روحانی منازل میں مقامِ رجوع و نزول کی فضیلت اور عقیدۂ تنزیہ کی اہمیت

(اشاعتِ اول: 28 فروری، 2018 بمطابق 11 جمادی الثانی 1439 ہجری دفتر اول، مکتوب: 272, (حصہ سوم

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. روحانی ترقی کا دارومدار سلوک اور جذب دونوں پر ہے، جو محض وہبی نہیں بلکہ کسبی اور انسان کے اپنے اختیار میں ہیں۔
  2. طریقت میں جذب کسبی مستقل مقصود نہیں بلکہ سلوک طے کرنے کا محض ایک ذریعہ ہے، جسے مقصود بنا لینا سراسر بدعت اور محرومی ہے۔
  3. سلوک کی تکمیل کے بغیر محض جذب حاصل کر کے پیر بننے اور بیعت کرنے والے کامل نہیں بلکہ "راستے کے ڈاکو" ہیں۔
  4. مجذوبوں کے جذبی کاموں سے عوام زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جبکہ کامل شخص مبتدی کی طرح نظر آنے کے باوجود محض للہیت میں رو رہا ہوتا ہے۔
  5. باطن کی کامل اصلاح کے لیے نفس، قلب اور عقل تینوں کی بیک وقت اصلاح لازمی ہے، ورنہ کسی ایک کی بھی نہیں ہو سکتی۔
  6. انبیاء کرام کا حصہ ایمان بالغیب ہے جس میں وہ کثرت میں رہ کر بھی خالصتاً اللہ کی طرف متوجہ رہتے ہیں، جبکہ عام صوفیہ کا ایمان شہودی ہوتا ہے۔
  7. روحانی کمال یہ ہے کہ عروج کے وقت کثرت بالکل نظر سے اٹھ جائے اور نزول کے وقت انسان اللہ کے ارادے سے مخلوق کی ہدایت کے لیے راجع ہو۔
  8. دورانِ عروج اور تفرید و تجرید کے مراتب طے کرتے وقت طالب کا خلافت یا کسی بشارت کی طرف دھیان دینا سخت نقصان دہ ہے۔
  9. انبیاء کرام کی دعوت خالص تنزیہ ہے، جبکہ کثرت میں وحدت تلاش کرنا یعنی تشبیہ مبتدیوں کے لیے ایک راستہ تو ہے مگر منتہی کا کمال نہیں۔
  10. ہر خیر کی نسبت اللہ اور ہر نقص کی نسبت نفس کی طرف کرنا توحید کا حقیقی ادب ہے، جس سے ذات کی غیریت کی نفی ہرگز مراد نہیں۔

الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین۔ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

آج بدھ کا دن ہے، بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ الله علیہ، ان کے مکتوبات شریف کا درس ہوتا ہے۔

گزشتہ سے پیوستہ

کوئی ناقص کلی طور پر رجوع کرنے کو نقص خیال نہ کرے اور باطن کی توجہ کو جو حق جل سلطانہٗ کی طرف ہوتی ہے، مخلوق کی طرف توجہ سے جو اُن کی دعوت و تکمیل کے لئے ہے، بہتر نہ جانے، کیونکہ صاحبِ رجوع اپنے اختیار سے رجوع کے مقام میں نہیں آیا ہے

اپنے اختیار سے نہیں آیا اس میں یہ بہت بڑے نکتے کی بات آ گئی۔ سبحان اللہ اللہ تعالی ہم سب کو اس کی قدر دانی کی توفیق عطا فرمائے۔ یہ اصل میں بات یہ ہے کہ رجوع یہ میرا خیال میں مفتی صاحب سے میں راستے میں واکنگ میں بات کر رہا تھا کہ جس وقت انسان روحانی طور پر ترقی کر رہا ہوتا ہے اور تفرید و تجرید کے مراتب سے گزر رہا ہوتا ہے تو اس وقت اس کو بالکل مخلوق کی طرف توجہ نہیں کرنی۔ مطلب یہ ہے کہ اس وقت محض اللہ پاک کا خیال ہو۔ اس وقت خلافت کا خیال آئے گا تو سب سے بڑا تھپڑ وہی ہے اس کے لیے۔ اگر خلافت کی طرف خیال آئے گا۔ اس وقت ان چیزوں کو خیال میں بالکل نہیں لانا چاہیے۔ کیونکہ یہ تجرید تفرید کے خلاف ہے۔ بے شک آپ کو مخلوق کی تربیت میں بہت سارے فضائل بھی نظر آئیں اور بہت ساری بشارتیں بھی نظر آئیں، وہ آپ کے لیے نہیں ہیں، بس آپ اپنا کام کریں۔ آپ کی سب سے بڑی بشارت یہ ہے کہ اللہ قبول فرما لے۔ اللہ کی طرف متوجہ ہو۔ اس سے زیادہ اور کوئی چیز آپ کے سامنے نہ ہو، یہ والی بات ہے۔ تو اس وقت تو بالکل ذرہ بھر بھی اپنی تربیت کے دوران اس لائن کی طرف نہیں آنا چاہیے۔ ہمارے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی مثال دی ہے کہ بالغ ہونے سے پہلے بلوغ کے بعد والی باتیں بالکل سامنے نہیں آنی چاہئیں۔ حضرت نے کیسی مثال دی ہے اچھی۔ وہ نہیں آنی چاہئیں۔ بالغ ہونے سے پہلے بلوغ کے بعد والی باتیں جو ہیں، وہ نابالغ کے بالکل سامنے نہیں آنی چاہئیں۔ تو اسی طریقے سے جس وقت انسان روحانی طور پر ترقی کر رہا ہوتا ہے، اس کی تربیت ہو رہی ہے، تو تربیت کے دوران اس کو بالکل خلافت کا خیال نہیں آنا چاہیے۔ اس سے بالکل قطع تعلق، اور سمجھے کہ میرے لیے تو اصل یہی ہے کہ اللہ راضی ہو جائے۔ مجھے اس سے کیا کہ، جو احمد جام رحمۃ اللہ علیہ کا شعر ہے، احمد جام رحمۃ اللہ علیہ، وہ بزرگ ہیں جن کے شعر سنتے سنتے حضرت خواجہ بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ دنیا سے تشریف لے گئے۔ یہ انہی کا شعر تھا نا، کہ جس میں وہ فرما رہے تھے کہ ؏

کشتگان خنجر تسلیم را
ہر زماں از غیب جان دیگر است

اس شعر کو سنتے سنتے حضرت دنیا سے تشریف لے گئے۔ تو یہ احمد جام رحمۃ اللہ علیہ شعر کہتے ہیں،

؏

احمد تو عاشقی است بمشیخت ترا چہ کار
دیوانہ باش سلسلہ شد شد، نشد نشد

اے احمد! تو تو عاشق ہے، تجھے مشیخت کے ساتھ کیا کام؟ دیوانہ بن جا، چاہے سلسلہ ہو یا نہ ہو، تیرا اس کے ساتھ کیا کام؟ اُس وقت دیوانگی چاہیے۔ اس وقت دیوانگی جو چاہیے۔ لیکن جس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے امر ہو جائے اور اللہ تعالیٰ آپ کا رخ مخلوق کی طرف موڑے تو پھر اس کو صدق دل سے ماننا چاہیے۔ کیونکہ اب تیری تشکیل ہو گئی۔ اب تیری تشکیل ہو گئی، اس لائن کی طرف۔ اب تیرا سارا کچھ اسی میں ہے۔ تیرا سارا کچھ اسی میں ہے۔ اب تجھے یہی کرنا ہے۔ تو یہ اصل میں حضرت یہی فرما رہے ہیں۔ کہ تجھے اللہ تعالیٰ نے موڑا ہے، راجع تو تجھے اللہ پاک نے کیا ہے، تو خود اپنی مرضی سے ہوا نہیں ہے۔ لہذا اب اپنی مرضی اس میں نہ چلاؤ۔

فرمایا:

کیونکہ صاحبِ رجوع اپنے اختیار سے رجوع کے مقام میں نہیں آیا ہے بلکہ حق جل سلطانہٗ کے ارادہ سے اعلیٰ سے اسفل کی طرف نزول کیا ہے

پہلے عروج کر رہا تھا، اب نزول کر رہا ہے۔ اب نزول کر رہا ہے۔ ٹھیک ہے؟ کیا خیال ہے، میزائل؟ میزائل والے، کوئی ہو؟ یہ میزائل کی کیا ٹیکنالوجی ہوتی ہے؟ پہلے اوپر جاتا ہے۔ پھر نیچے آتا ہے۔ اور hit کرتا ہے اپنے ٹارگٹ کو۔ جتنا دور جگہ ہوتی ہے اتنا اس کو اوپر جانا ہوتا ہے۔ ۔ اب مجھے بتاؤ اگر یہ اوپر ہی چلا جائے، واپس نہ آئے تو کیا کہتے ہیں؟ میزائل اپنی جگہ چلا گیا۔ ٹھیک ہے نا، لیکن جو واپس آ جاتا ہے اور hit کرے اپنے ٹارگٹ کو، کہتے ہیں، واہ جی، بالکل کام ہو گیا۔ ٹھیک ہے نا؟ تو یہ نزول وہ چیز ہے، بس۔ ہم نے اپنے جو Strategy ہے تصوف کی، اپنی کتاب پہ لگائی ہوئی ہے۔ حقیقتِ جذب و سلوک۔ اس پہ لگائی ہوئی ہے۔ اس میں یہ ہے کہ پہلے ٹیکسی کرتا ہے جہاز، پھر اڑتا ہے اوپر، جتنا Corridor میں اوپر پہنچنا ہوتا ہے، وہاں پہنچ جاتا ہے۔ پھر سفر کرتا ہے۔ پھر نیچے آتا ہے، پھر ٹیکسی کرتا ہے اپنی جگہ پہ پہنچ جاتا ہے۔ تو یہ ساری چیزیں اس میں کرنی ہوتی ہیں اس طرح، رجوع بھی کرنا ہوتا ہے، نزول بھی کرنا ہوتا ہے، فاصلہ طے بھی کرنا ہوتا ہے، ٹھیک ہے نا، یہ سارے کام کرنے ہوتے ہیں۔

اور زمین پر چلنا پہنچنے کے لیے ضروری ہوتا ہے، ورنہ آسمان ہی میں رہے تو پھر وہ تو گئے۔ ویسے ایک بات بتا دوں۔ جہاز کے پائلٹ کے کمال کا پتہ لینڈنگ سے چلتا ہے، take off میں نہیں۔ take off میں پتا نہیں چلتا۔ take off میں کھلا آسمان ہوتا ہے آپ جس طرف بھی اڑیں گے تو آسمان ہی ہے نا۔ لہذا کیا مسئلہ ہے آپ کو؟ لیکن اب جب landing کر رہے ہیں تو کھلے آسمان سے نیچے ایک خاص جگہ پہ کر رہے ہیں۔ وہ جو خاص جگہ پہ landing ہے اس میں کس وقت نیچے آنا ہے اور کس angle پہ آنا ہے اور وہ سارا چیزوں کا خیال کرنا ہے وہ کمال کی بات ہوتی ہے۔ اور اڑنے کے لیے بے شک جتنا speed تیز کر لو، تو بس ٹھیک ہے جی آپ اوپر چلے جائیں گے۔ لیکن نیچے کے لیے speed کو control کرنے کے ساتھ ساتھ سارا کچھ کرنا کیونکہ ذرا بھر بھی آگے پیچھے ہو گیا تو skidding ہو سکتی ہے اور کچھ ہو سکتا ہے جہاز بالکل crash ہو سکتا ہے۔ تو کمال ہوتا ہے جہاز کا، کس میں ہوتا ہے؟ landing میں ہوتا ہے۔

تو نزول میں شیخ کا پتا چلتا ہے۔ مطلب جو راجع ہے، اس کا نزول جتنا کامل ہو گا اتنا ماشاءاللہ وہ کام کو صحیح کر سکے گا، تو یہاں والی بات ہے۔

اور وصل سے ہجر کے ساتھ قرار پکڑا ہے۔ لہذا صاحبِ رجوع حق جل شانہٗ کے ارادہ سے قائم اور اپنے ارادہ سے فانی ہے، اور صاحبِ توجہ وصل اور شہود سے محفوظ اور قرب و معیت سے شاداں ہے۔

ہجرے کہ بود مراد محبوب
از وصل ہزار بار خوش تر

کیا بات ہے۔

ہجرے کہ بود مراد محبوب
از وصل ہزار بار خوش تر

وہ ہجر ہے جو ہے مراد دلبر
ہے وصل سے ہزار بار بہتر

مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کو، بلکہ آپ سے میرے خیال میں یہ بات بھی ہوئی تھی کہ اگر کوئی اپنے محبوب کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے اور محبوب اس کو کہہ دے کہ جاؤ بازار جاؤ، میرے لیے فلاں چیز لے آؤ۔ اور وہ حجتیں کرنے لگے کہ جی حضرت میں تو آپ کی مجلس کو چھوڑ نہیں سکتا اور یہ اور وہ۔ تو کیا کہے گا وہ؟ اس وقت بازار جانا ہی ظاہری مطلب ہے کامیابی ہے اس کے لیے، قرب ہے، قرب ہے۔ اچھا دوسرا شخص جو اس کے ساتھ بیٹھا ہے جس کو کہا نہیں گیا کہ بازار جاؤ، وہ اگر کہے کہ مجھے کیوں نہیں کہا، مجھے کہتے تو میں بازار چلا جاتا۔ اس کے بارے میں کیا خیال ہے آپ کا؟ اس سے کہے گا جاؤ تم میرے قابل ہی نہیں، جاؤ جاؤ جاؤ، جہاں جانا چاہتے ہو چلے جاؤ۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ چیز دیکھو ایک ہے، سٹیٹ مختلف ہے۔ یعنی جس کو کہا گیا اور جس کو نہیں کہا گیا۔ جس کو نہیں کہا گیا اس کا تمنا کرنا عیب ہے اور جس کو کہا گیا اس کا انکار کرنا عیب ہے۔ بس یہ ظاہری مطلب ہے کہ ساری بات اس میں آ گئی۔ تو یہاں پر ہے کہ

رجوع کے مقام میں نہیں آیا ہے بلکہ حق جل سلطانہٗ کے ارادہ سے اعلیٰ سے اسفل کی طرف نزول کیا ہے اور وصل سے ہجر کے ساتھ قرار پکڑا ہے۔ لہذا صاحبِ رجوع حق جل شانہٗ کے ارادہ سے قائم اور اپنے ارادہ سے فانی ہے، اور صاحبِ توجہ وصل اور شہود سے محفوظ اور قرب و معیت سے شاداں ہے۔

لِأَنِّيْ فِي الْوِصَالِ عُبَیْدُ نَفْسِيْ
وَ فِي الْھِجْرَانِ مَوْلًی لِلْمَوَالِیْ
وَ شُغْلِيْ بِالْحَبِیْبِ بِکُلِّ حَالٍ
أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شُغْلِيْ بِحَالِیْ

ہے وصل میں نفس کی غلامی
ہے ہجر میں غلامی گرامی
ہے ہجر ہمیشہ یار کی یاد
ہر حال سے پیاری ہے یہی یاد

مطلب یہ ہے کہ اگر تشکیل ہو جائے تو پھر اس کے بعد وہ ہجرت آپ کے وصل سے زیادہ وصل ہے۔ اور تشکیل نہ ہو تو پھر ہجر کی تمنا کرنا یہ واقعتا ہجر ہے۔ پھر ہجر کی تمنا کرنا یہ واقعتا ہجر ہے۔

تو یہ اصل میں بنیادی

اور رجوع کے فضائل و کمالات بہت زیادہ ہیں۔ صاحبِ توجہ کو صاحبِ رجوع کے ساتھ وہی نسبت ہے جو قطرے کو دریائے محیط کے ساتھ ہے

صاحب توجہ سے مراد جو اس وقت اپنے محبوب کی طرف توجہ کر رہا ہے۔

جو قطرے کو دریائے محیط کے ساتھ ہے کیونکہ یہ رجوع نبوت کے فضائل میں سے ہے اور وہ توجہ ولایت کے آثار میں سے، شَتَّانَ مَا بَینَھُمَا (ان دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے)۔

ایک میں اپنا ارادہ ہے دوسرے میں اللہ کا ارادہ ہے، کیسے برابر ہو سکتے ہیں؟ ظاہر ہے۔

لیکن ہر شخص کی فہم اس کمال تک نہیں پہنچ سکتی۔

اس لیے میں کہتا ہوں مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات کو پڑھا کرو۔ یہ واقعتا نہیں پہنچ سکتی۔ یہ بہت بڑی نعمتیں ہیں، بہت بڑی بڑی نعمتیں اس میں چھپی ہوئی ہیں۔

﴿ذٰلِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ﴾ (الجمعہ: 4)

تنزیہ اور تشبیہ کو جمع کرنے والوں میں سے بعض کہتے ہیں کہ "تمام مومنین کو تنزیہ کے ساتھ ایمان حاصل ہے، عارف وہ ہے جو ایمانِ تشبیہ کو بھی اس کے ساتھ جمع کرے اور مخلوق کو خالق کا ظہور دیکھے اور کثرت کو وحدت کا لباس سمجھے اور مصنوع میں صانع کا مطالعہ کرے"۔ مختصر یہ کہ صرف تنزیہ کی طرف توجہ کا رہنا ان کے نزدیک نقص ہے اور کثرت کے ملاحظہ کے بغیر وحدت کا مشاہدہ کرنا ان کے نزدیک عیب ہے۔ یہ جماعت احدیتِ صَرف کی طرف متوجہ ہونے والوں کو ناقص شمار کرتی ہے اور کثرت کے مطالعے کے بغیر وحدت کے ملاحظہ کو محدود و مقید خیال کرتی ہے۔ سُبْحَانَ اللہِ وَ بِحَمدِہٖ، انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کی دعوت تنزیۂ صَرف ہے اور تمام آسمانی کتابیں اسی ایمانِ تنزیہی کی ناطق ہیں۔ انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات آفاقی و انفسی باطل خداؤں کی نفی کرتے ہیں اور ان کے باطل ہونے کا اعلان کرتے ہیں اور اس واجب الوجود کی وحدت کی طرف جو بے چون و بے چگون ہے رہنمائی کرتے ہیں۔ یہ کبھی کسی نے نہیں سنا کہ کسی پیغمبر نے ایمانِ تشبیہی (مظاہر و مناظر میں خدا کو ثابت کرنا) کی طرف دعوت دی ہو اور مخلوق کو خالق کا ظہور کہا ہو؟ تمام پیغمبر علیہم الصلوات و التسلیمات واجب الوجود تعالیٰ و تقدس کی توحید کے کلمے میں متفق ہیں، اور حق تعالیٰ کے سوا تمام ارباب (باطل خداؤں) کی نفی کرتے ہیں۔

والله اعلم بالصواب۔ یہ ایک بات عرض کرتا ہوں جو اس مسئلے میں آ سکتا ہے کہ جیسے کافر لوگوں کے سامنے جو اعمال کے فضائل ہیں بیان کرنے کے لیے ان کے دنیاوی فوائد کا ذکر مفید ہے۔ لیکن مسلمان کے لیے نقصان دہ ہے; کیونکہ مسلمان کو وہ اس کے اونچے مقام یعنی ایمان بالغیب سے گرا رہا ہے، ایمان بالمشاہدہ کی طرف لا رہا ہے، تو وہ کمزور ہو رہا ہے۔

بالکل یہی بات کثرت میں وحدت کو پانا یہ بالکل صحیح ہے۔ اگر ایک انسان کامل نہ ہو، اگر انسان کامل نہ ہو؛ کیونکہ اس کے لیے یہ راستہ ہے۔ لیکن جو کامل بن جائے پھر ان کی ان چیزوں پہ نظر نہیں ہوتی۔ پھر وہ اس کی نظر اللہ پہ ہوتی ہے اور اللہ کے حکم پر ہوتی ہے۔ اللہ کی مرضی پہ ہوتی ہے۔ وہ اپنی رضا کو اللہ کی مرضی میں فنا کر دیتا ہے۔ وہ خود اپنی مرضی کو چلاتا ہی نہیں۔ لہذا اس کا کمال تنزیہ ہے۔ تشبیہ نہیں ہے۔

ہاں، جو اہل تشبیہ ہیں وہ تنزیہ کی طرف جو آ رہے ہیں، ان کے لیے ٹھیک ہے؛ کیونکہ ظاہر ہے ان کے لیے وہ راستہ ہے۔ لیکن جو کمال حاصل کر چکے ہیں یعنی یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ اللہ کو پا چکے ہیں، ایسی صورت میں پھر وہ کسی اور چیز کی طرف کیوں دیکھے؟ لیکن یہ نیت کے اعتبار سے میں کہہ رہا ہوں، کام کے اعتبار سے نہیں کہہ رہا ہوں۔ کام تو وہ کثرت میں کرے گا، جیسے پہلی بات ہے۔

تو انبیاء علیہم السلام کا اپنا destination بالکل واضح، ایمان بالغیب کے مطابق ہوتا تھا۔ لیکن کام کثرت میں زیادہ کر رہے ہیں۔ اس کثرت سے متاثر نہیں ہو رہے، اس کثرت سے متاثر نہیں ہو رہے کثرت کو مسلسل متاثر کر رہے ہیں۔ اب سمجھ میں بات آ گئی یا نہیں آئی؟ کثرت سے متاثر نہیں ہو رہے ہیں، کثرت کو مسلسل متاثر کر رہے ہیں۔ یہی چیز حضرت فرما رہے ہیں کہ تشبیہ اور تنزیہ کو جمع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جو کامل ہے، وہ تنزیہ والا ہوتا ہے۔ لیکن کمال تک آنے کے لیے تشبیہ سے، تشبیہ، کم تشبیہ، کم تشبیہ، کم تشبیہ، کم تشبیہ، تنزیہ تک آئے گا۔ وہ راستہ ہے، اس راستے پہ ضرور آئے گا۔ اسی کو تو تجرید و تفرید کہتے ہیں۔ یہ جو کم سے کم پہ آ رہا ہے، اسی کو تو تجرید و تفرید کہتے ہیں۔

ہم جس وقت لاہور جا رہے ہیں، کسی خاص شخص کے ساتھ ملنے کے لیے، تو کیا کرتے ہیں؟ بہت سارے راستے ہیں یہاں پر۔ پشاور کی طرف بھی جاتا ہے۔ اور مری کی طرف بھی جاتا ہے۔ بہت سارے راستے ہیں۔ ان میں ہم لاہور والا راستہ۔۔۔ لیکن یہ لاہور والا راستہ صرف لاہور کو جاتا ہے؟ بہت ساری جگہوں کو جاتا ہے۔ پھر باقی راستوں کو چھوڑتے چھوڑتے چھوڑتے، یہ تجرید والی بات ہے۔ ہاں مطلب وہ چلتے چلتے چلتے ہم لاہور شہر پہنچ جاتے ہیں۔ اب لاہور شہر میں پھر مخصوص Locality کی طرف جو جانا ہے، پھر اس مخصوص Locality میں جو مخصوص سڑک ہے اس طرف جانا ہے، پھر اس مخصوص سڑک پہ مخصوص سٹریٹ میں جانا ہے، پھر مخصوص سٹریٹ میں مخصوص گھر کی طرف جانا ہے، اس مخصوص گھر میں اس مخصوص شخص کی طرف جانا ہے۔ مسلسل آپ کر رہے ہیں۔ لیکن جب آپ وہاں پہنچ جائیں اور وہ آپ کا محبوب ہو، تو کیا خیال ہے؟ پھر باقی چیزوں کو دیکھنا چاہیے؟ یہی والی بات ہے۔ تو تنزیہ جو ہے وہ، اگر انسان کامل ہو، تو پھر اس کے لیے تشبیہ کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اگر کامل نہیں ہے تو راستہ تو اس کا یہی ہے۔

اس لیے ایک عالم نے فرمایا تھا مجھے کہ جو اصطلاحات ہیں، یہ مبتدی کے لیے سیڑھی ہے اور منتہی کے لیے عیب ہے۔ مبتدی کے لیے سیڑھی ہے اور منتہی کے لیے عیب ہے۔ کیونکہ منتہی اس کے محتاج نہیں ہے۔ وہ اصطلاحات کا محتاج نہیں ہے۔ وہ جس طریقے سے بھی آپ کو سمجھا دے گا اپنے الفاظ میں۔

حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے بعض باتیں کی ہیں اور بڑی کھری باتیں کی ہیں۔ یہ ساری چیزیں ادھر سے نکلی ہیں لیکن ظاہراً مطلب اس کو پانا ذرا مسئلہ ہوتا ہے۔ تو یہ والی بات کہ فرمایا کہ جو تمکین والے حضرات ہوتے ہیں، ان کی تھوڑی بات سے بھی لوگ سمجھ جاتے ہیں۔ تلوین والے باتیں بہت کرتے ہیں، لیکن درمیان میں اتنی مکسنگ ہوتی ہے کہ کبھی کس طرف کبھی کس طرف، وہ صحیح راستے کی طرف نہیں گائیڈ کر سکتے تو لوگ کنفیوز ہی کنفیوز ہوتے رہتے ہیں۔ وہ جو تمکین والے ہوتے ہیں وہ بالکل دو باتیں کر لیں گے، اس سے ساری بات سمجھا دیں گے۔ یہ کیوں؟ اس لیے کہ ان کو اصطلاحات کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ آپ کے حالات کے مطابق exact وہ بات کرے گا، بس آپ سمجھ جائیں گے۔ اور اگر ایسی بات نہیں ہے تو پھر ایسا نہیں کر سکو گے۔ ایسا نہیں کر سکو گے، درمیان میں کچھ نہ کچھ رگڑے لگتے رہیں گے، کبھی ادھر، کبھی ادھر، کبھی ادھر، کبھی ادھر۔ یا اللہ یا کریم۔

﴿قُلۡ يٰۤـأَهۡلَ الۡكِتٰبِ تَعَالَوۡا إِلٰی كَلِمَةٍ سَوَآءٍۢ بَيۡنَـنَا وَ بَيۡنَكُمۡ أَلَّا نَـعۡبُدَ إِلَّا اللّٰہَ وَ لَا نُشۡرِكَ بِهٖ شَيۡئًا وَّ لَا يَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا أَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَإِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُوۡلُوا اشۡهَدُوۡا بِأَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ﴾ (آل عمران: 63) "اے رسول آپ کہہ دیجیے کہ اے اہل کتاب آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں مشترک ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کریں اور نہیں کسی کو اس کا ہم شریک ٹھہرائیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے سوا ہم میں سے کوئی کسی کو اپنا رب نہ قرار دے۔ پھر اگر وہ اس بات کو نہ مانیں تو آپ کہہ دیں کہ تم گواہ رہو ہم اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار مسلمان ہیں۔" یہ لوگ بے شمار (باطل معبود) ارباب ثابت کرتے ہیں اور سب کو رب الأرباب کے ظہورات خیال کرتے ہیں اور کتاب و سنت کو اپنے مطلب کی شہادت میں پیش کرتے ہیں: مثلًا الکتاب (قرآن مجید میں ہے) ﴿هُوَ الۡأَوَّلُ وَ الۡاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الۡبَاطِنُ‌ وَ هُوَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ (الحدید: 3) وہی اول ہے، وہی آخر ہے، وہی ظاہر ہے، وہی باطن ہے۔ ﴿وَ مَا رَمَيۡتَ إِذْ رَمَيۡتَ وَ لٰـكِنَّ اللّٰہَ رَمٰی﴾ (الأنفال: 17) (نیز) إِنَّ الَّذِيۡنَ يُبَايِعُوۡنَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُوۡنَ اللّٰہَ ؕ يَدُ اللّٰہِ فَوۡقَ أَيۡدِيۡهِمۡ‌﴾ (الفتح: 10) تحقیق جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہی سے بیعت کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ اور سنت میں ہے، "اَللّٰھُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْءٌ وَ أَنْتَ الْاٰخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْءٌ وَ أَنْتَ الظَّاھِرُ فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْءٌ وَ أَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُوْنَکَ شَیْءٌ" یا اللہ تو ہی اول ہے، تجھ سے پہلے کوئی شے نہیں، اور تو ہی آخر ہے، جس کے بعد کوئی شے نہیں، اور تو ہی ظاہر ہے اور تجھ سے زیادہ کوئی چیز ظاہر نہیں، اور تو ہی باطن ہے، تجھ سے زیادہ کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔

ان (مندرجہ بالا آیات و احادیث) میں کوئی شہادت نہیں ہے کیونکہ یہ عبارتیں بلیغ انداز میں ما سویٰ اللہ کے کمال وجود کی نفی کے لئے بطور حصر ہیں نہ کہ اصل وجود کی نفی پر، جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "لَا صَلٰوۃَ إِلَّا بِفَاتِحَۃِ الکِتَابِ" ترجمہ: ”(سورۃ) فاتحہ کے بغیر نماز کامل نہیں ہوتی“۔ اور فرمایا "لَا إِیْمَانَ لِمَنْ لَّا أَمَانَۃَ لَہٗ" ترجمہ: ”جو شخص امانت دار نہیں اس میں ایمان کامل نہیں“۔

کتاب و سنت میں اس قسم کی مثالیں بکثرت موجود ہیں، یہ توجیہ نصوص (قرآن و احادیث) کی تاویل نہیں ہے جیسا کہ ان لوگوں نے خیال کیا ہے بلکہ نصوص کو کمال بلاغت پر محمول کیا ہے، اور چونکہ عرف (محاوراتِ عامہ) میں جب کسی شخص کے امرِ رسالت (سفارت) کا اہتمام کرنا ہوتا ہے تو اس کے لئے کہا جاتا ہے کہ اس کا ہاتھ میرا ہاتھ ہے (جیسا کہ) ﴿یَدُ اللہِ فَوقَ أَیْدِیھِمْ﴾ اس سے مقصود حقیقت نہیں ہے بلکہ مجاز ہے جو حقیقت سے بھی زیادہ بلیغ ہے اور جب فاعل سے جو کامل قدرت والے مالک کا غلام اور بندہ ہے، اس کی قدرت کے اندازے سے بڑھ کر کوئی فعل صادر ہو اور اس فعل میں اس مالک و قادر کی التفات و توجہ مد نظر ہو تو اس وقت مالک کو یہ بات سزا وار ہے کہ یہ کہہ دے کہ "یہ کام میں نے کیا نہ کہ تو نے"۔ یہ بات اتحادِ فعل پر اور اتحادِ ذات پر کچھ بھی دلالت نہیں کرتی۔ حَاشَا وَ کَلَّا (ہرگز ایسا نہیں ہے) کہ بندۂ غلام کا فعل عین مالکِ مقتدر کا فعل ہو، یا اس کی ذات بندۂ غلام کی ذات کا عین بن جائے۔ اس جماعت نے شاید انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کے مذاق کو نہیں سمجھا کیونکہ اس جماعت کی دعوت کا مدار اثنینیت (دوئی) پر ہے اور غیر کے وجود و غیریت پر ہے۔ ان کی عبارتوں کو توحید و اتحاد پر لانا بے ہودہ تکلف ہے۔ اگر فی الحقیقت ایک ہی موجود ہوتا اور اس کے سوا اس کے تمام ظہورات ہوتے اور اس کے ما سوا کی عبادت اس کی عبادت ہوتی، جیسا کہ اس جماعت نے گمان کیا ہے تو پھر انبیاء علیہم الصلوات و السلام اس قدر تاکید و مبالغے کے ساتھ (اس کی پرستش سے) کیوں منع کرتے اور ان کی پرستش پر دائمی عذاب کیوں مرتب کرتے، اور ان کی پرستش کرنے والوں کو خدا کا دشمن کیوں قرار دیتے، ان لوگوں کو ان کی غلطی پر اطلاع کیوں نہ دیتے، اور ان کی "دیدِ غیریت" کو جو جہالت کی وجہ سے ان میں پیدا ہو گئی تھی کیوں دور نہ کرتے، اور ان کی عبادت کو عین حق جل و علا کی عبادت کیوں نہ بتاتے؟ ان لوگوں میں سے بعض یہ کہتے ہیں کہ

اصل میں مختلف چیزوں کی تشریحات حضرت رواں انداز میں کر رہے ہیں۔ اصل میں چونکہ حضرت جس دور میں گزرے ہیں نا وہ فتنوں والا دور تھا بہت زیادہ بالخصوص اس قسم کے اعتقادی فتنوں کا۔ مثلا دیکھو میں آپ کو بتاؤں۔ میں اگر کہہ دوں کہ فلاں اس کا مظہر ہے یعنی گویا کہ یہ بھی وہ ہے۔ تو یہ بات تو دوسری طرف جا رہی ہے۔ لیکن اگر میں کہوں کہ یہ جو بھی کرتا ہے وہ اصل میں وہی کرتا ہے تو یہ دوسری طرف جا رہی ہے۔ تو حضرت دوسرے طریقے کے ساتھ ہیں۔

مطلب وہ فرمانا چاہتے ہیں کہ جس پہ بھی نظر پڑے گی آپ کی تو وہاں جو بھی خیر آپ کو نظر آئے گا وہ اللہ کی طرف سے ہوگا۔ لیکن آپ یہ نہیں کہ گویا کہ ہر چیز کو گویا کہ یوں سمجھ لیجیے اللہ تعالی کا مظہر سمجھنے لگیں۔ یہ والی بات نہیں ہے۔ مطلب یہ والی بات اکثر چونکہ اس طرح کرتے ہیں نا کہ یہ باتیں یہاں تک پہنچ جاتی ہیں یہاں تک پہنچ جاتی ہیں میں آپ کو کیا بتاؤں۔ حضرت ویسے نہیں بات کرتے ہیں۔ گجرات کی بات ہے مجھ سے ایک صاحب جہاں ہم گئے ہوئے تھے بوڑھے آدمی تھے وہ مجھ سے پوچھ رہے ہیں۔ کہ اللہ اور رسول دو ہیں یا ایک ہے۔ یہ اس دور کی بات کر رہا ہوں یہ مجھ سے پوچھا گیا ہے۔ کہ اللہ رسول ایک ہیں یا دو ہیں؟ تو میں نے اسی سادگی سے جواب دیا میں نے کہا دو ہیں۔ میں نے کہا اس بیچارے کو مزید میں کیا بتاؤں گا۔ میں نے کہا دو ہیں اللہ اللہ ہے اور رسول رسول ہے۔ اور اللہ تعالی نے رسول کو پیدا کیا ہے۔

تو یہ باتیں کہاں تک جاتی ہیں پھر؟ اس حد تک پہنچ جاتی ہیں۔ کہ گویا کہ ﴿وَ مَا رَمَيۡتَ إِذْ رَمَيۡتَ وَ لٰـكِنَّ اللّٰہَ رَمٰی﴾ سے میں اگر یہ مطلب لوں کہ -نعوذ بالله من ذلك- آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہی ہیں جو اللہ ہیں۔ تو یہ تو شرک کی طرف معاملہ چلا گیا نا۔

لیکن اگر میں کہہ دوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کیا وہ اللہ تعالی نے کیا ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے علاوہ کچھ کر نہیں سکتے تھے اللہ پاک ہی کر سکتے ہیں۔ اور سب کچھ اللہ کرتے ہیں۔ تو یہ توحید ہے۔ اب ایک بات کو ایک رنگ میں بتانا ہے تو اس میں یہ ہوتا ہے دوسرے رنگ میں بتائیں گے تو یہ ہوتا ہے۔ اب حضرت نے اتنی ساری تفصیلات جو بیان کی ہیں، اسی وجہ سے بیان کی ہیں کہ لوگ اس حد تک چلے جاتے ہیں پھر۔ تو جن کو ان چیزوں پہ نظر نہیں ہوتی تو وہ کہتے ہیں ان تشریحات کی کیا ضرورت ہے۔ وہ پریشان ہوتے ہیں کہ ان تشریحات کی کیا ضرورت ہے مطلب کیوں وجہ کیا خود ان کا ذہن صاف ہوتا ہے۔ کبھی انہوں نے یہ سوچا نہیں ہوتا کہ اللہ اور رسول ایک ہیں۔ ان کو تو کبھی یہ خیال نہیں آ سکتا نا۔

تو لہذا وہ کہیں گے ان تشریحات کی کیا ضرورت ہے ہم نے تو کسی نے بھی تو یہ نہیں مانا۔ چلو آپ نے نہیں مانا لیکن لوگ ایسے ہیں یا نہیں ہیں؟ تو بات تو جب کتاب میں آئے گی سب کے لیے آئے گی۔ تو حضرت ان تمام چیزوں کو صاف کر رہے ہیں۔ عقائد کے لحاظ سے صاف کر رہے ہیں۔ کہ اصل بات یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کی طرف ہی آپ کی نظر ہو چاہے کسی کی طرف بھی دیکھیں۔ نظر آپ کی اللہ پہ جائے۔ یہ والی بات۔ کیونکہ سب کچھ اللہ ہی کرتے ہیں۔ فعال لما يريد ہے۔ اور مخلوق کچھ بھی اللہ تعالی کی مرضی کے بغیر نہیں کر سکتی۔ اور اللہ تعالی ہی کے مرضی کے مطابق سب لوگ کرتے ہیں۔

تو اب یہ جو بات ہے کہ اس میں بس اتنی احتیاط کر لو، اتنی احتیاط کر لو کہ آپ کہہ دو کہ جہاں پر جو خیر ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اور شر جو ہے وہ اصل میں اس کی ضد ہے۔ یعنی یوں کہہ سکتے ہیں کہ یعنی جہاں پر نفس کی بات آتی ہے، جہاں پر شیطان کی بات آتی ہے۔ وہاں اس طرف شر ہے، مطلب اس کی طرف شر کی نسبت کی جاتی ہے۔ اور جو اللہ تعالی کی بات ہے اس کی طرف خیر کی نسبت کی جاتی ہے۔ تو جہاں بھی خیر ہے تو وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے۔

یعنی آخر مجھے آپ بتاؤ کہ ایسا تو فرمایا ہے نا کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا، کہ میری بھی ایک رائے ہے۔ اگر یہ اچھی ہے صحیح ہے تو اللہ کی طرف سے ہے۔ اور اگر غلط ہے تو میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے۔ یعنی اپنے نفس کی طرف اشارہ کیا۔ میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہے۔ انہوں نے یہ بات واضح کر لی۔ تو گویا کہ یوں سمجھ لیجیے خیر کی نسبت اللہ پاک کی طرف کی۔ بلکہ آپ دیکھیے یہ ادب جو ہے قرآن میں بھی ہے۔ سورہ کہف میں۔ خضر علیہ السلام جو بتاتے ہیں، reasons بتاتے ہیں۔ کہ میں نے یہ کام کس لیے کیا ہے۔ تو پہلے کام کا کیا بتایا؟ میں نے کیا۔ اور دوسرے کا کیا بتایا؟ ہم نے کیا۔ تیسرے کا کیا بتایا؟ رب نے کیا۔ سبحان اللہ۔

دیکھو جو غلطی نظر آتی تھی، لیکن تھی ٹھیک۔ تو اس کی نسبت کس طرف کی؟ اپنی طرف کی۔ اور دوسرے میں "ہم نے کیا"، تیسرے میں اللہ کی طرف۔ "فاراد ربك"۔ تو یہ یہ ادب قرآن میں بھی ہے۔ اور ظاہر ہے مطلب ہے کہ حدیث شریف میں تو میں نے اپ کو ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا بتایا کہ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں ٹھیک ہے تو اللہ کی طرف سے اور اگر غلط ہے۔ اج کل اس کا ضد چل رہا ہوتا ہے۔ بیمار ہے اگر ٹھیک ہو گیا تو ڈاکٹر نے ٹھیک کیا اور فوت ہو گیا، آج کل تو یہی بات ہے۔ ہے یا نہیں ہے؟ تو میرے خیال میں اتنی کافی ہے کیونکہ آج کے مضامین زیادہ ہیں۔ اس کو سنبھالنا پھر مشکل ہو جائے گا۔

واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين۔