بنی اسرائیل کی نافرمانی کی سزا اور قابیل و ہابیل کا واقعہ: نفسانی خواہشات کے مہلک نتائج
درس نمبر 224، سورۃ المائدة، آیت نمبر 26 تا 31، اشاعتِ اول: 9 جولائی، 2022، بمطابق 9 ذی الحجہ 1443 ہجری
- بنی اسرائیل کا فلسطین میں داخلے سے انکار اور بحکمِ الٰہی صحرائے سینا میں چالیس سالہ قید (تیہ کا عذاب)۔
- صحرا میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں (من و سلویٰ، بادلوں کا سایہ) کا نزول اور حضرت موسیٰ و حضرت ہارون علیہما السلام کی وفات۔
- حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کی قربانی کا واقعہ اور حسد کی بنا پر دنیا کے پہلے ناحق قتل کی واردات۔
- ہابیل کا تقویٰ اور ظالم کے خلاف جوابی کارروائی سے گریز کا محتاط رویہ۔
- قابیل کی پشیمانی، کوے کا لاش دفنانا اور اس واقعے سے حاصل ہونے والی عبرت۔
- غصے اور نفسانی خواہشات کے مغلوب ہوکر کیے گئے فیصلوں کے خطرناک نتائج (Consequences)۔
- زندگی میں بروقت توبہ کی اہمیت اور اللہ کی رحمتِ کاملہ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ اَرْبَعِيْنَ سَنَةً ۛ يَتِيْهُوْنَ فِى الْاَرْضِ ۛ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ ﴿26﴾ وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ ابْنَيْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ ۭ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ ۭ قَالَ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ ﴿27﴾ لَئِنْۢ بَسَطْتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِيْ مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيْكَ لِاَقْتُلَكَ ۚ اِنِّيْٓ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ ﴿28﴾ اِنِّيْٓ اُرِيْدُ اَنْ تَبُوْٓاَ بِاِثْمِيْ وَاِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ ۚ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيْنَ ﴿29﴾ فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِيْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ ﴿30﴾ فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَّبْحَثُ فِى الْاَرْضِ لِيُرِيَهٗ كَيْفَ يُوَارِيْ سَوْءَةَ اَخِيْهِ قَالَ يٰوَيْلَتٰٓى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِيَ سَوْءَةَ اَخِيْ ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِيْنَ ﴿31﴾
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
اللہ نے کہا ”اچھا! تو وہ سرزمین ان پر چالیس سال تک حرام کردی گئی ہے، یہ (اس دوران) زمین میں بھٹکتے پھریں گے۔
ابھی گزشتہ ان لوگوں، قومِ جبارین جو تھے، عمالقہ جہاں پر تھے، تو اللہ پاک نے ان سے فرما دیا تھا کہ تم داخل ہو جاؤ شہر میں تو اللہ تمہیں فتح نصیب فرمائے گا، وعدہ تھا اللہ تعالیٰ کا۔ لیکن انہوں نے نافرمانی کی اور یہ کہا کہ تو اور تیرا رب جا کے لڑیں، ہم تو یہیں پر بیٹھے ہیں۔ تو اللہ پاک نے فرمایا کہ اچھا تم اس سرزمین پر چالیس سال تک حرام کر دی گئی ہے کہ اس دوران زمین میں بھٹکتے رہیں گے۔
حاشیہ: بنی اسرائیل کی اس نافرمانی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ چالیس سال تک فلسطین میں ان کا داخلہ بند کر دیا۔ یہ لوگ صحرائے سینا کے ایک مختصر علاقے میں بھٹکتے رہے۔ نہ آگے بڑھنے کا راستہ ملتا تھا، نہ پیچھے مصر واپس جانے کا۔ حضرت موسیٰ، حضرت ہارون، حضرت یوشع اور حضرت کالب علیہم السلام بھی ان لوگوں کے ساتھ تھے، اور انہی کی برکت اور دعاؤں سے اللہ تعالیٰ کی بہت سی نعمتیں ان پر نازل ہوئیں جن کا ذکر پیچھے سورۂ بقرہ (آیات 57 تا 60) میں گزر چکا ہے۔ بادل کے سائے نے انہیں دُھوپ سے بچایا۔ کھانے کے لئے من و سلویٰ نازل ہوا، پینے کے لئے پتھر سے بارہ چشمے پھوٹے۔ بنی اسرائیل کے لئے خانہ بدوشی کی یہ زندگی ایک سزا تھی، لیکن ان بزرگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو قلبی راحت کا سامان بنا دیا۔ حضرت ہارون اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کی یکے بعد دیگرے اسی صحرا میں وفات ہوئی۔ بعد میں حضرت یوشع علیہ السلام پیغمبر بنے، اور شام کا کچھ علاقہ ان کی سرکردگی میں اور کچھ حضرت سموئیل علیہ السلام کے زمانے میں طالوت کی سرکردگی میں فتح ہوا۔ جس کا واقعہ سورۂ بقرہ (آیات 246 تا 251) میں گزر چکا ہے۔ اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ سرزمین بنی اسرائیل کے حق میں لکھنے کا جو وعدہ فرمایا تھا وہ پورا ہوا۔
تو اصل میں بات یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے ایک آسان طریقہ ان کو بتایا، لیکن انہوں نے نافرمانی کی وجہ سے اس کو مشکل بنا دیا۔ وعدہ تو پورا ہونا تھا، لیکن ایک آسانی سے پورا ہونا ہوتا ہے، ایک مشکل سے پورا ہونا ہوتا ہے۔ تو ان کے لیے ایک مشکل ہو گیا، البتہ اس دوران چونکہ یہ جو ان کے شامتِ اعمال تھی، اس کی بدولت اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس علاقے میں بھٹکتے رہے۔ سفر کرتے رہے، کرتے رہے، دیکھا تو بلکل ادھر ہی ہیں۔ سفر طے ہی نہیں ہوتا تھا۔ تو نہ آگے جا سکتے، نہ پیچھے، بس اسی میں بھٹکتے پھرتے تھے۔
لیکن یہ تو صحرائے سینا تھا، تو اس وجہ سے یہ، اوپر چھت وغیرہ تو تھا نہیں۔ تو اللہ پاک نے بادلوں کا سایہ کیے رکھا۔ اگرچہ ان کو سزا دی جا رہی تھی، لیکن پیغمبروں کی برکت سے مطلب ان کے سامنے مطلب یہ چیزیں آتی رہیں اور معجزات یہ آتے رہے اور اللہ جل شانہ کا فضل ان پہ ہوتا رہا۔ تو یہ سارے کام ہوتے رہے، لیکن ان کا جو کجی تھی، اس کی وجہ سے وہ چیز ان کے اوپر اس طرح ہی وہ چلی آ رہی تھی۔
پھر جب موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی وفات ہوئی اور بعد میں یوشع علیہ السلام اور کالب علیہ السلام، انہی حضرات کے ذریعے سے پھر یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ نے آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائی۔ تو مطلب ظاہر ہے پھر وہ علاقہ فتح ہوا۔ حضرت یوشع علیہ السلام کی جو قبر ہے وہ استنبول کے پاس ہے۔ استنبول سے کوئی تقریباً چالیس، پینتالیس کلومیٹر کے فاصلے پہ ہے۔ میں نے الحمد للہ وہاں حاضر ہوا ہوں۔ تو یہ ہے کہ مطلب گویا کہ اس علاقے تک یوشع علیہ السلام تشریف لے گئے تھے۔
تو یہ ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک کی حکمتیں ہوتی ہیں۔ تو ان کو اللہ نے دکھایا بہت کچھ، لیکن اپنی سرکشی کی وجہ سے یہ محروم بھی رہے اور ان چیزوں کا بار بار نظارہ بھی کرتے رہے۔ تبھی ان کو یہ خیال ہوا کہ ہم لاڈلے لوگ ہیں۔ اور ہمیں تو کچھ بھی نہیں کہا جائے گا۔ تو پھر اللہ پاک نے ان کے اوپر ایسی ذلت مسلط کر دی جو ابھی تک چلی آ رہی ہے۔
تو (اے موسیٰ!) اب تم بھی ان نافرمان لوگوں پر ترس مت کھانا“ ﴿26﴾ اور (اے پیغمبر!) ان کے سامنے آدم کے دو بیٹوں کا واقعہ ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سناؤ۔ جب دونوں نے ایک ایک قربانی پیش کی تھی، اور ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوگئی، اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی۔
یعنی یہ چونکہ اللہ جل شانہ کا ایک نظام ہے، تو
حاشیہ: پیچھے بنی اسرائیل کی اس نافرمانی کا ذکر تھا کہ جہاد کا حکم آجانے کے باوجود وہ اس سے جان چراتے رہے، اب بتانا یہ مقصود ہے کہ ایک با مقصد جہاد میں کسی کی جان لے لینا تو نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے، لیکن ناحق کسی کو قتل کرنا بڑا زبردست گناہ ہے۔ بنی اسرائیل نے جہاد سے تو جان چرائی، لیکن بہت سے بے گناہوں کو قتل کرنے میں کوئی باک محسوس نہیں کیا۔ اس سلسلے میں وہ واقعہ بیان کیا جارہا ہے جو اس دنیا میں سب سے پہلے قتل کی واردات پر مشتمل ہے۔ اس واقعے میں قرآن کریم نے تو صرف اتنا بتایا ہے کہ آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں نے کچھ قربانی پیش کی تھی، ایک کی قربانی قبول ہوئی، دوسرے کی نہ ہوئی، اس پر دوسرے کو غصہ آگیا، اور اس نے اپنے بھائی کو قتل کرڈالا۔ لیکن اس قربانی کا کیا پس منظر تھا؟ قرآن کریم نے اس کی تفصیل نہیں بتائی۔ البتہ مفسرین نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور کچھ دوسرے صحابہ کرام کے حوالے سے اس کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے جن میں سے ایک کا نام قابیل تھا اور ایک کا ہابیل۔ اس وقت چونکہ دنیا کی آبادی صرف حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد پر مشتمل تھی، اس لئے ان کی اہلیہ کے ہر حمل میں دو جڑواں بچے پیدا ہوتے تھے۔ ایک لڑکا اور ایک لڑکی۔ ان دونوں کے درمیان تو نکاح حرام تھا، لیکن ایک حمل میں پیدا ہونے والے لڑکے کا نکاح دوسرے حمل سے پیدا ہونے والی لڑکی سے ہو سکتا تھا۔ قابیل کے ساتھ جو لڑکی پیدا ہوئی وہ بڑی خوبصورت تھی، لیکن جڑواں بہن ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ قابیل کا نکاح جائز نہ تھا۔ اس کے باوجود اس کا اصرار تھا کہ اسی سے نکاح کرے۔ ہابیل کے لئے وہ لڑکی حرام نہ تھی، اس لئے وہ اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا تھا۔ جب دونوں کا یہ اختلاف بڑھا تو فیصلہ اس طرح قرار پایا کہ دونوں کچھ قربانی اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کریں۔ جس کی قربانی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالی اس کا دعویٰ برحق سمجھا جائے گا۔ چنانچہ دونوں نے قربانی پیش کی۔ روایات میں ہے کہ ہابیل نے ایک دُنبہ قربان کیا، اور قابیل نے کچھ زرعی پیداوار پیش کی۔ اس وقت قربانی کے قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے ایک آگ آکر قربانی کو کھا لیتی تھی۔ ہابیل کی قربانی کو آگ نے کھالیا، اور اس طرح اس کی قربانی واضح طور پر قبول ہوگئی، اور قابیل کی قربانی وہیں پڑی رہ گئی جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ قبول نہیں ہوئی۔ اس پر بجائے اس کے کہ قابیل حق کو قبول کرلیتا، حسد میں مبتلا ہوکر اپنے بھائی کو قتل کرنے کے لئے تیار ہوگیا۔
ترجمہ: اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی۔ اس (دوسرے نے پہلے سے) کہا کہ ”میں تجھے قتل کرڈالوں گا“ پہلے نے کہا کہ ”اللہ تو ان لوگوں سے (قربانی) قبول کرتا ہے جو متقی ہوں ﴿27﴾ اگر تم نے مجھے قتل کرنے کو اپنا ہاتھ بڑھایا تب بھی میں تمہیں قتل کرنے کو اپنا ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا۔ میں تو اللہ رَبّ العالمین سے ڈرتا ہوں ﴿28﴾ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ انجامِ کار تم اپنے اور میرے دونوں کے گناہ میں پکڑے جاؤ،
ترجمہ: اگرچہ اپنے دفاع کا اگر کوئی اور راستہ نہ ہو تو حملہ آور کو قتل کرنا جائز ہے، لیکن ہابیل نے احتیاط پر عمل کرتے ہوئے اپنا یہ حق استعمال کرنے سے گریز کیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنے بچاؤ کا اور ہر طریقہ اختیار کروں گا، مگر تمہیں قتل کرنے کا اقدام نہیں کروں گا۔ ساتھ ہی اسے یہ جتلادیا کہ اگر تم نے قتل کا ارتکاب کیا تو مظلوم ہونے کی بنا پر میرے گناہوں کی تو معافی کی اُمید ہے، مگر تم پر نہ صرف اپنے گناہوں کا بوجھ ہوگا، بلکہ میرے قتل کرنے کی وجہ سے کچھ میرے گناہ بھی تم پر لد جائیں تو بعید نہیں، کیونکہ آخرت میں مظلوم کا حق ظالم سے دلوانے کا ایک طریقہ احادیث میں یہ بیان ہوا ہے کہ ظالم کی نیکیاں مظلوم کو دے دی جائیں، اور اگر نیکیاں کافی نہ ہوں تو مظلوم کے گناہ ظالم پر ڈال دیئے جائیں۔
تو یہ مطلب گویا کہ یہاں پر یعنی یہ بات آگئی ہے کہ انہوں نے ان کو قتل کرنے کے ارادے سے اپنے آپ کو باز رکھا۔ بے شک وہ حملہ کرے، لیکن اپنی جان بچا کر کوشش تو کرتا رہا لیکن یہ کہ اس کو قتل کرنے سے باز رہا۔
اور دوزخیوں میں شامل ہو۔ اور یہی ظالموں کی سزا ہے“ ﴿29﴾ آخر کار اس کے نفس نے اس کو اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کرلیا، چنانچہ اس نے اپنے بھائی کو قتل کر ڈالا، اور نامرادوں میں شامل ہوگیا ﴿30﴾ پھر اللہ نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اسے دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے۔
حاشیہ: یہ چونکہ کسی کے مرنے کا پہلا واقعہ تھا جو قابیل نے دیکھا اس لئے اسے مردوں کو دفن کرنے کا طریقہ معلوم نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کھود کر کسی مردہ کوّے کو دفن کر رہا تھا۔ اسے دیکھ کر قابیل کو نہ صرف دفن کرنے کا طریقہ معلوم ہوا بلکہ پشیمانی بھی ہوئی۔
ترجمہ: (یہ دیکھ کر) وہ بولا ”ہائے افسوس! کیا میں اس کوّے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا۔“ اس طرح بعد میں وہ بڑا شرمندہ ہوا ﴿31﴾
تو یہ، مطلب انسان جو عمل کرتا ہے اپنے نفس کی خواہش کے مطابق، تو بعد میں اس کو جب حقیقت کا پتہ چلتا ہے یا واقعہ گزر جاتا ہے، تو پھر اس پر افسوس ہوتا ہے، لیکن وہ کام ہو چکا ہوتا ہے۔ مطلب گویا کہ وہ جو اس وقت، وقت ہوتا ہے مطلب رکنے کا، اگر اس میں آدمی نہ رکے تو وہ کام ہو جاتا ہے اور پھر بعد میں پشیمان بھی ہوتا ہے، لیکن اس پشیمانی سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
مثلاً یہ ہے کہ لڑائی جھگڑے میں ایک آدمی اپنے غصے کو برداشت نہ کر سکا، اس کے پاس Pistol (پسٹل) وغیرہ ہو اور وہ Pistol سے دوسرے کو مار دے۔ تو مارنے میں کوئی وقت نہیں لگتا، مطلب ظاہر ہے وہ Pistol ہوتا ہے۔ لیکن بعد میں اس کو بھاگنا پڑتا ہے اور اپنے آپ کو چھپانا پڑتا ہے، اور اس کی جو تمام تکالیف ہوتی ہیں اس پہ پشیمان ہوتا ہے کہ میں نے کیا کر دیا۔ اس وقت اگر میں اپنے آپ کو روکتا تو اچھی بات تھی۔ لیکن پھر کچھ نہیں ہو سکتا، پھر تو جو اس کے consequences ہیں، وہ پھر اپنے وقت پہ ہوتے رہتے ہیں۔
یہ اصل میں انسان کو اس سے عبرت حاصل کرنا چاہیے کہ کوئی اس قسم کا کام... اس قسم کا کام نہ کرے جس پہ بعد میں اسے پچھتانا پڑے۔ ورنہ یہ ہے کہ انسان وقتی طور پر طیش میں آکر، یا وقتی طور پر جذبات میں آکر، یا وقتی طور پر اپنے نفس کی خواہشات سے مغلوب ہو کر وہ غلطی کر بیٹھتا ہے۔ لیکن وہ غلطی بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کے جو اثرات ہوتے ہیں بہت خطرناک ہوتے ہیں۔
اور بعض دفعہ اللہ پاک توبہ کی توفیق بھی دیتے ہیں، تو اس وقت انسان جلد سے جلد توبہ کر لے، تاکہ اس گناہ کا جو شر ہے، جس سے جو واقعہ ہونے والا ہے، اس سے اللہ تعالیٰ بچائیں اور آئندہ کے لیے اللہ پاک اس کو محفوظ فرمائیں۔ توبہ کا دروازہ تو موت تک کھلا رہتا ہے۔ اور قیامت کی علامات ظاہر ہونے تک کھلا رہتا ہے۔ تو اگر اس سے پہلے پہلے کوئی توبہ کر لے تو اللہ پاک اس کو معاف بھی کر لیتے ہیں۔ اللہ جل شانہ ہم سب کے گناہوں کو معاف فرمائے۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔