معرفتِ الٰہی میں عقل کا کردار اور نفس کی حقیقت

درس نمبر 249، سورۃ الانعام، آیات: 11 تا 16، اشاعتِ اول: 4 اگست، 2022، بمطابق 6 محرم الحرام، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. گزشتہ نافرمان قوموں کے تباہ شدہ آثار انسانوں کو ان کے انجام سے عبرت حاصل کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
  2. آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے جس نے خود پر رحمت لازم کی ہے اور وہ سب کو قیامت میں جمع کرے گا۔
  3. نیند ایک چھوٹی موت ہے جس کے بعد بیداری اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ روزِ حساب کے لیے بھی دوبارہ زندہ کرے گا۔
  4. اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل کی بنیاد پر مکلف بنایا ہے تاکہ وہ رب کی معرفت حاصل کرے اور عبادات کا اجر بھی اسی کے مطابق پائے۔
  5. نفس میں سمجھ نہیں ہوتی اور وہ صرف فوری خواہشات کی تکمیل چاہتا ہے، اس لیے اسے عقل کے ذریعے کنٹرول کرنا ضروری ہے۔
  6. دل اور دماغ سمجھنے کی جگہیں ہیں جنہیں ایمانی روشنی سے منور رکھنا چاہیے تاکہ وہ دنیا کی محبت اور نفس سے متاثر نہ ہوں۔
  7. جو لوگ عطا کردہ سمجھ کو استعمال نہیں کرتے وہ جانوروں سے بھی گئے گزرے ہیں کیونکہ جانوروں کو انسانوں کی طرح اختیار نہیں دیا گیا۔

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلٰوَةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ(11) قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ؕ-قُلْ لِّلّٰهِ ؕ-كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ؕ-لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ ؕ-اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(12) وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ ؕ-وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(13) قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ ؕ-قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ(14) قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ(15) مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَىٕذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ ؕ-وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ(16)

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: (ان کافروں سے) کہو کہ: ’’ذرا زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو کہ (پیغمبروں کو) جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا؟‘‘ ﴿11﴾

حاشیہ: مشرکینِ عرب شام کے تجارتی سفر کے دوران ثمود اور حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی بستیوں سے گزرا کرتے تھے جہاں ان قوموں کی تباہی کے آثار انہیں آنکھوں سے نظر آتے تھے۔ قرآن کریم انہیں دعوت دے رہا ہے کہ وہ ان قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کریں۔

ترجمہ: (ان سے) پوچھو کہ: ’’آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کی ملکیت ہے؟‘‘ (پھر اگر وہ جواب نہ دیں تو خود ہی) کہہ دو کہ: ’’اللہ ہی کی ملکیت ہے۔ اس نے رحمت کو اپنے اُوپر لازم کر رکھا ہے۔ (اس لئے توبہ کرلو تو پچھلے سارے گناہ معاف کردے گا، ورنہ) وہ تم سب کو ضرور بالضرور قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے، (لیکن) جن لوگوں نے اپنی جانوں کے لئے گھاٹے کا سودا کر رکھا ہے، وہ (اس حقیقت پر) ایمان نہیں لاتے ﴿12﴾ اور رات اور دن میں جتنی مخلوقات آرام پاتی ہیں، سب اسی کے قبضے میں ہیں﴿13﴾

حاشیہ: غالباً اشارہ اس طرف ہے کہ رات اور دن کے اوقات میں جب لوگ سوتے ہیں تو دوبارہ بیدار بھی ہوجاتے ہیں، حالانکہ نیند بھی ایک چھوٹی موت ہے جس میں انسان دُنیا سے بے خبر اور بالکل بے اختیار ہوجاتا ہے۔ لیکن چونکہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہوتا ہے، اس لئے جب وہ چاہتا ہے اسے بیداری کی دُنیا میں واپس لے آتا ہے۔ اسی طرح جب بڑی موت آئے گی تب بھی انسان اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہوگا، اور وہ جب چاہے گا، اسے دوبارہ زندگی دے کر قیامت کے یومِ حساب کی طرف لے جائے گا۔

ترجمہ: اور وہ ہر بات کو سنتا، ہر چیز کو جانتا ہے۔‘‘ ﴿13﴾ کہہ دو کہ: ’’کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو رکھوالا بناؤں؟ (اُس اللہ کو چھوڑ کر) جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اور جو سب کو کھلاتا ہے، کسی سے کھاتا نہیں؟‘‘ کہہ دو کہ: ’’مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ فرماں برداری میں سب لوگوں سے پہل کرنے والا میں بنوں‘‘ اور تم مشرکوں میں ہرگز شامل نہ ہونا ﴿14﴾ کہہ دو کہ: ’’اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک زبردست دن کے عذاب کا خوف ہے۔‘‘ ﴿15﴾ جس کسی شخص سے اس دن وہ عذاب ہٹا دیا گیا، اس پر اللہ نے بڑا رحم کیا، اور یہی واضح کامیابی ہے ﴿16﴾

اَللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْهُمْ۔

ترجمہ: اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو خود اس کے سوا اسے دُور کرنے والا کوئی نہیں﴿17﴾

اس میں جو ایک بات ہمارے سامنے آئی ہے کہ انسان کو اللہ پاک نے مکلف بنایا ہے اور عقل کے مطابق اس سے سوال کیا جائے گا۔ جیسے یہاں پر فرمایا گیا، ان سے پوچھو کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کی ملکیت ہے؟ تو ظاہر ہے یہ ایک شخص جو جانتا ہو وہ بھی جو علم سے تعلق رکھتا ہے اور پھر سمجھتا ہو تو عقل کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ تو اگر یہ عقل اس میں نہیں ہو تو پھر اللہ پاک اس سے مطالبہ بھی نہیں کرتا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ پھر جانوروں جیسا ہو جاتا ہے، مطلب یہ ہے کہ جیسے جانوروں میں یہ عقل نہیں ہوتی تو وہ اپنی جبلت کے مطابق کام کرتے ہیں، پھر ان کو اختیار والی بات نہیں ہوتی، بس وہ جیسے ان کو ڈیزائن کیا گیا ہوتا ہے اسی کے مطابق کام کرتے ہیں۔ تو یہ جو انسان کی عقل ہے یہ بنیادی بات ہے، مطلب یہ اللہ جل شانہ نے یہ عقل دی اس لیے ہے کہ اس سے وہ اللہ پاک کو پہچانے، اور اللہ جل شانہ کی بات کو سمجھے۔ تو پہچاننا معرفت ہے، اور سمجھنا فقاہت ہے۔ اور ان دونوں کے لیے اللہ پاک نے جو عقل دی ہے اس کو استعمال کیا جاتا ہے۔

تو ایک حدیث شریف میں جو فرماتے ہیں کہ انسان حج کرتا ہے، روزے رکھتا ہے یعنی عبادات کرتا ہے، لیکن اس کو اجر اس کی عقل کے مطابق دیا جاتا ہے۔ یعنی اس کی جو عقل جتنی ہوتی ہے اس کے حساب سے یا وہ گویا کہ اس جتنا وہ جیسے وہ سمجھتا ہے اس کے حساب سے اس کو اجر دیا جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے اللہ پاک نے جو عقل یہ دولت ہمیں دی ہے، اس کو مثبت استعمال کرنا بہت ضروری ہے۔ اور اس کا مثبت استعمال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس پر نفس کو سوار نہ کریں۔

نفس خواہشات کی جگہ ہے۔ اور اس میں سمجھ بالکل نہیں ہوتی۔ مطلب یہ ہے کہ یہ صرف اور صرف اپنی مرضی چاہتا ہے اور کچھ نہیں چاہتا۔ اس کو اگر سمجھ ہے تو اتنی ہے کہ میری خواہش کیا ہے۔ اس کے بعد یہ مزید نہیں سوچتا۔ مطلب یہ "كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَتَذَرُونَ الْأٰخِرَةَ" یہ اس کی فطرت ہے مطلب اس طرح یہ کرے گا۔ تو اس وجہ سے نفس والی بات بہت کنٹرول کرنی پڑے گی۔ اور جو قلب والی بات ہے تو وہ بھی نفس کی وجہ سے اگر قلب متاثر ہو چکا ہو تو اس میں دنیا کی محبت آ چکی ہو گی۔ تو پھر وہ دنیا کی چیزیں چاہے گا۔ تو اس وجہ سے جو سنبھالنے والی ہے وہ تو عقل ہے۔ لیکن کرنے والا یا اس کے اوپر جو اس کو استعمال کیا جاتا ہے وہ نفس ہے اور قلب ہے۔ لیکن یہ بات ہے کہ ان چیزوں کو کنٹرول کرنا پڑے گا۔

لہٰذا جو سمجھ کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں وہ چیزیں دل اور دماغ ہیں۔ یعنی دماغ میں بھی اللہ پاک نے صلاحیت رکھی ہے سوچنے سمجھنے کی اور ساتھ دل میں بھی سمجھنے کی صلاحیت اللہ پاک نے رکھی ہے۔ کیونکہ ایمان اس کے ذریعے سے آتا ہے اور کفر ادھر سے بات، تو وہ یہ دل و دماغ جو ہے وہ گویا کہ سمجھ کی جگہ ہے۔ اور جو قلب و جگر ہے وہ انسان کی وہ مطلب عمل کی جگہ ہے۔ تو گویا کہ دل برزخ ہے، اور دل دونوں کے لیے کام آتا ہے۔

تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو یہ جو دل و دماغ ہے اس کو ایمانی روشنی سے منور رکھنا چاہیے تاکہ یہ صحیح طور پر سمجھ سکے۔ جیسے "وَلَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا"۔ ان کے دل ہیں لیکن وہ سمجھتے نہیں ہیں۔ تو ایسے آخر میں ان کا ایک فرمایا "أُولٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ" وہ جو ہے جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں۔ ان سے گئے گزرے کا مطلب یہی ہے کہ چونکہ ان کے پاس یہ چیز تھی، انہوں نے استعمال نہیں کی۔ اس وجہ سے ان کو سزا بھی ہو گی اور گئے گزرے ہیں۔ جبکہ جو جانور ہیں، ان کو صرف جتنی سمجھ دی گئی ہے، اس کی جبلت کے مطابق، بس وہ کرتے ہیں۔ ان کو اختیار اس طرح نہیں دیا گیا سوچنے سمجھنے کا یہ والی بات نہیں ہے۔ لہٰذا ان سے مطالبہ بھی نہیں ہے۔

تو ہمیں اس چیز کا خیال رکھنا چاہیے کہ اللہ پاک جب ہم سے پوچھے گا تو ہم وہ کریں جو اللہ پاک چاہتا ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو توفیق عطا فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

معرفتِ الٰہی میں عقل کا کردار اور نفس کی حقیقت - درسِ قرآن - دوسرا دور