دولت اور غربت کے بارے میں اسلام کا اعتدال پسندانہ نظریہ
سیرت النبی ﷺ، جلد 5، زکوۃ، (باہمی اعانت کی عملی تدبیر اور دولت مندی کی بیماریوں کا علاج) اشاعت اول: 22 اکتوبر 2020 بمطابق: 5 ربیع الاول 1442 ہجری
الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
آج جمعہ کی رات ہے اور جمعہ کی رات ہمارے ہاں آج کل حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ حضرت کے شہرہ آفاق سیرت النبی کے موضوع پر لکھی ہوئی کتاب سے تعلیم ہوتی ہے۔ اور زکوٰۃ کے بارے میں بات چل رہی تھی۔ تو زکوٰۃ کی مختلف جو تفصیلات ہیں وہ حضرت بیان فرما رہے تھے زکوٰۃ کے لغوی معنی سے لے کر اس کی اصطلاحی اور پھر گزشتہ امتوں میں اس کے جو صورت اس کی جو صورتیں تھیں اور پھر اس امت میں چونکہ یہ امت قیامت تک کا مطلب ایک ہی مذہب پہ چلتی رہے گی۔ تو اس وجہ سے اس میں وہ تمام چیزیں جمع کی گئی ہیں جو گزشتہ امتوں میں تھیں اور اس کی ترقی یافتہ صورت اس نے اختیار کی ہے۔ تو اس وجہ سے وہ ساری باتیں حضرت بیان فرما رہے ہیں۔ تو آج ہے ان شاء اللہ باہمی اعانت کی عملی تدبیر یہ۔
باہمی اعانت کی عملی تدبیر
زکوٰۃ اور صدقات کے مصارف کا بڑا حصہ غریبوں اور حاجت مندوں کی امداد ہے۔ انسانیت کا یہ وہ طبقہ ہے جس کے ساتھ تمام مذہبوں نے ہمدردی کی ہے، اور اس کی تسلی اور تسکین کے لئے دوسری دنیا کی توقع اور امید کے بڑے بڑے خوش آئند الفاظ استعمال کئے ہیں، لیکن یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اس کی زندگی کی یہ تلخی محض اہل مذاہب کی شیریں کلامی سے دور نہیں ہو سکتی۔ محمد رسول اللہ ﷺ دنیا کے پہلے اور وہی پچھلے پیغمبر ہیں جنہوں نے اس طبقہ کے ساتھ اپنی عملی ہمدردی کا ثبوت دیا اور اس کی تکلیفوں اور مصیبتوں کو کم کرنے کے لئے عملی تدبیر جاری اور نافذ فرمائی۔ خود اپنی زندگی غریبوں اور مسکینوں کی صورت سے بسر کی اور دعا فرمائی کہ خداوند! مجھے مسکین زندہ رکھ، مسکین اٹھا اور مسکینوں ہی کے زمرہ میں میرا حشر کر۔ آپ کے گھر کا چبوترا (صفہ) غریبوں اور مسکینوں کی پناہ کا سایہ تھا، وہی آپ کی بزم قدس کے مقرب درباری اور اسلام کے معرکوں کے مخلص جانباز تھے۔ آپ کی نظر میں کسی انسان کی غربت اور تنگ دستی اس کی ذلت اور رسوائی کے ہم معنی نہ تھی۔ نہ دولت وامارت عزت و وقار کے مرادف تھی بلکہ صرف نیکی اور پرہیزگاری فضیلت و بزرگی کا اصلی معیار تھی۔
حضرت مسیحؑ نے فرمایا کہ مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں کیوں کہ آسمان کی بادشاہت انہیں کی ہے۔ ۱
﴿ إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْمُقِلُّونَ ﴾ جو دولت مند ہیں وہی غریب ہیں۔
اس کے دوسرے معنی یہ ہوئے کہ جو غریب ہیں وہی دولت مند ہوں گے۔ پھر انہیں خوشخبری دی کہ غریب (جن کو خدا کے آگے اپنی کسی دولت کا حساب نہیں دینا ہے) دولت والوں سے 40 سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔
اسلام نے ان روحانی تسلیوں اور بشارتوں کے ساتھ جو مزید کام کیا وہ ان کی دنیاوی تکلیفوں اور مصیبتوں کو کم کرنے کی عملی تدبیریں ہیں جن کا نام صدقہ اور زکوٰۃ ہے۔ اس کی تعلیم نے اس عملی ہمدردی اور اعانت کو صرف اخلاقی ترغیب و تشویق تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس کے لئے دو قسم کی تدبیریں اختیار کیں۔ ایک یہ کہ ہر مسلمان کو نصیحت کی کہ جس سے جتنا ہو اپنی دولت سے ان کی مدد کرے۔ یہ اخلاقی خیرات ہے جس کا نام قرآن کی اصطلاح میں انفاق ہے لیکن چونکہ یہ اخلاقی خیرات ہر شخص کو اس ضروری نیکی پر مجبور نہیں کرتی اس لئے ایک مقدار معین کے مالک پر ایک ایسا قانونی محصول عائد کیا جس کا سالانہ ادا کرنا اس کا مذہبی فرض ہے اور اس مجموعی رقم کا بڑا حصہ غریبوں اور محتاجوں کی امداد و اعانت کے لئے مخصوص کیا اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی اس تعلیم کو ایک ناقابل تغیر دستور العمل کے طور پر اپنی امت کو ہمیشہ کے لئے سپرد فرمایا۔ چنانچہ آپ نے معاذ بن جبلؓ کو اپنا نائب بنا کر یمن بھیجا تو توحید اور نماز کے بعد جس چیز کا حکم دیا وہ یہی زکوٰۃ ہے۔ پھر اس کی نسبت ان کو یہ ہدایت فرمائی کہ:
﴿ تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِيَاءِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَاءِهِمْ ﴾ وہ ان کے دولتمندوں سے لے کر ان کے غریبوں کو لوٹا دیا جائے
صحابہؓ نے آپ کی ہدایت کے بموجب ان دونوں قسموں کی خیراتوں پر اس شدت سے عمل کیا کہ جو استطاعت نہ بھی رکھتے تھے وہ بازار جا کر مزدوری کرتے تھے تا کہ جو رقم ہاتھ آئے وہ غریب و معذور بھائیوں کی اخلاقی اعانت میں خرچ کریں اور اس معاملہ میں خود آپ نے یہاں تک اس طبقہ کی دلجوئی کی، فرمایا ''اگر کسی کے پاس کچھ اور نہ ہو تو لطف و مہربانی سے بات کرنا ہی اس کا صدقہ ہے'' اس سے زیادہ یہ کہ اس کی بھی ممانعت کی گئی کہ جو تمہارے سامنے ہاتھ پھیلائے اس کو سختی سے واپس نہ کیا کرو، خدا نے تعلیم دی:
﴿ فَاَمَّا الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْهَرْ وَاَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ ﴾ (الضحیٰ: 10) تو یتیم کو نہ دبانا اور نہ مانگنے والے کو جھڑک۔
ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا کہ اگر تم کسی حاجت مند کی مدد کرو تو اس پر احسان مت دھرو کہ وہ شرمندہ ہو بلکہ خدا کا شکر ادا کرو کہ اس نے تم کو یہ نعمت دی اور اس کی توفیق عنایت کی۔ احسان دھرنے سے وہ نیکی کا پیالہ حباب کی طرح ٹوٹ کر بیٹھ جائے گا فرمایا:
﴿ لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰى ﴾ تم اپنی خیرات کو احسان دھر کر یا طعنہ دے کر برباد نہ کرو۔
اس لطف، اس مدارات اور اس دلجوئی کے ساتھ محمد رسول اللہ ﷺ نے خدا کے حکم سے انسانیت کے قابل رحم طبقہ کی چارہ نوازی فرمائی اور ہم کو باہمی انسانی محبت اور ایک دوسرے کی مدد کا سبق پڑھایا۔ اگر یہ حکم صرف اخلاقی حیثیت سے یا صرف مبہم طریقہ سے ہوتا یا سب کو سب کچھ دے ڈالنے کا عام حکم دے دیا جاتا تو کبھی اس پر اس خوبی، اس نظام اور اس پابندی کے ساتھ عمل نہ ہوسکتا اور آج بھی مسلمانوں کے سامنے یہ راہ کھلی ہوئی ہے اور کچھ نہ کچھ ہر جگہ اس پر عمل بھی ہے یہی سبب ہے کہ مسلمانوں میں اگر امیر کم ہیں تو ویسے غریب و محتاج بھی کم ہیں جیسے دوسری قوموں میں نظر آتے ہیں تاہم افسوس ہے کہ ایک مدت سے مسلمانوں کا یہ نظام سخت ابتری کی حالت میں ہے اور اس کی تنظیم کی طرف سے غفلت بڑھتی جارہی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارا ہر قسم کا جماعتی کام منتشر و پراگندہ ہے۔
حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس کا یعنی فرمایا تھا کہ یہ مسلمانوں کا جو زکوٰۃ کا نظام ہے یہ کافی وہ ضائع ہو رہا ہے۔ مطلب جو زکوٰۃ ہے وہ صحیح طور پر تقسیم نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دو وجوہات ہیں۔ اس کی ایک تو یہ ہے کہ جو دولتمند ہیں وہ اگر اپنے مال کا زکوٰۃ نکالنا بھی چاہتے ہیں تو مستحقین کی تلاش کی تکلیف نہیں کرتے۔ اور دوسری طرف یہ ہے کہ کچھ ایسے لوگ ہیں جو مستحق نہیں ہوتے لیکن وہ مانگنے والے ہوتے ہیں۔ تو وہ ان غریبوں کا حصہ کھا لیتے ہیں جو غریبوں تک پہنچنا چاہیے۔ تو اس وجہ سے مطلب یہ ہے کہ اس کا کوئی باقاعدہ نظام، ایسا طریقہ کار ہونا چاہیے کہ مال صحیح طریقے سے غریبوں تک پہنچ جائے جو ان کا حق ہے۔
دولت مندی کی بیماریوں کا علاج
دولت مندی اور تمول کا مسئلہ ہمیشہ سے دنیا کے مذاہب میں ایک معرکۃ الآراء بحث کی حیثیت سے چلا آرہا ہے، یہودیت کی طرح بعض ایسے مذہب ہیں جن میں نہ تو دولت مندی کی کوئی تحقیر کی گئی اور نہ مفلسی وغربت کو سراہا گیا ہے بلکہ گویا اس بحث کو نامفصل چھوڑ دیا گیا ہے لیکن عیسائیت اور بودھ مت دو ایسے مذہب ہیں جن میں دولت کی پوری تحقیر کی گئی ہے۔ عیسائیت کی نظر میں دولت مندی اور تمول نجات کی راہ کا کانٹا ہے بلکہ کوئی انسان اس وقت تک نجات نہیں پا سکتا جب وہ سب کچھ جو اس کے پاس ہے خدا کی راہ میں لٹا نہ دے، انجیل میں ہے کہ ایک نیکوکار دولت مند نے حضرت عیسیٰؑ سے نجات کا طریقہ دریافت کیا تو جواب میں فرمایا:
''اگر تو کامل ہوا چاہتا ہے تو جا کے سب کچھ جو تیرا ہے بیچ ڈال اور محتاجوں کو دے کہ تجھے آسمان پر خزانہ ملے گا تب آ کے میرے پیچھے ہولے۔''
وہ دولت مند یہ تعلیم سن کر غمگین ہو کر چلا گیا تب انجیل میں ہے کہ حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا:
''میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ دولت مند کا آسمان کی بادشاہت میں داخل ہونا مشکل ہے بلکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے سے گزر جانا اس سے آسان ہے کہ دولت مند خدا کی بادشاہت میں داخل ہو۔'' (متی ۱۹۔۲۱-۲۴)
بودھ مت نے نیک لوگوں کو ترک دنیا کی تلقین کی ہے اور ہر قسم کی دولت سے پاک رہنے کی ہدایت کی ہے اور ایسے لوگوں کے لئے یہ سامان کیا ہے کہ جب وہ بھوکے ہوں تو بھیک کا پیالہ لے کر لوگوں کے دروازوں پر کھڑے ہو جائیں۔ لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں طریقوں کو ناپسند فرمایا۔ اصل یہ ہے کہ اگر دولت کوئی ایسی بری چیز ہے تو اس برائی کو دوسروں کی طرف منتقل کر دینا ان کی خیر خواہی تو نہیں ہوئی، دشمنی ہوئی۔ اور اگر غربت کوئی برائی کی چیز ہے تو سب کچھ دوسروں کو دے کر خود اس حال میں بن جانا کہاں کی دانشمندی اور اصلاح ہے؟ اس لیے یہ طریقہ ہر شخص کے لیے یکساں مفید نہیں ہے۔ نہ نفسِ دولت فرشتہ کو شیطان، نہ نفسِ غربت شیطان کو فرشتہ بناتی ہے۔
جس طرح دولتمندی دنیا میں ہزاروں سیہ کاریوں کا محرک ہے، اس طرح غربت بھی دنیا کے ہزاروں جرائم کا باعث ہے۔ اور ان دونوں خرابیوں سے انسانوں کو بچانا ایک نبوت عظمیٰ کا فرض تھا۔ دولت بحیثیت دولت اور غربت بحیثیت غربت، نیک و بد اور خیر و شر دونوں صفتوں سے پاک ہے۔ بلکہ نیکی کرنے کی عام صلاحیت اور اہلیت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ایک نیکوکار دولتمند ایک نیکوکار غریب سے بدرجہا نیکی کے موقع زیادہ رکھتا ہے۔ اس لیے دولت اسلام کی نگاہ میں خدا کی ایک نعمت ہے، لعنت نہیں، ہنر ہے، عیب نہیں، خیر ہے، شر نہیں۔ چنانچہ قرآن پاک میں متعدد موقعوں پر دولت کو خیر اور فضل سے تعبیر کیا گیا اور احادیث سے بھی دولت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
چنانچہ آنحضرت ﷺ کے ایک صحابی نے مرتے وقت یہ چاہا کہ اپنا سارا مال و اسباب خدا کی راہ میں دے دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اہل وعیال کو غنی چھوڑ جاؤ یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔
آپ کے حلقہ بگوشوں میں دولت مند بھی تھے اور غریب بھی اور دونوں آپ کے دربار میں برابری کی حیثیت رکھتے تھے۔ ایک دفعہ غریبوں نے آ کر عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہمارے دولت مند بھائی تو ہم سے سبقت لئے جاتے ہیں ہم جو نیکی کے کام کرتے ہیں وہ بھی کرتے ہیں اور اس کے علاوہ وہ خیرات بھی کرتے ہیں جو ہم نہیں کر پاتے۔ آپ نے ان کو ایک دعا سکھائی کہ یہ پڑھ لیا کرو۔ دولت مند صحابیوں نے یہ سنا تو وہ بھی وہ دعا پڑھنے لگے۔ غریبوں نے پھر جا کر عرض کی تو آپ نے فرمایا یہ خدا کا فضل ہے جس کو چاہے دے۔
آنحضرت ﷺ نے اس عظیم الشان مسئلہ کو جو دنیا میں ہمیشہ سے غیر منفصل اور ناطے شدہ چلا آرہا تھا اپنی روشن تعلیم اور تلقین کے ذریعہ سے ہمیشہ کے لئے حل کر دیا۔ ایک دفعہ آپ نے تقریر میں فرمایا کہ ''لوگو! مجھے تمہاری نسبت جو ڈر ہے وہ دنیا کے خیر و برکت کا ہے''۔ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ! دنیا کے خیر و برکت سے آپ کا کیا مقصود ہے۔ فرمایا ''دنیا کا باغ و بہار'' (عیش و نشاط اور مال و دولت) ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ! کیا بھلائی سے بھی برائی پیدا ہوتی ہے؟ سائل کا منشاء یہ تھا کہ دولت جو خیر و برکت ہے وہ فتنہ کیوں کر ہو سکتی ہے۔ آپ نے سوال سن کر ذرا تامل کیا پھر پیشانی سے پسینہ کے قطرے پونچھے پھر فرمایا ''بھلائی سے بھلائی ہی پیدا ہوتی ہے۔ لیکن دولت کی مثال ایک ہرے بھرے چراگاہ کی ہے جس کو موسم بہار نے سرسبز و شاداب بنایا ہو، جب بعض جانور حرص و طمع میں آ کر حد اعتدال سے زیادہ کھا لیتے ہیں تو دیکھو وہی خیر و برکت کی چیز ان کی ہلاکت اور موت کا باعث ہو جاتی ہے، لیکن جو جانور اس کو اعتدال سے چرتا ہے جب اس کا پیٹ بھر جاتا ہے تو وہ دھوپ کے سامنے ہو جاتا ہے اور کچھ دیر جگالی کرتا ہے فضلہ باہر پھینک دیتا ہے اور پھر چرنے لگتا ہے۔ دولت ایک خوشگوار چیز ہے تو جو شخص اس کو صحیح طریقہ سے خرچ کرے تو یہ دولت اس کے لئے بہترین مددگار ہے لیکن جو شخص اس کو صحیح طریقہ سے حاصل نہیں کرتا اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی کھاتا چلا جاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔
اس تقریر میں آنحضرت ﷺ نے مسئلہ کے اہم نکتہ کو واضح فرمادیا اور بتا دیا کہ نفسِ دولت خیر و شر نہیں ہے بلکہ اس کا درست و نادرست طریقہ حصول اور جائز و ناجائز مصرف خیر و شر ہے۔ اگر درست طریقہ سے وہ حاصل کی جائے اور صحیح طریقہ سے خرچ کی جائے تو وہ نیکیوں اور بھلائیوں کا بہتر سے بہتر ذریعہ ہے اگر اس کے حصول و صرف کا طریقہ صحیح نہیں تو وہ بری اور شرانگیز ہے۔ اخلاقی محاسن و معائب، امیر و غریب دونوں کے لئے یکساں ہیں۔ ایک غنی و فیاض و متواضع امیر اور ایک قناعت پسند اور صابر و شاکر غریب اسلام کی نظر میں فضیلت کے ایک ہی درجہ پر ہیں اسی طرح ایک متکبر، بخیل، امیر اور خوشامدی اور لالچی فقیر پستی کی ایک ہی سطح پر ہیں۔ اس لئے ضرورت تھی کہ دولت کی اجازت کے ساتھ ساتھ ایک طرف امراء اور دولت مندوں کے اخلاق کی اصلاح کی جائے اور دوسری طرف غریبوں اور فقیروں کی امداد اور دستگیری کے ساتھ ان کے اخلاق و عادات کو بھی درست کیا جائے اسلام میں زکوٰۃ اسی عظیم الشان دوطرفہ اصلاح کا نام ہے۔
اس سلسلہ میں آنحضرت ﷺ کی تعلیم نے سب سے پہلے حصول دولت کے ناجائز طریقوں دھوکا فریب، خیانت، لوٹ مار، جوا، سود وغیرہ کی سخت سے سخت ممانعت کی۔ سرمایہ داری کے اصول کی حمایت نہیں کی اور اس کا سب سے آسان ترین ذریعہ اور غریبوں کے لوٹنے کے سب سے عام طریقہ سود کو حرامِ مطلق اور خدا اور رسول سے لڑائی کے ہم معنی فرمایا۔ جو زمین یونہی پڑی ہوئی ہے اس کو جو بھی اپنی کوشش سے آباد و سیراب کرے اسی کی ملکیت قرار دی۔ چنانچہ فرمایا ''زمین خدا کی ہے اور سب بندے خدا کے بندے ہیں جو کسی مردہ زمین کو زندہ کرے وہ اسی کی ہے'' متروکہ جائیداد کا مالک کسی ایک کو نہیں بلکہ بقدر استحقاق تمام عزیزوں کو اس کا حصہ دار بنا دیا۔ ممالک مفتوحہ کو امیرِ اسلام کی شخصی ملکیت نہیں بلکہ پوری جماعت کی ملکیت قرار دیا۔ فطرت کی ان بخششوں کو جو انسانی محنت کی ممنون نہیں جیسے پانی، تالاب، گھاس، چراگاہ، نمک کی کان، معدنیات وغیرہ جماعتی تصرف میں دیا اور بن لڑائی کے دشمنوں سے حاصل کی ہوئی زمینوں کو امراء اور دولت مندوں کے بجائے خالص غریبوں اور بیکسوں کا حق قرار دیا اور اس کی وجہ بھی ظاہر کردی۔
﴿ مَآ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِى الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِۙ كَىْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَآءِ مِنْكُمْ ﴾ (حشر: 7) بستیوں والوں کی ملکیت سے اللہ جو اپنے رسول کو ہاتھ لگادے وہ خدا اور اس کے رسول اور رشتہ داروں اور یتیموں اور غریبوں اور مسافروں کا حق ہے، تاکہ وہ دولت پھر کر تم میں سے دولتمندوں ہی کے لینے دینے میں نہ رہ جائے۔
جاری ہے ان شاء اللہ