دنیا کی حقیقت، نفس کا فریب اور عقل کا تقاضا
درس نمبر 252، سورۃ الانعام، آیات: 28 تا 30، اشاعتِ اول: 7 اگست، 2022، بمطابق 8 محرم الحرام، 1444 ہجری
- آخرت کے منکرین کا دنیا میں واپس جا کر نیک اعمال کرنے کا دعویٰ جھوٹا ہے، وہ لوٹائے جانے پر بھی کفر کریں گے۔
- انسان فطرتاً فوری ملنے والی دنیا کو ترجیح دیتا ہے، سوائے ان کے جنہیں اللہ نے عقل اور ہدایت عطا کی ہو۔
- مصیبت میں اللہ سے کیے گئے وعدے نجات ملتے ہی توڑ دینا انسان کی وہ غفلت ہے جس سے بچنا لازم ہے۔
- اعمال کا اجر عقل کے موافق ملتا ہے، لہٰذا دین کو محض سننے کے بجائے حقیقت سمجھ کر دل میں اتارنا چاہیے۔
- سچی فقاہت حق کو دل و دماغ سے تسلیم کر کے نفس کو اس پر عمل کرنے پر مجبور کرنے کا نام ہے۔
- نفس کی ہر بات ماننا اسے الٰہ بنانے کے مترادف ہے، لہٰذا حقیقی کامیابی کے لیے اس کی مخالفت ضروری ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعـلَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ (28) وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ (29) وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَاؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ (30)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔
ترجمہ: حالانکہ (ان کی یہ آرزو بھی سچی نہ ہوگی) بلکہ در اصل وہ چیز (یعنی آخرت) ان کے سامنے کھل کر آچکی ہوگی جسے وہ پہلے چھپایا کرتے تھے، (اس لئے مجبوراً یہ دعویٰ کریں گے) ورنہ اگر ان کو واقعی واپس بھیجا جائے تو یہ دوبارہ وہی کچھ کریں گے جس سے انہیں روکا گیا ہے، اور یقین جانو یہ پکے جھوٹے ہیں ﴿28﴾ یہ تو یوں کہتے ہیں کہ جو کچھ ہے بس یہی دُنیوی زندگی ہے، اور ہم مر کر دوبارہ زندہ نہیں کئے جائیں گے ﴿29﴾ اور اگر تم وہ وقت دیکھو جب یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے! وہ کہے گا: "کیا یہ (دوسری زندگی) حق نہیں ہے؟" وہ کہیں گے: "بیشک ہمارے رب کی قسم!" اللہ کہے گا: "تو پھر چکھو عذاب کا مزہ، کیونکہ تم کفر کیا کرتے تھے۔" ﴿30﴾
یہاں پر ایک بات بہت اہم بیان کی گئی ہے اور وہ انسان کی جو عمومی فطرت ہے اس کے مطابق ہے۔ اور وہ اللہ پاک نے ظاہر فرمایا ہے ایک آیت میں كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ ۙ وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَ ہرگز نہیں بلکہ تم وہ جو فوری چیز ہے وہ لیتے ہو اور جو بعد میں آنے والی چیز ہے اس کو تم چھوڑتے ہو۔ تو بعد میں آنے والی چیز جو ہے نا آخرت ہے اور جو فوری چیز ہے وہ دنیا ہے۔ لہذا دنیا یہ لوگ لیتے ہیں الا کہ کسی کو اللہ پاک نے توفیق دی ہو عقل کے ذریعے سے ہدایت کے ذریعے سے اور اس کو یہ یقین ہو گیا ہو کہ یہ دنیا عارضی ہے۔ اور اس کے بعد جو آنے والی دنیا ہے مستقل ہے تو ان کی بات اور ہوتی ہے۔ تو اب یہاں پر یہ بات جو فرمائی گئی ہے کہ یہ جو پہلے مطلب انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں کیوں نہ دوبارہ کاش ہمیں واپس دنیا میں بھیج دیا جائے تاکہ اس بار ہم اپنے پروردگار کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ہمارا شمار مومنوں میں ہو جائے۔ تو اللہ جل شانہ جوابا ارشاد فرماتے ہیں کہ ان کی آرزو یہ بھی سچی نہیں ہے۔ ان کو اگر دوبارہ واپس بھیج دیا جائے تو پھر وہی کریں گے جو کہ ابھی کرتے رہے تھے۔
اب ذرا تھوڑا سا غور کر لیں یہاں اس زندگی میں اگر ہم دیکھیں جس وقت انسان کے اوپر کچھ حالات آ جاتے ہیں مثلا بیماری آ جاتی ہے۔ یا قید ہو جاتے ہیں۔ یا کسی تکلیف میں آ جاتے ہیں۔ تو اس وقت یہ بالکل اخلاص سے کہتے ہیں کہ بس جو ہے نا بس اس وقت ہمیں ان سے چھٹکارا مل جائے بس پھر ہم سچے مومن اور پھر سچے اعمال کریں گے پھر اس میں کوتاہی نہیں کریں گے۔ وہ اچھی طرح وعدے وعید کر لیتے ہیں پھر اس کے بعد جس وقت وہ ٹھیک ہو جاتے ہیں پھر وہی کے وہی۔ کیا اس طرح نہیں ہوتا؟ اس طرح ہی ہوتا ہے۔ تو یہ جو چیز ہے مطلب یہ چل رہی ہوتی ہے۔ اور اس کا بھی باقاعدہ اللہ پاک نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ جب یہ گر جاتے ہیں طوفان میں تو پھر یہ کہتے ہیں کہ بس اس دفعہ اگر ہمیں نکال دیا جائے تو بس فرمایا لیکن جس وقت یہ ساحل پہ پہنچ جاتے ہیں بہت کم ان میں ہوتے ہیں جو اپنی بات پہ قائم رہتے ہیں۔ بہت کم ان میں ہوتے ہیں جو اپنی بات پہ قائم رہتے ہیں۔ تو گویا کہ یوں ہمارے سامنے ہماری جو بات ہے وہ کھڑی کی گئی ہے کہ تم تو ایسے ہو۔ لہذا اس بات سے ڈرنا چاہیے اور ہمیں اس بات کو عقلا لینا چاہیے۔ اور دل میں اتارنا چاہیے۔ اور نفس پر اس کو نافذ کرنا چاہیے۔ یہ جو فرمایا گیا ہے نا کہ بے شک تم کتنی ہی عبادت کر لو، لیکن اجر ملے گا عقل کے موافق، تو اس کا مطلب ہے کہ انسان جب عقل کے مطابق صحیح عمل کرتا ہے تو پھر وہ بات ہوتی ہے۔ پھر وہ بات ہوتی ہے۔
اب مثال کے طور پر ایک بچہ ہے۔ وہ اپنے ماں باپ کو دیکھ کر جو ہے نا وہ نماز پڑھتا ہے۔ تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ اچھا بچہ ہے۔ لیکن اس وقت تو نہ اس کو اجر مل رہا ہے نہ اس کو یعنی اس کو عذاب دیا جاتا ہے مطلب اس کے کسی چیز پر۔ لیکن دیکھو جس وقت وہ بڑا ہو جائے عقلمند ہو جائے تو پھر اس کی ایک ایک چیز کا اس کو ثواب بھی ملتا ہے اگر وہ نیکی کرتا ہے اور اگر گناہ کرتا ہے اس پر اس کو عذاب بھی دیا جاتا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ عقل کے مطابق مطلب یہ چیزیں انسان کی ہوتی ہیں جتنا انسان عقل کے مطابق۔ تو سب سے پہلے ہمیں ان باتوں پہ غور کرنا چاہیے۔ کہتے ہیں ہوش کے ناخن لو۔ مطلب لوگ کہتے ہیں نا سب سے پہلے ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے کہ یہ ہے کیا؟ یہ صرف باتیں ہیں یا ایک حقیقت ہے؟ مثال کے طور پر کوئی درس میں بیٹھ کر سن لے اور سر دھن لے اور کہے واہ جی بالکل ایسی بات ہے۔ تو اگر بعد میں اس پر عمل نہیں کرتا تو اس کا مطلب ہے اس نے اس کو صرف باتیں سمجھا ہوا ہے۔ یہ صرف باتیں ہیں۔ لیکن جس نے اس کو عقل سے تسلیم کیا یعنی مطلب پیچھے جو سمجھ والی بات ہے اس کو تسلیم کیا۔ اور اس بات کو دل میں اتار لیا۔ صحیح بات ہے مطلب یہ مان لیا کہ ہاں جس کو ہم کہتے ہیں دل و دماغ۔ دل و دماغ سے مان لیا تسلیم کر لیا اسی کو فقاہت اسی کو سمجھ کہتے ہیں۔ تو پھر اس کے بعد نفس کو مجبور کر کے اس پر عمل کر دیا۔ نفس کی بات نہیں مانی نفس تو مسلسل بات کرتا ہے۔ نفس تو مسلسل بول رہا ہوتا ہے یہ کرو وہ کرو یہ کرو وہ کرو یہ کرو وہ کرو۔ نفس تو مسلسل اس طرح باتیں کر رہا ہے لیکن ہم نے اللہ کے حکم کو دیکھنا ہوتا ہے اور ہم نے دیکھنا ہوتا ہے کہ اللہ پاک نے کیا کہا ہے۔ جب اللہ پاک نے یہ بتایا نفس کی نہیں مطلب تیری بات کیوں مانوں؟
وہ کوئی اس طرح مجذوب تھا نا تو وہ راستے میں بیٹھا ہوا تھا اور مسلسل کہے جا رہا تھا کہ نہ تو میرا خدا نہ میں تیرا بندہ پھر میں تیری بات کیوں مانوں؟ تو لوگ ان کو مار رہے تھے وہیں گالیاں دے رہے تھے کہ دیکھو کس طرح ملعون ہے ایسا ملحد ہے ایسے ویسے۔ تو ایک بزرگ تشریف لے جا رہے تھے تو انہوں نے جب سنا انہوں نے دور سے کہا شاہ صاحب کس کو کہہ رہے ہو؟ اس نے آنکھیں کھولیں کہ عقلمند مل گیا عقلمند سے ملاقات ہو گئی۔ فرمایا کہ میں اپنے نفس سے مخاطب ہوں۔ فرمایا شاہ صاحب بات تو صحیح کر رہے ہو لیکن جگہ غلط منتخب کی ہے۔ آپ جا کے گھر میں یہ بات کر لیں کسی کونے میں بیٹھ کر اپنے آپ سے باتیں کر لیں۔ وہ ٹھیک ہے لیکن لوگوں کے سامنے کریں لوگ اس کو کیا سمجھیں گے؟ لوگ تو کہیں گے خدا سے کہہ رہا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ جو چیز ہے کہ نہ تو میرا خدا نہ میں تیرا بندہ یہ نفس سے ہی کہے۔ میں تیری بات کیوں مانوں؟ کیونکہ نفس کا ایک نام اللہ پاک نے قرآن میں بھی کہا کیا تم لوگوں نے نہیں دیکھا جس نے اپنے نفس کی خواہشات کو الہ بنایا ہوا ہے؟ تو مطلب یہ ہے کہ گویا کہ انسان جب نفس کی ہر بات مانتا ہے تو اس کا مطلب ہے اس کو خدا کی طرح مان رہا ہے- نعوذ بالله من ذلك- تو ہم لوگوں کو اس سے بچنا ہو گا اگر ہم کامیابی چاہتے ہیں اور چونکہ ہم کامیابی چاہتے ہیں لہذا بچنا ضروری ہے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العلمين رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعلَمِيْنَ۔
حصہ دوم: تشریحی نوٹس
1. عقل، دل اور نفس — ہر ایک کا اپنا کام
الحمدللہ یہ باتیں قرآن پاک میں پہلے سے بتائی گئی ہیں اور پھر علماء نے انہیں لوگوں تک پہنچایا ہے۔ مثلاً یہ کہ عقل بہت ضروری ہے، اور یہ بھی کہ دل اور نفس بھی ہیں، اور ہر ایک کا اپنا اپنا کام ہے۔
2. انسان کے دو zones
-
پہلا zone: دل و دماغ۔ دل بھی information catch کرتا ہے، کیونکہ فہم دل میں بھی ہوتا ہے اور عقل میں بھی؛ چنانچہ یہ دونوں مل کر فہم یعنی فقاہت کا ایک zone بناتے ہیں۔
-
دوسرا zone: قلب و جگر یعنی نفس اور قلب۔ قلب کا تعلق دونوں طرف ہوتا ہے — دل و دماغ والے معاملات سے بھی اور قلب و جگر میں بھی شامل ہے۔
-
دل درمیان میں ہے، اس کا کردار برزخ کا ہے — وہ ادھر سے لیتا بھی ہے اور اِدھر دیتا بھی ہے۔ قلب کا ایک حصہ دماغ کے ساتھ کام کرتا ہے اور دوسرا حصہ نفس کے ساتھ۔
3. فکر کا کام اور عمل کا کام
جب فکر والا کام ہو تو یہ دل و دماغ کا کام ہے، اور عمل والا کام قلب و جگر سے متعلق ہوتا ہے، کیونکہ قلب کے اندر will power اور قوتِ ارادی ہوتی ہے۔ اگر اس قوتِ ارادی کا رخ صحیح ہو تو نفس اس کے اوپر کام کرتا ہے۔ قلب والا حصہ ہمت کا ہے اور نفس والا حصہ action کا ہے۔ چنانچہ جو فیصلہ دل و دماغ نے کیا ہو، اس کے نفاذ کے لیے قلب و جگر چاہیے، ہمت چاہیے، تاکہ وہ کام انجام پا سکے۔ ان دونوں چیزوں کو activate کرنا تربیت ہے۔ دل و دماغ کی اصلاح کی جاتی ہے تاکہ وہ صحیح سوچے، اور قلب و جگر کی اصلاح کی جاتی ہے تاکہ عمل صحیح کرے۔
4. ذکر و فکر اور مجاہدہ
ذکر دل کی اصلاح کرتا ہے، فکر عقل کی اصلاح کرتی ہے، اور ذکر و فکر مل کر دل و دماغ کی اصلاح کر دیتے ہیں۔ جب دل و دماغ کی اصلاح ہو جاتی ہے اور مجاہدے کے ذریعے نفس کی اصلاح ہو جاتی ہے تو کنٹرول سسٹم بھی صحیح ہو جاتا ہے اور ورکنگ سسٹم بھی — دونوں باتیں ٹھیک ہو جاتی ہیں اور کام شروع ہو جاتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی پیچھے رہ جائے تو ظاہر ہے نقصان ہو گا۔
5. عقل اور نفس کی کشمکش — کولڈ ڈرنک کی مثال
کولڈ ڈرنک کے نقصانات ایک عقلمند آدمی کو معلوم ہوتے ہیں۔ عقل کہتی ہے: مت پیو، نقصان دہ ہے۔ لیکن نفس کہتا ہے: میں تو پیوں گا۔
6. آیات کی روشنی میں — اور ہمارا اپنا حال
جب کافروں کو دوزخ پر کھڑا کیا جائے گا تو کہیں گے: "اے کاش! ہمیں واپس (دنیا میں) بھیج دیا جائے تاکہ اس بار ہم اپنے پروردگار کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ہمارا شمار مؤمنوں میں ہو جائے!" لیکن اللہ پاک حکیم ہیں؛ فرمایا کہ در اصل وہ چیز (یعنی آخرت) ان کے سامنے کھل کر آچکی ہو گی جسے وہ پہلے چھپایا کرتے تھے، اس لیے مجبوراً یہ دعویٰ کریں گے؛ ورنہ واقعی واپس بھیجے جائیں تو دوبارہ وہی کچھ کریں گے جس سے انہیں روکا گیا ہے، اور یہ پکے جھوٹے ہیں۔
کفار تو یہ آخرت میں عذاب دیکھ کر کہیں گے، لیکن ہمارا بھی یہی حال ہے کہ اسی زندگی میں دیکھ لیں: جب انسان پر کچھ حالات آ جاتے ہیں — بیماری، قید، یا کوئی تکلیف — تو اُس وقت بالکل اخلاص سے کہتا ہے کہ بس اس سے چھٹکارا مل جائے، پھر ہم سچے مومن بنیں گے، سچے اعمال کریں گے، کوتاہی نہیں کریں گے۔ خوب وعدے کر لیتے ہیں، پھر جب ٹھیک ہو جاتے ہیں تو وہی کے وہی۔ کیا اس طرح نہیں ہوتا؟ اسی طرح ہی ہوتا ہے۔
کافر کے پاس بھی عقل ہے، لیکن اس پر نفس سوار ہے؛ اسی لیے اگر وہ دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تو نفس کی وجہ سے پھر وہی کچھ کرے گا۔ تھوڑا خود سوچو کہ اللہ پاک نے کیا فرمایا ہے — میں نہیں کہتا، تم خود یہ سارا پڑھ کر دیکھ لو۔ واقعتاً انسان کے ساتھ ایسا ہی ہے، کیونکہ انسان کی فطرت ہے کہ فوری چیز یعنی عاجلہ (دنیا) کو ترجیح دیتا ہے اور بعد میں آنے والی چیز یعنی آخرت کو چھوڑ دیتا ہے۔
7. کفار اور مسلمانوں کا تقابل — دنیا میں عقل کا استعمال
کفار آخرت کے منکر ہیں اور مسلمان اسے مانتے ہیں، لیکن دنیا کا استعمال دونوں کرتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ کفار دنیا میں اپنی عقل کا بھرپور استعمال کرتے ہیں، جبکہ شیطان مسلمانوں کو یہ باور کراتا ہے کہ دنیا میں اتنی محنت کی ضرورت نہیں۔ اسی وجہ سے مسلمان دنیا کے لیے اتنی محنت اور اپنی صلاحیتوں کا استعمال نہیں کرتے، اور اسی وجہ سے دنیا میں کفار سے پیچھے ہیں۔ حالانکہ مسلمان کو دنیا میں بھی اللہ کی دی ہوئی نعمتِ عقل کا پورا استعمال کرنا چاہیے۔
مثال: اسرائیل چھوٹا سا ملک ہے، لیکن اپنے وسائل کا بالکل صحیح استعمال کرتا ہے — اپنی زمین کے ایک ایک انچ اور پانی کے ایک ایک قطرے کا۔ اس وقت بھی جدید ٹیکنالوجی اور کم پانی کے استعمال کے لحاظ سے اسرائیل کا آبپاشی نظام دنیا کا سب سے بہترین نظام ہے۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں پانی کا کتنا زیادہ ضیاع اور اسراف کیا جاتا ہے۔ جیسے لوٹے سے وضو کرنے میں پانی کتنا کم استعمال ہوتا ہے، تو کیوں نہیں کرتے۔ اللہ کرے کہ ہمیں سمجھ آ جائے۔
8. شیطان کا طریقۂ کار
شیطان پہلے ایمان پر وار کرتا ہے کہ ایمان نہ رہے۔ اگر اس میں کامیاب نہ ہو تو فرائض میں سستی کرواتا ہے؛ وہ نہ ہو تو واجبات؛ نہیں تو سنن؛ اور اگر اس پر بھی بس نہ چلے تو مستحبات کی ناقدری دل میں ڈال دیتا ہے — حالانکہ مستحب کا مطلب ہے: اللہ کا پسندیدہ۔
آجکل اکثر علماء کہتے ہیں کہ ہم فرائض و واجبات تو کرتے ہیں لیکن مستحبات و نوافل نہیں کرتے — شیطان نے یہ پٹی پڑھا رکھی ہے۔ حالانکہ مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھو، مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھو، اور بڑے اکابر علماء کو دیکھو — کیا وہ علماء نہیں تھے؟ وہ سب کیسے مستحبات کی رعایت رکھا کرتے تھے! جبکہ اب لوگ پرواہ ہی نہیں کرتے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين