ختمِ نبوت کی پہچان، یہود کا حسد اور ہدایت سے محرومی
درس نمبر 250، سورۃ الانعام، آیات: 17 تا 20، اشاعتِ اول: 5 اگست، 2022، بمطابق 7 محرم الحرام، 1444 ہجری
- حسد ایسی بری بلا ہے جو حق کو پہچان لینے کے باوجود انسان کو ہدایت سے محروم کر دیتی ہے۔
- اللہ تعالیٰ ہی ہر تکلیف دور کرنے والا اور ہر بھلائی عطا کرنے والا ہے، اور وہ ہر چیز پر کامل اقتدار رکھتا ہے۔
- قرآن مجید وحی کے طور پر اس لیے نازل کیا گیا تاکہ لوگوں کو شرک سے ڈرایا جائے اور توحید کی گواہی دی جائے۔
- اہلِ کتاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح بخوبی پہچانتے تھے جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔
- یہود کے ایمان نہ لانے کی اصل وجہ بھی وہی حسد تھا جو شیطان کو سجدہ کرنے سے مانع تھا۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.
وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ ؕ-وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(17) وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ ؕ-وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ(18) قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً ؕ-قُلِ اللّٰهُ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ- وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ ؕ-اَىٕنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى ؕ-قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ ۚ-قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَﭥ(19) اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ ۘ-اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠ (20)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ.
ترجمہ: اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو خود اس کے سوا اسے دُور کرنے والا کوئی نہیں، اور اگر وہ تمہیں کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہی ہے ﴿17﴾ اور وہ اپنے بندوں کے اُوپر مکمل اقتدار رکھتا ہے، اور وہ حکیم بھی ہے، پوری طرح باخبر بھی ﴿18﴾ کہو: ’’کونسی چیز ایسی ہے جو (کہی بات کی) گواہی دینے کے لئے سب سے اعلیٰ درجے کی ہو؟‘‘ کہو: ’’اللہ! (اور وہی) میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے۔ اور مجھ پر یہ قرآن وحی کے طور پر اس لئے نازل کیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعے میں تمہیں بھی ڈراؤں، اور ان سب کو بھی جنہیں یہ قرآن پہنچے۔ کیا سچ مچ تم یہ گواہی دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور بھی معبود ہیں؟" کہہ دو کہ: "میں تو ایسی گواہی نہیں دوں گا۔" کہہ دو کہ: "وہ تو صرف ایک خدا ہے، اور جن جن چیزوں کو تم اس کی خدائی میں شریک ٹھہراتے ہو، میں ان سب سے بیزار ہوں۔" ﴿19﴾ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ ان کو (یعنی خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو) اس طرح پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ (پھر بھی) جن لوگوں نے اپنی جانوں کے لئے گھاٹے کا سودا کر رکھا ہے، وہ ایمان نہیں لاتے۔ ﴿20﴾
یعنی یہود جو ہیں یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح جانتے تھے جیسے بیٹوں کو جانتے تھے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ پاک کے وقت ایک یہودی مکہ مکرمہ میں مارا مارا پھر رہا تھا کہ کوئی بچہ تو پیدا نہیں ہوا۔ تو مختلف بچوں کو دیکھا، تو پتہ چلا کہ وہ تو نہیں ہے، تو مایوسی ہو گئی۔ جاتے جاتے چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ولادتِ پاک کے وقت یتیم تھے، تو اس وجہ سے یتیموں کی چونکہ اس سوسائٹی میں کوئی value نہیں تھی۔ اس وجہ سے لوگوں کو پتہ ہی نہیں تھا کہ ہاشمیوں کے ہاں بھی ایک بچہ پیدا ہوا ہے۔ تو جاتے جاتے لوگوں نے کہا ہاشمیوں کا بھی ایک ہاں بچہ پیدا ہوا ہے، ان کو بھی دیکھیں۔ تو جب وہاں گیا اور جب دیکھا تو مہرِ نبوت کو جب دیکھا، تو غشی اس پہ طاری ہو گئی یعنی غم کی وجہ سے۔ اور پھر جس وقت اٹھے تو یہ زبان پہ الفاظ تھے، افسوس! نبوت بنی اسرائیل سے نکل کے بنی اسماعیل میں چلی گئی۔ اور پھر فوراً گویا کہ کمر کس لی مخالفت پہ، فوراً اب دیکھو پہچان لیا۔ اور پہچاننے کے بعد کمر کس لی اور کہا کہ اے قریش! تمہیں پتہ ہے کہ یہ بچہ کیا کرے گا؟ انہوں نے کہا ہمیں کیا پتہ؟ انہوں نے کہا یہ بچہ تمہیں اپنے شہر سے نکال دے گا۔ گویا کہ پہلے ہی سے گویا کہ مخالفت کا بیج بو دیا۔
تو یہ جانتے ہیں، لیکن وہ جیسے اللہ پاک نے فرمایا کہ جن لوگوں نے اپنی جانوں کے لیے گھاٹے کا سودا کر رکھا ہے، وہ ایمان نہیں لاتے۔ وہ کون سی چیز تھی جو کہ ان کے ایمان لانے سے مانع تھی؟ وہ وہی چیز ہے جو شیطان کو سجدہ کرنے سے مانع تھی۔ شیطان سمجھتا تھا کہ میں خلیفہ بن جاؤں گا۔ لیکن خلیفہ نہیں بن سکے تو بس پھر وہ حسد میں آ کے آدم علیہ السلام کے خلاف ہو گئے اور سجدہ نہیں کیا، اور کہا کہ میں ان سے برتر ہوں، میں کیوں اس کو سجدہ کروں؟ اللہ نے اس کو نکال دیا۔ اسی طرح یہود جو تھے، چونکہ یہ انہوں نے سمجھا ہوا تھا کہ بس نبوت تو ہمارا حق ہے، ہمارے ہاں یہ چلے گا۔ تو جب ان کو پتہ چلا کہ نبوت بنی اسرائیل سے بنی اسماعیل میں چلی گئی، تو مایوس ہو گئے۔
اسی طرح مدینہ منورہ میں حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، اس وقت آٹھ سال کی عمر کا تھا۔ کہ مطلب جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ پاک مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ تو ایک آدمی محلوں کے اندر چیخیں لگا رہا تھا کہ اے لوگو! جس نبی کا انتظار تھا وہ پیدا ہو گیا۔ جس نبی کا انتظار تھا وہ پیدا ہو گیا۔ یہ نہیں بتایا کہاں پیدا ہو گیا یہ، لیکن یہ ہے کہ مطلب اس کے بارے میں بتا دیا۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ان کو معلوم تو تھا۔ لیکن افسوس! حسد ایسی بری بلا ہے کہ انسان کو ہدایت سے محروم کر دیتی ہے۔ تو اللہ جل شانہ ہم سب کو ایسی بلاؤں سے محفوظ فرما دے۔ جس سے اتنے بڑے بڑے نقصان ہوتے ہوں۔
اللہ ہماری حفاظت فرما دے۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ. وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّتِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ.