ربیع الاول کے اعمال: کثرتِ درود شریف اور کثرت ذکر

آیات: البقرہ: 152، الاحزاب: ،41 42 اور 56

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
جامع مسجد سیدنا حسین رضی اللہ عنہ - سیکٹر F-13، اسلام آباد - بنی سٹاپ، گولڑہ روڈ، اسلام آباد، پاکستان
  1. کثرتِ ذکر کے قرآنی حکم پر عمل جس جائز ذریعے سے بھی کیا جائے، وہ شرعاً مطلوب اور درست ہے۔
  2. ذکر کا ٹارگٹ مقرر کر کے عمل کرنے سے کام آسان ہو جاتا ہے اور انسان جلد اکتانے سے بچ جاتا ہے۔
  3. تسبیح اور کاؤنٹر جیسی اشیاء ذکر کی یاد دہانی کروانے والے مؤثر ذرائع ہیں، جن کے استعمال پر اعتراض درست نہیں۔
  4. کثرت سے نیک اعمال اور نفلی عبادات کرنے والوں پر تنقید کے بجائے ان پر رشک کرتے ہوئے اپنے لیے بھی توفیق مانگنی چاہیے۔
  5. مسلسل ذکر کی برکت سے بعض خوش نصیبوں کا دل اور بسا اوقات پورا جسم ہر وقت ذکر کا عادی ہو جاتا ہے۔
  6. قرآن مجید میں درود شریف کا حکم مضارع کے صیغے میں آیا ہے جو اسے مسلسل اور کثرت سے پڑھنے کا متقاضی ہے۔
  7. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کا فطری تقاضا ہر حال میں کثرت کے ساتھ درود شریف پڑھنا ہے۔
  8. آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص زمانی نسبت کی بنا پر ربیع الاول میں کثرت سے درود شریف پڑھنے کی مستقل عادت بنانی چاہیے۔
  9. شیطانی وسوسوں کو رد کرتے ہوئے اجر سے محرومی سے بچنے کے لیے بغیر وضو بھی ذکر اور درود شریف پڑھتے رہنا چاہیے۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ. أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ. وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى وَاذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا. وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا.

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ. اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

معزز خواتین و حضرات، میں نے آپ کے سامنے جو آیاتِ مبارکہ تلاوت کی ہیں، ان میں اللہ جل شانہ کے واضح احکامات موجود ہیں۔ اللہ کے حکم کے آگے سب کو سر جھکانا چاہیے اور اپنی عقل اس میں نہیں لڑانی چاہیے۔ بعض دفعہ انسان کو وسوسے بہت بڑے اجر سے محروم کر دیتے ہیں۔ لہذا ہمیں صحیح علم حاصل کرنا چاہیے تاکہ حق کو حق کہیں اور باطل کو باطل کہیں، صحیح عمل کریں، صحیح عقیدہ رکھیں۔ اور عمل میں صرف بعض خصوصی اعمال نہیں بلکہ پورے دین کے اعمال ہوں۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً. اسلام کے اندر پورے پورے داخل ہو جاؤ۔

وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ. اور شیطان کے نقشِ قدم پہ نہ چلو۔

إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ. بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

لہذا شیطان ہمیں بعض اجر کی باتوں سے صرف وسوسوں کی وجہ سے محروم کر دیتا ہے۔

اب میں اصل بات کی طرف آتا ہوں۔ اللہ جل شانہ نے جو یہ ارشاد فرمایا: وَاذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا. کہ اللہ کا ذکر کثرت کے ساتھ کرو۔ اللہ کا ذکر کثرت کے ساتھ کرو اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کیا کرو۔ اب دیکھ لیں "کثرت" کسے کہتے ہیں۔ اب ذرا غور فرمائیں، ایک ہوتا ہے واحد، عربی کے قاعدے کے لحاظ سے۔ ایک ہوتا ہے تثنیہ، یعنی دو چیزیں جو بھی ہوں۔ اور ایک ہوتا ہے جمع، یعنی دو سے زیادہ۔ اب دو سے زیادہ ہو گئے تو جمع میں آ گیا۔ لیکن دیکھ لیں تین بھی جمع ہے، پانچ بھی جمع ہے، دس بھی جمع ہے، بارہ بھی جمع ہے، کروڑ بھی جمع ہے، ارب بھی جمع ہے، کھرب بھی جمع ہے، اس کی کوئی حد ہے؟ سب جمع میں آتے ہیں۔

تو اب دیکھ لیں، اگر میں کہتا ہوں کہ آپ جمع عمل کر لیں۔ تو آپ کیا کہیں گے؟ بھئی تین کر لیا تو بس ٹھیک ہے، بالکل صحیح ہے، غلط نہیں ہے۔ لیکن تین کے مقابلے میں پانچ، پانچ کے مقابلے میں دس، دس کے مقابلے میں سو، سو کے مقابلے میں ہزار، کون سا زیادہ ہے؟ ظاہر ہے دیکھنا پڑے گا نا۔ اس طرح کثرت ہے۔ کثرت جو ہوتی ہے، مطلب ظاہر ہے وہ بہت کو کہتے ہیں، بہت کو۔ یعنی اللہ تعالی کو بہت زیادہ یاد کرو۔ تو بہت، دیکھیں کسی کے نزدیک سو بہت ہے، کسی کے نزدیک ہزار بہت ہے، کسی کے نزدیک پچاس بہت ہے، کسی کے نزدیک لاکھ بہت ہیں۔ تو بہت کی کوئی حد تو نہیں ہے۔ تو اب کمال کی بات ہے، جو بہت عمل کرتا ہے، اس پہ وہ شخص رد کرتا ہے جو تھوڑا عمل کرتا ہے، کمال کی بات ہے۔ کمال کی بات ہے یا نہیں ہے؟ جو تھوڑا عمل کرتا ہے وہ کس پر رد کر رہا ہے؟ اس کو برا کہہ رہا ہے جو زیادہ عمل کر رہا ہے، اور اس عمل کا حکم اللہ نے دیا ہے۔

تو پھر ظاہر ہے آج کل کے دور کی بات کر رہا ہوں۔ آج کل کے دور کی بات کر رہا ہوں، آج کل ایسا ہے۔ یہ آج کل کا مرض ہے کہ نہ خود عمل کرو نہ دوسرے کو کرنے دو۔ اور جس چیز کو نہیں کرنا ہو، اس کی قرآنی آیات اور صحیح احادیث شریفہ کو چھوڑ کر جو ضعیف حدیث اس کے بارے میں بیان کیے گئے ہیں، تو کہتے ہیں یہ ضعیف ہے۔ خدا کے بندے، آپ نے آگے بھی پڑھا ہے یا صرف اتنا پڑھا ہے؟ ٹھیک ہے ضعیف روایت سے انکار نہیں۔ ضعیف روایت ہوتی ہے۔ لیکن ضعیف روایت کی وجہ سے آپ ان کی صحیح روایت کو تو رد نہیں کر سکتے۔ آپ قرآن پاک کی آیات کو تو نہیں چھوڑ سکتے۔

تو اب یہ جو بات میں عرض کر رہا ہوں یہ بہت اہم ہے۔ دیکھو، اللہ جل شانہ نے ذکر کے بارے میں کثرت کا فرمایا ہے۔ لہذا جو جس ذریعے سے بھی کثرت کرے گا، وہ اللہ کے حکم پہ عمل کر رہا ہے۔ جو جس ذریعے سے بھی کثرت پر عمل کرے گا وہ کیا ہے؟ وہ اللہ کے حکم پر عمل کر رہا ہے کیونکہ اللہ پاک نے فرمایا ہے کثرت کے ساتھ اللہ کو یاد کر لیا کرو، بہت زیادہ اللہ تعالی کو یاد کیا کرو۔

اب بتاتا ہوں تجربے کی بات۔ انگلیوں پر کرنا سنت ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ اس سے انکار ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہے۔ صحابہ کا عمل ہے۔ لیکن کثرت کے ساتھ اللہ کا حکم ہے۔ کثرت کے ساتھ کرنا اللہ کا حکم ہے۔ اب اگر آپ انگلیوں کے ساتھ گن کر کثرت کا عمل کر سکتے ہیں، سبحان اللہ، سر آنکھوں پر۔ کوئی بات نہیں۔ اور ہو سکتا ہے، یہ نہیں کہ ہو نہیں سکتا۔ ہو سکتا ہے، سیکھنا چاہیے، سکھا بھی سکتے ہیں۔ عقدِ انامل اس کو کہتے ہیں۔ انگلیوں کے ذریعے سے ہزاروں لاکھوں کی تعداد کو کرنا، انگلیوں کے ذریعے سے۔ بالکل طریقہ کار ہے، اس کو "عقدِ انامل" کہتے ہیں۔ سیکھنا چاہیے۔ لیکن جو لوگ یہ اعتراض کر رہے ہیں، کیا ان کو یہ معلوم ہے؟ کیا طریقہ معلوم ہے؟ یہ طریقہ ان کو معلوم تو نہیں ہے، تو پھر اس کا مطلب ہے جب انگلیوں پر کرو گے اور یہ طریقہ معلوم نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟ کثرت میں نہیں لا سکو گے۔ کثرت میں نہیں۔

کیونکہ دیکھیں میں آپ کو بات بتاؤں۔ جو عمل گن کے کیا جاتا ہے وہ ایک ٹارگٹ ہے۔ وہ کیا ہے؟ وہ ایک ٹارگٹ ہے۔ اس ٹارگٹ کو لوگ پورا کرتے ہیں، عمل نصیب ہو جاتا ہے۔ اور جو لوگ ٹارگٹ اپنے سامنے نہیں رکھتے، بہت جلدی اکتا جاتے ہیں۔ یہ روزمرہ کی بات ہے، exercise کو دیکھو۔ وہ ڈاکٹر لوگ کہتے ہیں تین کلومیٹر روزانہ آپ نے walk کرنی ہے۔ پانچ کلومیٹر روزانہ آپ نے walk کرنی ہے۔ ایک آدمی کہتا ہے میں گن کے نہیں کرتا، میں ویسے کرتا ہوں۔ تو کرو۔ کس نے روکا ہے؟ تو پھر کتنا۔۔۔۔ کر لیتے ہیں؟ رہ جاتے ہیں۔ رہ جاتے ہیں۔ تجربے سے ثابت ہوا کہ ٹارگٹ اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ ٹارگٹ کے ذریعے سے کام کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ تو اس طرح جو لوگ ٹارگٹ رکھتے ہیں کہ میں نے روزانہ دس ہزار مرتبہ درود شریف پڑھنا ہے۔ ہو جاتا ہے۔ لیکن جو اس ٹارگٹ کو نہیں رکھتے، ان سے پوچھو نا کتنا پڑھا ہے؟

میں آپ کو ایک بات بتاؤں، سفر پہ اب جو کوئی جاتا ہے نا سفر پر۔ تو سفر پر جانے میں اگر کسی کے ساتھ تسبیح نہیں ہے یا کاؤنٹر نہیں ہے۔ وہ اگر ذکر کرنا چاہے گا تو کتنا کرے گا؟ بغیر گنے جو کرتے ہیں، کتنا کرے گا؟ بغیر گنے کرنے کا طریقہ بھی آتا ہے، وہ بعد میں بتاؤں گا۔ کیونکہ اس کو یہ لوگ تصوف کی بات کہتے ہیں۔ اس کے ساتھ تو چڑ ہے۔ تو جس وقت گاڑی میں بیٹھ کے اس نے کہا میں نے دس ہزار مرتبہ یہ پڑھنا ہے۔ جب تک وہ پورا نہیں ہوتا، اس کو آرام تو نہیں آتا۔ کرتا رہتا ہے۔ اور ہو بھی جاتا ہے۔

ایک دفعہ تبلیغی جماعت کے ساتھ میں گیا تھا۔ شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب فضائل اعمال میں پڑھا کہ جو ستر ہزار مرتبہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ پڑھے گا تو اللہ تعالی اس سے دوزخ کے عذاب کو دور کرے گا۔ اس کے بارے میں کچھ واقعات بھی بتائے تھے حضرت۔ مجھے بھی شوق ہوا۔ میں نے کہا میں بھی کرتا ہوں۔ شروع کر لیا۔ پینتیس ہزار میں نے تو جماعت میں کر لیا چلتے چلتے۔ کر لیا۔ پینتیس ہزار رہ گیا۔ جب وقت پورا ہو گیا، واپس آ رہا تھا، میں نے کہا اب تو میں نے راستے میں اس کو کرنا ہے۔ اب تو میں نے راستے میں اس کو پورا کرنا ہے۔ کیونکہ گھر چلا گیا تو پتہ نہیں پھر ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ تو پھر کیا ہوا؟ میں بھی ڈٹ گیا۔ نو گھنٹے کا سفر تھا ہمارے گاؤں تک، رائیونڈ سے۔ نو گھنٹے کا سفر تھا۔ اس نو گھنٹے میں ایک گھنٹہ میں نے نماز پڑھی ہوگی، کھانا کھایا ہوگا یا کسی نے کچھ پوچھا ہو تو اس کا جواب دیا ہوگا۔ آٹھ گھنٹے میں نے الحمدللہ ذکر کیا، تقریبا۔ اور واپس آ کے پورا ہو گیا۔

پینتیس ہزار مرتبہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ نصیب ہوا آٹھ گھنٹے میں۔ ایک گھنٹے میں کتنا ہوا؟ خود ہی حساب کر لو۔ تقریبا چار ہزار مرتبہ تو ہو گیا۔ اب دیکھیں، اگر یہ ارادہ میں نے نہ کیا ہوتا، اتنا نصیب ہوتا؟ یہ ٹارگٹ میرے سامنے نہ ہوتا تو اتنا نصیب ہوتا؟ اتنا نصیب نہ ہوتا۔

تو پتہ چلا کہ ٹارگٹ میں زبردست ماشاء اللہ انتظام ہے۔ کثرت کو حاصل کرنے کا۔ کثرت کا چونکہ حکم ہے، لہذا اس حکم پر عمل کرنے کے لیے اگر آپ کا تجربہ کام آ جائے تو اس کو شریعت ناجائز کہتی ہے؟ بس یہی بات ہے جو سمجھ میں نہیں آتی لوگوں کو۔ اعتراض کر لیتے ہیں، کہاں سے ثابت ہے جی تسبیح پہ پڑھنا۔ خدا کے بندے، تسبیح پہ پڑھنا کوئی ہم نے فرض تو نہیں قرار دیا۔ یہ تو صرف ایک تجرباتی چیز ہے، بلکہ اس کو عربی میں "مُذَكِّرَة" کہتے ہیں۔ یعنی یاد دہانی کروانے والی۔ مذکرہ۔ یاد دہانی کروانے والی۔ جس کے ذریعے سے انسان کو یاد دہانی ہوتی ہے کہ میں نے ذکر کرنا ہے۔ آج کل کا کاؤنٹر بھی مذکر ہے۔ اور قرآن میں ہے: فَذَكِّرْ إِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ. پس یاد دہانی کیا کرو، یاد دہانی مومنین کو نفع دیتی ہے۔ تو تسبیح مذکرہ ہو گئی تو نفع دے رہی ہے نا۔ جب نفع دے رہی ہے تو اللہ کے حکم پر عمل ہے یا نہیں ہے؟ خدا کے بندو، تھوڑا سا سوچ بھی لیا کرو، اعتراض کرنے سے پہلے تھوڑا سا سوچ بھی کر لیا کرو۔

تو اس قسم کی باتیں ہوتی ہیں۔ یہ چونکہ عملی چیزیں ہیں، عملی طور پر سمجھ میں آتی ہیں۔ عملی چیزیں ہیں تو عملی طور پر سمجھ میں آتی ہیں۔ یہ کتابوں سے نہیں سمجھ میں آتیں۔ کیونکہ theoretical چیز نہیں ہے۔ theory اس کی اتنی ہے جیسے میں نے بتا دیا۔ وہ یہ ہے کہ قرآن پاک کا حکم ہے: وَاذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا. یہ theory ہے اس کی۔ اب اس سے آگے کس طرح اس پر عمل ہو جائے، یہ practical ہے۔ تو جو practical لوگ ہیں، ان سے آپ سیکھیں گے۔ جنہوں نے اس چیز کو حاصل کیا، اس سے آپ سیکھیں گے۔

اب میں بتاتا ہوں کثرت کے ساتھ ذکر کا طریقہ۔ بغیر گنے کیسے ہوتا ہے وہ بھی بتاتا ہوں۔ اللہ تعالی ہم سب کو نصیب فرما دے۔ ہمارے ایک کاکا خیل فیملی کے بہت بڑے بزرگ تھے۔ مولانا عزیر گل صاحب رحمۃ اللہ علیہ، یہ حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے خصوصی حضرات میں سے تھے۔ اسیرِ مالٹا تھے۔ ان کے ساتھ مالٹا میں قید ہوئے تھے۔ بڑی نسبت تھی۔ بڑے دور دور سے لوگ ملنے آتے تھے۔ تو ان کی بیوی تھی ایک جو نو مسلمہ انگریز تھی، شاہی خاندان کی تھی۔ اپنے choice پر مسلمان ہوئی تھی۔ وہ جو choice پر مسلمان ہو جائیں، ان کے حالات بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ بڑی نیک خاتون تھی، ہمارے خاندان والے ان کو mother کہتے تھے، mother۔

تو mother مرحومہ جو تھی، بڑی ذاکرہ شاغلہ تھی۔ تو اپنے سوتیلے بیٹے جو حضرت مولانا عزیر گل صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی پہلی بیوی سے تھے، جو بیوی فوت ہو گئی تھی۔ ان کا نام تھا مولانا عبدالرؤوف۔ جب وہ دس سال کے تھے، اس کو ذکر کرنا سکھایا۔ دیکھو نا، ماں ماں ہوتی ہے تو پھر کیسے بات بنتی ہے۔ ذکر کرنا سکھایا، کون سا ذکر؟ سانس کے ذریعے سے ذکر۔ کہ ہر سانس ذکر کے ساتھ ہو۔ ہر سانس ذکر کے ساتھ ہو۔ سبحان اللہ۔ یہ سکھایا۔ یہ کہہ کر کہ بیٹا سیکھ لو۔ اتنی سانسیں اللہ کے ذکر کے بغیر لو گے؟ اتنی سانسیں اللہ کے ذکر کے بغیر لو گے؟ یہ بتا کے اس کو سکھایا۔ الحمد للہ، اس نے سیکھا۔ ستر سال کی عمر میں وفات پائی۔ ساٹھ سال اس نے ہر سانس کے ساتھ اللہ کا ذکر کیا۔ کثرت پہ عمل ہوا نا؟ اس نے گنا ہے؟ گنا نہیں ہے۔ بغیر گنے کثرت پہ عمل نصیب ہوا۔

اس کے لیے پھر یہ کرنا پڑے گا نا، پھر کرو نا۔ پھر کرو۔ میں نہیں کہتا کہ تم ضرور کرو۔ میں صرف اتنا کہتا ہوں جو کرتے ہیں ان پہ اعتراض نہ کرو۔ ان کو روکو نہیں۔ یہ بات میں صرف کہتا ہوں۔

کسی کی قسمت میں نہیں تو ہم زبردستی اس کی قسمت میں تو نہیں لا سکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ پاک نے فرمایا: إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ پاک نے فرمایا تو ہدایت نہیں دے سکتا جس کو تو پسند کرتا ہے کہ ہدایت اس کو ہو۔ ضروری نہیں کہ اس کو ہدایت مل جائے، ہدایت تو اللہ تعالی دیتے ہیں۔ لہذا اگر کوئی نہیں کرنا چاہتا۔ تو ہم اس کو کچھ نہیں کہتے۔ کیونکہ ہمارے کچھ کہنے کا موقع نہیں ہے۔ نفلی عمل ہے۔ نفلی عمل اگر کوئی نہ کرے تو اس پر کیا ہے؟ اس پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ نفلی عمل کوئی نہ کرے اس پر ملامت نہیں ہے۔

ایک دفعہ یہ جو آیتِ کریمہ میں نے تلاوت کی:

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا.

بے شک اللہ اور اللہ کے فرشتے اس عظیم نبی پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ اے مومنو، تم ان پر اہتمام کے ساتھ درود و سلام بھیجو۔ اس حکم کی وجہ سے پوری زندگی میں ایک دفعہ درود شریف پڑھنا فرض ہے۔ پوری زندگی میں ایک دفعہ درود شریف پڑھنا فرض ہے۔ پڑھے گا ہر ایک۔ جو نماز پڑھتے ہیں، اس میں ہو ہی جاتا ہے نا۔ جو نماز پڑھ لیتا ہے تو نماز میں تو درود شریف ہے نا۔ لہذا فرض ادا ہو جاتا ہے۔ پھر ہر دفعہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیا جائے تو درود پڑھنا، ایک دفعہ پڑھنا واجب ہے۔ ہر دفعہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیا جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا ایک دفعہ واجب ہے۔ پھر جتنی مرتبہ لیا جائے اس پر پڑھنا مستحب ہے۔ مستحب ہے۔ ثواب ہے۔

کیسا ثواب ہے؟ سبحان اللہ، سبحان اللہ، سبحان اللہ۔ بعض دفعہ تو ایسے موقعے نصیب ہو جاتے ہیں۔ آدمی حیران ہو جاتا ہے، اللہ تعالی قبولیت جب نصیب فرما دیتے ہیں، کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سنا، مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، اس نے بآواز بلند، بآواز بلند بعض دفعہ اس طرح اضطراری طور پر ہو جاتا ہے، کہ انسان کو پتہ نہیں ہوتا وہ ذرا زبان سے نکل جاتا ہے۔ جیسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم زبان سے نکل گیا۔ اور اس طرح پڑھ لیا، اس سے تمام مجلس کو یاد آ گیا درود شریف پڑھنا، وہ ان سب نے بھی پڑھ لیا، سب کا ثواب اس کے کھاتے میں بھی لکھا گیا۔

اب دیکھ لو۔ یہ کوئی فرض نہیں تھا۔ واجب نہیں تھا۔ کیا تھا؟ مستحب تھا۔ لیکن مستحب کس چیز کو کہتے ہیں؟ مستحب اس چیز کو کہتے ہیں، اللہ کا پسندیدہ۔ کس کا پسندیدہ؟ اللہ کا پسندیدہ۔ اللہ کی پسندیدہ چیز کی آپ کیا کر سکتے ہیں، کچھ بے ادبی گستاخی کر سکتے ہیں؟ اللہ کی پسندیدہ چیز کی۔

آج کل عجیب انداز سے کہتے ہیں مستحب ہی تو ہے۔ بھئی مستحب ہے۔ میٹھا کھانا فرض ہے یا واجب ہے؟ سنت ہے کیا ہے؟ مٹھائی کھانا، حلوہ کھانا کیا ہے؟ کچھ بھی نہیں، مباح ہے۔ مباح ہے۔ لیکن لوگ کھاتے ہیں۔ چھوڑتے نہیں ہیں۔ چھوڑتے نہیں، پسند۔

اب اگر نصیب نہ ہو مثلاً شوگر کی بیماری ہو، اللہ ہم سب کو بچائے، سب مریضوں کی طرف سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ پاک سب کو شفا دے دے۔ تو کیا خیال ہے اگر اس پہ بند کیا ہے ڈاکٹر نے، تو نے نہیں کھانا۔ تو نے مٹھائی نہیں کھانی، کیوں؟ تجھ پر بند ہے۔ اگر تو کھائے گا تجھے یہ بیماری ہو جائے گی، یہ بیماری ہو گی، یہ بیماری ہو گی، ایسا ہو جائے گا، ایسا ہو جائے گا۔ وہ بیچارہ اس کو دیکھتا رہتا ہے۔ کھا نہیں سکتا۔ کیا خیال ہے، وہ جب نہیں کھا سکتا تو وہ کہہ سکتا ہے کہ جو مٹھائی کھاتا ہے وہ غلط کرتا ہے؟ مٹھائی کھانے والوں کو ناپسند کرتا ہے؟ کہتا ہے کاش میں بھی ایسا ہوتا۔ کاش میں بھی ایسا ہوتا کہ میں بھی مٹھائی کھا سکتا، حلوہ کھا سکتا۔ یہ چیزیں کھا سکتا۔ افسوس کرتا ہے۔ ان پہ رشک کرتا ہے۔ بلکہ بعض دفعہ ان کو نظر لگاتا ہے۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ. ٹھیک ہے نا۔

تو اب دیکھ لو، جب یہ والی بات ہے تو یہی چیز مستحب کی بات ہے نا کہ کوئی فرض واجب نہیں ہے، سنت مؤکدہ نہیں ہے۔ مستحب ہے، اگر آپ کی قسمت میں نہیں ہے تو جن کی قسمت میں ہے ان پہ رشک کیا کرو۔ رشک کیا کرو، شکر الحمدللہ دیکھو نا ان کو اللہ تعالی نے حاصل کروایا، ماشاءاللہ، اللہ مجھے بھی نصیب فرما دے۔ ایک آدمی کثرت کے ساتھ روزے رکھ رہا ہے، آپ اپنے لیے بھی دعا کر لیں اللہ مجھے بھی نصیب فرما دے۔ حالانکہ نفلی روزہ رکھنا فرض واجب تو نہیں ہے۔ قرآن پاک کی تلاوت ایک بہت زیادہ کرتا ہے۔ سبحان اللہ، اس کو ثواب مل رہا ہے نا۔ اس کو ثواب مل رہا ہے۔ تو آپ اس پہ رشک کریں کاش اتنا ثواب میں بھی حاصل، میں بھی قرآن پاک کی تلاوت کر سکتا۔

میں آپ کو اپنا واقعہ سناتا ہوں۔ ایک دفعہ میں راستے پہ جا رہا تھا۔ ایک حافظِ قرآن کا گزر ہوا، سبحان اللہ۔ جو پکے حافظِ قرآن ہوتے ہیں نا، وہ چلتے چلتے بھی قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ اور جو کچے ہوتے ہیں نا بیچارے، وہ رمضان شریف کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ رمضان شریف میں قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ پھر وہ کچے ہی رہتے ہیں۔ پھر وہ کیا رہتے ہیں؟ کچے ہی رہتے ہیں، کیونکہ انہوں نے رمضان شریف کا انتظار جو کرنا ہے۔ ایک دفعہ قرآن کو پکا کر لو، پھر چلتے چلتے پڑھو گے بھولو گے ہی نہیں۔ کیونکہ کثرت کے ساتھ جب آپ اس کو پڑھیں گے، پھر بھولنا کیوں ہے؟ بھولتا تو انسان تب ہے جب اس کو نہ پڑھے۔ اچھا، وہ جا رہے تھے، وہ تلاوت کر رہے تھے، مجھے بہت رشک آیا اس کے اوپر۔ مجھے اس کے اوپر بہت رشک آیا، میرے دل نے کہا کاش میں بھی حافظِ قرآن ہوتا تو میں بھی اس طرح چلتے چلتے قرآن پاک کی تلاوت کیا کرتا۔ سبحان اللہ، سبحان اللہ، یہ رشک بڑی زبردست چیز ہے۔

حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ۔ بہت بڑے ولی اللہ گزرے ہیں جس نے بادشاہی چھوڑی تھی، فقیری کے لیے بادشاہی چھوڑی تھی۔ وہ جب فوت ہو گئے، کسی نے ان کو خواب میں دیکھا، حضرت آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟ فرمایا بہت اللہ نے اکرام کیا، بہت اللہ نے اکرام کیا، بہت اللہ نے دے دیا، مگر میرا پڑوسی مجھ سے آگے چلا گیا۔ واہ۔ پڑوسی آگے چلا گیا، خواب دیکھنے والا حیران۔ کہ آپ سے کیسے آگے چلا گیا آپ کا پڑوسی، وہ کیا عمل کرتا تھا؟ فرمایا وہ عیال دار تھا۔ کثیرالاولاد تھے۔ ان کے لیے رزقِ حلال کمانے میں مگن رہتا تھا، فرض نماز، روزہ، سنتِ مؤکدہ تک یہ ساری چیزیں کرتا تھا، اور مجھے دیکھ دیکھ کر رشک کرتا تھا، کاش میں بھی اس طرح کر سکتا جس طرح ابراہیم بن ادھم کر رہے ہیں، اس رشک کی وجہ سے اللہ پاک نے مجھ سے اسے آگے بڑھا دیا۔ سبحان اللہ، سبحان اللہ۔ کیا خیال ہے بھئی، نیک عمل کرنے والے پہ رشک کرو گے یا ان کے ساتھ حسد؟ ہاں رشک کرنا چاہیے، اپنے لیے بھی دعا کرنی چاہیے۔

تو بہرحال میں عرض کر رہا تھا۔ کہ مجھے رشک ہوا اس کے اوپر۔ یکدم اللہ پاک نے دل میں بات ڈالی، سبحان اللہ، اللہ پاک کا کرم، اللہ پاک کا احسان، اللہ پاک کا فضل ہوا۔ دل میں بات آئی قرآن کا حافظ تو نہیں ہو، لیکن کیا ذکر بھی نہیں کر سکتے ہو؟ ذکر تو کر سکتے ہو نا ہر وقت۔ کیا بات بنی۔ بات تو صحیح ہے۔ بھئی ذکر کرنا کس کو نہیں آتا۔ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ پڑھنا کس کو نہیں آتا، درود شریف پڑھنا کس کو نہیں آتا، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ کس کو نہیں آتا۔ یہ تو سب کو آتا ہے۔ وہ نہیں آتا تو سیکھ لے۔ تو جس وقت سیکھا ہوا ہو گا، اور کرتا ہوا ہو گا تو سبحان اللہ عادت بن جائے گی۔ اور پھر وہ کرتا ہو گا، ہر وقت ذکر کرتا ہو گا، ہر وقت ذکر کرتا ہو گا۔

جیسے مولانا عبدالرؤف صاحب رحمۃ اللہ علیہ سانس کے ذریعے سے ہر وقت ذکر کرتے تھے۔ اس طرح لوگ بعض خوش نصیب ہوتے ہیں جن کا دل ہر وقت ذکر کر رہا ہوتا ہے۔ جی ہاں۔ میں مبالغے کی بات نہیں کرتا ہوں، جانتا ہوں اس چیز کو الحمدللہ۔ یہ ہوتا ہے۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کے بات کرتا ہوں، بعض خوش نصیبوں کا پورا جسم ذکر کر رہا ہوتا ہے۔ یہ تو اب سمجھ ہی نہیں آئی ہو گی۔ کوئی بات نہیں۔ جب آپ ایسے لوگوں کے ساتھ ملو گے تو سمجھ آئے گی نا۔ اب دور دور سے تو پتہ نہیں چلے گا، انہوں نے لاؤڈ اسپیکر تو نہیں لگایا کہ میرا پورا جسم ذکر کر رہا ہے۔ وہ تو آپ ان کے ساتھ بیٹھے ہو گے، ان کے ساتھ ملتے جلتے ہو گے تو پھر کبھی سمجھ میں آ جائے گا۔

مجھے خوب یاد ہے۔ حضرت مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ جن کی خدمت پر میں مامور تھا، حرم شریف میں۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے۔ سبحان اللہ۔ تو وہ حرم شریف میں بیٹھے خانہ کعبہ کی طرف دیکھ کر اس طرح کھڑے ہوئے زانو کے ساتھ، وہ تسبیح ان کے ساتھ ہوتی تھی اور اس طرح خانہ کعبہ کو دیکھ رہے ہوتے تھے اور ذکر کر رہے ہوتے تھے، خانہ کعبہ کو دیکھ رہے ہوتے تھے، ذکر کر رہے ہوتے تھے۔ ایک دن میں نے دیکھا، تھک گئے تو ظاہر ہے ظہر کی نماز کے بعد، تھک گئے لیٹ گئے، ویسے بھی قیلولہ کرنا سنت ہے۔ لیٹ گئے۔ تو میں نے دیکھا ان کا جو پیر ہے نا پیر، ان کا پیر وہ بالکل لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کی طرح اس طرح حرکت کرتا تھا۔ نیند میں ہیں، سو رہے ہیں۔ تو ان کا پورا جسم ذکر کر رہا تھا نا۔ ویسے تو نہیں تھا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض خوش نصیب ایسے ہوتے ہیں ذکر کی کثرت کی وجہ سے اللہ تعالی ان کو یہ انعام نصیب فرما دیتے ہیں۔ کہ ان کا پورا جسم پھر ہر وقت ذکر کرنے لگتا ہے۔ بلکہ وہ ذکر کرنے کی کنجی بن جاتے ہیں۔ ان کو دیکھ کر لوگ ذکر کرنے لگتے ہیں، ایسے خوش نصیب ہوتے ہیں۔

میرا مکان بن رہا تھا۔ میرے ایک دوست آئے، تھے تو میرے شاگرد، ظاہر ہے لیکن دوست تھے۔ قرآن کے حافظ تھے۔ پکے حافظ تھے ماشاءاللہ، ایک بزرگ مجھ سے ملنے کے لیے آئے۔ اس بزرگ نے آ کر میرے کان میں کہا یہ کون ہے؟ اس کے اوپر قرآن کے انوارات ہیں۔ اس بزرگ نے مجھ سے پوچھا۔ اس اپنے شاگرد کے بارے میں، یہ کون ہے، اس کے اوپر قرآن کے انوارات ہیں؟ اس حافظِ قرآن نے مجھ سے پوچھا، یہ بزرگ کون ہے، اس کو دیکھ کر میرا دل جاری ہو گیا؟ یہ بزرگ کون ہے، اس کو دیکھ کر میرا دل جاری ہو گیا؟ سبحان اللہ، سبحان اللہ، سبحان اللہ، یہ باتیں ہوتی ہیں۔ بھئی آپ لوگوں نے یہ باتیں سنی ہوتیں تو اعتراض نہ کرتے نا، نہیں سنی تو پھر اعتراض تو کرو گے۔ تھوڑا سا ان لوگوں کے قریب تو آ جاؤ نا۔ پھر اعتراض نہیں کرو گے۔

اب میں ذرا آخری بات کرنے والا ہوں۔ جس پہ لوگ بہت اعتراض کرتے ہیں، إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ. درود شریف کی کثرت کا دیکھیں۔ حکم ہے یا نہیں اس آیتِ کریمہ کے مطابق، إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا. حکم ہے۔ حکم کس طرح ہے؟ مضارع کا صیغہ ہے، عربی دانوں سے پوچھو۔ مضارع کا صیغہ ہے۔ عربی دانوں سے پوچھو۔ مضارع کا صیغہ ہے۔ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ، ہر وقت ہر دم درود بھیجتے رہتے ہیں۔ مضارع کا صیغہ ہے۔ اور تم بھی کرو۔ اس کا مطلب ہے تم بھی مسلسل کرو نا۔ اللہ پاک جو کر رہے ہیں، ملائکہ جو کر رہے ہیں، تو پتہ چلا کہ درود شریف تو سبحان اللہ، سبحان اللہ، سبحان اللہ ہونا چاہیے۔

اب عادت ڈالنے کے لیے کیا کریں؟ بتاتا ہوں۔ یہ میں نے آپ کو بتایا یہ تجرباتی باتیں ہیں، اس کو آپ نے قرآن میں نہیں دیکھنا، حدیث میں نہیں دیکھنا۔ کیوں؟ یہ تجرباتی باتیں ہیں۔ بھئی میرا تجربہ، آپ کا تجربہ، سب کا تجربہ، قرآن میں ہو گا؟ تجربے تو مختلف ہوتے رہتے ہیں، یہ ساری چیزیں تو قرآن میں نہیں ہوں گی۔ تو یہ بات ہے کہ ماشاءاللہ جو درود شریف کسی طریقے سے بھی کثرت کے ساتھ پڑھے گا اس کی عادت ہو جائے گی۔ اور اس پر عمل نصیب ہو جائے گا۔

اب میں عرض کرتا ہوں ذرا آسانی کے ساتھ اس پر آنے کے لیے، ربیع الاول کا مہینہ ہے نا۔ ربیع الاول کا مہینہ بھئی یاد ہے یا نہیں ہے؟ سب کو یاد ہے؟ ربیع الاول کا مہینہ ہے۔ ربیع الاول کا مہینہ کون سا مہینہ ہے؟ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے۔ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی ابتدا کی۔ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت پوری ہوئی یعنی مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ اور یہ سب کام پیر کے دن ہوئے ہیں۔ یہ سب کام پیر کے دن ہوئے ہیں۔ کچھ پتہ چلا کہ پیر کو پیر کیوں کہتے ہیں؟ پیر کے دن کو پیر کیوں کہتے ہیں؟ کچھ پتہ چلا؟ آج معلوم ہو گیا نا۔ کیوں کہتے ہیں پیر کے دن کو پیر؟ پیر کہتے ہیں بس۔ جب پیر کے دن کو پیر کہتے ہیں تو ربیع الاول کو بھی کچھ کہنا چاہیے نا۔ سبحان اللہ۔ اس کے بارے میں بھی کچھ تاثرات تو ہونے چاہئیں نا۔

دیکھو سارے شہر اللہ کے ہیں۔ سارے شہر اللہ کے ہیں۔ -سبحان اللہ- ہم سب کی قدر کرتے ہیں۔ لیکن مدینہ منورہ مدینہ منورہ ہے۔ مدینہ منورہ اللہ کا وہ شہر ہے، جیسے میں نے کہا سارے شہر ہیں، مدینہ منورہ اللہ پاک کا وہ شہر ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ تو اس وجہ سے مدینہ منورہ کو ایک -سبحان اللہ- ایک خاص سعادت حاصل ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جو مدینہ منورہ جاتا ہے درود شریف پڑھتا ہے۔ اور جو مدینہ منورہ میں بھی درود شریف نہ پڑھے، پھر اس کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ جو مدینہ منورہ میں بھی درود شریف، جن کو نصیب نہ ہو تو پتہ چلے کہ دل بڑا سخت ہے۔ اثر نہیں لے رہا۔ اثر نہیں لے رہا۔ اس کو نرم ہونا چاہیے تاکہ اثر لے سکے۔

تو مدینہ منورہ میں جو درود شریف ہم پڑھتے ہیں کثرت کے ساتھ، وجہ یہ ہے کہ مدینہ منورہ کو ایک نسبت حاصل ہے۔ اور وہ نسبت ہے مکانی کی، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں ہیں۔ لہذا اس نسبت کی وجہ سے ہمیں اس کے ساتھ محبت بھی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود شریف پڑھنا بھی اس میں نصیب ہو جاتا ہے۔

تو اگر مدینہ منورہ کو مکانی نسبت ہے تو ربیع الاول کو زمانی نسبت ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم، سبحان اللہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ اب کوئی ولادت کا دن مناتا ہے کوئی وفات کا دن مناتا ہے۔ ہمارے علاقوں میں اس کو بارہ وفات کہتے ہیں، پشتو میں۔ کیا کہتے ہیں؟ "بارہ وفات" کہتے ہیں ربیع الاول کے مہینے کو۔ تو کوئی وفات مناتا ہے کوئی ولادت مناتا ہے۔

خدا کے بندو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو مناؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہر وقت ہونی چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے، تمہارا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک مجھ سے، اپنے بچوں سے زیادہ، اپنے والدین سے زیادہ، بلکہ تمام لوگوں سے زیادہ محبت نہ کرو۔ اور یہ بھی علمائے کرام نے بزورِ احتیاط یہ ترجمہ کیا ہے ورنہ الفاظ تو بہت ہی سخت ہیں۔ اور وہ کیا ہے؟ "لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ"، تم میں سے کوئی مومن نہیں اس وقت تک۔ ترجمہ کیا ہے اس کا؟ یہ ہے جو میں نے بتا دیا۔ علمائے کرام اور قرآنی آیات اور احادیث شریفہ کی وجہ سے احتیاط کر رہے ہیں کہ کہیں کفر کا فتویٰ ہم نہ لگا دیں کسی کے اوپر۔ تو اس وجہ سے انہوں نے کہا تمہارا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا۔ ان کی نیت کو سلام۔ بالکل ٹھیک۔ لیکن زور تو زور ہے نا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس انداز میں بات کی ہے سمجھ میں آنی چاہیے نا۔

اور وہ کیا ہے؟ بھئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت ہر حال میں ہونی چاہیے۔ تو جب محبت ہو مجھے بتاؤ محبت کے لیے، جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت ہو، کیا اس کو درود شریف پڑھنے میں کسی دلیل کی ضرورت ہے؟ محبت خود تجھے آداب اپنے سکھا دے گی۔ جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت ہوگی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت کے ساتھ درود شریف پڑھے گا۔ اس مہینے میں تو پڑھ ہی لے گا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یاد آئیں گے نا، اس مہینے میں تو پڑھ ہی لے گا۔ تو میں نے کہا ایک کثرت کا حکم اللہ نے دیا۔ کیونکہ درود شریف ذکر بھی ہے۔ اور ذکر کا تو میں نے بتا دیا۔ تو یہ بات ہے کہ مطلب کثرت کا تو اللہ پاک نے حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کے بارے میں بتا دیا، کہ مطلب محبت ہونی چاہیے۔ تو محبت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتا دیا۔ مزید فضائل بھی درود شریف کے ہیں، جس کا بیان کرنے کا وقت نہیں ہے۔ اس وجہ سے میں اس پر ختم کرتا ہوں۔ لیکن یاد رکھو اس مہینے میں اگر کثرت کے ساتھ درود شریف پڑھو گے، ان شاء اللہ یہ عادت ہو جائے گی۔ اس عادت کو ختم نہیں کرنا، پھر پڑھتے رہنا۔ پڑھتے رہنا۔

اور یاد رکھو، میں ایک دفعہ ایک عالم کے ساتھ جا رہا تھا، اس نے پیچھے مڑ کے کہا شبیر، "درود شریف بغیر وضو کے بھی پڑھا جا سکتا ہے"۔ کیونکہ شیطان پہلے وضو نہیں رہنے دیتا، پھر کہتا ہے تمہارا وضو نہیں درود شریف نہ پڑھو، درود شریف سے محروم کر لیتا ہے۔ بغیر وضو جیسے ذکر ہو سکتا ہے اللہ کا نام لیا جا سکتا ہے، اس طرح درود پاک بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ اس کو محبت کے غلبے کی صورت میں محرومی کہتے ہیں۔ محرومی کہتے ہیں۔

تو بہرحال یہ ہے کہ ہم لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت کے ساتھ درود شریف پڑھنا چاہیے، چاہے وضو ہو، چاہے وضو نہ ہو، اور ایک تعداد مقرر کر لے۔ ایک تعداد مقرر کر لے تاکہ نصیب ہو جائے۔ تو تعداد میں بتاتا ہوں، ہم نے اپنے ساتھیوں کو بتایا ہوتا ہے، ڈھائی لاکھ مرتبہ اس مہینے میں کر لیا کرو۔ لیکن اگر ڈھائی لاکھ نہ ہو سکے تو سوا لاکھ تو کر ہی لیا کرو نا۔ سوا لاکھ تو کر ہی لیا کرو۔ یہ تجربے کی بات ہے، یہ منصوص بات نہیں ہے۔ لیکن میں نے بتا دیا، حکم منصوص کیا ہے، کثرت کے ساتھ اللہ کو یاد کرو۔ اور حکم کیا ہے درود شریف، مضارع کے صیغے کے ساتھ، کثرت کے ساتھ ہونا چاہیے۔ تو بہرحال حکم تو ثابت ہو گیا، اب یہ ہے کہ کثرت کیسے حاصل کی جائے؟ وہ تجربے کی بات ہے، تجربے کی بات میں نے آپ کو بتا دی۔ لہذا اس مہینے میں پورے طور پہ متوجہ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر چلنے کی نیت کر کے آپ درود شریف کی کثرت کریں ان شاء اللہ۔

اور مزید ایک بات بتاتا ہوں، اگر آپ لوگ مانتے ہیں، تو مان لو، نہیں مانتے تو نہ مانو بے شک۔ ہمارا تجربہ ہے۔ ہمارا تجربہ ہے کہ ہم الحمد للہ جمع کرتے ہیں، اور کروڑوں کی تعداد میں جمع ہو جاتا ہے۔ ایک دفعہ تریسٹھ کروڑ جمع ہو گیا تھا، ساتھیوں نے پڑھا تھا، عورتوں نے، مردوں نے پڑھا ہوا تھا۔ پھر الحمد للہ وہاں پر ایک ماشاء اللہ اللہ والے موجود ہیں مدینہ منورہ میں جن کو ہم جانتے ہیں ان کے پاس بھیج دیتے ہیں، وہ روضہ اقدس پہ پیش کر لیتے ہیں۔ یاد رکھو، ہر وقت روضہ اقدس پہ پیش ہوتا ہے درود شریف، اس کے لیے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن میں آپ کے دل سے پوچھتا ہوں کہ اگر کوئی شخص مدینہ منورہ جاتے ہوں، آپ ان کو کہتے ہیں میرا روضہ اقدس پہ سلام کہنا۔ کہتے ہو یا نہیں کہتے ہو؟ کیوں کہتے ہو؟ حالانکہ ادھر سلام پڑھو، پہنچ جائے گا یا نہیں پہنچے گا؟ ہے نا بات؟ تو اس طریقے سے ماشاء اللہ پیش کرنے کا تو موقع ہے نا۔ پیش کرنے کا موقع ہے۔ ہم بھی کہہ دیتے ہیں، پیش بھی کر لیتے ہیں، اور کچھ بتا بھی دیتے ہیں، وہ بتانے پہ آپ یا مانیں نہ مانیں۔ آپ کی اپنی بات ہے۔ الحمد للہ ہمیں تو فائدہ ہوتا ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو نصیب فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.

ربیع الاول کے اعمال: کثرتِ درود شریف اور کثرت ذکر - جمعہ بیان - اشاعت دوم