غلبۂ نیند کی حالت میں نماز پڑھنے کی ممانعت اور اس کی حکمت
باب فی الاقتصاد فی الطاعۃ، درس نمبر: 212، حدیث نمبر: 147 اشاعتِ اول: 20 فروری، 2023 بمطابق 28 رجب، 1444 ہجری
- حالتِ اونگھ اور دل و دماغ حاضر نہ ہونے کی صورت میں نماز پڑھنے یا زبردستی بوجھ بننے کے بجائے کچھ دیر سو جانا چاہیے۔
- اونگھ کی حالت میں زبان ساتھ نہیں دیتی اور انسان استغفار کے بجائے انجانے میں خود کو گالیاں دے سکتا ہے۔
- نیند کی ابتدائی علامت جمائیوں کو وقتی طور پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے، لیکن شدید غنودگی میں آرام کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
- گاڑی چلاتے ہوئے نیند کا غلبہ حادثات کی بڑی وجہ ہے، اس لیے خطرے سے بچنے کے لیے گاڑی روک کر سو جانا چاہیے۔
- غنودگی طاری ہونے پر محض چند منٹ کی گہری نیند انسان کو تازہ دم کر کے دوبارہ بہتر انداز میں کام کرنے کے قابل بنا دیتی ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ أَمَّا بَعْدُ۔ فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
حالتِ اونگھ میں نماز نہیں پڑھنی چاہیے
(147) ﴿وَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”اِذَا نَعَسَ اَحَدُكُمْ وَ هُوَ يُصَلِّيْ فَلْيَرْقُدْ حَتّٰى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ فَاِنَّهُ اِذَا صَلّٰى وَ هُوَ نَاعِسٌ لَا يَدْرِيْ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبَّ نَفْسَهُ“﴾ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم کو نماز پڑھتے ہوئے اونگھ آنے لگے تو سو جاؤ تاکہ نیند ختم ہوجائے اس لئے جو شخص اونگھتا ہوا نماز پڑھتا ہے نہیں جانتا کہ شاید استغفار کرنے کے بجائے اپنے آپ کو گالیاں دینے لگے۔
یہ پریکٹیکل بات ہے کہ انسان کو جب ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ نیند ایسی عجیب چیز ہے کہ یہ انسان کے حواس کے اوپر چھا جاتی ہے۔ یہ بعض ڈرائیوروں کے ایکسیڈنٹ جو ہوتے ہیں، اسی وجہ سے ہوتے ہیں کہ وہ اپنی نیند پوری نہیں کر چکے ہوتے۔ تو اس کی پھر کچھ limits ہیں۔ پہلی صورت میں انسان کو جمائیاں آنے لگتی ہیں۔ تو جمائیوں کو تو انسان کنٹرول کر سکتا ہے اور چلتا رہتا ہے۔ پھر آدمی چائے وغیرہ پی لیتا ہے، اس سے fresh ہو جاتا ہے۔ لیکن ایک limit ہے، جو انسان کے جسم کی ضرورت ہے، وہ اس کو پھر وہ، جس کو کہتے ہیں نا کہ تمام دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، صرف ایک دروازہ کھل جاتا ہے، اور وہ نیند کا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں وہ بے شک چند لمحوں کے لیے کیوں نہ ہو، لیکن اس کی آنکھ لگ جاتی ہے۔ تو ایسی صورت میں ایکسیڈنٹ… یہ اکثر بہت ساری سڑکوں پہ ایکسیڈنٹ وغیرہ ہوتے رہتے ہیں۔ اس میں یہی وجہ ہوتی ہے۔ تو ایسی صورت میں پھر کیا کرنا چاہیے؟ چلاتے رہنا چاہیے گاڑی؟ نہیں، اس وقت کچھ ٹھہرنا چاہیے اور سو جانا چاہیے۔ بے شک پانچ منٹ کے لیے کیوں نہ ہو۔ کیونکہ ایسی نیند پانچ منٹ کی بھی ہو تو بڑی deep ہوتی ہے اور اس سے ماشاء اللہ انسان fresh ہو جاتا ہے۔ اور پھر آگے، چہرہ وغیرہ پہ پانی ڈال کے، اور fresh ہو کر پھر گاڑی چلانے کے قابل ہو جاتا ہے۔
تو یہاں پر اس بات کے لیے فرمایا گیا ہے کہ اس وقت کچھ rest کر لیں۔ اونگھ میں وہ نماز نہ پڑھیں۔
تشریح: اِذَا نَعَسَ اَحَدُكُمْ وَ هُوَ يُصَلِّيْ فَلْيَرْقُدْ: جب نماز پڑھتے ہوئے اونگھ آنے لگے تو سو جاؤ۔ مطلب یہ ہے کہ جب دل ودماغ حاضر نہیں ہے اور زبان بھی ساتھ نہیں دے رہی تو اب یہ کہنا کچھ چاہے گا زبان سے کچھ اور نکلے گا۔ وہ نہیں جانتا کہ شاید استغفار کرنا چاہتا ہے مگر اپنے آپ کو گالیاں دینے لگے۔ مثلاً وہ کہنا چاہتا ہے اللھم اغفرلی اے اللہ میری مغفرت فرما مگر نیند کی غفلت میں زبان سے نکل رہا ہے "اللھم اعفرلی"
یعنی "غ" کی جگہ "ع" کہ دیتا ہے
اے اللہ مجھے تباہ و برباد فرما۔
أَخْرَجَهُ صَحِيْحُ بُخَارِيْ فِيْ كِتَابِ الْوُضُوْءِ، بَابُ الْوُضُوْءِ مِنَ النَّوْمِ، وَصَحِيْحُ مُسْلِمٍ كِتَابِ صَلَاةِ الْمُسَافِرِيْنَ، بَابُ أَمْرِ مَنْ نَعَسَ فِيْ صَلَاتِهِ، وَمَالِكٌ فِيْ مُوَطَّأٍ، وَأَحْمَدُ، وَأَبُوْدَاؤُدَ، تِرْمِذِيْ، وَنَسَائِيْ، اِبْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ۔
اللہ جل شانہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر پوری طرح عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے