سورۃ الانعام کا تعارف: توحید، تخلیقِ انسان اور اللہ کے علمِ محیط کا بیان
درس نمبر 247، سورۃ الانعام، آیات: 1 تا 3، اشاعتِ اول: 2 اگست، 2022، بمطابق 4 محرم الحرام، 1444 ہجری
- سورۃ انعام ایک مکی سورت ہے جس میں توحید، رسالت اور آخرت کے بنیادی عقائد کو مختلف دلائل کے ذریعے ثابت کیا گیا ہے۔
- اس سورت میں کفار کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے مشرکانہ رسوم کی تردید کی گئی ہے اور مظلوم مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے۔
- عربی میں انعام چوپایوں کو کہتے ہیں اور مشرکین کے مویشیوں سے متعلق بے بنیاد عقائد کی تردید کی وجہ سے سورت کا یہ نام ہے۔
- اللہ تعالیٰ نے کائنات، روشنی اور اندھیرے کو پیدا کیا اور انسان کی انفرادی موت اور دوبارہ زندہ ہونے کی متعین میعاد مقرر کی ہے۔
- کائنات اور فلکیات کے وسیع نظام کو جاننے کے باوجود ہدایت اسی کو ملتی ہے جس میں طلب ہو اور جسے اللہ ہدایت دینا چاہے۔
الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على خاتم النبيين، اما بعد فاعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم
معزز خواتین و حضرات آج الحمدللہ نئی سورت شروع ہو رہی ہے سورۃ انعام۔
یہ سورت چونکہ مکہ مکرمہ کے اس دور میں نازل ہوئی تھی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتِ اسلام اپنے ابتدائی دور میں تھی، اس لئے اس میں اسلام کے بنیادی عقائد یعنی توحید، رسالت اور آخرت کو مختلف دلائل کے ذریعے ثابت کیا گیا ہے، اور ان عقائد پر جو اعتراضات کفار کی طرف سے اُٹھائے جاتے تھے، ان کا جواب دیا گیا ہے۔ اس دور میں مسلمانوں پر کفارِ مکہ کی طرف سے طرح طرح کے ظلم توڑے جارہے تھے، اس لئے ان کو تسلی بھی دی گئی ہے۔ کفارِ مکہ اپنے مشرکانہ عقائد کے نتیجے میں جن بے ہودہ رسموں اور بے بنیاد خیالات میں مبتلا تھے، ان کی تردید فرمائی گئی ہے۔ عربی زبان میں ''انعام'' چوپایوں کو کہتے ہیں۔ عرب کے مشرکین مویشیوں کے بارے میں بہت سے غلط عقیدے رکھتے تھے، مثلاً ان کو بتوں کے نام پر وقف کر کے ان کا کھانا حرام سمجھتے تھے۔ چونکہ اس سورت میں ان بے بنیاد عقائد کی تردید کی گئی ہے، (دیکھئے آیات: 136 تا 146) اس لئے اس کا نام سورۃ الانعام رکھا گیا ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ چند آیتوں کو چھوڑ کر یہ پوری سورت ایک ہی مرتبہ نازل ہوئی تھی، لیکن علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر ''روح المعانی'' میں ان روایتوں پر تنقید کی ہے۔ واللہ سبحانہ اعلم۔
ہاں ایک غلط فہمی میرے خیال میں دور ہونی چاہیے۔ یہ اصل میں سورۃ اَنعام ہے لیکن اکثر اس کو اِنعام پڑھا جاتا ہے۔ اِنعام اور چیز ہے۔ اور یہاں پر چونکہ چوپایوں کا ذکر ہے تو یہ انعام ہے سورۃ انعام۔
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ۬ ؕ-ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ (1) هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا ؕ-وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ (2) وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ ؕ-یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ (3)
جیسے کہا گیا ہے
یہ سورت مکی ہے، اور اس میں ایک سو پینسٹھ آیتیں اور بیس رکوع ہیں۔
ترجمہ: شروع اللہ کے نام سے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے۔
ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور اندھیریاں اور روشنی بنائی۔ پھر بھی جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ دوسروں کو (خدائی میں) اپنے پروردگار کے برابر قرار دے رہے ہیں ﴿1﴾ وہی ذات ہے جس نے تم کو گیلی مٹی سے پیدا کیا، پھر (تمہاری زندگی کی) ایک میعاد مقرر کردی۔ اور (دوبارہ زندہ ہونے کی) ایک متعین میعاد اسی کے پاس ہے۔ پھر بھی تم شک میں پڑے ہوئے ہو ﴿2﴾ اور وہی اللہ آسمانوں میں بھی ہے، اور زمین میں بھی۔ وہ تمہارے چھپے ہوئے بھید بھی جانتا ہے، اور کھلے ہوئے حالات بھی، اور جو کچھ کمائی تم کر رہے ہو، اس سے بھی واقف ہے ﴿3﴾
حاشیہ: یعنی ایک میعاد تو ہر انسان کی انفرادی زندگی کی ہے کہ وہ کب تک جئے گا، شروع میں تو اس کا علم کسی کو نہیں ہوتا، مگر جب کوئی شخص مر جاتا ہے تو ہر ایک کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کی عمر کتنی تھی۔ لیکن مرنے کے بعد جو دوسری زندگی آنے والی ہے، وہ کب آئے گی؟ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
تو یہ اس سورت کی ابتدا ہے۔ اور اس میں جو فرمایا ہے نا کہ اللہ پاک نے اندھیریاں اور روشنی بنائی ہے۔ تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ اللہ جل شانہ نے پوری کائنات کو جب پیدا کیا تو اس میں جو روشنی کے ذرائع بنا دیے اس کے ذریعے سے روشنی پیدا ہوتی گئی اور اندھیرا جو پہلے سے موجود ہوتا تھا تو اس کو بدل لیتے تھے روشنی سے۔
تو ارے اللہ پاک کا بہت وسیع و عریض نظام ہے ہم لوگ اس کو تصور بھی نہیں کر سکتے کہ کائنات کتنا وسیع ہے۔ اور اس میں کتنے کہکشائیں ہیں اور کتنے اس میں ستارے ہیں ہر کہکشاں میں۔ اور اس کی کتنی وسعت ہے اور ہر ستارہ کتنا بڑا ہے یہ بہت اللہ تعالی کا عجیب نظام ہے۔ یہ فلکیات کے علم میں جو علوم، معلومات ہوتے ہیں وہ بڑے حیران کن ہوتے ہیں۔ لیکن ہدایت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے جس کو بھی اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کو دیتا ہے۔ تو بعض لوگوں میں طلب نہیں ہوتی ہدایت کی تو ان تمام معلومات کو جانتے ہوئے بھی اہل ایمان نہیں ہوتے ہیں۔
اللہ تعالی ہم سب کی حفاظت فرما دے۔ ہمیں کامل ایمان والا مستقل استقامت والے اعمال والا اور قبولیت والی زندگی ہمیں نصیب فرما دے۔ وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
حصہ دوم: تشریحی نوٹس
قرآن کی دعوت: توحید اور علمِ محیط
آج کے درس میں قرآنِ کریم کی بنیادی دعوت سامنے آئی — توحید، جو انسان کے پورے دین کی بنیاد ہے۔ اسی کے ساتھ اللہ پاک کے علمِ محیط کا بیان ہے، یعنی وہ علم جس نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے؛ چھپے ہوئے بھید بھی اس کے سامنے ہیں اور کھلے ہوئے حالات بھی، اور بندے کی ساری کمائی بھی اسی کے علم میں ہے۔
سائنس، ایمان اور معرفت کا خلا
اس میں بڑی عجیب بات ہے۔ یہ سائنس کا دور ہے، اس میدان میں بڑے نامور لوگ موجود ہیں، جو اکثر یونیورسٹیوں میں پڑھانے والے بڑے بڑے پروفیسر ہوتے ہیں — لیکن ان میں ایمان نہیں ہے، بلکہ زیادہ تر کافر ہیں۔
کائنات کا بہت کم حصہ ہم جانتے ہیں؛ اکثر حصہ تاریکی میں ہے۔ جو نظام ہمارے سامنے ہے اس میں درمیان میں سورج ہے جہاں بہت شدید حرارت اور روشنی ہے، اور اس کے ارد گرد سیارے گھوم رہے ہیں۔ جو سیارے سورج کے قریب ہیں وہ زیادہ روشن اور گرم ہیں، زمین کا فاصلہ معتدل ہے، اور جو زیادہ دور ہیں وہ سرد اور کم روشن ہیں۔ جیسے جیسے سورج سے فاصلہ بڑھتا جاتا ہے، روشنی کی مقدار کم ہوتی جاتی ہے، حتیٰ کہ کم ہوتے ہوتے بالکل تاریکی آ جاتی ہے۔ پھر ہمارا سورج بھی باقی ستاروں کے مقابلے میں ایک اوسط درجے کا ستارہ ہے؛ کئی ستارے ایسے ہیں جو سورج سے ہزاروں گنا زیادہ روشن ہیں۔
یہ سب معلومات فزکس اور فلکیات کے ماہرین کے پاس ہیں، مگر ان کا ایمان بہت کمزور ہے۔ اس کے برعکس جس شخص میں یہ دو چیزیں جمع ہو جائیں — قرآن کا علم بھی ہو اور ساتھ سائنس کا بھی — تو ماشاءاللہ یہ بہت زبردست بات ہے، سبحان اللہ، یہ اللہ کا بڑا فضل ہے۔ اور آج ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہے۔
اسی مقصد کے لیے ہم نے واٹس ایپ پر ''سائنس اور معرفت'' کے نام سے ایک گروپ بھی شروع کیا تھا، مگر اس میں کام کرنے والے بہت کم ہیں؛ حالانکہ جو لوگ کر سکتے ہیں وہ بھی نہیں کر رہے۔ اس میں تو ان لوگوں کو حصہ لینا چاہیے جو قرآن اور سائنس دونوں کا علم رکھتے ہوں، کیونکہ یہی معرفت کی بنیاد ہے۔
ضرورت اس لیے بھی شدید ہے کہ آج کل موبائل اور سوشل میڈیا پر قرآن کے بارے میں الحاد پھیلانے والے اور اعتراضات کرنے والے، ایسا مواد پھیلانے والے بہت ہیں — اور جواب دینے والے بہت کم۔
تعلیمی نظام کی تقسیم — مفتی تقی عثمانی صاحب کا استدلال
مجھے وہ موقع یاد ہے جب مفتی تقی عثمانی صاحب نے اپنے والد مفتی شفیع عثمانی صاحب کا ارشاد بیان فرمایا۔ مفتی تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ انگریزوں کے آنے سے پہلے مسلمانوں کا تعلیمی نظام واحد (یونائیٹڈ) تھا، جہاں دین اور دنیا کی تعلیم الگ الگ نہیں تھی۔ جامعہ قراویین اور جامعہ ازہر کی طرح ایک ہی چھت تلے قرآن و حدیث بھی پڑھائی جاتی تھی اور سائنس، ریاضی و فلسفہ بھی۔
انگریز نے آ کر اس نظام کو دو حصوں میں کاٹ دیا، جس کے ردِعمل میں برصغیر میں تین دھارے بنے:
- دارالعلوم دیوبند — جس نے دین اور اسلامی اقدار کے تحفظ کا بیڑا اٹھایا۔
- علی گڑھ مسلم یونیورسٹی — جس نے مسلمانوں کو جدید عصری علوم اور وقت کے چیلنجز سے ہمکنار کرنے کی کوشش کی۔
- ندوۃ العلماء (لکھنؤ) — جس نے ان دونوں کے درمیان ایک متوسط راستہ یا جڑواں نظام نکالنے کی کوشش کی۔
''ہمیں اب یہ تفریق نہیں چاہیے'' — مفتی صاحب کا اصل استدلال یہ ہے کہ دیوبند، علی گڑھ اور ندوہ کا یہ الگ الگ ماڈل ایک عارضی اور اضطراری (اضطرار کی حالت کا) علاج تھا، جو اُس وقت کی ضرورت کے تحت وجود میں آیا۔ اب امت کو اس تقسیم سے آگے بڑھنا ہوگا۔
-
ایک مربوط نظامِ تعلیم: مفتی صاحب کا مؤقف ہے کہ ہمیں اب ایسا تعلیمی نظام نہیں چاہیے جو معاشرے کو ''دینی'' اور ''دنیوی'' طبقوں میں مستقل طور پر تقسیم کر دے۔
-
جامعہ قراویین کا آئیڈیل: وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں اپنے اسلاف کے اسی پرانے نظام کی طرف لوٹنا ہوگا (جس کا نمونہ جامعہ قراویین تھا)، جہاں ہر طالبِ علم بنیادی اور ضروری دینی علم (فرضِ عین) لازمی حاصل کرے، اور اس کے بعد اپنی پسند کے مطابق کوئی قرآن و حدیث میں تخصص (اسپیشلائزیشن) کرے تو کوئی سائنس، طب، معاشیات یا ٹیکنالوجی کا ماہر بنے۔
علومِ عصریہ کا ادارہ اور اس کا اصل مقصد
جب میں نے علومِ عصریہ کے ادارے کے لیے استخارہ کیا تو صاف جواب آیا کہ اسی کا تو انتظار ہے — اور بہت کچھ ہو رہا ہے، لیکن یہ کام نہیں ہو رہا۔ اسی کے لیے ہم نے وژن اسٹیٹمنٹ بنائی تھی، لیکن ابھی تک اس پر اس طرح عمل نہیں ہوا جیسا کہ ہونا چاہیے تھا۔
اس کا مقصد معرفت کا حصول ہے، نہ کہ پیسہ کمانا۔ لوگوں نے اسے صرف پیسے کمانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ خدا کے بندو، ایسا نہ کرو! قرآن کے علم اور سائنس کے علم کو اللہ کی معرفت کے لیے استعمال کرو۔ افسوس یہ ہے کہ دونوں میں تفریق پیدا ہو چکی ہے — سائنس والا قرآن کی طرف نہیں آتا، اور قرآن والا سائنس کی طرف نہیں آتا۔
زندگی کی مہلت — نیکی کا حساب
آج سورۃ الانعام کا تعارف بیان ہوا، اور اس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس وقت الحمد للہ ہم زندہ ہیں — میں بھی انہی میں شامل ہوں، الحمد للہ۔ تو اس زندگی کو استعمال کرو۔ انتیسویں پارے میں ہے کہ اللہ پاک نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون زیادہ اچھے عمل کرنے والا ہے:
اَلَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا
ایک وقت آئے گا جب یہاں سے جانا ہوگا، پھر پتہ نہیں کتنا عرصہ قبر میں رہنا ہوگا، اور پھر ایک وقت آئے گا جب یومِ حساب آئے گا اور جو کچھ اعمال کیے ہوں گے ان کے ساتھ وہاں حاضر ہونا ہوگا۔ اس لیے اپنی زندگی کے اس وقت کو صحیح استعمال کرو۔
ایک مثال: فرض کریں ایک لائن ہے، اس کے درمیان والا پوائنٹ صفر ہے۔ اس کی ایک طرف منفی ہے یعنی برے اعمال، اور دوسری طرف مثبت ہے یعنی نیک اعمال۔ جس کا نیٹ رزلٹ منفی سائیڈ پر ہوگا وہ جہنم جا سکتا ہے — اللہ ہمیں بچائے — اور جس کے نیک اعمال کا پلڑا بھاری ہوگا، یعنی مثبت سائیڈ پر ہوگا، وہ جنت میں ہوگا۔
اب اگر کوئی شخص غلط کام کر رہا ہے اور وہ کسی بھی وقت توبہ کر لیتا ہے، تو وہ منفی سے صفر پر آ جائے گا۔ لیکن مثبت ہونے کے لیے نیک اعمال کرنے پڑیں گے، اور اس کے لیے اتنا ہی وقت ملے گا جتنی اس کی عمر باقی ہوگی۔ اسی وجہ سے جتنی جلدی توبہ ہو سکے، کر لینی چاہیے۔
جب کوئی توبہ کرتا ہے تو توبہ سے گناہ تو معاف ہو گئے، مگر اس دوران جو نیک اعمال وہ کر سکتا تھا، وہ اب نہیں کر سکتا — وہ وقت تو گزر گیا۔ میں اکثر مثال دیتا ہوں کہ اگر کسی کی عمر فرض کریں ساٹھ سال ہو اور اس نے انسٹھ سال کی عمر میں توبہ کی، تو توبہ سے وہ صفر پر تو آ جائے گا، لیکن نیک اعمال صرف ایک سال کر سکے گا۔ کسی نے پچاس سال کی عمر میں توبہ کی تو اسے دس سال ملے؛ کسی نے چالیس سال کی عمر میں کی تو بیس سال ملے؛ کوئی تیس سال کی عمر میں کرے تو اسے تیس سال ملے۔ اور اگر کوئی پندرہ سال کی عمر سے نیک اعمال شروع کر دے تو سبحان اللہ! وہ اپنی پوری عمر نیک اعمال کے لیے استعمال کرے گا۔
اسی وجہ سے اپنے بچوں پر بھی خصوصی توجہ اور محنت کرنی چاہیے، تاکہ وہ شروع ہی سے اپنی زندگی کو ٹھیک طرح گزاریں۔ یہ تمہارے ذمے ہے۔
تبلیغ کا اجر اور گمراہی کا وبال
اپنے بچوں کی اچھی تربیت کی اور ساتھ دوسروں کو بھی نیک اعمال کی تبلیغ کی، تو وہ جتنی نیکیاں کریں گے آپ کو بھی ان میں حصہ ملے گا۔ اور اگر کوئی کسی کو غلط کام پر لگا دے تو یہ بہت خراب بات ہے، کیونکہ برائی وہ کرے گا اور اس کا گناہ اس شروع کروانے والے کے کھاتے میں بھی برابر لکھا جاتا رہے گا۔
آج اگر کوئی تصوف میں آتا ہے اور ساتھ اس کے پاس علم بھی ہے، تو ماشاءاللہ دوسروں کو اس کا بتاؤ تاکہ ان کے اعمال درست ہوں — تمہیں بھی فائدہ ہوگا۔ لیکن اگر غلط تصوف اور غلط علم میں پڑ گئے تو پھر تو بہت غلط ہوگا۔ اس لیے اپنے آپ کو صحیح جگہ کے ساتھ اٹیچ رکھو، ورنہ خطرات بہت زیادہ ہیں۔
تین ضروری چیزیں: قرآن، سائنس اور تصوف
ہر چیز میں اللہ پاک کی قدرت ظاہر ہے، اس لیے قرآن اور سائنس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت حاصل کی جا سکتی ہے۔ لیکن جو دہریے ہوتے ہیں، وہ کوئی سائنسی ریسرچ کرتے ہیں تو دعوے کرتے ہیں کہ میں نے یہ کیا، میں نے وہ کیا۔ کتنے ہی ریسرچ پیپرز ہیں جن میں بس یہی ہوتا ہے کہ ''میں نے یہ کیا، میں نے وہ کیا'' — کسی میں اللہ کا نام لیا جاتا ہے جس نے یہ سارا کچھ بنایا؟ تم نے تو صرف اس کو دریافت کیا ہے، بنایا تھوڑی ہے۔
تو تین چیزیں ضروری ہو گئیں: قرآن، سائنس اور تصوف — کیونکہ تصوف کے ذریعے ہی ان چیزوں سے معرفت تک راستہ بنے گا۔ اب دیکھیے، ہماری دو کتابیں اسی بنیاد پر ہیں، اور ان کا تعلق بھی ماشاءاللہ فہم سے ہے:
- فہم التصوف — اس کو خود بھی پڑھو، سمجھو، اور اللہ کے لیے دوسروں کو بھی بتاؤ۔
- فہم الفلکیات — جس میں قرآن بھی ہے اور ساتھ سائنس بھی۔
اور یہی ہمارا علومِ عصریہ کا وژن اسٹیٹمنٹ ہے۔ اور صرف انگلش زبان میں پڑھانے پر بہت زور دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ بس ایک زبان ہے، اور کیا ہے؟ یہ ایک زبان ہے جو مختلف ممالک کی ہے؛ اسی طرح روس کی بھی اپنی زبان ہے، جرمن بھی ہے۔ تو اس کو بطور زبان ہی لینا چاہیے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين