کثرتِ عبادت اور نبی کریم ﷺ کی شفقت و رہنمائی

باب فی الاقتصاد فی الطاعۃ، درس نمبر: 215، حدیث نمبر: 150 اشاعتِ اول: 23 فروری، 2023 بمطابق 2 شعبان، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. یہ امت اعتدال والی امت ہے اور ہر معاملے میں اعتدال سے کام لینے میں ہی دین و دنیا کی آسانی ہے۔
  2. مسلسل روزے رکھنے کے بجائے حضرت داؤد علیہ السلام کی طرح ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھنا اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے محبوب روزہ ہے۔
  3. تلاوتِ قرآن کے لیے کم از کم سات دن کی حد مقرر کی گئی ہے اور اس سے زیادہ کی سختی کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔
  4. انسان پر اس کی اولاد کا حق ہے، اور ہمیشہ روزے رکھنے والے کا کوئی روزہ نہیں ہے۔
  5. دین میں دی گئی رخصت کو قبول نہ کرنے اور خود پر تشدد اختیار کرنے کا نتیجہ بڑھاپے میں مشقت کی صورت میں نکلتا ہے۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

وہ تین صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا واقعہ پہلے کل بیان ہوا تھا، اس کا اگلا حصہ ان شاء اللہ آج بیان کیا جائے گا۔

وَفِي رِوَايَةٍ: "أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ الدَّهْرَ، وَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَةٍ؟ فَقُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ وَ لَمْ أُرِدْ بِذَلِكَ إِلَّا الْخَيْرَ قَالَ: فَصُمْ صَوْمَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ، فَإِنَّهُ كَانَ أَعْبَدَ النَّاسِ، وَ اقْرَءِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَاقْرَأَهُ فِي كُلِّ عِشْرِينَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَاقْرَأَهُ فِي كُلِّ عَشْرٍ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللهِ إِنِّي أُطِيْقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَاقْرَأَهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ وَ لَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ فَشَدَّدتُ فَشَدَّدَ عَلَيَّ وَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي لَعَلَّكَ يَطُولُ بِكَ عُمُرُ قَالَ: فَصِرْتُ إِلَى الَّذِي قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَلَمَّا كَبِرْتُ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ قَبِلْتُ رُخْصَةَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ترجمہ: اور ایک روایت میں ہے کہ کیا مجھے نہیں بتایا گیا کہ تو ہمیشہ روزہ رکھتا ہے اور رات بھر قرآن پڑھتا ہے؟ میں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ! لیکن میرا ارادہ اس سے نیک ہے، آپ ﷺ فرماتے ہیں تو پھر داؤد علیہ السلام نبی کے مثل روزہ رکھا کر اس لئے کہ وہ تمام لوگوں سے زیادہ عبادت گزار تھے اور ہر ماہ میں ایک بار قرآن پڑھ اور ختم کیا کرو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر بیس دن میں قرآن مجید ختم کیا کرو میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! ﷺ میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا دس دن میں ختم کیا کرو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اس سے بھی زیادہ طاقت رکھتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہر ہفتہ میں ختم کیا کرو اور اس سے زیادہ مت کرو لیکن میں نے تشدد اختیار کیا پس مجھ پر تشدد کیا گیا اور مجھے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تو نہیں جانتا شاید تیری عمر دراز ہو جائے۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ذکر کیا میں اسی طرح ہو گیا ہوں جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا تھا۔ پس جب میں بوڑھا ہو گیا تو مجھے پسند لگنے لگا کہ میں نبی کی رخصت کو قبول کر لیتا اور ایک روایت میں ہے کہ تیری اولاد کا تجھ پر حق ہے اور ایک روایت میں ہے کہ تین دفعہ آپ ﷺ نے فرمایا اس آدمی کا روزہ نہیں جو ہمیشہ روزہ رکھے اور ایک روایت میں ہے کہ داؤد علیہ السلام کے روزے اللہ کے ہاں تمام روزوں سے زیادہ محبوب ہیں اور داؤد علیہ السلام کی نماز اللہ پاک کو تمام نمازوں سے زیادہ محبوب ہے۔ داؤد علیہ السلام نصف رات سویا کرتے تھے اور رات کے تیسرے حصہ کا قیام فرماتے اور چھٹا حصہ سو جاتے، ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے اور جب دشمن سے مقابلہ ہوتا تو بھاگتے نہیں تھے۔

تو یہ ما شاء اللہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہیں، وہ چونکہ یہ امت اعتدال والی امت ہے، تو اس میں ہر چیز کو اعتدال پر رکھا گیا ہے۔ تو اگر ہم لوگ بھی اعتدال سے کام لینے لگیں تو اس میں ہمارے لیے دین و دنیا کی آسانی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

کثرتِ عبادت اور نبی کریم ﷺ کی شفقت و رہنمائی - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور