یہود و نصاریٰ کی نفسیات، طرزِ عمل اور مسلمانوں کے لیے لمحۂ فکریہ
اشاعت اول: ( 1، 3 جنوری اور 23 جولائی ) 2022 کے دروس قرآن سے ماخوذ
- بنی اسرائیل پر اللہ کے انعامات اور تقویٰ و فجور کا تکوینی اختیار
- علمائے یہود کی مذہب میں من مانی تاویلیں اور تحریفِ دین
- معاشرتی دباؤ کا خوف اور قبولِ حق کے لیے حکمتِ دعوت (نو مسلم جرمن کا واقعہ)
- یہود کا نسلی تکبر، حسد اور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا واقعہ
- باطل قوتوں کی منصوبہ بندی (Planning) *یہودی قوم کی صلاحیتوں کا غلط استعمال اور دجال کی مسلمانوں کے خلاف یہود و مشرکین کی شدید ترین دشمنی کے اسباب
- یہود (مغضوب علیہم) اور نصاریٰ (ضالّین) کی نفسیات کا قرآنی تقابل
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ
أَمَّا بَعْدُ!
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ ۚ-وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ(40) وَ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَ لَا تَكُوْنُوْۤا اَوَّلَ كَافِرٍۭ بِهٖ ۪-وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا-وَّ اِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ(41) وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(42) وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ(43) (البقرۃ)
صَدَقَ اللّٰہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ۔
اے بنی اسرائیل! میری وہ نعمت یاد کرو جو میں نے تم کو عطا کی تھی، اور تم مجھ سے کیا ہوا عہد پورا کرو، تاکہ میں بھی تم سے کیا ہوا عہد پورا کروں، اور تم (کسی اور سے نہیں، بلکہ) صرف مجھ ہی سے ڈرو ﴿40﴾
”اسرائیل“ حضرت یعقوب علیہ السلام کا دوسرا نام ہے، ان کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے۔ تمام تر یہودی اور اکثر عیسائی اسی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ مدینہ منورہ میں یہودیوں کی اچھی خاصی تعداد آباد تھی، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد نہ صرف ان کو اسلام کی دعوت دی تھی، بلکہ ان سے امن کا معاہدہ بھی فرمایا تھا۔ لہٰذا اس مدنی سورت میں زیرِ نظر آیت سے آیت 143 تک مسلسل بنی اسرائیل کا تذکرہ ہے جس میں انہیں اسلام کی دعوت بھی دی گئی ہے اور ان کو نصیحت کرنے کے ساتھ ان کی بد عنوانیوں پر متنبہ بھی کیا گیا ہے۔ شروع میں ان کو یاد دلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کیسے کیسے انعامات فرمائے تھے، اس کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہو کر اس عہد کو پورا کرتے جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا کہ وہ تورات پر ٹھیک ٹھیک عمل کریں گے اور اللہ کے بھیجے ہوئے ہر نبی پر ایمان لائیں گے۔ لیکن انہوں نے تورات پر عمل کرنے کے بجائے اس کی من مانی تاویلیں شروع کر دیں اور اس کے احکام کو بدل ڈالا۔ چونکہ اس طرزِ عمل کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ حق کو قبول کرنے کی صورت میں انہیں اپنے ہم مذہب لوگوں کا ڈر تھا کہ وہ کہیں ان سے بد ظن نہ ہو جائیں، اس لئے ان دو آیتوں کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ مخلوق سے ڈرنے کے بجائے انہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے، اور اللہ کے سوا کسی کا خوف دل میں نہیں رکھنا چاہئے۔
بنی اسرائیل یہ، یقیناً ان کی بڑی اونچی نسبت تھی، پیغمبروں کی اولاد تھے۔ اور اللہ پاک نے ان کو منتخب بھی فرمایا تھا، چنا بھی تھا، ان کو بڑی صلاحیتیں عطا فرمائی تھیں۔ چونکہ یہ ہمارا جو وقت ہے دارالابتلاء ہے۔ جیسے انسان کے ہر نفس کے اندر بری خواہشات بھی رکھی گئی ہیں اور تقویٰ کا جو طریقہ ہے حاصل کرنے کا وہ بھی رکھا گیا ہے۔ لہٰذا ہر شخص خیر کی طرف بھی جا سکتا ہے اور برائی کی طرف بھی جا سکتا ہے۔ اس کو تکوینی طور پر اختیار دیا گیا ہے، تشریعی طور پر نہیں۔ تکوینی طور پر اس لیے کہ آزمائش ہو جائے۔ لیکن تشریعی طور پر نہیں، تشریعی طور پر تو یہ ہے کہ سب کو اسلام قبول کرنا چاہیے،
"إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ"
تبھی تو اس کی دعوت دی جاتی ہے۔ تکوینی چیز کی دعوت نہیں دی جاتی ہے کیونکہ تکوینی چیز انسان کے بس میں نہیں ہے، وہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ تو اللہ جل شانہٗ کی طرف سے یہ دونوں چیزیں جیسے نفس کے اندر رکھی گئی ہیں، اس طرح ہر شخص کو یہ اختیار تکوینی طور پر مل جاتا ہے کہ وہ شر کی طرف بھی جا سکتا ہے اور خیر کی طرف بھی جا سکتا ہے۔ بعینہٖ اسی طرح Genetically جو خوبیاں اور صلاحیتیں ہیں وہ بھی انسان کے اندر رکھی گئی ہوتی ہیں۔ لیکن وہ جو صلاحیتیں ہیں، وہ ہر انسان کے اس تکوینی اختیار پر مبنی ہوتی ہیں کہ وہ اس کو کس طرح استعمال کرتا ہے؟ اس کو خیر کے لیے استعمال کرتا ہے، اس کو شر کے لیے استعمال کرتا ہے۔
مثال کے طور پر ایک شخص ہے وہ 5 کلو وزن اٹھا سکتا ہے، دوسرا 10 کلو وزن اٹھا سکتا ہے، تیسرا 15 کلو وزن اٹھا سکتا ہے، چوتھا 50 کلو وزن اٹھا سکتا ہے، مطلب ہر ایک کی اپنی اپنی صلاحیت ہے۔ لیکن وہ 50 کلو وزن اٹھانے والے کی جو صلاحیت ہے، جو طاقت ہے، وہ کس چیز کے لیے استعمال ہو رہا ہے؟ وہ اس تکوینی اختیار پر مبنی ہو گا کہ وہ اس کو کہاں استعمال کرتا ہے اور تشریعی طور پر اس کو خبردار کر دیا جاتا ہے کہ کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ یعنی کہاں استعمال کرنا چاہیے، کہاں استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
تو یہود و نصاریٰ جو تھے، چونکہ پیغمبروں کی اولاد تھے، ان کی بڑی صلاحیتیں تھیں۔ لیکن جیسے کہ نفس میں دونوں چیزیں رکھی گئی ہیں، اس طرح ان کے نفس میں بھی یہ دونوں چیزیں رکھی گئی تھیں اور نفس کی خواہشات سے متاثر ہو کر مغلوب ہو کر انہوں نے ان چیزوں کو اچھائیوں کی بجائے برائیوں کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔ برائیوں کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔ اور برائیوں میں پھر اخلاقی برائیاں بھی تھیں، کرپشن یا اس قسم کی چیزیں بھی تھیں۔ اب یہ جو چیزیں تھیں ان کے سامنے، اس کی وجہ سے یہ خراب ہو گئے تھے۔ تو سامنے دین تو تھا، تورات بھی تھی، پیغمبر بھی تھے۔ انجیل بھی آئی۔ تو گویا کہ یوں سمجھ لیں کہ ان کے نفس اور ان کی کتابوں اور پیغمبروں کی تعلیمات کا آپس میں مقابلہ ہو گیا۔
اب جو Atheist وغیرہ ہوتے ہیں وہ تو پرواہ نہیں کرتے، وہ جو مرضی اپنے طور پہ کرتے ہیں۔ لیکن جو مذہبی لوگ ہوتے ہیں تو پھر یہ بات ہے کہ وہ اپنے لیے کوئی بہانہ بناتے ہیں۔ کوئی بہانہ بناتے ہیں کہ یہ چیز تو جائز ہے۔ دوسرے لوگوں کی نظروں میں شرمندگی سے بچنے کے لیے وہ کوئی بہانہ بنا لیتے ہیں۔ اب یہ جو بہانہ ہے یہ تحریف کی طرف چلا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ وہ دین کے اندر تبدیلی پھر لے آتے ہیں کہ وہ اس کا مطلب تو یہ ہے، اس کا مطلب تو یہ ہے، اس کا مطلب تو یہ ہے۔ آج کل ہم سوشل میڈیا پر دیکھ رہے ہیں، یہی تو ہو رہا ہے۔ کوئی موسیقی کو جائز کر رہا ہے، إنا للہ وإنا إلیہ راجعون، کوئی تصویروں کو جائز کر رہا ہے، کوئی ناچ گانے کو جائز کر رہا ہے، کوئی سود کو جائز کر رہا ہے، کوئی کیا، یہ کیا چیز ہے؟ یہی تو ہے! اسی کو تحریف کہتے ہیں۔ یعنی اگر خود عمل نہ کرے تو یہ تحریف نہیں ہے۔ اگر مذہب کو چھیڑے نہیں اور عمل نہ کرے تو گنہگار ہے۔ تحریف نہیں کر رہے۔ لیکن اگر اس نے اس کے لیے کوئی دینی بہانہ بنا لیا کہ نہیں ، فلاں جگہ پر تو یہ ہے، تو یہ تحریف کی طرف چلا جاتا ہے، بالخصوص اگر علماء ہوں۔
تو اس وجہ سے جو اِن کے علماء تھے، بڑی بڑی ان کی وہ تنخواہیں مقرر تھی، بڑی بڑی مراعات ان کو حاصل ہوتے تھے۔ تو ایسی صورت میں ان کے لیے ان مراعات کا چھوڑنا بڑا مشکل ہوتا تھا۔ لہٰذا جیسے آج کل جہاں پر حکومت بھی ہے اور دینی قوانین بھی ہیں، تو وہاں پر وہ Influence کرتے ہیں، جو حکومت ہوتی ہے وہ Influence کرتی ہے مذہبی لوگوں کو کہ ایسا کہو اور ایسا نہ کہو۔ یہ مسلمانوں میں بھی ایسا ہوا ہے، یعنی جو بادشاہ لوگ ہوتے ہیں۔ ابھی مصر میں کیا کچھ نہیں ہوتا؟ مطلب یہی تو ہوتا ہے، ان کو کہہ دیتے ہیں کہ آپ یہ فتویٰ دے دیں، تو کوئی بڑا دبنگ قسم کا مفتی ہو گا تو نہیں دیتا لیکن اگر ان کے اس میں آ جاتا ہے تو پھر دے دیتا ہے۔ تو اسی طریقے سے یہ جو چیزیں ہوتی ہیں یہ پھر آہستہ آہستہ تحریف کی طرف جاتی ہے اور کچھ سے کچھ بن جاتا ہے۔
تو یہاں پر ان لوگوں کے ساتھ یہی ہوا تھا۔
دوسری طرف یہ بات ہے کہ جب کوئی مسلمان ہوتا ہے، اسلام تو چونکہ آدم علیہ السلام کے وقت سے آ رہا ہے، یعنی صحیح دین کی طرف آتا ہے، تو وہ پھر ان کو اپنے رشتہ داروں کی طرف سے ڈر ہوتا ہے۔ مجھے جرمنی میں ایک صاحب کو لایا گیا جو اسلام سے متاثر تھا۔ یہ ترک حضرات لائے تھے، تو مجھ سے کہا کہ جی آپ اس کو مسلمان کریں۔ میں نے کہا کہ مسلمان ہونا چاہتے ہیں؟ کہتے ہیں ہاں میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں، لیکن میرے سارے رشتہ دار مخالف ہو جائیں گے اور میرے لیے بڑا مشکل ہو جائے گا۔ یہ بالکل Natural ظاہر ہے بات تھی، تو اس سے میں نے کہا دیکھو! ہمارے ہاں دو قسم کے مسلمان ہیں۔ ایک وہ جو کہ بالکل عمل کرتے ہیں جیسا کہ قرآن و سنت میں ہے اس پر عمل کرتے ہیں، وہ بھی ہیں اور ایسے گنہگار مسلمان بھی ہیں۔ گنہگار مسلمان بھی ہیں۔ تو جو گنہگار مسلمان ہے، وہ مسلمان تو ہے نا؟ مسلمان تو ہے، آخر میں جنت تو چلے جائیں گے۔ تو آپ اگر کھلم کھلا اس کا اعلان نہ کریں اور اپنے دین کو چھپا لیں اور جتنے دین پر عمل ہو سکتا ہے اس پر عمل کر لیں اور باقی میں اپنے آپ کو گنہگار سمجھیں تو کم از کم موجودہ State سے آپ بہتر ہوں گے۔ اگر اس Stage پر آپ فوت ہو گئے تو آپ کافر کے طور پر مریں گے اور اگر اس Stage پر آپ گنہگار مسلمان کے طور پر مر جائیں تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ ایک راستہ تو ہے، الحمد للہ ،اللہ پاک راستہ بنانے والا ہے، جس وقت ایک انسان خیر کی طرف جاتا ہے تو پھر اللہ پاک اس کے لیے راستہ بنا لیتا ہے، تو پھر مطلب ہے ظاہر ہے ان شاء اللہ آپ کے لیے بھی بن جائے گا۔ انہوں نے کہا پھر تو میں ہونا چاہتا ہوں۔ پھر مسلمان ہو گیا۔
مقصد میرا یہ ہے کہ ان کو راستہ دینا ہوتا ہے تاکہ کم از کم وہ Pressure سے نکل آئیں۔ تو یہ Pressure بہت ہی خطرناک ہوتا ہے، کوئی معمولی Pressure نہیں ہوتا جو انسان کو یعنی مطلب خیر کی طرف آنے سے جو روکتا ہے۔ اس وقت انڈیا میں پتہ نہیں کتنے لوگ مسلمان ہوا چاہتے ہیں! ان لوگوں کے ظلم دیکھ کر، ان کے لوگوں کے وہ جو ہے نا، لیکن اس ڈر سے، خوف سے چپ ہیں کہ وہ، اس طرح اور جگہوں پر بھی ہیں۔
تو یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ ان کے لیے بھی یہ تھا۔ تو اللہ پاک نے ان سے فرمایا کہ مخلوق سے ڈرنے کے بجائے انہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے اور اللہ کے سوا کسی کا خوف دل میں نہیں رکھنا چاہیے، حل اس کا یہی ہے، کہ انسان کا دل اگر مخلوق سے ڈر گیا تو پھر مخلوق کا خیال رکھے گا، اور اگر خالق سے ڈر گیا تو پھر خالق کا خیال رکھے گا۔ تو اللہ جل شانہٗ ہم سب کو بھی یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم بھی ایسا ہی کریں کہ جو اللہ چاہتا ہے وہ ہم کرنے والے بن جائیں اور جو ہم سے نفس کروانا چاہتا ہے اس کے مطابق ہم عمل نہ کریں۔
اور جو کلام میں نے نازل کیا ہے اس پر ایمان لاؤ، جبکہ وہ اُس کتاب (یعنی تورات) کی تصدیق بھی کر رہا ہے جو تمہارے پاس ہے، اور تم ہی سب سے پہلے اس کے منکر نہ بن جاؤ۔ اور میری آیتوں کو معمولی سی قیمت لے کر نہ بیچو، اور (کسی اور کے بجائے) صرف میرا خوف دل میں رکھو ﴿41﴾
یہاں پر بھی وہی بات ہے،
بنی اسرائیل کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ قرآن کریم وہی دعوت لے کر آیا ہے جو تورات اور انجیل کی دعوت تھی اور جن آسمانی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں، قرآن کریم انہیں جھٹلانے کے بجائے دو طرح سے ان کی تصدیق کرتا ہے: ایک اس لحاظ سے کہ وہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ یہ کتابیں اللہ ہی کی نازل کی ہوئی تھیں، (یہ اور بات ہے کہ بعد کے لوگوں نے ان میں کافی ردّ و بدل کر ڈالا جس کی حقیقت قرآن نے واضح فرمائی) اور دوسرے قرآن اس حیثیت سے ان کتابوں کی تصدیق کرتا ہے کہ ان کتابوں میں آخری نبی کی تشریف آوری کی جو پیشین گوئیاں کی گئی تھیں قرآن کریم نے انہیں سچا کر دکھایا۔ اس کا تقاضا یہ تھا کہ بنی اسرائیل عرب کے بت پرستوں سے پہلے اس پر ایمان لاتے، لیکن ہو یہ رہا ہے کہ جس تیز رفتاری سے بت پرست اسلام لا رہے ہیں اس رفتار سے یہودی ایمان نہیں لا رہے، اور اس طرح گویا بنی اسرائیل قرآن کی تکذیب کرنے میں پیش پیش ہیں۔ اسی لئے کہا گیا کہ: ”تم ہی سب سے پہلے اس کے منکر نہ بن جاؤ“۔
مطلب یہ ہے کہ بت پرست جو تھے وہ تو۔۔۔ بلکہ اس میں ایسی بات تھی کہ مدینہ منورہ میں چونکہ یہود پہلے سے بستے تھے، تو ان کے ساتھ ظاہر ہے انصار جو بعد میں بن گئے تھے پہلے جو اپنے اس پہ تھے بت پرستی پہ، تو وہ ان کے ساتھ ان کی لڑائیاں بھی ہو جاتی تھیں، آپس میں تو تو میں میں بھی ہو جاتی تھی۔ تو یہ ان کو کہتے کہ ایک پیغمبر آنے والا ہے، ہم اس کے ساتھ ہو جائیں گے اور پھر سب تم کو ماریں گے، یہ یہودی ان کو کہتے تھے۔ خدا کی شان جس وقت آپ ﷺ تشریف لائے تو وہ اسلام لے آئے، وہ آپ ﷺ کے ساتھ ہو گئے، اور یہود جو ہیں وہ آپ ﷺ کے مخالف بن گئے۔ تو یہ بات ہے کہ اللہ پاک نے ان کو صلاحیتیں تو دی تھیں، ان کو پتہ تو تھا، قرآن میں بھی ہے "يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ" (وہ آپ ﷺ کو ایسے جانتے ہیں جیسے کہ اپنے بیٹوں کو جانتے ہیں) ۔لیکن ضد اور حسد اس کی وجہ سے یہ تکذیب کی طرف آ گئے اور حق بات جو ہے وہ برداشت نہ کر سکے۔
یہ عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو مسلمان ہوئے تھے، یہودی تھے، تو جس وقت مسلمان ہوئے تو انہوں نے آپ ﷺ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری قوم کیسی ہے وہ میں آپ کو دکھانا چاہتا ہوں۔ اول آپ میرے بارے میں ان سے خود پوچھیں، وہ جو بتائیں وہ بھی سنیں اور پھر میں کلمہ پڑھ کے باہر نکل آؤں گا، پھر ان کی باتیں سنیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ تو حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اوٹ میں ہو گئے۔ تو ان لوگوں سے پوچھا کہ عبد اللہ بن سلام کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا شریف ہے اور شریف کا بیٹا ہے اور ایسا ہے اور ایسا ہے، زمین آسمان کے قلابے ان کی تعریف میں ملا دیے۔ اتنے میں حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ "أشهد أن لا اله الا اللہ وأشهد أن محمداً عبدہ ورسولہ" پڑھ کے باہر آ گئے۔ جب پڑھ کے باہر آ ئے تو انہوں نے کہا یہ رذیل ہے اور رذیل کا بچہ ہے اور ایسا ہے اور ایسا ہے، ساری غلط باتیں ان کی طرف، تو عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ ﷺ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری قوم ایسی ہے۔ مطلب یہ کہ یہ میں نے پہلے اس لیے کہا تھا کہ بعد میں یہ میرے بارے میں باتیں کریں گے تو کم از کم آپ کو پہلے سے اس کا پتہ چل جائے۔
مقصد میرا یہ ہے کہ یہ اپنے نفس سے اتنے زیادہ وہ تھے کہ عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایمان کو برداشت نہیں کر سکے، تو کسی اور کے کیسے برداشت کر لیتے؟ تو یہ بات ہے، ضد اور حسد اور کینہ اتنی خطرناک چیز ہے۔ اللہ جل شانہٗ ہماری حفاظت فرمائے۔
بعض یہودیوں کا طریقہ یہ بھی تھا کہ وہ رشوت لے کر تورات کی عام لوگوں کی خواہشات کے مطابق کر دیا کرتے تھے، اور بعض اوقات اس کے احکام کو چھپا لیتے تھے۔ ان کے اس طرزِ عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا: "میری آیتوں کو معمولی سی قیمت لے کر نہ بیچو" ۔
اس وقت باقاعدہ Planted ہیں ہمارے ہاں، ہمارے ہاں کچھ لوگ Planted ہیں، چاہے وہ صحافیوں کے رنگ میں ہیں، چاہے وہ دانشوروں کے رنگ میں ہیں، چاہے وہ مذہبی لوگوں کے رنگ میں ہیں، لیکن وہ باقاعدہ Planted ہیں۔ آپ حیران ہوں گے کہ ایک ہندوستانی نواب تھے، مجھے ان کا نام بھول گیا، وہ انگریزوں کے ساتھ ان کی بڑی دوستی تھی، تو انگلینڈ میں تھے، تو کچھ مضافاتی علاقوں میں ان کو ان کا انگریز دوست لے گیا۔ انہوں نے کہا کسی چیز پر تبصرہ نہیں کرنا صرف دیکھتے رہنا، صرف دیکھتے رہنا۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔ تو چلے گئے تو اب راستے میں جو ان کو ملتا تو سلام کرتے اور ملتے اور پھر اس طرح آگے جا کے تو انہوں نے ایک مدرسہ دیکھا، مدرسے میں جو ہے نا پگڑیوں والے بیٹھے ہیں اور تسبیح والے ہیں اور عصا والے بھی ہیں اور باقاعدہ ایک دوسرے کے ساتھ قرآن و حدیث پر بحث کر رہے ہیں کہ مطلب اس کا یہ ہے اور مطلب اس کا یہ ہے اور اس طرح۔ تو انہوں نے کہا یہاں پر یہ مدرسہ کیسے بنا ہے؟ انہوں نے اشارہ کیا کہ چپ رہو۔ خیر ایسا ہوا کہ پھر اس کے بعد جب سارے visit کروا دیا تو پھر ان کو جب باہر لے گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ مسلمان نہیں ہیں، یہ سارے یہود و نصاریٰ ہیں، ان کو ہم نے train کرنا ہے مولویوں کے طور پر، یہ مولوی بن جائیں گے اور عالمِ اسلام میں پھیل جائیں گے۔ ان کو مختلف زبانیں بھی سکھائی جا رہی ہیں اور پھر وہ وہاں بیٹھ کر ہمارے مفادات کے مطابق ان کے دین کی تشریح کریں گے۔ یہ غلام احمد قادیانی انہی کا پروردہ تھا، ظاہر مطلب ہے کہ وہ بھی ان کا تھا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ تو سوئے ہوئے نہیں ہیں، وہ لوگ تو جاگے ہوئے ہیں، وہ لوگ تو ہمارے خلاف بہت ساری چیزیں کر رہے ہیں۔ ہم لوگ سوئے ہوئے ہیں، ہم لوگ نہیں جانتے۔ تو اس طرح مطلب جو مختلف قسم کے لوگ ہوتے ہیں، دانشور ہوتے ہیں، وہ سب باقاعدہ ان کے مفادات کی Protection کرتے ہیں۔ جب کبھی ہو جائے تو ان کو Logical support یہ لوگ دیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اخبارات میں آنا شروع ہو جاتا ہے، ٹی وی پر آنا شروع ہو جاتا ہے، سوشل میڈیا پر آنا شروع ہو جاتا ہے، یہ سارا کچھ ایسا ہی بنتا ہے۔ اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے ان کے شر سے۔
بہر حال یہ ہے کہ یہ یہودیوں کا حال اب چلا جا رہا ہے اور اس میں بہت ساری باتیں ان کے بارے میں بتائی جائیں گی۔ ہمیں اچھا خاصا Educate کیا جاتا ہے قرآن پاک میں یہود و نصاریٰ کے بارے میں۔ پھر بھی اس کے بعد اگر ہم ان سے دھوکہ کھائیں نا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پرلے درجے کی جہالت اس کو کہہ سکتے ہیں۔ جیسے ابھی یہ جو متحدہ عرب امارات ہے، انہوں نے ان کے لیے دروازے کھول دیے ہیں، باقاعدہ وہاں پر زمین بھی خرید سکتے ہیں، اور اس طریقے سے مطلب ہے کہ انہوں نے ان کے ساتھ دوستیاں پالنا شروع کر لی ہیں۔ یہ ساری باتیں قرآن و سنت میں باقاعدہ موجود ہیں۔ اب اگر کوئی آنکھیں بند کر لے۔۔۔ اور اب تو باقاعدہ متحدہ عرب امارات نے ایک نیا دین کو فروغ دینا بھی شروع کر لیا ہے اور وہ ہے "دینِ ابراہیمی" جس میں وہ کہتے ہیں کہ اسلام اور عیسائیت اور یہودیت یہ تینوں ابراہیم علیہ السلام سے یہ دین آیا ہے تو اس پر ہم سب متفق ہو سکتے ہیں۔ وہی اکبر بادشاہ جو تھے نا ان کے طریقے پرانہوں نے سات مذہب جمع کیے تھے انہوں نے تین مذہب جمع کیے۔ یہ سب جو ہے نا تحریفات اور خرافات یہ قیامت تک نئی نئی صورت میں آئیں گے۔ لیکن جتنی چیزیں آئیں گی اتنا ہمیں Educate ہونے کی ضرورت ہو گی۔ ہمیں ان چیزوں سے، تو ابھی جو آگے ماشاء اللہ آیاتِ مبارکہ آ رہی ہیں 143 تک، تو اس میں کافی غور سے آپ حضرات ماشاء اللہ اس کو سنیں تاکہ ان کے جو کرتوت ہیں وہ علمی لحاظ سے ہمارے سامنے آ جائیں مستند انداز میں، ایک تو ہے نا مطلب سنی سنائی بات ہو، ایک ہوتا ہے مستند بات، مطلب یہ ہے کہ جس کا کوئی انکار نہ کر سکے، تو قرآن پاک نے ان باتوں کو لیا ہے۔ لہٰذا ہمیں ان کو اچھی طرح سننا پڑے گا اور اس کو جاننا پڑے گا اور اچھی طرح اس سے آگاہ ہونا پڑے گا کیونکہ اللہ پاک نے ہمیں ان سے خبردار کیا ہے: "وَلَن تَرْضٰى عَنكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارٰى حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ" تم سے یہود و نصاریٰ اس وقت تک راضی نہیں ہوں گے جب تک تم ان کی طرح ہی نہ بن جاؤ، ان کا مکمل اتباع نہ کرو۔ تو اس وجہ سے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ان کو کوئی خوش کر سکتا ہے، ناممکن ہے! وہ تب خوش ہوں گے جب بالکل آپ- نعوذ باللہ من ذلک- اللہ تعالیٰ کو ناراض کر لو گے۔ اس وجہ سے کبھی بھی ان سے ہمیں کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے خیر کی۔
جیسے میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ نفس کے اندر دونوں چیزیں موجود ہوتی ہیں یعنی فجور کے تقاضے بھی ہوتے ہیں اور تقویٰ کی صلاحیت بھی ہوتی ہے، یہ دونوں چیزیں اس میں ہوتی ہیں۔تو اب یہ ہوتا ہے کہ کوئی وہ تقویٰ والا نظام اپنا لیتا ہے اور کوئی وہ فجور والا نظام اپنا لیتا ہے، تو راستے جدا ہو جاتے ہیں۔ تو اس طریقے سے چونکہ Genetically وہ پیغمبروں کی اولاد تھے تو ان کی صلاحیتیں بہت اونچی تھیں۔ یعنی اگر وہ اچھا ہونا چاہتے تو بہت اچھے ہو جاتے، جیسے کہ ان میں تھے، طالوت بھی انہی میں سے تھا نا، تو اب یہ ہے کہ اور بھی تھے، تو اس میں یہ ہے کہ جو اچھے ہو جاتے وہ بہت اچھے ہو جاتے لیکن جو برے ہو جاتے وہ پھر ایک تو کفرانِ نعمت کی وجہ سے کہ انہوں نے کفرانِ نعمت کی تھی اس کی وجہ سے ان کے اوپر وبال آ جاتا، اور دوسری یہ بات ہے کہ برائی کی صلاحیت بھی ان میں بہت زیادہ ہوتی تھی نا مطلب Genetically وہ Strong ہوتے تھے ان کے Analysis، ان کے سوچنے کا اور تمام چیزوں کا وہ سب چیزوں کا ان کو۔
ابھی بھی اگر دیکھا جائے تو جو یہود ہیں، چونکہ یہ Racist ہیں، یہ دوسروں کے ہاں شادیاں نہیں کرتے، تو اس وجہ سے ان کی جو نسل ہے وہ محفوظ ہے یعنی اس میں Mixing بہت کم ہے۔ تو ایسی صورت میں اب بھی ان کے ہاں جو صلاحیتیں ہیں وہ بھرپور موجود ہیں، اسی وجہ سے پوری دنیا کو تگنی کا ناچ نچا رہے ہیں اپنی ذہانت کی وجہ سے۔ اور کمال کی بات یہ ہے کہ ان کو یہ ساری چیزیں معلوم ہیں لیکن وہی نفس کی خواہشات کی وجہ سے وہ اس پر فخر کر رہے ہیں کہ دیکھو ہم یہ کر رہے ہیں اور ہم یہ کر رہے ہیں اور ہم یہ کر رہے ہیں۔
یہ یوسف نامی ایک ان کا رابی تھا جو مسلمان ہوئے تھے، اس نے اپنی سوانح لکھی تھی، تو اس اپنی سوانح میں اس نے جو باتیں بتائی تھیں کہ جو مطلب ان سے ملتے تھے پہلے وہ، تو ان کے یعنی یہ ہوتے تھے کہ دیکھو ہم میں اتنا بڑا کمال ہے ہم فلاں کو جانتے ہیں، فلاں کو جانتے ہیں، فلاں چیزیں، وہ یہی باتیں آپس میں کرتے تھے۔ اور اس کو یہ سوچ لگی ہوئی تھی کہ ہم کیسے یعنی یہ سارے ہمارے غلام کیسے ہیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ان کے ذہن میں یہ بات آئی تھی۔ تو لہذا اسی پہ سوچتے تھے اور وہ ان کے لیے یہ ساری باتیں Data ہوتی تھیں مطلب ہے کہ ان کو مزید ان کے Strong کرتے تھے کہ دیکھو یہ کیوں اس طرح سوچتے ہیں، باقی انسانوں کو اس طرح کیوں غلام سمجھتے ہیں اور حشرات الارض سمجھتے ہیں اور اس طرح کے۔ چونکہ رابی تھے وہ کتابیں بھی ساری پڑھی ہوئی تھیں۔
تو مطلب یہ ہے کہ یہ جو چیز ہے کہ اب دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس کا ذہن جب اس طرف لگایا تو وہ ساری باتیں ان کو معلوم ہو رہی تھیں کہ یہ ہو رہا ہے، یہ ہو رہا ہے، وہ ہو رہا ہے۔ تو جو باقی لوگ ہیں ان کے لیے Egoاوہ ہم یہ کر سکتے ہیں، ہم یہ کر سکتے ہیں، ہم یہ کر سکتے ہیں"، اسی میں گم ہو کے لگے ہوئے ہیں۔
تو اب وہ باقاعدہ یعنی جتنی Planning انہوں نے کی Greater Israel کی اور فلاں چیزوں کی، اس کے نتائج ہم دیکھ رہے ہیں کہ کیسے باقی لوگ ان کے سامنے بودے بن رہے ہیں۔ یعنی امریکہ اپنے آپ کو پتا نہیں کیا سمجھتا ہے لیکن اس وقت امریکہ غلام ہے ان کا، practically غلام ہے، جو وہ کرنا چاہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ جس صدر کو وہ بنانا چاہتے ہیں وہ بناتے ہیں حالانکہ اکثریت ان کی نہیں بہت اقلیت ہے۔ پلاننگ، پلاننگ ہے۔
یہ جو مودی جو گیا تھا ان کے ساتھ ملاقات کے لیے، وہاں پر اسرائیل جو گیا تھا، تو انہوں نے باقاعدہ کہا تھا میں نے سنا ہے کہ وہ کہتے ہیں اگر آپ Middle East میں کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ہم سے کرواؤ، ہم کروائیں گے۔ They are so confident اور ابھی نظر آ رہا ہے کہ کیا ہو رہا ہے وہاں پر Middle East میں، ہو رہا ہے یا نہیں ہو رہا؟ اب یہ متحدہ عرب امارات کو دیکھو یا سعودی عرب میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ سارا کچھ Planned ہے۔
تو دجال بھی انہی میں سے ہو گا نا، دجال بھی انہی میں سے ہو گا تو مطلب یہ ہے کہ تمام صلاحیتیں اس میں بھی ہوں گی۔ اور وہ بہت بڑا شاطر، بہت بڑا دھوکے باز، عیار، چالاک، یہ ساری صفات اس کے اندر ہوں گی اور اس کے ذریعے سے پوری دنیا کو گمراہ کر رہا ہو گا۔
اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ انسان کے جو نفسانی خواہشات ہیں، وہ جیسے شیطان انسان کے نفسانی خواہشات کو جانتا ہے اس کے مطابق وسوسہ ڈیزائن کرتا ہے، تو یہ لوگ بھی اس طرح کرتے ہیں۔ اب کمال کی بات ہے، اپنے بچوں کو بچاتے ہیں، اپنے بچوں کو یہ چیزیں نہیں کھانے دیتے یا ان کے اس طرح وہ نہیں کرنے دیتے۔ ان کی جیب میں اخروٹ ہوتے ہیں، چلغوزے ہوتے ہیں، یعنی بادام ہوتے ہیں، وہ ٹافیاں وافیاں نہیں کھاتے۔ اور پوری دنیا کو اس پر لگایا ہوا ہے۔ تو یہ Planners ہیں، They are good planners، اس میں کوئی شک نہیں۔
تو اگر میں اس وقت کہتا ہوں نا خرابی کی بنیاد پر اپنی صلاحیتوں کا صحیح اچھا استعمال، یہ کوئی مشکل نہیں ہے کیونکہ شیطان اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتا، وہ نفس کے خواہشات کے مطابق ہے نفس بھی وہ نہیں ڈالتا۔ جب تم صحیح راستے پہ ہو پھر کر کے دکھاؤ، پھر Resistance ہو گی، پھر Resistance ہو گی، تو اس Resistance کے باوجود اگر تم کر لو تو ، Force کا Definition ہے نا، وہ یہ بات ہے کہ وہ جو ہے نا یعنی یوں کہہ سکتے ہیں کہ دونوں طرف ہے، کسی رکی ہوئی چیز کو Accelerate کرنا اور Accelerated چیز کو Decelerate کرنا (مطلب ہے کہ اس کو روکنا)، یہ دونوں فورس کی Definition میں آتے ہیں۔ تو جو Resistance ہے، اس Resistance کے ہوتے ہوئے پھر کام کرنا فورس وہ ہے۔
تو اس وجہ سے ہماری صلاحیتیں اگرچہ اس میں لگ جاتی ہیں یعنی چونکہ Resistance بہت زیادہ ہوتا ہے شیطان اور نفس کی طرف سے، لیکن Achievement وہی ہے۔ ان کی Achievement تو ایسی ہے جیسے Stream کے رو میں بہنا۔ اب ایک سٹریم کی طاقت ہے ان کی اپنی طاقت، تو پھر تو زیادہ ہو گا سپیڈ۔ لیکن Stream کے Against جانا جو ہوتا ہے وہ پھر انسان کی طاقت کا پتا چلتا ہے تو صحابہ کرام کے اندر یہ بات تھی کہ وہ حق پر بھی تھے اور ساتھ مطلب ہے کہ محنت اور یہ تمام چیزیں بھی تھیں۔ تو ان کی طاقت کا اندازہ پھر آدمی کیا کر سکتا ہے کہ کس حد تک تھے۔
اور ابھی جو ان کا ہے جو اسرائیل کا ہے تو ہم ان کی صلاحیتوں کو مانتے ہیں، ہم ان سے انکار نہیں کرتے بلکہ
We should learn from them in this regard
کہ مطلب وہ جس طریقے سے پلاننگ کرتے ہیں، جس طریقے سے کوcoordinate کرتے ہیں، یعنی انہوں نے اتنے زیادہ وہ پھیلائی ہوئی ہیں مختلف قسم گمراہ کرنے کے جو ذرائع ہیں، پھر ان کو آپس میں جوڑنے والا ان میں کوئی ہوتا ہے۔ باہر والوں کو کچھ پتا نہیں چلتا کہ یہ آپس میں کیسے Interrelated ہیں، اور ان کو پتا ہوتا ہے۔
اس وجہ سے ہم لوگوں کو ان سے Learn کرنا چاہیے اور ہمیں حق پر ہوتے ہوئے حق کا کام اخلاص کے ساتھ کرنا چاہیے۔
لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ ؕ-ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ (78) كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ ؕ-لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ (79) تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرْ ا ؕ-لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ(80) وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰـكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ(81) لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَهُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا ۚ-وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰى ؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُهْبَانًا وَّ اَنَّهُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ(82) (البقرۃ)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔
بنو اسرائیل کے جو لوگ کافر ہوئے ان پر داؤد اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے لعنت بھیجی گئی تھی۔
یعنی اس لعنت کا ذکر زبور میں بھی تھا جو حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی، اور انجیل میں بھی تھا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اتری تھی۔
یہ سب اس لئے ہوا کہ انہوں نے نافرمانی کی تھی، اور وہ حد سے گذر جایا کرتے تھے ﴿78﴾ وہ جس بدی کا ارتکاب کرتے تھے، اس سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کا طرزِ عمل نہایت برا تھا ﴿79﴾ تم ان میں سے بہت سوں کو دیکھتے ہو کہ انہوں نے (بت پرست) کافروں کو اپنا دوست بنایا ہوا ہے۔
یہ ان یہودیوں کی طرف اشارہ ہے جو مدینہ منورہ میں آباد تھے، اور انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ بھی کیا ہوا تھا، اس کے باوجود انہوں نے درپردہ مشرکین مکہ سے دوستیاں گانٹھی ہوئی تھیں، اور ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے۔ بلکہ ان کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے ان سے یہ تک کہہ دیتے تھے کہ ان کا مذہب مسلمانوں کے مذہب سے اچھا ہے۔
یقیناً جو کچھ انہوں نے اپنے حق میں اپنے آگے بھیج رکھا ہے وہ بہت برا ہے، کیونکہ (ان کی وجہ سے) اللہ ان سے ناراض ہو گیا ہے، اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے ﴿80﴾ اگر یہ لوگ اللہ پر اور نبی پر اور جو کلام ان پر نازل ہوا ہے اس پر ایمان رکھتے تو ان (بت پرستوں) کو دوست نہ بناتے، لیکن (بات یہ ہے کہ) ان میں زیادہ تعداد ان کی ہے جو نافرمان ہیں ﴿81﴾
تم یہ بات ضرور محسوس کر لو گے کہ مسلمانوں سے سب سے سخت دشمنی رکھنے والے ایک تو یہودی ہیں، اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو (کھل کر) شرک کرتے ہیں۔ اور تم یہ بات بھی ضرور محسوس کر لو گے کہ (غیر مسلموں میں) مسلمانوں سے دوستی میں قریب تر وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو نصرانی کہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں بہت سے علم دوست عالم اور بہت سے تارک الدنیا درویش ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ عیسائیوں میں چونکہ بہت سے لوگ دنیا کی محبت سے خالی ہیں، اس لئے ان میں قبولِ حق کا مادہ بھی زیادہ ہے، اور کم از کم انہیں مسلمانوں سے اتنی سخت دشمنی نہیں ہے، کیونکہ دنیا کی محبت وہ چیز ہے جو انسان کو حق کے قبول کرنے سے روکتی ہے۔ اس کے برعکس یہودیوں اور مشرکینِ مکہ پر دنیا پرستی غالب ہے، اس لئے وہ سچے طالبِ حق کا طرزِ عمل اختیار نہیں کر پاتے۔
عیسائیوں کے نسبۃً نرم دل ہونے کی دوسری وجہ قرآن کریم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ تکبر نہیں کرتے، کیونکہ انسان کی انا بھی اکثر حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ عیسائیوں کو جو مسلمانوں سے محبت میں قریب تر فرمایا گیا ہے اس کا ایک اثر یہ تھا کہ جب مشرکینِ مکہ نے مسلمانوں پر ظلم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تو بہت سے مسلمانوں نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس پناہ لی، اور نہ صرف نجاشی، بلکہ اس کی رعایا نے بھی ان کے ساتھ بڑے اعزاز واکرام کا معاملہ کیا۔ بلکہ جب مشرکینِ مکہ نے اپنا ایک وفد نجاشی کے پاس بھیجا اور اس سے درخواست کی کہ جن مسلمانوں نے اس کے ملک میں پناہ لی ہے انہیں اپنے ملک سے نکال کر واپس مکہ مکرمہ بھیج دے، تاکہ مشرکین ان کو اپنے ظلم کا نشانہ بنا سکیں تو نجاشی نے مسلمانوں کو بلا کر ان سے ان کا موقف سنا اور مشرکینِ مکہ کا مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا، اور جو تحفے انہوں نے بھیجے تھے وہ بھی واپس کر دیئے۔
لیکن یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ عیسائیوں کو جو مسلمانوں سے قریب تر کہا گیا ہے، یہ ان عیسائیوں کی اکثریت کے اعتبار سے کہا گیا ہے جو اپنے مذہب پر عمل کرتے ہوئے دنیا کی محبت سے دُور ہوں، اور ان میں تکبر نہ پایا جاتا ہو۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر زمانے کے عیسائیوں کا یہی حال ہے، چنانچہ تاریخ میں ایسی بھی بہت مثالیں ہیں جن میں عیسائیوں نے مسلمانوں کے ساتھ بدترین معاملہ کیا۔
ایک بات اس سلسلے میں اور عرض کی جا سکتی ہے کہ عیسائی جو ہیں یہ گمراہ لوگ ہیں اور یہود جو ہیں یہ "مَغْضُوبٌ عَلَيْهِمْ" ہیں۔ یعنی یہودیوں کو پتا ہے کہ ہم غلطی پر ہیں لیکن اس کے باوجود وہ غلط کر رہے ہیں اور عیسائیوں کو انہوں نے دھوکہ دیا ہے۔ عیسائیوں کو گمراہ کر دیا ہے۔ لہٰذا جب ان کو اصل چیز کا پتا چل جاتا ہے تو پھر وہ واپس ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں تشریف لائیں گے تو جتنے عیسائی ہوں گے وہ سب مسلمان ہو جائیں گے، جبکہ یہودی اور بھی سخت مخالف ہو جائیں گے۔
تو یہودیوں کے اندر اصل میں دشمنی پائی جاتی ہے اور عیسائیوں کو دشمن بنا دیا گیا ہے۔ دونوں میں فرق ہے۔ یہودیوں میں دشمنی پائی جاتی ہے مسلمانوں کے ساتھ حسد کی وجہ سے۔ جبکہ عیسائی ان کے ساتھ حسد کی وجہ سے نہیں کر رہے یہ بات، وہ گمراہ ہو چکے ہیں، ان کو غلط پڑھایا گیا ہے اور غلط سمجھایا گیا ہے۔ اور ان میں اثر یہودیوں کا تھا اس وقت بھی۔ وہ St. Paul جو ہے وہ جو ان کا یہودی تھا بظاہر عیسائی ہو گیا تھا، تو اس نے ان کو مختلف بارہ شاگردوں کو الگ الگ انجیل سکھا دی۔
تو یہ مطلب ظاہر ہے کہ ان لوگوں نے، گویا یہودیوں نے، عیسائیوں کو گمراہ کر دیا، تو یہ "ضَالِّينَ" ہیں۔ اور یہودی مَغْضُوبٌ عَلَيْهِمْ ہیں۔ تو جو "مَغْضُوبٌ عَلَيْهِمْ" ہیں ان کو تو پتا ہے، لہٰذا ان کے اوپر کوئی چیز اثر نہیں کرتی بلکہ انہوں نے یہاں تک کہا تھا، قرآن پاک میں ہی ہے: "وَقَالُوا قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَل لَّعَنَهُمُ اللهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيلًا مَّا يُؤْمِنُونَ"، کہ انہوں نے کہا کہ ہمارے دل غلاف میں بند ہیں، ان کے اوپر کوئی چیز اثر نہیں کر سکتی، حالانکہ وہ انہوں نے جو کفر کیا اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ان پر لعنت کی گئی، تو اس وجہ سے تھوڑے لوگ ان کے مسلمان ہوتے ہیں۔ تو یہودیوں کے ابھی تک بھی دیکھیں نا بہت تھوڑے لوگ مسلمان ہوئے ہیں، اس وقت بھی اور اب بھی بہت تھوڑے مسلمان ہوتے ہیں۔
جبکہ عیسائی کثرت کے ساتھ مسلمان ہوتے ہیں، امریکہ میں یا یورپ میں یا جو بھی ہیں،وہاں پر مطلب ایک عیسائی جلدی مسلمان ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ گمراہ ہیں۔ لہٰذا جب بھی ان کو اپنی گمراہی کا اندازہ ہوتا ہے اور پتا چلتا ہے تو پھر وہ واپس ہو جاتے ہیں۔
اللہ جل شانہ ہمیں دونوں کے شر سے محفوظ فرما دے اور ان کو بھی حق کی ہدایت نصیب فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔