُلْتُ نَافَقَ حَنْظَلَةُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: وَ مَا ذَاكَ؟ قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ نَكُوْنُ عِنْدَكَ تُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَ الْجَنَّةِ كَاَنَّا رَاْىَ الْعَيْنِ فَاِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ عَافَسْنَا الْاَزْوَاجَ وَالْاَوْلَادَ وَ الضَّيْعَاتِ نَسِيْنَا كَثِيْرًا. فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ لَوْ تَدُوْمُوْنَ عَلٰى مَا تَكُوْنُوْنَ عِنْدِيْ وَ فِى الذِّكْرِ لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلٰى فُرُشِكُمْ وَ فِىْ طُرُقِكُمْ وَ لٰكِنْ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَ سَاعَةً“ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ﴾ (رَوَاهُ مُسْلِمٌ)
ترجمہ: ”حضرت حنظلہ بن ربیع اسیدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاتب سے روایت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے کاتبوں میں سے تھے۔ انہوں نے کہا مجھے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ملے اور پوچھا کہ اے حنظلہ تیرا کیا حال ہے؟ میں نے کہا حنظلہ تو منافق ہو گیا۔ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا سبحان اللہ! تعجب ہے تو کیسی بات کہہ رہا ہے؟ میں نے کہا کہ جب ہم حضور پاک ﷺ کے پاس رہتے ہیں، آپ ﷺ ہمیں جنت اور دوزخ کا ذکر سناتے ہیں تو گویا ہم آنکھوں سے تمام حال کو دیکھ رہے ہوتے ہیں لیکن جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس سے نکلتے ہیں، بیویوں اور اولاد اور جاگیروں میں مشغول ہوتے ہیں تو ہم بہت سی باتیں بھول جاتے ہیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم! ہم بھی تو یہی کیفیت پاتے ہیں۔ پس میں اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ حنظلہ منافق ہو گیا، آپ ﷺ فرماتے ہیں کس لئے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں آپ ہمیں جنت اور جہنم کا ذکر سناتے ہیں گویا کہ ہم تمام حال آنکھوں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں لیکن جب آپ کی مجلس سے باہر نکلتے ہیں بیوی بچوں اور اپنے مال میں مشغول ہوتے ہیں تو ہم بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم ہمیشہ اسی حالت پر رہو جو حالت تمہاری میرے پاس تھی اور اللہ کے ذکر میں مصروف رہو تو فرشتے تم سے تمہارے بستروں پر اور تمہارے راستوں میں مصافحہ کریں لیکن حنظلہ کوئی وقت کیسا ہوتا ہے کوئی وقت کیسا، اس بات کو آپ ﷺ نے تین بار دہرایا۔“
تخريج حديث: صحيح مسلم كتاب التوبة (باب فضل دوام الذكر) و الترمذى و ابن ماجه ايضاً.
اللہ جل شانہ ہم سب کو ایسی فکر آخرت کی نصیب فرما دے۔ اور۔ جیسے کہ فرمایا گیا ہے کہ۔ اس طرح تو کبھی کبھی ہوتا ہے۔ لہذا ہمیں اصل چیز جو عمل ہے، اس کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور یہ احوال ہیں، احوال بدلتے رہتے ہیں۔ اللہ پاک ہم سب سے راضی ہو جائے۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعلَمِيْنَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔
اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَوَةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: أَنْكَحَنِي أَبِي امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ وَ كَانَ يَتَعَاهَدُ كَنَّتَهُ أَيِ امْرَأَةَ وَلَدِهِ فَيَسْأَلُهَا عَنْ بَعْلِهَا فَتَقُولُ لَهُ: نِعْمَ الرَّجُلُ مِنْ رَجُلٍ، لَمْ يَطَأُ لَنَا فِرَاشًا وَ لَمْ يُفَتِّشْ لَنَا كَنَفًا مُنْذُ أَتَيْنَاهُ. فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَيْهِ ذَکَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: الْقَنِي بِهِ فَلَقِيْتُهُ بَعْدُ فَقَالَ: كَيْفَ تَصُومُ؟ قُلْتُ: كُلَّ يَوْمٍ قَالَ: كَيْفَ تَخْتِمُ؟ قُلْتُ: كُلَّ لَيْلَةٍ وَ ذَکَرَ نَحْوَ مَا سَبَقَ وَ كَانَ يَقْرَأُ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ السُّبْعَ الَّذِي يَقْرَؤُهُ بِعَرَضِهِ مِنَ النَّهَارِ لِيَكُونَ أَخَفَّ عَلَيْهِ بِاللَّيْلِ وَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَتَقَوَّى أَفْطَرَ أَيَّامًا وَ أَحْصَى وَ صَامَ مِثْلَهُنَّ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتْرُكَ شَيْئًا فَارَقَ عَلَيْهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
كُلُّ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ صَحِيحَةٌ مُعْظَمُهَا فِي الصَّحِيحَيْنِ وَ قَلِيلٌ مِنْهَا فِي أَحَدِهِمَا.
ترجمہ: اور ایک روایت میں ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ میرے باپ نے ایک شریف عورت سے میرا نکاح کروا دیا، میرے باپ اپنی بہو کا خیال رکھتے اور اس سے اس کے خاوند کا حال پوچھتے، وہ عورت اس کو جواب دیتی کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت اچھا آدمی ہے لیکن اس نے ہمارے بچھونے پر کبھی پاؤں نہیں رکھا اور جب سے ہم اس کے پاس آئے ہیں ہماری ضرورت کا پتہ نہیں کیا، جب اس حالت پر کچھ عرصہ گزر گیا تو اس نے نبی کریم ﷺ کی خدمت عالیہ میں اس کا ذکر کیا، آپ نے فرمایا اس کی میرے ساتھ ملاقات کرواؤ۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص بیان کرتے ہیں کہ میں اس کے بعد آپ ﷺ کو ملا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو روزہ کس طرح رکھتا ہے؟ میں نے کہا روزانہ، آپ ﷺ نے فرمایا تو قرآن پاک کیسے ختم کرتا ہے؟ میں نے عرض کیا ہر رات اور تمام حالات کا تذکرہ کیا جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ اور وہ اپنے اہل خانہ کے کسی فرد کو وہ منزل سناتا تھا جس کو اس نے رات کو پڑھنا ہوتا تھا تا کہ رات کو پڑھنا آسان ہو جائے اور جب قوت حاصل کرنے کا ارادہ کرتا تو کئی دن روزہ نہ رکھتا لیکن افطار کے دنوں کو گنتا رہتا اور اسی قدر روزے رکھتا اس بات کو پسند نہ کرتا کہ وہ ایسی چیز کو ترک کرے جس پر وہ نبی کریم ﷺ سے جدا ہوا۔ یہ تمام روایات صحیح ہیں ان میں سے اکثر روایات بخاری و مسلم میں ہیں اور کچھ روایات صرف بخاری شریف یا صرف مسلم میں ہیں۔
تشریح: اس حدیث شریف میں ایک طرف صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے شوق عبادت اور شوق آخرت کا پتہ بتایا ہے تو دوسری طرف آپ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو میانہ روی کی تعلیمات کو بھی بتانا ہے۔ میانہ روی اس طرح سے کی جائے کہ دنیا اور آخرت دونوں کے تقاضے پورے ہو جائیں اور اس حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انسان اتنی عبادت کرے جس سے اس کی جسمانی طاقت و قوت بالکل مردہ نہ ہو جائے۔ نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آدمی اس طرح عبادت کرے کہ موت تک اس کی عبادت میں کمی نہ آنے پائے۔ طاقت کے زمانے میں اس طرح میانہ روی اختیار کی جائے کہ بڑھاپے میں بھی کرنا آسان ہو جیسے کہ دوسری روایت میں ارشاد نبوی ﷺ ہے: أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَ إِنْ قَلَّ: اللہ کو سب سے زیادہ پسندیدہ اعمال میں سے وہ عمل ہے جو ہمیشگی کے ساتھ ہو اگر چہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔
عورتوں میں شرم وحیا مردوں سے زیادہ ہونی چاہئے
نیز اس حدیث پاک سے ایک سبق یہ بھی ملتا ہے کہ عورتوں میں شرم و حیاء اس قدر ہونی چاہئے کہ دوسروں کے سامنے ایسی باتیں کھل کر نہ کریں، جیسے کہ اس صحابیہؓ نے شوہر کی بے رغبتی کو چھپا کر رکھا اور جب سسر نے معلوم کیا تو نہایت کنائے کے انداز میں اظہار کیا۔
یہ مطلب ہے کہ کھل کر بھی بات کر سکتی تھی نا۔ لیکن نہیں کیا۔ تو یہ شرم و حیا کی وجہ سے۔
تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ صحابہ کرام کی جو زندگی تھی۔ ان کی یہ زندگی ایسی کیوں تھی؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کو آخرت پر اتنا یقین تھا کہ دنیا ان کے سامنے کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی تھی۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں گویا کہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم تھوڑا سا وقت بھی دنیا کی طرف لگائیں تو اس سے ہماری آخرت میں کچھ کمی ہو جائے گی۔ مطلب یہ ان کا خیال ہوتا تھا۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر اس پر تھی کہ دنیا کو استعمال کرنا ہے آخرت کے لیے۔ تو تب ہو سکتا ہے کہ دنیا میں طاقت جس چیز سے ملتی ہے، تو اتنی طاقت حاصل کی جائے تاکہ عبادت بھی صحیح طریقے سے کی جائے۔ اور مطلب یہ ہے کہ دوام کے ساتھ۔
مطلب بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے جیسے مثال کے طور پر یہ fatigue کہلاتا ہے نا fatigue۔ مثلاً میں انگلی اس طرح اس طرح اس طرح کروں نا۔ تو میں اگر چھ گھنٹے اس طرح اس طرح کروں نا تو یہ ہمیشہ کے لیے بالکل بس بیٹھ جائے گی۔ اس کے بعد پھر چھ مہینے میں نہیں کر سکوں گا اس کو ہلا سکوں گا۔ اس کے muscles damage ہو جائیں گے۔ لیکن اگر ایک منٹ کر کے ایک منٹ چھوڑ دیا کروں، ایک منٹ کر کے ایک منٹ چھوڑ دیا کروں۔ تو چھ سال تک بھی کچھ نہیں ہو گا اس کو۔ تو اب دیکھیں بظاہر تو یہ کم کرنے والی بات ہے۔ ایک منٹ چھوڑ کے ایک منٹ۔ لیکن حقیقت میں زیادہ کرنے والی بات ہے کہ حقیقت میں یہ بڑھ جائے گا۔
تو اس طریقے سے مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر تو اس پر تھی۔ تو ہمیں بھی ظاہر ہے اس پر خیال رکھنا چاہیے کہ میانہ روی اختیار کرنی چاہیے۔ اسی میں ہماری آخرت کا بھی فائدہ ہے اور دنیا میں بھی آسانی ہے۔ یہ والی بات ہے۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّتِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔
ad2fae6 (add)