اسلام میں اعتدال کی اہمیت: عبادت، حقوقِ زوجیت اور شرم و حیا
باب فی الاقتصاد فی الطاعۃ، درس نمبر: 216، حدیث نمبر: 150 اشاعتِ اول: 25 فروری، 2023 بمطابق 4 شعبان، 1444 ہجری
- صحابہ کرام کا آخرت پر پختہ یقین انہیں اپنا تمام تر وقت صرف عبادات میں گزارنے پر آمادہ کرتا تھا۔
- عبادات میں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے تاکہ دنیا اور آخرت دونوں کے تقاضے احسن طریقے سے پورے ہو سکیں۔
- دنیا کو آخرت کے لیے استعمال کرتے ہوئے اتنی عبادت کرنی چاہیے جس سے جسمانی طاقت بالکل ختم نہ ہو۔
- اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جسے انسان موت تک ہمیشگی کے ساتھ انجام دے سکے۔
- عورتوں پر شرم و حیا لازم ہے کہ وہ اپنے خاوند کے نجی معاملات کو دوسروں کے سامنے صراحتاً بیان نہ کریں۔
اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَوَةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: أَنْكَحَنِي أَبِي امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ وَ كَانَ يَتَعَاهَدُ كَنَّتَهُ أَيِ امْرَأَةَ وَلَدِهِ فَيَسْأَلُهَا عَنْ بَعْلِهَا فَتَقُولُ لَهُ: نِعْمَ الرَّجُلُ مِنْ رَجُلٍ، لَمْ يَطَأُ لَنَا فِرَاشًا وَ لَمْ يُفَتِّشْ لَنَا كَنَفًا مُنْذُ أَتَيْنَاهُ. فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَيْهِ ذَکَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: الْقَنِي بِهِ فَلَقِيْتُهُ بَعْدُ فَقَالَ: كَيْفَ تَصُومُ؟ قُلْتُ: كُلَّ يَوْمٍ قَالَ: كَيْفَ تَخْتِمُ؟ قُلْتُ: كُلَّ لَيْلَةٍ وَ ذَکَرَ نَحْوَ مَا سَبَقَ وَ كَانَ يَقْرَأُ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ السُّبْعَ الَّذِي يَقْرَؤُهُ بِعَرَضِهِ مِنَ النَّهَارِ لِيَكُونَ أَخَفَّ عَلَيْهِ بِاللَّيْلِ وَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَتَقَوَّى أَفْطَرَ أَيَّامًا وَ أَحْصَى وَ صَامَ مِثْلَهُنَّ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتْرُكَ شَيْئًا فَارَقَ عَلَيْهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
كُلُّ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ صَحِيحَةٌ مُعْظَمُهَا فِي الصَّحِيحَيْنِ وَ قَلِيلٌ مِنْهَا فِي أَحَدِهِمَا.
ترجمہ: اور ایک روایت میں ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ میرے باپ نے ایک شریف عورت سے میرا نکاح کروا دیا، میرے باپ اپنی بہو کا خیال رکھتے اور اس سے اس کے خاوند کا حال پوچھتے، وہ عورت اس کو جواب دیتی کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت اچھا آدمی ہے لیکن اس نے ہمارے بچھونے پر کبھی پاؤں نہیں رکھا اور جب سے ہم اس کے پاس آئے ہیں ہماری ضرورت کا پتہ نہیں کیا، جب اس حالت پر کچھ عرصہ گزر گیا تو اس نے نبی کریم ﷺ کی خدمت عالیہ میں اس کا ذکر کیا، آپ نے فرمایا اس کی میرے ساتھ ملاقات کرواؤ۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص بیان کرتے ہیں کہ میں اس کے بعد آپ ﷺ کو ملا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو روزہ کس طرح رکھتا ہے؟ میں نے کہا روزانہ، آپ ﷺ نے فرمایا تو قرآن پاک کیسے ختم کرتا ہے؟ میں نے عرض کیا ہر رات اور تمام حالات کا تذکرہ کیا جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ اور وہ اپنے اہل خانہ کے کسی فرد کو وہ منزل سناتا تھا جس کو اس نے رات کو پڑھنا ہوتا تھا تا کہ رات کو پڑھنا آسان ہو جائے اور جب قوت حاصل کرنے کا ارادہ کرتا تو کئی دن روزہ نہ رکھتا لیکن افطار کے دنوں کو گنتا رہتا اور اسی قدر روزے رکھتا اس بات کو پسند نہ کرتا کہ وہ ایسی چیز کو ترک کرے جس پر وہ نبی کریم ﷺ سے جدا ہوا۔ یہ تمام روایات صحیح ہیں ان میں سے اکثر روایات بخاری و مسلم میں ہیں اور کچھ روایات صرف بخاری شریف یا صرف مسلم میں ہیں۔
تشریح: اس حدیث شریف میں ایک طرف صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے شوق عبادت اور شوق آخرت کا پتہ بتایا ہے تو دوسری طرف آپ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو میانہ روی کی تعلیمات کو بھی بتانا ہے۔ میانہ روی اس طرح سے کی جائے کہ دنیا اور آخرت دونوں کے تقاضے پورے ہو جائیں اور اس حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انسان اتنی عبادت کرے جس سے اس کی جسمانی طاقت و قوت بالکل مردہ نہ ہو جائے۔ نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آدمی اس طرح عبادت کرے کہ موت تک اس کی عبادت میں کمی نہ آنے پائے۔ طاقت کے زمانے میں اس طرح میانہ روی اختیار کی جائے کہ بڑھاپے میں بھی کرنا آسان ہو جیسے کہ دوسری روایت میں ارشاد نبوی ﷺ ہے: أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَ إِنْ قَلَّ: اللہ کو سب سے زیادہ پسندیدہ اعمال میں سے وہ عمل ہے جو ہمیشگی کے ساتھ ہو اگر چہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔
عورتوں میں شرم وحیا مردوں سے زیادہ ہونی چاہئے
نیز اس حدیث پاک سے ایک سبق یہ بھی ملتا ہے کہ عورتوں میں شرم و حیاء اس قدر ہونی چاہئے کہ دوسروں کے سامنے ایسی باتیں کھل کر نہ کریں، جیسے کہ اس صحابیہؓ نے شوہر کی بے رغبتی کو چھپا کر رکھا اور جب سسر نے معلوم کیا تو نہایت کنائے کے انداز میں اظہار کیا۔
یہ مطلب ہے کہ کھل کر بھی بات کر سکتی تھی نا۔ لیکن نہیں کیا۔ تو یہ شرم و حیا کی وجہ سے۔
تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ صحابہ کرام کی جو زندگی تھی۔ ان کی یہ زندگی ایسی کیوں تھی؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کو آخرت پر اتنا یقین تھا کہ دنیا ان کے سامنے کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی تھی۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں گویا کہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم تھوڑا سا وقت بھی دنیا کی طرف لگائیں تو اس سے ہماری آخرت میں کچھ کمی ہو جائے گی۔ مطلب یہ ان کا خیال ہوتا تھا۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر اس پر تھی کہ دنیا کو استعمال کرنا ہے آخرت کے لیے۔ تو تب ہو سکتا ہے کہ دنیا میں طاقت جس چیز سے ملتی ہے، تو اتنی طاقت حاصل کی جائے تاکہ عبادت بھی صحیح طریقے سے کی جائے۔ اور مطلب یہ ہے کہ دوام کے ساتھ۔
مطلب بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے جیسے مثال کے طور پر یہ fatigue کہلاتا ہے نا fatigue۔ مثلاً میں انگلی اس طرح اس طرح اس طرح کروں نا۔ تو میں اگر چھ گھنٹے اس طرح اس طرح کروں نا تو یہ ہمیشہ کے لیے بالکل بس بیٹھ جائے گی۔ اس کے بعد پھر چھ مہینے میں نہیں کر سکوں گا اس کو ہلا سکوں گا۔ اس کے muscles damage ہو جائیں گے۔ لیکن اگر ایک منٹ کر کے ایک منٹ چھوڑ دیا کروں، ایک منٹ کر کے ایک منٹ چھوڑ دیا کروں۔ تو چھ سال تک بھی کچھ نہیں ہو گا اس کو۔ تو اب دیکھیں بظاہر تو یہ کم کرنے والی بات ہے۔ ایک منٹ چھوڑ کے ایک منٹ۔ لیکن حقیقت میں زیادہ کرنے والی بات ہے کہ حقیقت میں یہ بڑھ جائے گا۔
تو اس طریقے سے مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر تو اس پر تھی۔ تو ہمیں بھی ظاہر ہے اس پر خیال رکھنا چاہیے کہ میانہ روی اختیار کرنی چاہیے۔ اسی میں ہماری آخرت کا بھی فائدہ ہے اور دنیا میں بھی آسانی ہے۔ یہ والی بات ہے۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّتِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔