دین میں اعتدال اور حقوق کی ادائیگی

باب فی الاقتصاد فی الطاعۃ، درس نمبر: 214، حدیث نمبر: 150 اشاعتِ اول: 22 فروری، 2023 بمطابق یکم شعبان، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. دین میں اعتدال اختیار کرنا ضروری ہے کیونکہ انسان کا حال اور طاقت ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔
  2. عبادات کی کثرت کے ساتھ اپنے جسم، آنکھوں، اہل و عیال اور مہمانوں کے حقوق ادا کرنا بھی لازمی ہے۔
  3. ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن چھوڑنا حضرت داؤد علیہ السلام کا طریقہ اور سب سے معتدل روزہ ہے۔
  4. حالات کے پیشِ نظر عزیمت پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ دین میں دی گئی رخصت کو بھی قبول کرنا چاہیے۔
  5. مسلسل روزے رکھنے کے بجائے ناغہ کر کے روزہ رکھنا نفس کے خلاف مجاہدہ برقرار رکھنے کی بہترین حکمت ہے۔
  6. صحابہ کرام کا زیادہ سے زیادہ عبادات کا شوق دراصل ان کی آخرت کے کاموں کے ساتھ شدید محبت کی علامت تھا۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، اَمَّا بَعْدُ، فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

تین صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کا واقعہ۔

عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَقُولُ: وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ النَّهَارَ، وَلَا َقُوْمَنَّ اللَّيْلَ مَا عِشْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ ذَلِكَ؟ فَقُلْتُ لَهُ : قَدْ قُلْتُهُ بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: فَإِنَّكَ لَا تَسْتَطِيْعُ ذَالِكَ فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَ نَمْ وَ قُمْ، وَ صُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَ ذَالِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ: قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَالِكَ قَالَ: فَصُمْ يَوْمًا وَ أَفْطِرْ يَوْمَيْنِ، قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَالِكَ قَالَ فَصُمْ يَوْمًا وَ أَفْطِرْ يَوْمًا فَذَالِكَ صِيَامُ دَاوُدَ (علیہ السلام) وَ هُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ وَ فِي رِوَايَةٍ: هُوَ أَفْضَلُ الصِّيَامِ فَقُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَالِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا أَفْضَلَ مِنْ ذَالِكَ، وَ لَأَنْ أَكُوْنَ قَبِلْتُ الثَّلَاثَةَ الْأَيَّامِ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَهْلِي وَ مَالِي

وَفِي رِوَايَةٍ: "أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَ تَقُومُ اللَّيْلَ؟ قُلْتُ: بَلٰى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: فَلَا تَفْعَلْ: صُمْ وَ أَفْطِرْ، وَ نَمْ وَ قُمْ فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَ إِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَ إِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَ إِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَ إِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُوْمَ فِي كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا فَإِنَّ ذَالِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ فشدَّدت فشدّد عليَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ: صُمْ صِيَامَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ وَ لَا تَزِدْ عَلَيْهِ قُلْتُ: وَ مَا كَانَ صِيَامُ دَاوُدَ؟ قَالَ نِصْفَ الدَّهْرِ فَكَانَ عَبْدُ اللهِ يَقُولُ بَعْدَ مَا كَبِرَ يَا لَيْتَنِي قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

”حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا نبی ﷺ کو بتایا گیا کہ میں کہتا ہوں کہ میں جب تک زندہ رہوں گا دن کو روزہ رکھوں گا اور رات کو قیام کروں گا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو یہ بات کہتا ہے؟ میں نے کہا ہاں میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا کہ تجھ میں اس کی طاقت نہیں ہے پس تو روزہ بھی رکھ اور افطار بھی کر اور سویا بھی کر اور قیام بھی کر اور مہینہ میں تین روزے رکھ اس لئے کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے اور اس طرح جیسا کہ زمانہ بھر کے روزے رکھے گئے ہوں۔ میں نے عرض کیا مجھ میں اس سے زیادہ کی طاقت ہے، فرمایا: پھر تو ایک دن روزہ رکھ اور دو دن افطار کر، میں نے عرض کیا مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے۔ فرمایا: ایک دن روزہ رکھ اور ایک دن افطار کر یہ داؤد علیہ السلام کے روزے ہیں۔ میں نے کہا کہ مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے، حضور ﷺ نے فرمایا اس سے بہتر کوئی صورت نہیں۔

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تین دنوں کے روزوں کو قبول کر لیتا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا مجھے اپنے مال اور اپنے اہل خانہ سے بھی زیادہ محبوب تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کیا مجھے بتایا نہیں گیا کہ تو دن میں روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے؟ میں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا ایسا نہ کر روزہ رکھ، افطار کر اور سو بھی جایا کر اور قیام بھی کر، اس لئے کہ تیرے بدن کا تجھ پر حق ہے، تیری آنکھ کا تجھ پر حق ہے، اور تیری بیوی کا تجھ پر حق ہے تیرے مہمان کا تجھ پر حق ہے۔ تجھے صرف اتنا کافی ہے تو ہر ماہ تین دن روزہ رکھا کرے، پس تجھے ہر نیکی کے بدلہ دس گنا ثواب ملے گا، اس صورت میں یہ زمانہ بھر کے روزے ہو گئے۔ لیکن میں نے تشدد کو اختیار کیا اور مجھ پر تشدد کیا گیا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں اس کی قوت پاتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کی طرح روزہ رکھ اور اس پر زیادتی نہ کر۔ میں نے عرض کیا داؤد علیہ السلام کے روزے کیسے تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نصف زمانہ یعنی ایک دن روزہ ایک دن افطار، پس عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بوڑھا ہونے کے بعد کہا کرتے تھے اے کاش! کہ میں نبی کریم ﷺ کی رخصت قبول کر لیتا۔

تو اصل بات یہ ہے کہ وہ جو حدیث شریف پہلے گزری ہے نا کہ دین کو تم نہیں تھکا سکتے۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ ہم کو وہ ذرا اپنے اعتدال کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ انسان کے اندر جب طاقت ہوتی ہے تو اس وقت بات کرتا ہے لیکن بعد میں ہر وقت ایک جیسے حال پہ نہیں رہتا۔ تو اس وجہ سے عزیمت بھی ضروری ہے جہاں پر عزیمت کی ضرورت ہو اور رخصت بھی حاصل کرنی چاہیے جس وقت رخصت کی ضرورت ہو۔ تو بہرحال یہ ہے کہ اس سے ہمیں پتا چلا، یہ اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ مسلسل اگر روزے رکھے تو اس کے لیے پھر مجاہدہ ختم ہو جاتا ہے، وہ اس کے ساتھ عادی ہو جاتا ہے۔ تو یہ مجاہدہ برقرار رکھنے کی ایک صورت ہے کہ ایک دن رکھے، ایک دن نہ رکھے۔ تو اس میں بڑی حکمتیں ہیں، بہرحال یہ ہے کہ یہ صحابہ کرام کی یعنی آخرت کے کاموں کے ساتھ محبت کی ایک ماشاءاللہ علامت تھی کہ کیسے وہ محبت کرتے تھے۔ اللہ پاک ہمیں بھی ایسی محبت نصیب فرمائے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّتِ عَمَّا يَصِفُوْنَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔

دین میں اعتدال اور حقوق کی ادائیگی - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور