اسلام میں معاشرت کے اصول اور دوسروں کے حقوق کا خیال
بَابٌ فِىْ بَيَانِ كَثْرَةِ طُرُقِ الْخَيْرِ، درس نمبر: 189، حدیث نمبر: 127، اشاعتِ اول: 26 جنوری، 2023 بمطابق 3 رجب، 1444 ہجری
- جمعہ کی نماز کا گزشتہ اور آئندہ جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہونا۔
- خطبہ جمعہ کو مکمل خاموشی، توجہ اور دل و دماغ کی حاضری کے ساتھ سننے کی اہمیت۔
- خطبے کے دوران لغو کاموں (جیسے کنکروں یا موبائل وغیرہ سے کھیلنے) اور گفتگو کی سختی سے ممانعت۔
- خطبے کے دوران کسی دوسرے شخص کو خاموش کرانے کے لیے بولنے کی بھی ممانعت۔
- خطبے کی حقیقت: اللہ تعالیٰ کی ہدایات کو حاکمانہ انداز میں عوام تک پہنچانے کا نظام۔
- قرآن کے اصول «مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا» کے تحت ایک جمعہ پڑھنے پر دس دن کے گناہوں کی معافی۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیّٖنَ، اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
ایک جمعہ کی نماز دوسرے جمعہ کی نماز تک گناہوں کے لئے کفارہ ہے
(128) ﴿اَلثَّانِيْ عَشَرَ: عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”مَنْ تَوَضَّأَ فَاَحْسَنَ الْوُضُوْءَ ثُمَّ اَتَى الْجُمُعَةَ، فَاسْتَمَعَ وَاَنْصَتَ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَ بَيْنَ الْجُمُعَةِ وَ زِيَادَةُ ثَلَاثَةِ اَيَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَا فَقَدْ لَغَا.﴾ (رواه المسلم)
ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اچھی طرح وضو کیا پھر جمعہ کی نماز کیلئے مسجد میں آیا، خاموشی کے ساتھ خطبہ سنا تو اس کے اور دوسرے جمعہ کے درمیان کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں
یہ ضعیف حدیث نہیں ہے، مسلم شریف کی حدیث شریف ہے۔
ترجمہ: بلکہ تین دن اور زائد کے، اور جس شخص نے کنکر کو ہاتھ لگایا اس نے لغو کام کیا۔ یہ کنکر، وہاں پر کنکر ہوتے تھے نا، مسجد نبوی میں کنکر اور مسجدوں میں کنکر بچھے ہوتے تھے، اسی کے اوپر لوگ نماز پڑھتے تھے۔ تو اگر کنکر کو ہاتھ لگایا، اس کا مطلب ہے کنکر کے ساتھ کھیلا۔ یعنی مطلب ہے کہ اس نے اپنے آپ کو مشغول اس چیز کے ساتھ کر دیا۔ تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے اپنا ثواب ضائع کر دیا۔ مطلب وہ اس کو نہیں ملا۔
تو اس وجہ سے جمعے میں خاموشی کے ساتھ سننا خطبہ، یہ بہت لازمی ہے۔ البتہ اپنی طرف سے لوگوں نے کچھ بھی سلسلے چلائے ہیں، مثلاً وہ اس میں اس طرح التحیات کی شکل میں بیٹھتے ہیں، ہاتھ باندھتے ہیں، یہ چیزیں نہیں ہیں۔ یہ چیزیں اپنی طرف سے لوگوں نے بنائی ہیں۔ توجہ کے ساتھ سننا، توجہ کے ساتھ سننا یہ بہت اہم ہے۔ آپ اس طرح بیٹھ جائیں کہ آپ کے کان، دماغ، دل سب اس خطبے کی طرف ہوں۔
اصل میں خطبہ ہوتا کیا ہے؟ خطبہ اصل میں ہدایات، جو اللہ کی طرف سے آتی ہیں، وہ لوگوں تک پہنچانے کا نظام ہے۔ اور یہ جو ہے انداز اس کا ہونا چاہیے، وہ حاکمانہ ہونا چاہیے۔ خطبے کا انداز جو ہے حاکمانہ ہونا چاہیے جیسے حاکم کسی کو اعلان سناتا ہے۔ یہ کر لو، وہ کر لو، یہ نہیں کر لو، یہ نہیں کر لو، ادھر نہ جاؤ، وہاں جاؤ، جس طریقے سے مطلب ہے کہ یعنی وہ بتایا جاتا ہے نا، اس طریقے سے اس کو بتانا چاہیے۔
تو یہ اس میں یہ چیز ہوتی ہے۔ تو اگر اس طریقے سے مطلب خطبہ دیا جائے اور لوگ اسی طرح خطبہ سنیں، جس طریقے سے فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ عموماً ہمارے ہاں چونکہ ہم عجمی ہیں، تو عربی نہیں آتی، تو اس وجہ سے پتہ بھی نہیں چلتا کہ اس میں کیا کہا جا رہا ہے۔ یہ بھی پتہ نہیں ہوتا۔ لہٰذا ادھر ادھر دیکھتے ہیں۔ ہاتھ باندھ لیتے ہیں لیکن سوچ کہیں اور جاتی ہے۔ تو یہ بات نہیں، جو ہونا چاہیے وہ تو نہیں ہے۔ اور جو نہیں ہونا چاہیے، مطلب جس کی ضرورت نہیں تھی، وہ ہو رہی ہے۔
تو ان چیزوں کو سیکھنا چاہیے، ان شاء اللہ اس کا بہت فائدہ ہوگا۔ تو امام، اس کے بارے میں فرماتے ہیں:
امام خطبہ کے دوران بقدر ضرورت بات کر سکتا ہے
تشریح: فَاسْتَمَعَ وَ اَنْصَتَ: خاموشی کے ساتھ خطبہ سنا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک خطبہ کا سننا ضروری ہے دینی ضرورت کے تحت امام بقدر ضرورت بات کر سکتا ہے مگر سامعین کو اس کی اجازت نہیں
وہ بات نہیں کر سکتے۔
تشریح: جیسا کہ ایک دوسری روایت میں آتا ہے ”مَنْ قَالَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَ الْاِمَامُ يَخْطُبُ اَنْصِتْ فَقَدْ لَغَا.“ کہ امام جمعہ کے دن خطبہ دے رہا ہو اور کسی نے دوسرے کو کہا کہ خاموش ہو جاؤ تب بھی اس نے لغو کیا۔
یعنی کسی اور کو روکنے کے لیے بھی کہا تو پھر بھی اپنا نقصان کیا۔ اس وقت بس خود مکمل متوجہ ہو جاؤ۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے مثال کے طور پر ہم نماز میں، تو اگر نماز میں دوسرا آدمی نماز میں کوئی غلطی کر رہا ہے، میں اس کو بتا سکتا ہوں؟ بتاؤں گا تو اپنی نماز خراب کر لوں گا۔ تو اس طرح میں اپنے خطبے کا سننا خراب کر لوں گا۔ ٹھیک ہے، اس کو بعد میں سمجھا دیں۔ بس یہ کام نہیں، اس سے آپ اپنا... وہ کام... خراب کر رہے ہیں۔
تشریح: ”تو اس کے گزشتہ جمعہ اور اس جمعہ کے دوران گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور مزید تین دن کے۔“ کیونکہ شریعت کا قاعدہ ہے ”مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ اَمْثَالِهَا.“ (۲) ”کہ جو ایک نیکی لائے گا اس کو (کم از کم) دس گنا اجر ملے گا“ تو اس اصول کی بناء پر ایک جمعہ پڑھنے سے آدمی کے دس دن کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
سُبْحَانَ اللّٰهِ!
تشریح: وَ مَنْ مَّسَّ الْحَصَا فَقَدْ لَغَا: جس نے کنکر کو ہاتھ لگایا اس نے لغو کام کیا“ آپ ﷺ کے زمانہ اقدس میں مسجد میں کنکریاں ڈال دی گئی تھیں تو اس حدیث میں فرمایا کہ جس نے ان کنکریوں کو بھی خطبہ کے دوران الٹ پلٹ کیا اس نے لغو کام کیا اس سے معلوم ہوتا ہے خطبہ نہایت ہی خشوع و خضوع سے سننا چاہئے۔
ٹھیک ہے نا؟ تو اللہ جل شانہ ہم سب کو اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔