روزِ محشر منکرینِ حق کی حسرت اور ہمارا لمحہ فکریہ
درس نمبر 251، سورۃ الانعام، آیات: 21 تا 27، اشاعتِ اول: 6 اگست، 2022، بمطابق 7 محرم الحرام، 1444 ہجری
- قیامت کے دن مشرکین بوکھلاہٹ میں اپنے شرک کا انکار کریں گے اور ان کا کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔
- نامہ اعمال کے علاوہ انسان کے اپنے اعضاء بھی اس کے خلاف گواہی دیں گے جس سے بچنا ناممکن ہوگا۔
- طلبِ حق کی بجائے ضد پر اڑے رہنے والوں کے دلوں اور کانوں پر پردے ڈال دیے جاتے ہیں۔
- دوزخ کے ہولناک نظارے کے وقت کافر دنیا میں واپس لوٹ کر مومن بننے کی حسرت کریں گے۔
- دنیا کی ہر چیز عارضی ہے جبکہ آخرت کی زندگی اور وہاں کی پریشانی ہمیشہ کے لیے مستقل ہوگی۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعـلَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ اَمَّا بَعْدُ۔ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ(21) وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ(22) ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ(23) اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(24) وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِـعُ اِلَیْكَۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًاؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَاؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ(25) وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْــٴَـوْنَ عَنْهُۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ(26) وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ(27)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔
ترجمہ: اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے، یا اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے؟ یقین رکھو کہ ظالم لوگ فلاح نہیں پاسکتے۔ ﴿21﴾ اُس دن (کو یاد رکھو) جب ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے، پھر جن لوگوں نے شرک کیا ہوگا ان سے پوچھیں گے کہ: "کہاں ہیں تمہارے وہ معبود جن کے بارے میں تم یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ خدائی میں اللہ کے شریک ہیں؟" ﴿22﴾ اُس وقت اُن کے پاس کوئی بہانہ نہیں ہوگا، سوائے اس کے کہ وہ کہیں گے: "اللہ کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے، ہم تو مشرک نہیں تھے۔" ﴿23﴾
یعنی چونکہ انسان جو ہے، مطلب اسی طریقے سے وہاں جائے گا، فطرت تو یہی ہے۔ البتہ یہ ہے کہ وہاں حالات کھل جائیں گے۔ تو اس وجہ سے، مطلب ظاہر ہے، رویہ مختلف ہوگا۔ لیکن پرانی بات کے لحاظ سے
حاشیہ: شروع میں تو وہ بوکھلاہٹ کے عالم میں جھوٹ بول جائیں گے، لیکن پھر قرآن کریم ہی نے سورہ یٰس (۶۵:۳۶) اور سورہ حم السجدہ (۲۱:۴۱) میں بیان فرمایا ہے کہ خود ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے،
مطلب یہ ہے کہ یہ بات یہاں کی طرح تو ہے نہیں کہ جو لوگ جھوٹ بولیں تو ان کا پتہ نہ چلے۔ وہاں معاملہ یہ ہے کہ ایک تو کئی قسم کی تو گواہیاں موجود ہوں گی۔ کتاب میں لکھا ہوگا، آپ اللہ پاک نے خود دیکھا ہوگا۔ جہاں پر وہ کام ہو چکا ہوگا، وہ وہ گواہ ہوں گے۔ حتیٰ کہ انسان کے اپنے جسم کے جو اعضاء ہیں، جن اعضاء کے ذریعے سے وہ کام کیا ہوگا، وہ بھی گواہی دیں گے۔ تو کوئی آدمی بچ نہیں سکے گا۔ لیکن بہرحال پہلے ابتداء میں وہ بوکھلاہٹ میں جھوٹ بول دیں گے۔
ترجمہ: دیکھو! یہ اپنے معاملے میں کس طرح جھوٹ بول جائیں گے، اور جو (معبود) انہوں نے جھوٹ موٹ تراش رکھے تھے، اُن کا انہیں کوئی سراغ نہیں مل سکے گا! ﴿24﴾ اور ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو تمہاری بات کان لگا کر سنتے ہیں، مگر (چونکہ یہ سننا طلب حق کے بجائے ضد پر اڑے رہنے کے لئے ہوتا ہے، اس لئے) ہم نے ان کے دلوں پر ایسے پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ اس کو سمجھتے نہیں ہیں، اور ان کے کانوں میں بہرا پن پیدا کردیا ہے۔ اور اگر وہ ایک ایک کرکے ساری نشانیاں دیکھ لیں تب بھی وہ ان پر ایمان نہیں لائیں گے۔ انتہا یہ ہے کہ جب تمہارے پاس جھگڑا کرنے کے لئے آتے ہیں تو یہ کافر لوگ یوں کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) پچھلے لوگوں کی داستانوں کے سوا کچھ نہیں ﴿25﴾ اور یہ دوسروں کو بھی اس (قرآن) سے روکتے ہیں، اور خود بھی اس سے دُور رہتے ہیں۔ اور (اس طرح) وہ اپنی جانوں کے سوا کسی اور کو ہلاکت میں نہیں ڈال رہے، لیکن ان کو احساس نہیں ہے ﴿26﴾ اور (بڑا ہولناک نظارہ ہوگا) اگر تم وہ وقت دیکھو جب ان کو دوزخ پر کھڑا کیا جائے گا، اور یہ کہیں گے: "اے کاش! ہمیں واپس (دنیا میں) بھیج دیا جائے، تاکہ اس بار ہم اپنے پروردگار کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں، اور ہمارا شمار مؤمنوں میں ہوجائے!" ﴿27﴾
تو اصل میں وہ وقت بہت حسرت کا ہوگا، انسان کے پاس کرنے کا کچھ نہیں ہوگا۔ اور جو کیا ہوگا، اس کو بھگتنے کے لیے وہ جو سارا سامان ہوگا، موجود ہوگا۔ تو اس وقت انسان کچھ نہیں کر سکے گا۔ بس جیسے انسان پھنس جائے کسی بھی چیز میں اور راستہ اس کو نہ ملے، تو جو کیفیت انسان کی اس وقت ہوتی ہے، اس کی کیفیت اسی وقت ہوگی۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں تو جو بھی چیز ہے وہ عارضی ہے۔ اور وہاں ہر چیز مستقل ہے۔ تو وہاں جو پریشانی ہے وہ بھی مستقل ہوگی۔
اللہ جل شانہ ہم سب کو ایسی پریشانی سے بچائے۔ اور ہمیں اپنی جان، مال، وقت، اولاد، ان سب کے بارے میں فکر عطا فرمائے کہ اس کو ہم صحیح طور پر استعمال کر لیں۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعلَمِيْنَ بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔