ایمان بالغیب کی حقیقت اور منکرینِ حق کی ہٹ دھرمی
درس نمبر 248، سورۃ الانعام، آیات: 4 تا 10، اشاعتِ اول: 3 اگست، 2022، بمطابق 5 محرم الحرام، 1444 ہجری
- کفار اللہ کی نشانیوں کو جھٹلا کر حق کا مذاق اڑاتے ہیں، جس کے برے انجام کا انہیں جلد سامنا ہوگا۔
- پچھلی طاقتور قوموں کی ہلاکت ان کے گناہوں کا نتیجہ تھی، جو بعد میں آنے والی نسلوں کے لیے ایک تنبیہ ہے۔
- کفار کی ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہے کہ اگر ان پر کاغذ میں لکھی کتاب بھی اتاری جاتی تو وہ اسے کھلا جادو قرار دیتے۔
- دنیاوی زندگی عقل اور غیب پر ایمان کا امتحان ہے، جو غیبی حقائق کو آنکھوں سے دیکھ لینے پر ختم ہو جاتا ہے۔
- کسی فرشتے کو پیغمبر بنا کر بھیجنے کی صورت میں اسے انسانی شکل ہی دینی پڑتی، جس سے کفار کے شبہات برقرار رہتے۔
- سچا ایمان عقل کو استعمال کرنے اور مخبر صادق کے اخلاق کو دیکھ کر حقائق تسلیم کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔
- نفس کے غلام کافروں کے مطالبات پورے ہونے پر بھی وہ ایمان نہ لاتے، اس لیے اللہ تعالیٰ بے فائدہ کام نہیں کرتا۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔ اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّینَ اَمَّا بَعْدُ۔ فَاعُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ۔
وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ(4) فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ ؕ-فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ(5) اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا-وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ(6) وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ(7) وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ ؕ-وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ(8) وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ(9) وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ (10) صَدَقَ اللّٰہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ وَصَدَقَ رَسُولُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیمُ۔
ترجمہ: اور (ان کافروں کا حال یہ ہے کہ) ان کے پاس ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے جب بھی کوئی نشانی آتی ہے، تو یہ لوگ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں ﴿4﴾ چنانچہ جب حق ان کے پاس آگیا تو ان لوگوں نے اسے جھٹلا دیا۔ نتیجہ یہ کہ جس بات کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں، جلد ہی ان کو اس کی خبریں پہنچ جائیں گی۔ ﴿5﴾
حاشیہ: کفار سے کہا گیا تھا کہ اگر انہوں نے ہٹ دھرمی کا رویہ جاری رکھا تو دُنیا میں بھی ان کا انجام برا ہوگا، اور آخرت میں بھی ان کو عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کفار ان باتوں کا مذاق اُڑاتے تھے۔ آیت ان کو متنبہ کر رہی ہے کہ جس بات کا وہ مذاق اُڑا رہے ہیں، عنقریب وہ ایک حقیقت بن کر ان کے سامنے آجائے گی۔
ترجمہ: کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں! ان کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار دیا تھا جو تمہیں نہیں دیا۔ ہم نے ان پر آسمان سے خوب بارشیں بھیجیں، اور ہم نے دریاؤں کو مقرر کر دیا کہ وہ ان کے نیچے بہتے رہیں۔ لیکن پھر ان کے گناہوں کی وجہ سے ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا، اور ان کے بعد دوسری نسلیں پیدا کیں ﴿6﴾
ترجمہ: اور (ان کافروں کا حال یہ ہے کہ) اگر ہم تم پر کوئی ایسی کتاب نازل کر دیتے جو کاغذ پر لکھی ہوئی ہوتی، پھر یہ اسے اپنے ہاتھوں سے چھو کر بھی دیکھ لیتے، تو جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ پھر بھی یہی کہتے کہ یہ کھلے ہوئے جادو کے سوا کچھ نہیں ﴿7﴾
ترجمہ: اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ: ’’اس (پیغمبر) پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اُتارا گیا؟‘‘ حالانکہ اگر ہم کوئی فرشتہ اتار دیتے تو سارا کام ہی تمام ہو جاتا ﴿8﴾
حاشیہ: یہ دُنیا چونکہ انسان کے امتحان کے لئے بنائی گئی ہے، اس لئے انسان سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ اپنی عقل سے کام لے کر اللہ تعالیٰ پر اور اس کے بھیجے ہوئے رسولوں پر ایمان لائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جب کوئی غیبی حقیقت آنکھوں سے دکھا دی جاتی ہے تو اس کے بعد ایمان لانا معتبر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص موت کے فرشتوں کو دیکھ کر ایمان لائے تو اس کا ایمان قابل قبول نہیں۔ کفار کا مطالبہ یہ تھا کہ اگر کوئی فرشتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی لے کر آتا ہے تو وہ اس طرح آئے کہ ہم اسے دیکھ سکیں۔ قرآن کریم نے اس کا پہلا جواب تو یہ دیا ہے کہ اگر فرشتے کو انہوں نے آنکھ سے دیکھ لیا تو پھر مذکورہ بالا اُصول کے مطابق ان کا ایمان معتبر نہیں ہوگا، اور پھر انہیں اتنی مہلت نہیں ملے گی کہ یہ ایمان لاسکیں۔ دوسرا جواب اگلے جملے میں ہے۔
ترجمہ: پھر ان کو کوئی مہلت نہ دی جاتی ﴿8﴾ اور اگر ہم فرشتے ہی کو پیغمبر بناتے، تب بھی اسے کسی مرد ہی (کی شکل میں) بناتے، اور ان کو پھر ہم اسی شبہے میں ڈال دیتے جس میں اب مبتلا ہیں ﴿9﴾
حاشیہ: یعنی اگر کسی فرشتے ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجتے، یا پیغمبر کی تصدیق کے لئے لوگوں کے سامنے بھیجتے تب بھی اس کو انسانی شکل ہی میں بھیجنا پڑتا، کیونکہ کسی انسان میں یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ کسی فرشتے کو دیکھ سکے۔ اس صورت میں پھر یہ کافر لوگ وہی اعتراض دُہراتے کہ یہ تو ہم جیسا ہی آدمی ہے۔ اس کو ہم پیغمبر کیسے مان لیں؟
ترجمہ: اور (اے پیغمبر!) حقیقت یہ ہے کہ تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا گیا ہے، لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں سے جن لوگوں نے مذاق اڑایا تھا، ان کو اسی چیز نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے ﴿10﴾
تو اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنی عقل کے مطابق جو نشانیاں موجود ہیں ان نشانیوں سے یعنی اللہ پاک کا ایمان وہ حاصل نہیں کرتے۔ اور مطلب ظاہر ہے جو مخبر صادق ہیں ان کی ان کا یقین نہ کریں یعنی ان پر ایمان نہ لائیں۔ تو پھر وہ جو چیزیں ہیں جو غیب والی باتیں ہیں، وہ اگر واقع ہو جائیں تو پھر ظاہر ہے مطلب وہ غیب کی بات تو نہیں رہتی۔ تو امتحان ختم ہو جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے پھر مہلت نہیں ملتی اور پھر ان کا ایمان قبول نہیں کیا جاتا۔
تو آسان بات تو یہی تھی ان کے لیے کہ اپنی عقل کو استعمال کر کے اور مخبرِ صادق کے جو اخلاق ہیں اس کو دیکھ کر اور یہ ساری حقیقتوں کو مان کر یہ خود ایمان لاتے جیسے صحابہ کرام لائے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا۔ لیکن یہ مطالبے پر مطالبے کرتے رہے۔ تو اللہ پاک نے ان کے دل کی بات یہاں پر کھول دی کہ اگر یہ اُسی طریقے سے ہوجاتا جس طرح یہ چاہتے ہیں، تو اس وقت چونکہ یہ لوگ اپنے نفس کے غلام ہیں، اس وقت بھی کہ دیں گے کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ یعنی پھر بھی نہ مانتے۔ تو ان کا اس کے مطابق بات ماننا یہ ان کو کوئی فائدہ نہ پہنچاتی۔ تو اللہ پاک ایسے کام نہیں کرتے جس کا کوئی فائدہ نہیں ہو۔
اللہ جل شانہ ہم سب کو مکمل ایمان، کامل ایمان موت تک پورا کا پورا اس پر اعمال صالحہ اور قبولیت کے ساتھ ہمیں نصیب فرما دے۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ وَتُبْ عَلَیْنَا اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِینَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ۔